زیند غمانی جنگ جاہ انت
موت یک وشیں بیگاہ انت
پاذ سواس ءِ سوالي انت
سغر نہ لوٹیٽ سرجاۓ
ہر کس گیشت، اے دینا انت
باز اَجیب ایں جاگہ انت
شائر: سید تبسم مزاری
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے آصف بلوچ کی فیملی کے احتجاج کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے آصف بلوچ کی باحفاظت بازیابی کے لیے ان کے اہلِ خانہ کے احتجاج کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی واضح الفاظ میں اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ بلوچستان میں جاری ریاستی جبر اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ یہاں کے بلوچ عوام کو بنیادی انسانی حقوق اور باوقار زندگی کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ آج بلوچستان میں طلبہ، سیاسی کارکن، ڈاکٹرز، خواتین اور عام شہری، کوئی بھی ریاستی جبر اور جبری گمشدگیوں سے محفوظ نہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی تمام بلوچ عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنی مزاحمتی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے کل شام 4:00بجےکوئٹہ پریس کلب کے سامنے آصف بلوچ کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہونے والے احتجاج میں بھرپور شرکت کریں اور بلوچستان میں جاری ظلم، جبر اور جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔
آج مستونگ میں ہونے والے مسلح حملے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ صاحب اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت کی خبر سن کر شدید دکھ ہوئی۔
مجھے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمات، خصوصاً ان کی ضمانت کی درخواستوں میں، متعدد بار مستونگ میں حکیم صاحب کی عدالت میں پیش ہونے کا موقع ملا۔ ان کی زندگی میں بہت سی باتیں ایسی تھیں جو میں نہیں لکھ پائی لیکن آج مجھے لگتا ہے کہ لوگوں کو یہ جاننا چاہیے کہ وہ دراصل کیسے انسان اور کیسے جج تھے۔
میں پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ عبدالحکیم کاکڑ ایک نہایت دیانت دار، اصول پسند اور باوقار جج تھے۔ وہ اکثر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمات کی قانونی نوعیت پر مجھ سے کھل کر بات کیا کرتے تھے۔ کئی بار انہوں نے مجھ سے کہا کہ حالات چاہے جس نہج پر بھی ہوں، میرے فیصلوں میں آپ کو ہمیشہ قانون کی بالادستی اور انصاف کے اعلیٰ تقاضوں کی پاسداری نظر آئے گی۔
ان کی یہ باتیں ان سیاسی گھٹن زدہ حالات میں میرے لیے ہمیشہ امید کی ایک کرن ہوا کرتی تھیں، اور بعد میں ان کے فیصلوں نے بھی ان کے ان الفاظ کو سچ ثابت کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور گلزادی بلوچ کو تین مقدمات میں ضمانت دی، جبکہ بیبرگ بلوچ کو ایک ایف آئی آر میں ضمانت کے مرحلے پر ہی مقدمے سے بری کر دیا۔ ان کے فیصلوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ دباؤ سے بالاتر ہو کر قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کرنے پر یقین رکھتے تھے۔
تربت میں اپنی تعیناتی کے دوران بھی انہوں نے اسی نوعیت کے ایک مقدمے میں سبغت اللہ شاہ جی کی ضمانت منظور کی اور ایک بار پھر دباؤ کے بجائے قانون کی بالادستی کو ترجیح دی۔
مجھے آج بھی مستونگ کی ایک پیشی یاد ہے جب محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) ایک کم عمر لڑکے کو مختلف الزامات کے تحت عدالت میں پیش کر رہا تھا۔ حکیم صاحب نے اس بچے سے پوچھا، “تمہیں کب گرفتار کیا گیا تھا؟” بچے نے جواب دیا، “کل۔” اس پر حکیم صاحب نے سی ٹی ڈی کے انچارج کی طرف دیکھ کر کہا، “اس بچے کے چہرے کو دیکھو، ایسا لگتا ہے جیسے اس نے برسوں سے سورج کی روشنی نہیں دیکھی۔ اور تم لوگوں نے اسے اس قدر ڈرایا اور دھمکایا ہے کہ اب وہ تمہاری ہر بات میں ہاں ملا رہا ہے۔” پھر انہوں نے سی ٹی ڈی کے اہلکاروں سے کہا، “اللہ سے ڈرو۔”
آج جب ان کی شہادت کی خبر دیکھی تو دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ صرف ایک انسان کو نہیں مارا گیا، بلکہ انصاف پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ حکیم صاحب قانون کی حکمرانی، انصاف، آئینی حقوق اور عوام کے وقار پر یقین رکھتے تھے
میں جج عبدالحکیم کاکڑ کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں۔ میری دعائیں اور ہمدردیاں اس غم کی گھڑی میں ان کے خاندان کے ساتھ ہیں۔
معزز شہید عبدالحکیم کاکڑ صاحب، بلوچستان کے عوام آپ کو ہمیشہ آپ کی دیانت، اصول پسندی اور انصاف کے ساتھ مضبوط وابستگی کے لیے یاد رکھیں گے۔
آپ کے اصول اور آپ کی جرأت اُن لوگوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گے جو انصاف اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔
Nazzar Marri forcibly disappeared on August 27, 2025.
