لا الہ اللہ کا مطلب آزادی ہے اور قرآن نے انبیا کے بعد شہید کا مقام سب سے اونچا قرار دیا ہے۔ سید حسن نصر اللہ اور اسماعیل ہانیہ اپنے وطن کے دفاع میں شہید ہوئے اور ان کا مقام بہت بلند ہے۔ میں ہمیشہ ٹیپو سلطان کی طرح لڑتے لڑتے شہید ہونے کو بہادر شاہ ظفروالی موت پر ترجیح دونگا، اور میں نے ہمیشہ اللہ سے ٹیپو سلطان جیسی موت کی دعا کی ہے۔
اللہ نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے۔
ایک مشہور قول ہے: "جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں پر دیے ہیں تو چونٹیوں کی طرح کیوں رینگتے ہو”
اس وقت پاکستان میں گینگ آف تھری اور پی ڈی ایم چاروں نے مل کر ہر ادارے کو غلام بنایا ہوا ہے۔ پاکستان میں صرف سپریم کورٹ واحد ادارہ بچ گیا ہے جس کو غلام بنانے کیلئے غیر آئینی ترمیم لائی جا رہی ہے۔ پاکستان سے قانون کی حکمرانی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور کسی کا کوئی احتساب نہیں۔ گینگ آف تھری نے اپنی ایکسٹنشن کیلئے ہر قانون کو توڑ کر ملک میں لاقانونیت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ جس کا سب سے بڑا اثر ملکی معیشت پر پڑ رہا ہے جو کہ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔
اس وقت کے تمام حکمرانوں کا سارا پیسہ بیرون ملک ہے اس لئے وہ اپنے ذاتی مفاد اور طاقت کیلئے ملک کے ہر ادارے کو بے دردی سے تباہ کر رہے ہیں۔
میرے پاکستانیو!
میری ساری جدو جہد آپ کو آزاد کروانے کیلئے ہے اس لئے آپ خوف کے سارے بت توڑ کر نکلو۔ یہ وقت Do or Die کا ہے۔ میں اپنی ذات کی قربانی آپ لوگوں کی آزادی کے لیے دے رہا ہوں۔ آپ بھی اپنی ذات کی نفی کرتے ہوئے پورے ملک کے روشن مستقبل کا سوچیں اور میری ہر کال پر احتجاج کیلئے باہر نکلیں۔
پاکستان زندہ باد۔
Either you surrender or you fight for your freedom till death.
What will we do? My belief is La Ilaha Illallah there is no God but one, and we will fight!
وزیر اعلی سہیل آفریدی کے گرفتار کر لیا گیا ۔ اب عوام کو نکلنا ھوگا ۔ پورے خیبر پختون خواہ پشاور کے طرف آئے ۔ کوہاٹ پشاور کے طرف رخ کرے ۔ قبائلی اضلاع کے عوام پر باری ذمہ داری عائد ھوتی ھے ۔قبائل اپنے وزیر اعلیٰ کے لیے نکلنا ھوگا ۔جہاں عوام جمع ھوگی وہاں مجھے اپنے درمیان پائینگے۔
وزیرا علیٰ سُہیل آفریدی کو گرفتار کر لیا ہے پاکستانیوں اب آپ کی باری ہے میں پشاور میں موجود ہو نکلو پشاور کی عوام اپنے محبوب لیڈر عمران خان کے لیے اُس کے سپاہی کے لیے سب گھروں سے نکلو خیبر کی عوام پشاور کا روح کرے آپ کی تعداد جہاں بڑ جائے گی میں وہاں موجود ہونگا
جنید اکبر سمیت دیگر ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ہے
جنوبی اضلاع بشمول کرک کی عوام نیشنل ہائی وے بند کردے
سب پشاور کی طرف روح کرے
اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے صوبائی اسمبلی کے معزز اراکین کی سیکیورٹی واپس لینے یا منقطع کرنے کے معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا کو ہنگامی مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔
مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین کو سیکیورٹی کی فراہمی خیبرپختونخوا اسمبلی (اختیارات، استثنیٰ اور مراعات) ایکٹ 2026 کے تحت قانونی تقاضوں سے مشروط ہے، لہٰذا کسی بھی رکن کی سیکیورٹی مناسب قانونی جواز اور متعلقہ قانون پر عمل درآمد کے بغیر واپس نہیں لی جا سکتی۔
