"خودداری والی عورت قوم کا فخر ہوتی ہے، محتاجی نہیں!"
سوچنے کی بات ہے…
جو خواتین کبھی کھیتوں میں محنت کرتی تھیں،
فصلیں اگاتی تھیں،
سلائی کڑھائی سے گھر چلاتی تھیں…
آج وہی کئی خواتین امدادی مراکز کی لائنوں میں کھڑی نظر آتی ہیں۔
قومیں اُس وقت ترقی کرتی ہیں جب عورت کو محتاج نہیں بلکہ خودمختار بنایا جائے۔
ہنر، تعلیم اور روزگار ہی اصل طاقت ہیں
یہ تصویر ریاست کے ان لوگوں کے منہ پر تھپڑ سے کم نہیں جو عورت کو خودمختار بنانے کی بجائے لائنوں میں کھڑا کرتی ہیں
یہ کولمبیا میں بل گیٹس کی مچھر فیکٹری ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی مچھر فیکٹری ہے۔
30 ملین جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مچھر ہر ہفتے 11 ممالک میں گرائے جاتے ہیں۔
🚨بائیکاٹ بائیکاٹ بائیکاٹ !ایران جنگ میں اسرائیل کو نقصان پہنچا رہا ہے اور ہمیں ان کی کمپنی کی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی کرنا ہوگا تاکہ انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑے۔ہمیں ان کی کمر توڑنی ہوگی تاکہ وہ دوبارہ اٹھ نہ سکیں بس انکی معاشی کمر توڑ دیں۔کیا آپ بائیکاٹ کے لیے تیار ہیں؟
میں نے اپنے ذاتی تجربے سے چند اہم سبق سیکھے ہیں:
1- کبھی کسی اور کے کاروبار میں پیسہ انویسٹ مت کریں
2- ایسے کسی پروجیکٹ میں سرمایہ نہ لگائیں جو مکمل نہ ہو
3- لوکلز سے ڈائریکٹ زمین کبھی نہ خریدیں, ہمیشہ ری سیل والی لیں۔
4- اُدھار کے لین دین سے حتیٰ الامکان بچیں، چاہے معاملہ قریبی رشتے داروں یا دوستوں کا ہی کیوں نہ ہو
مالی فیصلوں میں جذبات نہیں، احتیاط اور تحقیق ہی اصل تحفظ ہیں!
Pakistan welcomes and fully supports ongoing efforts to pursue dialogue to end the WAR in Middle East, in the interest of peace and stability in region and beyond. Subject to concurrence by the US and Iran, Pakistan stands ready and honoured to be the host to facilitate meaningful and conclusive talks for a comprehensive settlement of the ongoing conflict.
@realDonaldTrump@SteveWitkoff@araghchi
وزیروں نے بتایا تیل کا عالمی بحران اور ساری دنیا میں تیل مہنگا تو لازم ان کے عوام سے بولے جھوٹ کی حقیقت حقائق ست کھولی جائے
یہ پوری دنیا میں جنگ کے بعد بڑھنے والی قیمت کا موازنہ ہے پوری دنیا میں سب سے زیادہ قیمت پاکستان میں بڑھی ہے اور اتنی بڑھی کہ باقی دنیا کی تبدیلی ہمارے سامنے نظر نہی آ رہی ہے
سارے خسارے ایک کڑاکے میں پورے کر لیے ہیں
حقیت جان کر جیو
جو ممالک نبیوں والے اسلام پر یقین رکھتے ہیں ان کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