STANDING FOR HUMAN RIGHTS IS NOT A CRIME. IT IS THE RESPONSIBILITY OF EVERY PERSON WHO BELIEVES IN HUMANITY
#ReleaseNazarMarriBaloch
Nine days have passed since the enforced disappearance of Asif Baloch on 13 July 2026. Nine days of unanswered questions. Nine days of fear, anguish, and uncertainty for a family denied even the most basic information about his fate or whereabouts. This is not only the disappearance of one individual. It is the deliberate infliction of permanent psychological torture on an entire family. Enforced disappearance functions as a policy of collective punishment, extending suffering far beyond the victim and into the lives of every parent, sibling, and loved one forced to wait in silence.
Enforced disappearance is a grave violation of international human rights law, including the rights to liberty, security, due process, and protection from arbitrary detention. The normalization of enforced disappearance and the impunity enjoyed by those responsible undermine justice and erode the foundations of human rights. Speaking out against this practice is a moral and legal obligation. Silence is complicity.
#ReleaseAsifBaloch
THE UNBEARABLE HEAVINESS OF BEING: ON THE DISAPPEARANCE OF DAD SHAH
@HazaranRahim
Fozia said that when the forces took her brother away, she ran after them barefoot demanding to see an arrest warrant or a copy of the first information report. They gave her no explanation telling her only to go to the police station. Her elder brother attempted to film the raid, but his phone was confiscated.
During Dad Shah’s first disappearance, Fozia had not been at home. She often imagined that, had she been there, she might have confronted the men, demanded answers, recorded what was happening, and somehow prevented them from taking him.
This time, she was present, yet the experience left her with an even deeper sense of powerlessness.
“What could be more painful than watching someone you love being taken away in front of you and being unable to do anything?” she said. “No one should ever be made to feel so helpless.”
https://t.co/PyKefNxMQU
From the elderly to young people, from fifteen-year-old boys to young girls, no one is safe in Balochistan today. The Baloch people are facing genocide. And those who dare to speak out against these abuses are branded as rebels, traitors, or enemies of the state.
But the real question is: Who is committing these atrocities? Who is carrying out enforced disappearances? Who is responsible for the repression? And who is silencing people’s voices?
Those who are simply demanding their fundamental human rights, justice, and the right to live with dignity are being punished for speaking the truth. Yet no amount of repression can silence the truth forever.
#StopBalochGenocide
#ReleaseBYCLeader
صبر کرو، ہر رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔
قید جسم کی ہوتی ہے، محبت کی نہیں۔ امید زندہ ہو تو راستے بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔
زندگی میں بعض اوقات ایسے حالات پیش آتے ہیں جو انسان کی ہمت، صبر اور استقامت کا امتحان بن جاتے ہیں۔ شوہر کی قید بھی ایک ایسی ہی آزمائش ہے جس کا اثر صرف قیدی پر نہیں بلکہ اس کے اہلِ خانہ، خصوصاً بیوی اور بچوں پر بھی پڑتا ہے۔ جدائی، تنہائی اور مستقبل کی فکریں ایک بیوی کے لیے نہایت کٹھن مرحلہ بن جاتی ہیں۔ ایسے حالات میں ہر کوئی یہی کہتا ہے: "صبر کرو، امید رکھو، دعا کرو۔" بے شک امید اور دعا انسان کا سب سے بڑا سہارا ہیں، لیکن دل کا اصل درد وہی جانتا ہے جس پر یہ آزمائش گزرتی ہے۔
