حیدر سعید کی فیملی اس وقت تکلیف میں ہے۔ہر احتجاج میں موجود رہنے والا حیدر سعید اس وقت جیل میں ہے۔لیکن جیسے ہم لوگوں نے خان صاحب کی قید کو نارملائز کر دیا اسی طرح سے حیدر سعید جیسی فیملیز کی تکلیف کو بھی نارملائز کیا جا رہا ہے۔قیادت تو خاموش ہے اپ لوگ تو بولیں❗
@Haidersaeedpti1
The passion of our workers for freedom (Haqeeqii Azadi) was something I prayed Almighty Allah would instill in our nation one day . Only nations with youth who value freedom above life achieve great things. When rule of law protects their fundamental rights & their minds are
جس طرح کی طِبی دہشت گردی عمران خان کے ساتھ کی گئی، اور اس پر جیسے ان کے ذاتی معالجین اور فیملی کے بغیر جو عسکری رپورٹس میڈیا پر چلائی گئیں اس سے مزید تشویش ناک صورت حال جنم لے رہی ہے۔ عمران خان اس وقت ریاست کی تحویل میں ہیں جہاں مسلسل اُن کی زندگی سے کھیلا جا رہا ہے۔ آخر کس چیز کو چھپایا جا رہا ہے؟
کنٹرولڈ چیک اپ، کنٹرولڈ انفارمیشن، کنٹرولڈ میڈیا ۔ جس سے زندگی کو خطرہ ہے، جن کی وجہ سے اس نہج پر پہنچے ان ہی کی بات پر یقین کیا جائے؟
اس سے قبل عمران خان پر وزیرآباد میں قاتلانہ حملہ کروایا گیا ان کو گولیاں لگیں، اللہ نے اُن کی زندگی کی حفاظت کی لیکن اس وقت بھی بیانیے بنائے گئے، لمحوں میں آئی ایس آئی نے میڈیا کو ویڈیو بیانات بھجوانا شروع کر دئیے۔
فوجی قیادت کے کہنے پر آئی ایس آئی نے ایک افغانی کو خان صاحب کو مارنے کا ٹاسک دیا، جب میں نے پریس کانفرنس میں اس سازش کا پردہ فاش کیا تو آئی ایس آئی اسلام آباد سیکٹر نے پریس کلب میں ایک افغانی کی پریس کانفرنس رکھوائی اور شام کو پرائم ٹائم ٹی وی پروگرام میں بیانیے کے لیے بھجوایا گیا۔ میں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا، مگر یہ جانتے تھے کس کا ذکر ہورہا ہے۔
صوابی میں ہیلی کاپٹر گرانے کا پلان اکسپوز ہوا جس کے لیے ڈبل ایجنٹ ہائیر کیا گیا تھا، جو بعد میں مارا گیا۔ اس کے بعد ہیلی کاپٹر میں غلط فیول بھروایا گیا اور رپورٹ آج تک سامنے نہ آسکی۔ اٹھارہ مارچ کو ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا اور جب ناکام ہوا تو پولیس افسر کو گالیاں دی گئیں کہ عمران خان کیسے بچ کر نکل گیا۔اس کے علاوہ متعدد کوششیں ہوئیں۔
گزشتہ تین سال سے عمران خان جیل میں ہیں اور مسلسل ان کی صحت کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ عسکری خبریں چلوانے والا میڈیا یہ کیوں بُھول رہا ہے کہ آپ پاکستان کے سب سے عظیم بیٹے عمران خان کی زندگی سے کھیلنے میں حصہ دار بن رہے ہو؟ عمران خان کی صحت کے ��والے سے سوال اٹھانے کو سیاست کا نام کیسے دیا جا سکتا ہے؟ کیوں ان کے ڈاکٹرز سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں ان کی فیملی سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں انہیں ہسپتال نہیں منتقل کیا جا رہا؟
آخر ایسا کیا گیا ہے جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
ہاں خان صاحب نے جب جیل میں عاصم لاء اور ذہنی مریض کا ذکر کیا تو عاصم منیر نے سب کے سامنے کہا کہ عاصم لاء ہے تو ہے، اب بتاتا ہوں عاصم لاء اور ذہنی مریض کیا ہوتا ہے۔
اسی غصے میں ڈی چوک میں خون ریزی کا اقبال جرم کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بتایا تھا سنگجانی سے آگے مت بڑھو، کیا اکھاڑ لیا صرف ہم سے لوگ ہی مروائے نا۔ ”پھر کوشش کریں اسلام آباد آنے کی، اس دفعہ اٹک پل پر کھڑے ہوکر ماریں گے، ویسے بھی ڈی چوک میں مروا تو دئیے“۔