امریکی سیکٹری کا بیان۔
پاکستان کو اس پر ردعمل دینا چاہیے۔
https://t.co/gWu2l3L0Qx
اللہ ڈاکٹر اسرار کی قبر کو جنت کا باغ بنائے۔۔۔۔
میں جب جب انکو سنتی ہوں ایک ہی بات ذہن میں آتی ہے۔۔
ڈاکٹر اسرار کو ہمارے تعلیمی سلیبس کا لازمی مضمون بنانا ہو گا اگر ہمیں واقعی اپنے بچوں کی تاریخ اور سمت سیدھی کرنی ہے۔
#GhazabLilHaqq
آنتوں کا سرطان اورپاکستان : (آنتوں کے کینسر کے بارے میں ایک آگاہی تحریر جو کسی کی جان بچالے )
مارچ کا مہینہ " کولن کینسر یعنی بڑی آنت" کے کینسر کے مہینے کے طور پر ہر سال دنیا بھر میں منایا جاتا ہے جس میں اس مہلک لیکن قابل علاج کینسر کے بارے میں دنیا میں معلومات پھیلائی جاتی ہے - لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں اس بیماری سی متعلق نہ عام آدمی کو کوئی معلومات ہے اور نہ ہی حکومتی سطح پر اس دن یا مہینے کو منانے کا کوئی رواج ہے - ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اندر یا تو آنت ہے ہی نہیں یا پھر اس آنت میں "گھر کی پھکی " کھانے کی وجہ سے سرطان نہیں ہے —-- ایسا کچھ بھی نہیں ہے - آنت بھی ہے اور اس آنت میں ٹھیک ٹھاک کینسر بھی - اگر کچھ نہیں ہے تو وہ آگاہی اور فکر نہیں ہے جو ڈالر کا ریٹ بڑھنے سے لیکر ای ایم ایف کے قرضوں جیسے غیرمتعلقہ معاملات میں بچے بچے کو ہے لیکن صحت اور بیماری کے معاملے میں پڑھا لکھا طبقہ بھی ان پڑھ نظر آتا ہے - اس کالم کا مقصد اس کینسر سے متعلق آگاہی ہے کیوں کہ ایک ڈاکٹر ہونے اور خاص طور پر ایک جگر اورآنتوں کا ڈاکٹر (گیسٹرو اینٹرولجسٹ) ہونے کی حیثیت سے یہ میرا فرض بھی ہے کہ قلم سے اس بارے میں بھی کوئی تحریر نکلے جو کسی کی جان بچا سکے -
بڑی آنت کا کینسر دنیا میں بریسٹ کینسر کے بعد دوسرا بڑا کینسر ہے جو ہر سال لاکھوں جانیں لے جاتا ہے -یہ کینسر ہر بیس میں سے ایک انسان کو لاحق ہوسکتا ہے - بہت سے ایسی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور ان میں موٹاپا ' مرغن غذائیں' سگریٹ پینا' ورزش نہ کرنا ' والدین یا بہن بھایوں میں کسی کو آنت کا کینسر ہونے کی ہسٹری ہونا ' خونی پیچس (ای بی ڈی) ہونا جیسے عوامل شامل ہیں -
اس کینسر کی مندرجہ ذیل علامات ہوسکتی ہیں :
١. پاخانے میں خون آنا یا کالا پاخانہ آنا -
٢. پاخانے کی شکل میں واضح تبدیلی آنا -
٣. پیٹ خراب رہنا یا اچانک قبض ہونے لگنا -
٤. خون میں ہیموگلوبن کا کم ہونا -
٥. وزن کاکم ہونا -
لیکن یاد رکھیں - یہ علامات جب ظاہر ہونے لگیں تو پچیس فیصد کیسز میں یہ کینسر پورے جسم میں پھیل چکا ہوتا ہے اور اس کا علاج ممکن نہیں ہوتا - اس کا مطلب ہے کہ ان علامات کے آنے سے پہلے اس کینسر کو پکڑنا ضروری ہے - کیا یہ ممکن ہے ؟