29 مارچ 2025، 29 رمضان المبارک کی رات، جب شاہ جی کو ہمارے گھر سے لے جایا گیا، وہ لمحہ میرے لیے قیامت سے کم نہ تھا۔ میں مسلسل چار دن تک روتی رہی۔ نہ معلوم وہ کس حال میں ہوں گے، کہاں ہوں گے، دوبارہ ملاقات بھی ہو سکے گی یا نہیں۔ مجھے نہ اپنی خبر تھی، نہ اپنے ننھے بچے کی۔ دل میں بس ایک ہی سوال تھا کہ کیا شاہ جی دوبارہ گھر لوٹ سکیں گے؟ اس وقت میرا بیٹا سکندر صرف ایک سال دس ماہ کا تھا۔
پانچ دن بعد ہمیں اطلاع ملی کہ شاہ جی حدہ جیل میں ہیں اور ہم ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ ملاقات صرف ٹیلی فون کے ذریعے ممکن تھی۔ میں اپنے ننھے بیٹے کو ساتھ لے کر جیل گئی۔ جب سکندر نے فون پر اپنے ابو کی آواز سنی تو وہ زور زور سے رونے لگا۔ اس کی وہ سسکیاں آج بھی میرے دل و دماغ میں گونجتی ہیں۔
ان پندرہ مہینوں میں ہم ہر روز اسی امید کے ساتھ جاگتے رہے کہ شاید آج کوئی اچھی خبر مل جائے۔ ایک بھی ایسی رات نہیں گزری جب میں اٹھ کر شاہ جی کے لیے نہ روئی ہوؤں اور اللہ تعالیٰ سے ان کی رہائی کی دعا نہ کی ہو۔ میں نے اپنی ہر خواہش کو صرف اس امید پر چھوڑ دیا کہ شاید آج نہیں تو کل شاہ جی آزاد ہو جائیں گے۔
اسی دوران میں روز سکندر کو بھی یہی تسلی دیتی رہی کہ "آج ابو آ جائیں گے۔" لیکن ہر صبح وہ ایک ہی سوال کرتا:
"امی، آج ابو کے پاس جیل جائیں گے؟"
یہ سوال سن کر میرا کلیجہ پھٹ جاتا ہے۔ صرف تین سال کا ایک بچہ، جس کی ہر خوشی جیل سے وابستہ ہو گئی ہے۔ نہ اسے گھومنے کی خواہش ہے، نہ کسی کھلونے کی ضد۔ اس کی سب سے بڑی خوشی صرف اپنے ابو سے جیل میں ملنا ہے۔
جب بھی میں اس کے لیے کوئی نئی چیز خریدتی ہوں تو وہ فوراً کہتا ہے:
"یہ ابو کو دکھانی ہے۔"
اس کی ہر خوشی، ہر ضد اور ہر ضرورت مجھے اکیلے پوری کرنی پڑتی ہے۔ ایک ماں کے لیے یہ سب دیکھنا اور سہنا قیامت سے کم نہیں۔
درِ زنداں پہ دعا بن کر ٹھہری ہوں میں کب سے
خدا کرے یہ زنجیرِ جدائی ٹوٹے۔
ان دو برسوں میں چار عیدیں گزر چکی ہیں۔ ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ عید کے دن اپنے شوہر کے لیے سجے، سنورے اور خوشیاں بانٹے، لیکن ان چاروں عیدوں میں میں نے نئے کپڑے تک نہیں پہنے۔ یہ احساس میرے لیے ناقابلِ بیان گھٹن کا سبب تھا۔
22 جون 2026، پیر کے دن، میں حسبِ معمول اس تیاری میں تھی کہ سہ پہر تین بجے شاہ جی سے ملاقات کے لیے جیل جاؤں گی۔ میں نے اس دن اپنا فون بھی نہیں دیکھا تھا۔ جب جیل پہنچی تو شاہ جی نے بتایا کہ آج عدالت میں پیشی ہوئی تھی اور انہیں ڈبل 25 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ سنتے ہی مجھے محسوس ہوا جیسے میرے قدموں تلے زمین نکل گئی ہو۔ میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ دل نے کہا، کاش زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاؤں، مگر یہ خبر نہ سنوں۔ شاہ جی خود مجھے دلاسہ دیتے رہے۔ وہ بار بار کہتے رہے: "پریشان نہ ہوں، اللہ سب سے بڑا ہے، ان شاء اللہ خیر ہوگی۔" لیکن میرے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے جب میں گھر پہنچی تو ایک طرف سکندر کی ضد تھی کہ اسے دکان لے جایا جائے، دوسری طرف میرا پورا وجود لرز رہا تھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ زور زور سے روؤں، مگر گھر میں لوگوں کا ہجوم تھا۔ جس کندھے پرسر رکھ کر میں اپنی ہر چھوٹی بڑی بات کہہ کر دل ہلکا کرتی تھی، آج وہ کندھا میرے پاس نہیں تھا۔جس پر میں سر رکھ کر رؤں۔ لوگ تعزیت اور تسلی کے لیے آ رہے تھے۔ فون مسلسل بج رہا تھا۔ ہر کوئی یہی پوچھ رہا تھا کہ کیا واقعی یہ خبر درست ہے؟ لوگوں سے ملتے ملتے رات کے نو بج گئے۔بعد میں میں سکندر کو لے کر اپنے کمرے میں آئی، اسے موبائل دے کر سلایا اور خود جائے نماز پر بیٹھ گئی۔ میں دیر تک اللہ تعالیٰ کے حضور روتی رہی، دعائیں مانگتی رہی۔ پھر شاہ جی کے بھائی آئے، میرے والد آئے، سب نے یہی کہا: "ان شاء اللہ خیر ہوگی۔" جب سب لوگ واپس چلے گئے تو میں ایک بار پھر اکیلی رہ گئی۔ پوری رات روتی رہی، دعا کرتی رہی۔ یہاں تک کہ صبح کے چھ بج گئے۔ پھر کچھ دیر کے لیے آنکھ لگی۔ صبح دس بجے میں دوبارہ اپنے والد کے پاس گئی۔ انہوں نے پھر حوصلہ دیا اور کہا:
