“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
جس طرح کی طِبی دہشت گردی عمران خان کے ساتھ کی گئی، اور اس پر جیسے ان کے ذاتی معالجین اور فیملی کے بغیر جو عسکری رپورٹس میڈیا پر چلائی گئیں اس سے مزید تشویش ناک صورت حال جنم لے رہی ہے۔ عمران خان اس وقت ریاست کی تحویل میں ہیں جہاں مسلسل اُن کی زندگی سے کھیلا جا رہا ہے۔ آخر کس چیز کو چھپایا جا رہا ہے؟
کنٹرولڈ چیک اپ، کنٹرولڈ انفارمیشن، کنٹرولڈ میڈیا ۔ جس سے زندگی کو خطرہ ہے، جن کی وجہ سے اس نہج پر پہنچے ان ہی کی بات پر یقین کیا جائے؟
اس سے قبل عمران خان پر وزیرآباد میں قاتلانہ حملہ کروایا گیا ان کو گولیاں لگیں، اللہ نے اُن کی زندگی کی حفاظت کی لیکن اس وقت بھی بیانیے بنائے گئے، لمحوں میں آئی ایس آئی نے میڈیا کو ویڈیو بیانات بھجوانا شروع کر دئیے۔
فوجی قیادت کے کہنے پر آئی ایس آئی نے ایک افغانی کو خان صاحب کو مارنے کا ٹاسک دیا، جب میں نے پریس کانفرنس میں اس سازش کا پردہ فاش کیا تو آئی ایس آئی اسلام آباد سیکٹر نے پریس کلب میں ایک افغانی کی پریس کانفرنس رکھوائی اور شام کو پرائم ٹائم ٹی وی پروگرام میں بیانیے کے لیے بھجوایا گیا۔ میں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا، مگر یہ جانتے تھے کس کا ذکر ہورہا ہے۔
صوابی میں ہیلی کاپٹر گرانے کا پلان اکسپوز ہوا جس کے لیے ڈبل ایجنٹ ہائیر کیا گیا تھا، جو بعد میں مارا گیا۔ اس کے بعد ہیلی کاپٹر میں غلط فیول بھروایا گیا اور رپورٹ آج تک سامنے نہ آسکی۔ اٹھارہ مارچ کو ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا اور جب ناکام ہوا تو پولیس افسر کو گالیاں دی گئیں کہ عمران خان کیسے بچ کر نکل گیا۔اس کے علاوہ متعدد کوششیں ہوئیں۔
گزشتہ تین سال سے عمران خان جیل میں ہیں اور مسلسل ان کی صحت کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ عسکری خبریں چلوانے والا میڈیا یہ کیوں بُھول رہا ہے کہ آپ پاکستان کے سب سے عظیم بیٹے عمران خان کی زندگی سے کھیلنے میں حصہ دار بن رہے ہو؟ عمران خان کی صحت کے حوالے سے سوال اٹھانے کو سیاست کا نام کیسے دیا جا سکتا ہے؟ کیوں ان کے ڈاکٹرز سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں ان کی فیملی سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں انہیں ہسپتال نہیں منتقل کیا جا رہا؟
آخر ایسا کیا گیا ہے جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
ہاں خان صاحب نے جب جیل میں عاصم لاء اور ذہنی مریض کا ذکر کیا تو عاصم منیر نے سب کے سامنے کہا کہ عاصم لاء ہے تو ہے، اب بتاتا ہوں عاصم لاء اور ذہنی مریض کیا ہوتا ہے۔
اسی غصے میں ڈی چوک میں خون ریزی کا اقبال جرم کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بتایا تھا سنگجانی سے آگے مت بڑھو، کیا اکھاڑ لیا صرف ہم سے لوگ ہی مروائے نا۔ ”پھر کوشش کریں اسلام آباد آنے کی، اس دفعہ اٹک پل پر کھڑے ہوکر ماریں گے، ویسے بھی ڈی چوک میں مروا تو دئیے“۔
تو کیا اس غصے میں ہی کچھ ایسا کیا گیا ہے، جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
عمران خان صاحب نے ایک بار پھر صرف اپنے ذاتی ڈاکٹرز سے ملنے کا کہا ہے جو اُن کا آئینی و قانونی حق ہے۔ جعلی حکومت اور اُن کو لانے والوں کی ہٹ دھرمی سے شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں جوکہ خطرناک ہے۔ ایسی حرکتوں سے ملکی حالات کو زبردستی خراب کیا جا رہا ہے۔
ہمارے کارکنان جو اپنی مدد آپ پرامن دھرنا دیے ہوئے ہیں اُن کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ عمران خان صاحب کا اُن کے ذاتی ڈاکٹرز اور فیملی ممبر کی موجودگی میں بہترین علاج ہو۔
میرے خیال میں معزز عدلیہ کو کوئی بھی حکم دینے سے پہلے مسئلہ پوچھنا چاہئیے۔ کہ لوگ چاہتے کیا ہیں؟ بیٹھے کیوں ہے؟ کیوں اُن کے لیڈر کو اُن کا آئینی و قانونی حق نہیں دیا جا رہا؟ کیوں ملاقاتیں بند ہے؟ کیوں عدالتیں ایک سال سے اُن کے کیسز نہیں سُن رہی؟ کیوں ۳،۳ ججز کے احکامات کو اڈیالہ جیل کی انتظامیہ ردی کی ٹوکری میں پھینک رہی ہے؟ کیوں اکتوبر 2024 کے بعد عمران خان صاحب سے اُن کو ذاتی معالج کو نہیں ملوایا جا رہا؟ آنکھ کی تکلیف کو یہاں تک پہچانے والا کون ہے؟ کیا آئین و قانون صرف پاکستان تحریک انصاف کے لیے ہے؟ پاکستان کے تمام ادارے پاکستان تحریک انصاف کی لیڈرشپ اور ورکرز کو کیوں دوسرے درجے کا شہری سمجھ رہے ہیں؟ کیا ہم پاکستانی شہری نہیں ہیں؟
عدالت کے احکامات کے بعد آئی جی پولیس خیبر پختونخواہ کا ردعمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کالی وردی کے پیچھے حکم و احکامات خاکی وردی کے ہیں۔ آئی جی پی وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے اور جب ایک دہشت گردی سے متاثرہ صوبے میں باہر سے لائے گئے پولیس کے بڑے اور صوبے کے چیف ایگزیکٹو کو آمنے سامنے لایا جائے تو حالات کو کس طرف لے جایا جا رہا ہے؟