تو اس کا جواب ہے کہ جی با لکل ممکن ہے - ہر وہ انسان جو پینتالیس سے پچاس سال کی عمر کو پہنچ گیا ہو اس کو "کولونوسکوپی" کروانی چاہیے- یہ وہ واحد طریقہ ہے جس کے ذریے اس کینسر کو ہونے سے پہلے پکڑا جا سکتا ہے - اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کینسر آنتوں میں چھوٹی چھوٹی گٹھلیوں کے بننے سے شروع ہوتا ہے جن کو " پولیپ " کہا جاتا ہے - انسانی آنت پینتالیس سے پچاس سال کی عمر کے بعد یہ پولیپ بنانا شروع کرتی ہے - یہ پولیپ بذات خؤد کینسر نہیں ہوتے لیکن پانچ سے دس سال کے عرصے میں کینسر میں بدل جاتے ہیں - اگر پچاس سال کی عمرمیں کولونوسکوپی کے ذریے ان کو نکال دیا جائے تو کینسر کو روکا جاسکتا ہے - امریکا میں ہر وہ انسان جو پچاس سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے اس کیلئے انشورنس کولونوسکوپی لازم قرار دیتی ہے - اس طرز کو اپنا کر یہاں اس کینسر سے ہونے والی ادھی اموات کو روک لیا گیا ہے - کولونوسکوپی " بس بیس منٹ کا ایک کیمرہ ٹیسٹ ہوتا ہے کوئی آپریشن نہیں - جس میں ہلکا سا نیند کا انجکشن لگا کر ایک میٹر لمبی تار جس کے ایک سرے پر کیمرہ لگا ہوتا ہے پاخانے کی جگہ سے آنت میں ڈال کر اس کا چیک اپ کیا جاتا ہے اور اگر پولیپ نظر آئین تو ان کو اسی کیمرے کے ذریے نکال دیا جاتا ہے- اور مریض ایک گھنٹے بعد اپنے گھر ہوتا ہے - اس ٹیسٹ کو " سکریننگ " کہا جاتا ہے - یعنی کینسر کے ہونے سے پہلے ہی اس کا معائنہ کرنا - ویسے ہی جیسے ہر تین چار ماہ بعد آپ اپنی کار یا موٹر سائکل کا معائنہ کراتے ہیں ؛ تیل بدلی کرتے ہیں ؛ ہوا چیک کرتے ہیں حالانکہ سب ٹھیک چل رہا ہوتا ہے - اسی طرح انسان کا جسم بھی ایسے ٹیسٹوں کا محتاج ہوتا ہے - اس طرح کی سکرننگ " بریسٹ کینسر " کو بھی بہت حد تک کم کر چکی ہے جس میں جب عورت پچاس سال کی ہوتی ہے تو ہر دو سال بعد اس کے بریسٹ کا ایکسرے " میموگرام " کیا جاتا ہے اور کینسر کو ہونے سے پہلے بس گٹھلیوں کے لیول پر ہی پکڑ کر جڑ سے اکھاڑ دیا آجاتا ہے -
بد قسمتی سے پاکستان میں آنت اور بریسٹ کینسر کی سکریننگ کا کوئی رواج نہیں ہے - ہر سال مارچ کا مہینہ گزر جاتا ہے لیکن کسی ایک چینل کو بھی یہ توفیق نہیں ہوتی کہ اس بارے میں کوئی ایک پرومو تو چلاتا - سارا دن ڈراموں کی کہانیاں ہیڈ لائنز میں دکھانے والا میڈیا شاید یہ سب اسی لئے بھی نہیں دکھاتا کہ عوام میں بھی اس کو جاننے کا کوئی شوق یا جستجو نہیں ہے - پاکستان میں آنت اور بریسٹ کینسر کی سکریننگ کے رجحان کےنہ ہونے کی ہر گز