عمران خان کی بینائی 85 فیصد تک متاثر ہوئی ہوئی ہے،انکا بلڈ پریشر بھی اب ہائی رہتا ہے،انکی بیٹوں سے مارچ کے بعد سے بات تک نہیں کروائی گئی،پچھلے سات مہینے سے انکی کسی سے ملاقات نہیں کروائی گئی۔
ڈئیر اسٹیبلشمنٹ !! پہلے آپ نے کہلوایا کہ نواز شریف سسلین مافیا ہے اور خراب نظام کو عمران خان ٹھیک کرے گا۔ پھر آپ نے بتلایا کہ عمران خان نا اہل ہے، یہ رہا تو نظام ڈیفالٹ ہو جائے گا۔ پھر سمجھایا کہ سسلین مافیا تجربہ کار ہے، یہی ملک بچائے گا۔ انہیں مسلط کرنے کے بعد پھر آپ کہلوا رہے ہیں کہ نظام کولیپس ہو گیا ہے۔
ایک بار آپ خود پر بھی نظرِثانی فرما کر دیکھ لیں۔
"ہم کل صبح ٹھیک دس بجے ایمبولینسوں، معالجین، نرسوں، ادویات، امدادی کارکنان اور اشیائے خورد و نوش کی فراہمی کے ہمراہ اس محاصرے کو توڑتے ہوئے کشمیر تک رسائی حاصل کریں گے۔
ہماری یہ پیش قدمی مکمل طور پر پرامن ہوگی۔ ہم اپنے کشمیری بھائیوں، بھوک اور پیاس سے نڈھال عوام، اور درد و کرب میں مبتلا مصیبت زدگان کی داد رسی کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔"
سینیئر رہنما تحریک تحفظ آئین پاکستان سینیٹر مشتاق احمد خان کا کل ادویات اور خانے کے سامان کے ساتھ کشمیر جانے کا اعلان۔
اسلام آباد ایف ٹین سڑکوں پر ۔ وہ لوگ کشمیر جو کشمیر کو محض شہہ رگ کہتے نہیں مانتے بھی ہیں۔
عوام کی ایک بڑی تعداد اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی اور ان پر ہوئے مظالم کے خلاف احتجاج کی خاطر سڑکوں پر۔
#زنجیریں_توڑو_خان_کو_چھوڑو@PTIAJK_Official
Unbelievable numbers of Kashmiris protested in London yesterday, demanding justice, accountability, and answers for the brutality that took place during the elections.
پاک فوج کے سرکاری ترجمان ڈی جی ISPR جنرل احمد شریف چوہدری صاحب
صوبے بنانے کی بات کر رہے ہیں
صوبوں کے مالی وسائل پر بات کر رہے ہیں
کشمیر مہاجرین کی نشستوں پر بات کر رہے ہیں
گڈ گورنس کی بات کر رہے ہیں
کیا وہ رہنمائی فرما سکتے ہیں کہ وہ پاکستان کے آئین کی کون سی شق، قانون کی کون سی دفعہ کے تحت ، ایک حاضر سروس فوجی جرنیل کے طور پر، ان معاملات پر رائے دے رہے ہیں۔
مطلب۔۔۔ ہارڈ اسٹیٹ جہاں سب آئین اور قانون کو جوابدہ ہونگے
اور کیسے دکھانی ہے وفاداری؟
ٹیکس دیتا ہوں، کرپٹ نظام بھگت رہا ہوں، آپکی سیاسی مداخلت پر خاموش ہوں، علاج پرائیویٹ کرواتا ہوں، بجلی خود سولر سے لیتا ہوں، حفاظت کے لیئے پرائیوٹ چوکیدار ہے، ووٹ چوری ہوا خاموش ہوں، ریاست بندے مار رہی پھر بھی چپ ہوں ، مہنگائی ڈبل ، بےروزگاری ڈبل ہو گئی