You failed to protect Dr. Mahnoor.
Now you're targeting the doctors demanding justice.
YDA Pakistan stands with YDA Balochistan.
#JusticeforDrMahnoor#GoSecretaryHealthGo
Dr. Shazia Khplwak spoke up against harassment and institutional irregularities.
What followed is shameful: her private information was allegedly leaked, and she is now reportedly facing repeated threatening calls from unknown numbers.
This is not accountability.
This is intimidation.
No woman should be punished for speaking the truth.
No doctor should be forced into silence through fear.
Authorities must act immediately and ensure her protection.
#JusticeForDrShazia
میں نے سیکیورٹی اور تحفظ کا مطالبہ کیا تو میرا ذاتی ڈیٹا اور نمبر پبلک کر دیا گیا: ۔ ڈاکٹر شازیہ خپلواک
تیزاب گردی کے واقعے میں کون ملوث ہے، یہ جاننے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔
کل ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب گردی کےذریعے قتل کی کوشش کی گئی،اور آج ایک اور خاتون ڈاکٹر کی ذاتی معلومات سوشل میڈیا پر پھیلا کر اسے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ یہ صرف پرائیویسی کی خلاف ورزی نہیں بلکہ خواتین ڈاکٹرز کو خوفزدہ کرنے کی منظم کوشش ہے۔ ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جاۓ
تو ڈاکٹر شازیہ نے ہراسمنٹ کے مسائل اٹھائے ، بجائے کہ تمام اداروں میں قانون کے مطابق ہراسمنٹ کمیٹی بناتے، الٹا ڈاکٹر صاحبہ کا ڈیٹا پبلک کر دیا۔۔ در فٹے منہ۔۔ اس نظام سے ہم توقع رکھیں کہ وہ مسائل حل کریں گے۔۔
Dr #MahnoorNasar case remains unresolved, yet @dpr_gob (health dept) illegally shared #DrShazia’s personal data on social to force & intimidate her to avenge criticism. Targeting a female doctor like this is utterly reckless and wrong.
@PakSarfrazbugti@bakhtkakar43@MeerLangau
صدر YDA پاکستان ڈاکٹر عاطف مجید چوہدری کا پیغام
8 جون، پشاور ہیلتھ سیکریٹریٹ
یہ صرف احتجاج نہیں، پاکستان بھر کے ڈاکٹرز کے حقوق، تحفظ، روزگار، ٹریننگ اور وقار کی آواز ہے۔
تمام ڈاکٹرز سے اپیل ہے کہ کل بھرپور شرکت کریں۔
آپ کی آواز، آپ کا مستقبل۔
#PayRaiseforDoctors
کوئٹہ، متاثرہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو آریا ہسپتال اس لیئے منتقل کیا گیا کیونکہ سیول ہسپتال کوئٹہ میں سہولیات موجود نہیں تھی سیکرٹری صحت اور حکومت صرف دعوؤں تک محدود ہیں گراونڈ پر کچھ بھی موجود نہیں ہے ، ڈاکٹر شازیہ خپلواک
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے لیڈی ڈاکٹر کو بچاتے ہوئے زخمی ہونے والے عبدالرزاق ترکئی کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کے علاج کے تمام اخراجات حکومت بلوچستان کے ذمہ لینے کا اعلان کیا۔
@PakSarfrazbugti
A few weeks ago, Dr. Mahnoor proudly posted a video of her father teaching her how to shoot.
She called him her supporter, the man who taught her to stand strong in a world that fears empowered women.
Her bio proudly declared her a "fearless surgeon."
Yesterday, that same fearless doctor was subjected to a barbaric acid attack, not in a dark alley, but inside the very corridors of Quetta Civil Hospital where she spent her days healing others.
Think about the sheer logic of this tragedy: It takes decades of sleepless nights, shattered glass ceilings, and immense parental sacrifice for a woman to become a surgeon in a deeply conservative society.
She had to overcome a thousand unseen obstacles just to be there. Yet, it took only a single second of unchecked cowardice and fragile ego to try and destroy it all.
They didn’t just throw acid on Dr. Mahnoor; they threw it on the dreams of every young girl striving for a white coat.
They attacked the hopes of every progressive father trying to raise a strong daughter.
A father can teach his daughter how to defend herself, but how does she survive when the very society she serves refuses to protect her?
This is an assassination of hope.
#JusticeForDrMahnoor #ProtectOurDoctors #Quetta #Balochistan
She wore a white coat to save lives, not to fight for her own. 💔
Today, a doctor suffers.
Today, humanity is wounded.
Praying for Dr. Mahnoor’s recovery and demanding justice for this unimaginable cruelty.