یہ وجہ نہیں ہے کہ ہمارے ہاں یہ کینسر نہیں پایے جاتے - یہ تصور غلط ہے کہ پاکستان میں عوام زیادہ تر گندم کی روٹی کھاتی ہے جس کی وجہ سے یہاں کینسر نہیں ہے - میں مانتا ہوں کہ گندم کی روٹی اس کینسر کو کم کرنے کا ایک طریقہ ضرور ہے لیکن موٹاپا ' ورزش نہ کرنا ' مرغن غذائیں کھانا اور سگریٹ پینا یہ وہ سارے عوامل ہیں جو اس معاشرے میں موجود ہیں اور اس کینسر کو بڑھانے کی وجوہات ہیں - اس کے باوجود وہ کیا وجوہات ہیں جن کی وجہ سے پاکستان میں کینسر کی سکریننگ کا کسی کو علم بھی نہیں ؟
١. سب سے بڑی وجہ لا علمی ہے - نہ ڈاکٹر بتاتے ہیں اور نہ عوام پوچھتے ہیں - اور اس نہ بتانے اور نہ پوچھنے کی سب سے بڑی وجہ یہ غلط فہمی ہے کہ " بڑی آنت کا کینسر بس مغربی ملکوں میں ہی ہوتا ہے جہاں شراب پی جاتی ہے " -
٢. دوسری وجہ غربت ہے - پاکستان میں ہیلتھ انشورنس کا کوئی نظام نہی ہے - مریض اسی وقت ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے جب عزرائیل علیھ سلام دروازے تک پہنچ چکے ہوتے ہیں - اس سے پہلے سال میں ایک دو دفعہ ریگولر چیک اپ کا رواج موجود تو ہے لیکن بس اپنی گاڑی کا اپنے جسم کا نہیں - لیکن غریبوں کے علاوہ امیروں میں بھی اس معاملے میں بچت اور میانہ روی کرنے کا رجحان اس کی ایک وجہ ہے - ہیتھ انشورنس ہوتی اور ہر مہینے جب کسی امیر کی تنخواہ یا آمدنی میں سے ہزار روپے کٹ رہے ہوتے تو پھر سال میں ہر موسم تبدیل ہونے پر وہ اپنا چیک اپ کرانے ضرور جاتا - کیونکہ پتا ہوتا کہ جیب سے پیسے تو جاہی رہے ہیں ڈاکٹر کو سلام بھی کر آتے ہیں -
٣. تیسری وجہ ہے ایک "شرم و حیا " کا بہانہ - ایک خاتوں مجھے ملیں جو بریسٹ کینسر کی آخری سٹیج پر تھیں - جب میں نے پوچھا کہ محترمہ آپ نے بریسٹ میں گلٹی محسوس کی تھی تو دکھایا کیوں نہیں ڈاکٹر کو ؟ تو جواب ملا کہ میں اپنی شرمگاہ کسی ڈاکٹر کو نہیں دکھانا چاہتی تھی بیشک وہ لیڈی ڈاکٹر ہی کیوں نہ ہو - اسی طرح ایک جگہ جب ایک خاتون کو پچاس سال کی ہونے پر میں نے بریسٹ کے ایکسرے کرنے کا مشورہ دیا تو انہوں نے کہاں کہ ہمارے ہاں حیا دار عورتیں ایسے ٹیسٹ نہیں کراتیں- حیا کا تعلق جتنا جسم سے ہوتا ہے اتنا ہی سوچ سے بھی ہوتا ہے - مذھب علاج کے معاملے میں مکمل اجازت دیتا ہے کہ متعلقہ عضو طبیب کو دکھایا جا سکتا ہے - بس سوچ کا زاویہ بدلنے کی ضرورت ہے -
٤. ایک وجہ یہ بھی سامنے آئی کہ ہمارے معاشرے میں آدھے لوگ خؤد ہی ڈاکٹر ہیں -
پاخانے میں خون آجاے تو " بواسیر ہے - گرم مصالحہ اور چٹخارے دار کھانا کھایا ہوگا- وہ کریم لگالیں جو بڑے خالو نے لگائی تھی جب ان کو پاخانے میں خون آیا تھا " -