اسپیکر بابر سلیم سواتی نے ہدایت کی ہے کہ صوبائی اسمبلی کے کسی بھی رکن کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی اہلکاروں کو قانونی جواز اور مقررہ ضابطے کی تکمیل کے بغیر واپس نہ بلایا جائے، نہ ہی ان کی تعیناتی منقطع کی جائے۔ مزید برآں، جن اراکین کی سیکیورٹی پہلے ہی واپس لی جا چکی ہے، اسے فوری طور پر بحال کیا جائے۔
مراسلے میں خبردار کیا گیا ہے کہ صوبے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال میں اراکین اسمبلی کی سیکیورٹی واپس لینے سے انہیں سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ایسی کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں کسی رکن کو نقصان پہنچنے یا ناخوشگوار واقعے کی صورت میں معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے متعلقہ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے اس امر پر زور دیا ہے کہ منتخب عوامی نمائندوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا اور ان کی سیکیورٹی سے متعلق قانونی تقاضوں کی پاسداری کرنا ناگزیر ہے
میرے پاکستانیو! لیڈر ہمارا ناحق قید میں، اس کا پورا خاندان مقید، سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت میسر نہیں۔ مینڈیٹ ہمارا چرایا، جعلی لوگ مسلط کرکے جعلی لوگوں سے، جعلی قانون سازی کروا کر عدالتیں کنٹرول کیں، جبر اتنا کہ ہلاکو خان بھی شرما جائے۔ گھر توڑے خواتین کو ہراساں کیا، کارکنان، اراکین اسمبلی، ان کے بچوں تک کو اغوا اور لاپتہ کیا۔ اس سب کے باوجود ہم نے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آئینی و قانونی ہر راستہ اپنایا اور بار بار اپنایا۔ اب جب سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت نہ ملی، نو مہینے کی بے رحمانہ قید تنہائ، اپیلوں کی سنوائی کے لیے اور نا حق اسیری کے خلاف پر امن لانگ مارچ کا آغاز ہوا تو جعلی مسلط شدہ ٹولہ اور ان کی ڈوریاں ہلانے والوں نے اس کے نام پر شروع؛ آئین و قانون کے مطابق اور پر امن مارچ کے سامنے پختونخواہ کی عوام کا سودا کرنے کی شرط رکھ دی۔ وہ جس نے ملک و قوم کا سودا کرنے سے انکار کرتے ہوئے وزارت عظمی قربان کی، تین سال سے ناحق اسیری کاٹ رہا ہے۔
شرط ہے کہ اپنی عوام کو میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن بناؤ یعنی لشکر کشی میں ساتھ دو۔ عوام کو بے گھر کرکے فوجی چیک پوسٹیں قائم کرکے، قطاروں میں ذلیل کرنے کی تاریخ دہراؤ۔ اُن پر بے دریغ بمباری کی اجازت دو، تو ہی آپ کے لیے آسانی ہوگی ورنہ آسانی تو دور پختونخواہ حکومت ختم کرکے آپ کو کچل کے رکھ دیں گے۔عمران خان کی حکومت میں اس بات کا ایبسلوٹلی ناٹ کے علاوہ تو کوئ جواب مل نہیں سکتا تھا۔ جواب یہی ملا کہ لعنت تمہاری ایسی آسانی پر جو اپنے لوگوں کے خون کا سودا کرنے سے مشروط ہو۔
لعنت ایسی ہوسِ اقتدار پر جو اپنے لوگوں کو آگ کا ایندھن بنادے۔ملک کو تو تباہ کر دیا آپ کی اس ہوس نے۔ بلوچستان میں لشکر کشی کے بعد آپ کا وزیر اعلی اور کور کمانڈر کینٹ سے باہر نہیں جا سکتا لیکن پختونخواہ پر لشکر کشی کرنی ہے۔ امن مقصد ہوتا تو صوبائی اسمبلی میں پختونخواہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ ہوا جس میں صوبے کے تمام سٹیک ہولڈرز شامل تھے، دیرپا امن کے لیے ان کی بتائ پالیسی پر عمل ہوتا لیکن فوج و وفاقی حکومت نے اس جرگے پر بغاوت غداری اور وفاق کو تقسیم کرنے کا فتوی لگایا۔جن کی زندگیاں وابستہ ہیں، جن پر ان حالات کا براہ راست اثر ہونا ہے۔ ان کی پالیسی قبول نہیں کیونکہ مقصد امن نہیں۔
