إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
Our dear Jiyali Saba Hyder @SabaHyder1 has passed away 💔. May Allah Almighty have mercy on her soul and grant her family and our jiyalas the strength to bear this loss. Ameen
@Punjabastan پشتون صرف بنوں سائیڈ والے ہیں اصلی باقی سب دوسری اقوام سے ہیں کچھ ترکمن کچھ فارس کچھ رشین کچھ یہودی کچھ عرب کچھ گجر کچھ پہاڑی باقی کچھ منگول
@ammarmasood3 احساس کمتری نہیں بلکہ فنٹیسی سوچ ہے اسکو جہالت کہ سکتے ہیں یہ عام انسانوں جیسا نہ ہونا کہ سکتے ہیں قدرتی زندگی سے ہٹ کر مصنوعی دنیا کو عزت سمجھنا کہ سکتے ہیں۔ پنجابی ہر لحاظ سے بے وقوف نااہل ناسمجھ اور نظریاتی طور پر غریب سوچ ہیں۔
@enkidureborn انقلاب تب آتے ہیں جب عوام پورے نظام سے تنگ آکر سبکو ایک جیسا سمجھ کر بے لگام ہونا شروع ہوتی۔ اسلیے انقلاب بہت دور ہے ابھی عوام زرداری نواز نیازی عشق میں تقسیم ہے ایسی عوام جو تینوں سے منحرف ہو % میں بہت کم ہے جس دن تینوں سے منحرف سوچ والی عوام 50% کراس کریگی انقلاب اڑان بھرے گا۔
@saleemspeaks2 یہ سرائیکی میں رواج تھا جو اب تقریبا ختم ہوچکا ہے صرف دور دراز دیہاتوں میں آج بھی قائم ہے اس رواج کو بھارویں روٹی کہتے ہیں مطلب سب رشتہ دار علاقے والے جنکو کہنڈھا ہوگا وہ آئیں گے اپنے گھر کا برتن لیکر انکو گوشت روٹی یا چاول تول کر دیا جاتا ہے۔ تولنے کا طریقہ اندازہ یا کنڈا ہوتاہے
@saleemspeaks2 اگر ہمارے گھر شادی ہوگی تو ہم 7 گھروں کے دیگچیوں کو ایک دیگ سے برابر بھر دیں گے تو جنکو ہم دے رہے ہیں وہ بھی ہمارے علاقے کے برادری کے ہی ہوتے ہیں وہ بھی ویسا کریں گے کیونکہ رواج پورے قبیلے قوم علاقے سماج کا ہوتا ہے۔ باقی مہمان جو دور کے غیر ہوتے ہیں انکو بیٹھا کر کھلایا جاتا ہے۔
@saleemspeaks2 ہاں جی ایک ہی بات ہے تول کر دیں یا 7گھروں کے لیے ایک دیگ مختص کرنے کا رواج یہ کنڈے سے تول کر دیتے ہیں جو99% ایکوریسی ہے جبکہ زیادہ تر لوگ دیگ کے چمچ سے اندازے سے سبکو برابر تقسیم کرتے ہیں 95%ایکوریسی ہےاس میں رواج ایک ہے تول کر یا چمچ سے۔ اور جس علاقےمیں قائم اسکو سب فالو کرتےہیں
اسلیے کہتے ہیں ایک پنجابی سکھ سوا لاکھ کے برابر ہوتا ہے ❤️
پنجابیوں جیسا کوئی نہیں بہادری میں۔
نوٹ: ایک پنجابی سکھ بڑا گوشت لیکر اپنے ٹرک میں جارہا تھا بھارتی ہندو جتھا اس پر حملہ آور ہوگیا تو سکھ نے تلوار نکال لی ہندو سب بھاگ گئے۔
ٹی ٹی پی کے 60 سے زیادہ جنگجو میران شاہ کے قریب تین گائوں پالنگزئی، خوزئی اقر ندیم کوٹ میں فوجی آپریشن کے دوران مارے گئے۔ ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں اور ان کی قیادت کو معلوم ہی نہیں کہ ان کو بیچ دیا گیا ہے۔
جی ہاں فروخت کر دیا گیا ہے۔
اقتدار کے کھیل میں سب سے اہم اقتدار ہوتا ہے باقی وفا جفا کی باتیں الف لیلوی داستانیں ہوتی ہیں۔