No healer should become a victim.
#JusticeForDrMahnoor 🕯️❤️
سول ھسپتال میں سہولیات نہ ہونے کہ وجہ سے ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو اریا ہسپتال اور پھر کراچی منتقل کرنا
محکمہ صحت کی کارلردگی پر سوالیہ نشان؟
#JusticeForDrMahnoor#DoctorsSafety#Quetta#YDA
A female doctor was attacked with acid at Civil Hospital Quetta.
Live update from ER: Dr Mahnoor has been assessed by doctors along with the AKUH team. Alhamdulillah, she is stable with no life- or organ-threatening signs. She has 13% burns, including 7–8% deep patches, and moderate corneal opacity in both eyes with vision intact.
She will be managed at AKUH.
Tomorrow, doctors, nurses, paramedics, and all health workers must stand together in a peaceful protest from Civil Hospital Quetta to Press Club at 11 AM.
An attack on one doctor is an attack on every healer.
Justice for Dr Mahnoor.
#JusticeForDrMahnoor #DoctorsSafety #Quetta #YDA
ہماری عوام میں طبی شعور اور آگاہی کا فروغ انتہائی ضروری ہے۔
ایک نیم بے ہوش مریض کے معائنے کے دوران ڈاکٹر سب سے پہلے مریض کے ردِعمل (Response) کو جانچتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے بعض اوقات سینے کی ہڈی (Sternum) پر ہلکا دباؤ دیا جاتا ہے، جسے طبی زبان میں “Sternal Rub” کہا جاتا ہے۔ اس عمل سے بہت سے مریض فوری طور پر ردِعمل ظاہر کرتے ہیں یا ہوش میں آ جاتے ہیں۔
آج بھی ایک ڈاکٹر صاحب نے مریض کے معائنے کے دوران یہی طبی طریقہ استعمال کیا، لیکن کسی نے موبائل فون سے ویڈیو بنا کر اسے سوشل میڈیا پر نشر کر دیا اور اپنی محدود معلومات کے مطابق اس پر تبصرے بھی شروع کر دیے۔
خدارا! طبی معاملات پر رائے قائم کرنے سے پہلے حقائق جاننے کی کوشش کریں۔ اپنے معالجین اور مسیحاؤں کا احترام کریں اور انہیں بلاجواز تنقید اور کردار کشی کا نشانہ نہ بنائیں۔ ایسا ماحول نہ بنائیں کہ ہمارے قابل اور محنتی ڈاکٹر سرکاری ملازمت اور اپنے ملک کو چھوڑ کر بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہو جائیں۔
ایک خاتون تیماردار اس وقت مریض کے ساتھ موجود ہیں۔ ڈاکٹر صاحب مریض کا گلاسگو کومہ اسکیل (GCS) جانچنے کے لیے Painful Stimulus استعمال کر رہے ہیں، جو طبی معائنے کا ایک معمول، مستند اور عالمی طور پر تسلیم شدہ طریقہ ہے۔ وہ یہ معائنہ مکمل پیشہ ورانہ انداز میں انجام دے رہے ہیں۔ نہ کوئی غیر مناسب حرکت ہے، نہ کوئی مذاق، اور نہ ہی کوئی ایسا رویہ جس پر اعتراض کیا جا سکے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل بغیر حقائق جانے کیمرہ نکال کر لوگوں کو بدنام کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک شخص نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی، حالانکہ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ ڈاکٹر مریض کی اعصابی حالت جانچنے کے لیے کن طبی طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔
جن ڈاکٹر صاحب کی ویڈیو بنائی گئی، ان کے بارے میں ساتھیوں اور مریضوں کی رائے یہی ہے کہ وہ ایک نہایت قابل، محنتی اور ذمہ دار معالج ہیں، جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انتہائی دیانت داری اور لگن کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر مریض کا مکمل اور باریک بینی سے معائنہ کرے تو بھی اعتراض، اور اگر جلدی میں معائنہ کرے تو بھی شکایت۔ آخر ڈاکٹر جائیں تو جائیں کہاں؟ ایک طرف ہم چاہتے ہیں کہ مریض کو بہترین طبی نگہداشت ملے، اور دوسری طرف انہی طبی طریقہ کار کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر کے ڈاکٹروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تنقید ضرور ہونی چاہیے، لیکن حقائق، علم اور انصاف کے دائرے میں رہ کر۔ کسی چند سیکنڈ کی ویڈیو کی بنیاد پر کسی معالج کی نیت یا کردار پر فیصلہ دینا نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی ذمہ دارانہ طرزِ عمل.