ہیلتھ کارڈ لانے کا مقصد یہ تھا کہ سرکاری ہسپتال اب بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ، آدھے مریض پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانے چاہئیں لیکن عمران خان کی نفرت میں ہیلتھ کارڈ ختم کردیا گیا
ہیلتھ کارڈ کے لیے کہا گیا کہ پیسے نہیں ہیں لیکن میڈیا کو پچاس ارب سے زائد دینے ، گیارہ ارب کا جہاز خریدنے ، آئی پی پیز کو ہزار ہا ارب دینے ، آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہیں بڑھانے ، اراکین اسمبلئ، اسپیکر ، چیئرمین سینٹ اور وزرا کی تنخواہیں بڑھانے کے لئے پیسہ موجود ہے ، یہ اشرافیہ کا نظام ہے
مصطفی کمال کہتا ہے کہ:
“یہ ایک سرکاری ہسپتال ہے۔ اس میں آگ بجھانے کی سہولت جدید ہسپتالوں جیسی نہیں”
جس ۹ کروڑ کی سرکاری گاڑی میں گھومتے ہیں وہ “جدید”۔
منسٹرز آنکلیو میں جس پچاس کروڑ کے سرکاری گھر میں رہتے ہیں وہ “جدید”۔
سرکاری آفس میں جو کمپیوٹرز استعمال کرتے ہیں وہ “جدید”۔
سرکاری خرچوں پر جن ہوائ جہازوں پر جاتے ہیں وہ “جدید”
اور
جس کیمرے کے سامنے کھڑے ہوکر یہ بیان دیا ہے وہ بھی “جدید”۔ فقط غریب کے لئیے ہر چیز “قدیم”۔
شوکت خانم ہسپتال اپیل 🚨
عمران خان بدقسمتی سے اس عید پر بھی جیل میں ہیں جبکہ اس وقت شوکت خانم ہسپتال کو پیسوں کی سخت ضرورت ہے۔
جتنا بھی ممکن ہو شوکت خانم ہسپتال کو ڈونیشن دیں اور اس میسج کو گھر گھر تک پہنچائیں
ایرانی بھائیوں نے پوری امت کا قرضہ چکا دیا ، ایران نے کر کے دکھا دیا کہ جب کافر کا خوف دل سے نکل جائے تو وہ بکری بن جاتا ہے اور جب کافر کا خوف اندر آ جائے تو ہم واحد ایٹمی طاقت کے باوجود بکری بن جاتے ہیں، ہمارے بڑے اور چھوٹے دشمن کے خوف سے نکل ہی نہیں رہے ۔۔
مولانہ طارق جمیل
باہر سے آئے مہمان کو مذہبی فرقہ واریت کو پسِ پردہ ڈال کر عزت دی جائےتو مہمان کی عزت کے ساتھ ساتھ اپنی بھی عزت ہوتی ہے۔۔
تمام مسالک کے علمائے حضرات کو دل سے سیلوٹ ھے۔
سرکاری گیدیں اس ملک کو نوچ کر کھا گئی ہیں ۔
پٹرول کا بے جا بے تحاشہ غیر ضروری استعمال ، ڈیڑھ گھنٹے سے کھڑی سرکاری گاڑی جو کہ سٹارٹ کھڑی ہوئی تھی AC چل رہا تھا لیکن اس میں کوئی بندہ تک نہیں بیٹھا ہوا تھا اینکر نے پکڑ لی۔
یہ ہے کفایت شعاری جو حکومت چلا رہی ہے
تُرکی ڈرامہ ارطغرل میں ابن العربی کا کردار دیکھ کر میں سوچتا تھا کہ بھلا کوئی اتنا میٹھا کیسے بول سکتا ہے۔ ایسا میٹھا بولنے والا اصل زندگی میں ہو ہی نہیں سکتا۔
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق باطل ہو تو فولاد ہے مومن