طالبان کو مقامی سطح پر قبولیت اور پذیرائی کی ضرورت تھی۔ جب اقتدار میں آئے انہیں پاکستان کے ایجنٹ قرار دیا گیا۔ اندر کی خبر رکھنے والے کہتے ہیں کہ ان کی پہلی کابینہ پاکستان کی مرضی سے بنی تھی جس میں ایران کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے والوں کو نظر انداز کیا گیا۔ آج بھی اہم پوزیشنوں پر وہی لوگ موجود ہیں۔ ایرانی کیمپ والوں کو بعد میں ایڈجسٹ تو کیا گیا مگر بنیادی ڈھانچہ وہی رہا۔
افغانستان میں پاکستان کی مخالفت بہت عروج پر تھی۔ طالبان کو مقامی سطح پر قبولیت درکار تھی۔ اس قبولیت کے لئے پاکستان کے ساتھ "لڑائی" ضروری تھی، سو پاکستان کے ساتھ یہ لڑائی پاکستانیوں کے ذریعے ہی لڑی گئی اور جہاں ضرورت پڑی کچھ افغانوں کو بھی استعمال کیا گیا۔
تحریک طالبان پاکستان، حافظ گل بہادر اور لشکر اسلام وغیرہ کے پاکستان جنگجوؤں کو واپس پاکستان بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ انہیں بتایا گیا، سمجھایا گیا، باور کرایا گیا کہ پاکستان کا "جہادی" میدان گرم ہے سو کود پڑیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ "جذبہ جہاد" سے سرشار مگر اصل کھیل سے نا بلد یہ جنگجو جوق در جوق پاکستان واپس آنے لگے۔ پاکستان بھی نہیں چاہتا تھا کہ اتنی بڑی فائنٹنگ فورس پڑوسی ملک میں موجود رہ کر مستقل خطرہ بنی رہے۔۔سو تھوڑی تھوڑی پسپائی اختیار کی جاتی رہی، کبھی ایک جگہ آنے دیا پھر مار دیئے کبھی دوسری جگہ آنے دیا، کچھ عرصہ ویڈیوز وغیرہ بنائیں پھر وہاں سے صفایا کر دیا گیا۔
طالبان بھیجتے رہے پاکستان مارتا رہا۔
صرف اس سال اب تک 900 سے زائد جنگجو خیبر پختونخواہ میں مارے جا چکے ہیں۔ یعنی گاجر مولی کی طرح کاٹے جا رہے ہیں۔
طالبان کو خطرہ تھا کہ اگر ٹی ٹی پی وغیرہ کے خلاف براہ راست ایکشن لیا گیا تو یہ داعش میں نہ چلے جائیں لیکن وہ اس درد سر کو زیادہ عرصہ پالنا بھی نہیں چاہتے تھے سو یہ درمیانی رستہ نکالا گیا کہ انہیں واپس بھیجیں اور پاکستان جانے اور اس کا کام اور اس دوران عام افغانوں میں اپنی ساکھ بھی بہتر بنائیں۔
مجھے افسوس ہوتا ہے ان نوجوانوں کے اس طرح کے انجام پر جو جہاد کے نام پر کسی نہ کسی بڑی گیم کا شکار ہوتے ہیں اور پورے اخلاص سے سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ جہاد کر رہے ہیں مگر ان کے جذبہ جہاد اور شوق شہادت کی قیمتیں کہیں اور طے ہو رہی ہوتی ہیں کبھی ان کے اپنے ہی انہیں بیچ دیتے ہیں۔
بہتر تو یہ ہے کوئی ایسی پالیسی اپنائی جائے کہ جہاد کے نام پر فریب کا شکار ہونے والے نوجوانوں کو واپسی کا رستہ فراہم کیا جائے۔ اگر طالبان انہیں اپنی گیم کی خاطر قربان کر رہے ہیں تو پاکستان کو کم از کم کوئی ایسی پالیسی ضرور بنانی چاہیے کہ جو نوجوان ہتھیار ڈال کر واپسی کا سفر اختیار کرنا چاہیں انہیں معلوم ہو کہ کیسے یہ کام کیا جا سکتا ہے۔
جو لڑنے آنا چاہے اس نے تو مرنا ہی ہے مگر جو لڑنے سے باز آنا چاہیں ان کے لئے بھی پالیسی بنائی جائے