وزن کم ہونے لگے تو " بیچارہ پریشان بہت ہے اولاد کی نافرمانی اور کاروبار میں مندے سے - دودھ دہی کھاؤ اور اولاد کو بندہ بناؤ "
اگر قبض ہونے لگے تو "حکیم صاحب کی پھکی "
پیٹ میں درد ہوجاۓ تو " معدے میں تیزابیت اور گیس - بڑی پھوپھی کی چٹنی "-
بریسٹ میں گلٹی بننے لگے تو "کپڑوں کی فٹنگ کی خرابی کی وجہ سے ہواہوگا - کھلی شمیز اور قمیض سلواؤ- "
الغرض ہر اس مسلے کی تشخیص اور اس کا علاج جس میں گوروں کو کبھی کبھی ہفتہ بھی لگ جاتا ہے یہاں ڈرامے کی ایک قسط دیکھتے دیکھتے ہوجاتا ہے -
٥. ایک اور وجہ جس کا میں نے مشاہدہ کیا وہ یہ ہے کہ " الله نے جتنی زندگی لکھ دی ہے اس سے زیادہ نہیں ملنی - تو کیا فائدہ اس سب کا " - اس معاشرے کو موت کی علاوہ الله پر اتنا اعتماد میں نے اور کسی معاملے میں کرتے نہیں دیکھا - کبھی یہ سنا ہے کہ " الله نے جتنآ رزق لکھ دیا ہے کافی ہے ؛ کیا فائدہ ایک اور دکان ڈالنے کا ؛ گودام بنانے کا ؛ رشوت لینے کا ' چوری کرنے کا ' غبن کرنے کا "- الله کے بندے ! تمہیں کیا پتا رب نے زندگی کی لمبائی کس چیز سے مشروط کی ہو ؟ اور زندگی کی طوالت کی بات ہی کیوں کی جائے زندگی کی کوالٹی کی بات کیوں نہ کی جاے - جیو بیشک پینسٹھ ستر سال ہی لیکن ایک تندرست اور محتاجی کے بغیر والے پینسٹھ ستر سال ان ستر سالوں سے بہتر ہوتے ہیں جن میں انسان چارپائی اور خلقت خدائی کا محتاج ہوجاۓ -
اس معاملے میں کسی حکیم اور سنیاسی کا علاج کینسر کو نہیں روک سکتا - - مشرق سے لیکر مغرب تک اس شعبے میں ریسرچ کا سب سے بڑا ادارہ " ولڈ گیسٹرو آرگنازیشن " ہے جس کی کی ریسرچ کے مطابق کوئی ایسی پھکی ' جڑی بوٹی یا تیل نہیں ہے جس سے اس کینسر کا علاج ہوسکے - اگر آپ کو لگتا ہے ایسا ہے تو پھر یہ سوچ خؤد ایک کینسر ہے اور اس کا علاج پہلے ضروری ہے
بس کہنا اتنا تھا کہ اپنے گھر میں جو بھی لوگ پچاس سال یا اس سے زیادہ عمر کے ہیں ان میں مرد اور عورت دونوں کی "کولونوسکوپی " کروائیں جو کوئی بھی آنت یا معدے کا ڈاکٹر جس کو " گیسٹرو انٹرولوجسٹ" کہا جاتا ہے وہ کرتا - ہے یعنی " اینڈو سکوپی " - اور پچاس سال سے زیادہ والی عورتوں کو " بریسٹ کا ایکسرے کروائیں جس کو " میموگرام " کہا جاتا ہے -اس میں کسی قسم کی شرم اور بھرم کی بات نہیں ہے- وہ افراد جن کے خاندان میں خونی رشتوں میں کوئی بھی شخص آنت یا بریسٹ کے کینسر میں مبتلا ہوا ہے ان کے لوگوں کو خاص طور پر یہ سکریننگ کرانے کی ضرورت ہے - اور اس صورتحال میں سکریننگ کی عمر پچاس نہیں چالیس سال ہوجاتی ہے - اور یہ ٹیسٹ کرانے کیلئے کسی بھی قسم کی علامت کا ہونا ضروری نہیں کیوں کہ ان کا مقصد ہی یہ ہے کہ کینسر