Sixteen year old Rizwana Gul, a first year student from Killi Teri, Mastung forcibly disappeared on 28 June 2026 from Sariab Road, Quetta. The enforced disappearance of a minor reflects a deeply alarming pattern in Balochistan, where women and children are increasingly becoming victims of serious human rights violations. Where is Rizwana Gul?
The targeting of Baloch women and minors marks a dangerous escalation in the ongoing human rights crisis. Enforced disappearance violates international law, including protections guaranteed under the Convention on the Rights of the Child and fundamental international human rights standards. No state can justify the disappearance of a 16 year old student.
The international community, the United Nations, UN Special Procedures, and global human rights organizations must urgently address the growing pattern of enforced disappearances in Balochistan.
@profbensaul@hrw@amnestysasia@HRCP87@AndreaBV_SR_HRD@UNHumanRights@amnestysasia@MunizaeJahangir@UN_SPExperts@UN_Women@EUPakistan@KenRoth
#EndEnforcedDisappearances
صبر کرو، ہر رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔
قید جسم کی ہوتی ہے، محبت کی نہیں۔ امید زندہ ہو تو راستے بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔
زندگی میں بعض اوقات ایسے حالات پیش آتے ہیں جو انسان کی ہمت، صبر اور استقامت کا امتحان بن جاتے ہیں۔ شوہر کی قید بھی ایک ایسی ہی آزمائش
𝗧𝗼𝗱𝗮𝘆 𝘁𝗵𝗲 𝗳𝗮𝗺𝗶𝗹𝘆 𝗼𝗳 𝗔𝘀𝗶𝗳 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵 𝗵𝗲𝗹𝗱 𝗮 𝗽𝗿𝗼𝘁𝗲𝘀𝘁 𝗿𝗮𝗹𝗹𝘆 𝗶𝗻 𝗞𝗵𝘂𝘇𝗱𝗮𝗿, 𝗱𝗲𝗺𝗮𝗻𝗱𝗶𝗻𝗴 𝗵𝗶𝘀 𝗶𝗺𝗺𝗲𝗱𝗶𝗮𝘁𝗲 𝗮𝗻𝗱 𝘀𝗮𝗳𝗲 𝗿𝗲𝗹𝗲𝗮𝘀𝗲.
18 𝙟𝙪𝙡𝙮 2026 - 𝙆𝙝𝙪𝙯𝙙𝙖𝙧, 𝘽𝙖𝙡𝙤𝙘𝙝𝙞𝙨𝙩𝙖𝙣
Asif Baloch, a student, was forcibly disappeared on 13 July 2026 from the Eman City, Samungli Road, Quetta. Since his disappearance, his family has continued to raise their voices through protest and a press conference, calling for his safe return.
The family demanded that the authorities immediately release Asif Baloch. They stated that if he had committed any crime, he should have been produced before a court of law in accordance with due process, and his family should have been informed. The fact that he was not presented before a court, but instead subjected to enforced disappearance, raises serious concerns regarding the violation of his legal and human rights.
The family appealed to the United Nations, the international community, and human rights organizations to urgently intervene, take notice of the enforced disappearance of student Asif Baloch, and press for his immediate and safe recovery.
#ReleaseAsifBaloch
Baloch youth are facing serious and escalating human rights violations, where state institutions have normalized illegal actions and the use of force in the name of security. Young people like Nazar Marri are falling victim to this inhumane system, and in this situation, silence is no longer an option.
#ReleaseNazarMarri