مقصد؛ ایک طرف افغانستان کے حوالے سے کی گئی کمٹمنٹس کو پورا کرنے کا وقت آپہنچا ہے جس کے لیے پختونخواہ کو ایندھن بنایا جائے گا۔ دوسری طرف پاکستان کے ہر دور کے جنرل و ڈکٹیٹر کا طاقت کے طول کا آزمودہ فارمولہ؛ پاکستان کو نئی پیکنگ میں سیکورٹی سٹیٹ بنا کر پیش کرنا ہے۔ رہی بات ایمرجنسی کی تو کون نہیں جانتا جن دہشت گردوں کی آبادکاری کی پالیسی یہ عقلِ کُل لے کر آئے تھے اُن کے مطالبات کا تیسرا نکتہ فاٹا کو وفاق کے زیر انتظام دینا یعنی فاٹا مرجر کو واپس کرناتھا۔ وہی مرجر جس کے حوالے سے انہی کا بیانیہ تھا کہ ملک دشمن قوتیں اور ان کے آلہ کار فاٹا انضمام کے خلاف ہیں۔ تو کیا اب یہ دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرا نہیں؟
مارچ عمران خان کی رہائی کا تھا ہے اور یہی مطالبہ ہے۔ رہی بات دہشت گردی کے حالیہ بیانیے کی تو حقیقت یہی ہے کہ موجودہ لہر آئی نہیں لائی گئی، دہشت گرد آئے نہیں لائے گئے، صرف لائے نہیں گئے باقاعدہ رُوٹ لگا کر اپنی نگرانی میں پھیلائے گئے۔ اور جس ایمرجنسی کے لگانے کے لیے آج ان کٹ پتلیوں کو بٹھا کر بیانیے بنائے جارہے ہیں یہ انہی کے آرمی چیف کے الفاظ ہیں کہ فاٹا کو وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔جی! آرمی چیف نے کہا فاٹا کو صوبے سے وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔ جس پالیسی کے تحت ان دہشت گردوں کو آباد کیا جا رہا تھا اس کا تیسرا نکتہ ہی یہی تھا۔ ایک بار پھر ہر میدان میں ناکامی کے بعد بالآخر جمال، کمال کا نام استعمال کرکے پاکستان کو دلدل میں دھکیلا جارہا ہے مگر یہ قوم نہ تو مزید کسی کی جنگ میں ایندھن بنے گی نا ہی بے گھر ہوگی نا ہی مارٹر گولوں، ڈرون اور لڑاکا طیاروں کا نشانہ بن کر کولیٹر ل ڈیمج بنے گی، نا ہی اپنے گھر میں قطاروں میں کھڑے ہوکر آپ کے ہاتھوں ذلیل ہوگی۔ جب نکلنا ہی ہے تو اپنے گھروں کی تباہی کے بعد بے گھری کیوں جھیلیں، تمہارے ان گھناؤنے منصوبوں کے خلاف نکل کر اپنے مسیحا عمران خان کو واپس لانے کے لیے نکلیں گے۔
انشأللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے ہم لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے-
آج بروز اتوار، 4 اکتوبر، دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔ رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ کرے گا۔
5 اکتوبر دن 12 بجے کرک کے غیور عوام ہمیں جوائن کرینگے۔ وہاں سے روانگی 12:30 بجے ہوگی اور رات کو کوہاٹ کے قریب پڑاؤ کریں گے-
6 اکتوبر کو 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع کے پاکستانی ہمیں جوائن کریں گے۔ کوہاٹ سے پشاور کی طرف روانگی ہوگی اور پشاور متنی کے قریب رات گزاریں گے۔
7 اکتوبر کو پشاور بڈھ بیر کے مقام سے دن 12:30 بجے روانگی ہوگی۔ بڈھ بیر کے مقام پر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ پشاور کے باقی حلقے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازا پر ہمیں جوائن کریں گے۔ اور رات ہم چارسدہ انٹرچینج کے قریب گزاریں گے۔
8 اکتوبر کو 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی۔ وہاں ضلع چارسدہ اور مہمند ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔
پورے خیبر پختونخوا کے لوگ 8 اکتوبر کو خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہونگے اور وہاں رات گزاریں گے۔ انشأللہ آگے کا لائحہ عمل وہاں پر دیا جائیگا۔
4 اکتوبر کو انشاءاللہ عوام کا سمندر سڑکوں پر ہوگا۔ ہماری تیاری مکمل ہے۔ ہمارے کارکن پُرامن لانگ مارچ کے لیے بیتاب ہیں۔ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں 24 گھنٹے کی ڈیدلائن سے ہمارے لاکھوں کارکن سڑکوں پر ہونگے۔ انشاءاللہ۔