کو علامت سے پہلے پکڑا جاسکے - یاد رکھیے - سب سے بڑی علامت " عمر کا بڑھنا اور پچاس سال " ہوجانا ہے- علامت غائب ہوسکتی ہے کینسر نہیں - میری اس تحریر کو پڑھ کر اگر ایک شخص بھی یہ سکریننگ کرا لیتا ہے اور اس طرح اس کا کینسر پھیلنے سے پہلے پکڑا جاتا ہے ہے تو میں سمجھونگا میری یہ جسارت اور کاوش رائیگاں نہیں گئی- ابھی بھی جب آپ میرا یہ کالم پڑھ رہے ہونگے تو کہیں کسی جسم میں کہیں کوئی کینسر چھپا بیٹھا ہوگا اور آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہوگا ایک خؤد رو جڑی بوٹی کی طرح - آیے اس جڑی بوٹی کو تنا ور درخت بننے سے پہلے تلف کردیں - میرے نزدیک کسی کی پچاسویں سالگرہ پر سب سے اچھا تحفہ اس کی آنتوں کی "کولونوسکوپی" اور بریسٹ کا "میموگرام" ہے - خیر کی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے - جزاک اللہ
#ColonCancerAwarenessMonth
#قلم_کی_جسارت_وقاص_نواز
Colonoscopy: What to expect before, during and after the procedure https://t.co/ezVAfgRnFA via @OSUWexMed
حکومت بلوچستان نے گریڈ 1 سے گریڈ 15 کی 25 ہزار سے زائد آسامیوں کے اشتہار جاری کر دیے ہیں جبکہ گریڈ 16 اور 17 کی 4 ہزار آسامیاں پبلک سروس کمیشن کو بھیج دی گئی ہیں۔ جن محکموں نے ٹیسٹ اور انٹرویو مکمل کر لیا ہے اور جو جلد از جلد تعیناتی کے احکامات جاری کر دیے جائیں گے اور باقی خالی آسامیوں پر محکمہ فنانس کی طرز پر آن لائن ٹیسٹ اور میرٹ پر دی جائے گی۔ گڈ گورننس کا راستہ میرٹ پر بھرتی سے ہو کر گزرتا ہے، میں اپنے وعدے پر قائم ہوں کہ بلوچستان کے لوگوں کی کوئی نوکری بیچنے نہیں دونگا!
کیا یہ وہی چیف منسٹر ہے جو عمران خان کے دور میں بندوق اٹھانے کو جائز کہہ رہا ہے ، کہیں کسی نے فیک وڈیو تونہیں بنائی ، ہے تو تردید کردو ، اگر درست ہے تو یہ تبدیلی کس بڑے پھاٹک کے اثر و نفوذ کا فیضان ہے
بلوچستان میں ڈی بلوچ کمپنی کے سندھی مزدوروں کو بلوچ سرماچاروں کی طرف سے اغوا کرنے کی مذمت کرتا ہوں۔ غریبوں کو اغوا کر کہ مار کر اگر بلوچستان آزاد ہوجاتا ہے تو شاید ان کی کم عقلی ہے۔ سڑکیں بنانے والے سندھی ہوں یا پنجابی اور سرائیکی۔۔ ان کو ٹارگٹ کرنا نہ بہادری ہے نہ انقلابی سوچ۔۔ بھوک و۔ پیاس سے مجبور غریب اپنے گھروں سے دور جاکر روزی روٹی کی تلاش کرتے ہیں۔ اور ان کا کوئی ریاست کی کسی اور کام سے لینا دینا نہیں۔ رہی بات سڑکوں کی تو یہ بلوچستان کے عوام کا حق ہے کہ ان کو بہتر راستے ملیں۔۔
میں گذارش کرتا ہوں سرماچاروں کو کہ فوری رہا کریں غریب مزدوروں کو۔۔ اور اس طرح کی ظالمانا کارروایاں نفرت پھیلانے کے سوائے کچھ نہیں کریں گی۔۔