تو کیا اس غصے میں ہی کچھ ایسا کیا گیا ہے، جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
خیبر پختونخواہ کے عوام کی زندگی اور ان کے مستقبل کا فیصلہ صوبے کے لوگ خود کریں گے۔ کسی کو بھی بند کمروں کے فیصلوں کو عوام پر مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس سلسلے میں قیام امن کے لیے بروز ہفتہ ۲۵ اکتوبر ۲۰۲۵ ضلع خیبرتحصیل باڑہ میں تمام سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر قبائلی عمائدین، مشران اور نوجوانوں کا بڑا امن جرگہ منعقد کیا جائیگا۔ خیبر پختونخوا کی حکومت عمران خان کے نظریے اور صوبے کے عوام کے مفاد کے ساتھ کھڑی ہوگی انشاءاللہ۔
موجودہ حالات میں جہاں عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ پارٹی قیادت عمران خان کی رہائی اور اس کے کاز سے اپنی کمیٹمنٹ کے اظہار اور یقین دہانی کے لیے ایک بھرپور احتجاجی تحریک کا اعلان اور اس حوالے سے تیاریوں کا باقاعدہ آغاز کرے، وہیں عمران خان اور بشری بی بی اور دیگر ناحق قید اسیران کو قید میں جس غیر انسانی سلوک کا سامنا ہے اور جیسے عمران خان کو توڑنے کے لیے انہیں اور ان کی اہلیہ کو اذیت دی جارہی ہے وہ بھی ہمار�� لیے بحیثیت قوم افسوس کا مقام ہے، ان کے ساتھ روا سلوک پر ہماری خاموشی ہماری غفلتوں کا بوجھ ہی بڑھائے گی۔ دوسری جانب ہر اہم مرحلے پر عمران خان تک رسائی بند کرکے جس طرح سے بار بار عوامی مفاد کے معاملات کو نقصان پہنچایا گیا اس سے بھی یہ بات واضح ہے کے مصالحانہ کوششوں اور روئیوں کو کمزوری گردان کر، انگیجمنٹ کی آڑ میں تحریک کی جڑیں کاٹی جارہی ہیں۔ اس لیے میری رائے میں عالمی حالات میں کشیدگی کم ہونے کے بعد احتجاجی تحریک پر فوکس کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ میری گزارش ہے کہ پارٹی قیادت عمران خان کی ہدایات کے مطابق فوری احتجاجی تحریک کی سٹریٹجی واضح کرے، اپنی جانب سے میں نے ہمیشہ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اپریل ۲۰۲۵ میں تیاری کی کال دی تو عوام کی بھرپور شرکت سے یہ تاثر بھی زائل ہوگیا کہ ۲۶ نومبر کے سانحے کے بعد کوئی نکلنے کو تیار نہ ہوگا میں اب بھی یہ گارنٹی دیتا ہوں کہ پارٹی کے دیے گئے پلان پر عملدرآمد اور تمام ممبران کو دیے گئے ٹارگٹ سے انشاء اللہ زیادہ تعداد اور بھرپور شرکت میرے حلقے اور ا��تجاج اور جلسوں کے لیے بنائی ٹیموں کی جانب سے ہوگی۔
میں اپنی قیادت کو بھی ایک بار پھر اور اس مرتبہ پبلک فورم پر مخلصانہ مشورہ دیتا ہوں؛ میں پہلے دن سے اس بات پہ قائل ہوں کہ عمران خان کو ہٹانے والو کی پلاننگ میں اس کی واپسی نہیں شامل۔ اور اس کے لیے وہ ہر حد تک جائیں گے۔ جارہے ہیں۔ ہم اگر نادانستہ بھی خدانخواستہ ان کی اس پلاننگ میں استعمال ہوگئے تو ان تک تو شاید کسی حد تک عوام کی رسائ نہ ہو مگر جیسے دیگر سیاسی شخصیات کے گھر بار اور گریبان عوام کی رسائی میں ہیں ویسے ہمارے بھی ہیں۔ اور جہاں ہمیں عمران خان کے نام پر اس قوم نے سر آنکھوں پر بٹھایا ہے قوم کے غضب کا نشانہ ہم نے بھی بننا ہے۔ عمران خان کی خاطر نا سہی اپنی خاطر ہی معاملات کی سنگینی کا احساس کریں۔
ریٹویٹ کرنے پر پیسہ نہیں لگتا !
پھیلاؤ ہر طرف ۔۔۔۔۔
بے شک پاکستان میں " Absolutely Not " کہنے والا بہادر ایک ہی ماں نے جنا ہے اور وہ شوکت خانم کا بچہ عمران خان ہے۔
امریکی غلاموں نے 25 کروڑ عوام کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔
#OnlyKhanSaidAbsolutelyNot