یہ یاد رہے کہ ہم عمران خان صاحب کی صحت پر سیاست نہیں کرنا چاہتے۔ اور انتہائی تکلیف کے باوجود بہت برداشت کا مظاہرہ کر رہے ہیں- یہ بھی ذہن میں ہو کہ عمران خان صاحب کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہے۔ پاکستانی عوام مزید ظلم برداشت نہیں کرے گی اور نا ہی ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے۔
🚨 URGENT HEALTH APPEAL 🚨
Imran Khan has told his wife Bushra Bibi today that he remains deeply concerned about his eye.
His first and only priority is an immediate emergency meeting with his PERSONAL DOCTORS :
Dr Faisal Sultan and Dr Asim.
Let’s put politics aside for a moment and only focus on this one, extremely reasonable demand.
Allow the shaukat khanum doctors to examine Imran Khan. Why on earth is that not being allowed? Nothing short of that will satisfy millions of Pakistani's concerned about health of Imran Khan.
عاصم لا کے سائے میں اسلام آباد پولیس اپنی بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے ایک صوبہ کے وزیر کو گالیاں دیتے ہوئے جانوروں کیطرح گھسیٹ کر لے جا رہی ہے، انہی حرکات کیوجہ سے نہ ان کا انسانوں میں شمار ہوتا ہے اور نہ مسلمانوں میں، عاصم منیر اور یہ لوگ آخر کس مذہب کے پیروکار ہیں؟
A detailed report by the “Amicus Curiae” appointed by the Supreme Court of Pakistan on the health and prison conditions of arbitrarily detained former Prime Minister of Pakistan Imran Khan reveals disturbing details of serious human rights violations, inhumane treatment, psychological torture, and deliberate medical neglect, which has resulted in 85% vision loss in his right eye. Here are some highlights from the report:
Concerns from Imran Khan's longtime personal physicians, Dr. Aasim Yusuf and Dr. Faisal Sultan (Shaukat Khanum Hospitals):
In addition to urgent retina specialist care for his central retinal vein occlusion and severe vision loss, Imran Khan needs a full multidisciplinary evaluation of his underlying conditions at a tertiary hospital like Shifa International Islamabad. (February 15, 2026)
🚨 ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر فیصل سلطان کا ہنگامی ویڈیو بیان
خان صاحب کو صرف آنکھ کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری میڈیکل ٹیسٹس اور ٹریٹمنٹ کی اشد اور فوری ضرورت ہے خدانخواستہ انکی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے
سوشل میڈیا کا فرض ہے اسکو ہر جگہ پہنچانا
It is heartbreaking to hear our skipper Imran Khan going through health issues. I sincerely hope the authorities take this seriously and ensure he receives the best possible medical care. Wishing him strength, a speedy recovery, and a full return to good health. possible medical care. Wishing him strength, a speedy recovery, and a full return to good health.
بریکنگ نیوز ، فرینڈ آف کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر کی وضاحت " میری رپورٹ کی کوئی چیز ایسی نہیں جو سمجھ نا آئے عمران خان نے مجھے انٹرویو میں بتایا تھا کہ ان کو پمز ہسپتال کے ڈاکٹرز نے ٹیسٹ اور ریسرچ کے بعد بتایا کہ ان کی 85 فیصد بینائی جا چکی ہے "
Nawaz , Shahbaz and Zardaris police beating up Imran Khans parliamentarians in islamabad. They can’t lift a fingers against terrorists and bombers but harming Imran khan and his team- not a problem !
It is 3:40pm on Friday, 13th February, nearly 30 hours after the jail visit report was presented before the Supreme Court of Pakistan. Yet, no orders have been issued for Imran Khan to be shifted to Shifa International Hospital, Islamabad for examination and treatment by specialist doctors under the supervision of his personal medical team.
🚨 Former Pakistani PM Imran Khan has lost most of vision in his right eye, likely due to not being treated in jail.
— A medical report submitted in the Supreme Court of Pakistan reveals the deteriorating vision of former PM.
Ex-Pak PM Imran Khan ‘loses 85% vision’ in right eye
Lawyer meets Khan, submits a report on his jail conditions to the Supreme Court
Pak top court orders a team of doctors to examine Khan
@ShreyaOpines has more in this