مولانا نے الزام لگایا کہ شہداء اس لئے جان قربان کرتے ہیں کہ انہیں تنخواہ ملتی ہے اور اس کا جواب یہ دیا کہ آپ اپنے صاحبزادے اسعد محمود کو وردی پہنا کر اتنی تنخواہ میں بارڈر پر بھجوائیں اور جان قربان کردیں اور اب اس کے جواب میں دوسروں کے بیانات نکال لائے ہیں کہ انہوں نے یہ کہا اور یہ وہ حساب ہوگیا کہ ایک راہگیر نے مستری کو دیوار تعمیر کرتے ہوئے کہا کہ جناب آپ ٹیڑھی دیوار تعمیر کررہے ہیں جس پر مستری نے کہا پچھلے سال آپکی لڑکی دوڑ گئی تھی
مولانا فضل الرحمان کی سوشل میڈیا ٹیم اس بیان پر رجوع کروانے کے بجائے اس بیان پر پوری ہٹ دھرمی سے ڈٹ گئی ہے
مولانا افسوس کہ آج ہر ذی شعور پاکستانی آپکے بیان پر آپکو ثواب دارین پہنچا رہا ہے اور یہ ثواب ڈبل کروانے میں آپکے سوشل میڈیا کے کارندے حصہ دار ہیں
مولانا فضل الرحمان ایک کہنہ مشق سیاست دان اور ممتاز مذہبی رہنما ہیں، اس لیے ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔ فوجی جوانوں کی وطن کے لیے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے۔ کوئی شخص محض تنخواہ کے لیے اپنی جان نہیں دیتا۔ جان کی قربانی کے پیچھے کسی نظریے، عقیدے، فرض اور وطن سے گہری وابستگی ہوتی ہے۔ آپ حالات و واقعات یا طریقہ کار سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر اس نظریے، وابستگی، محبت اور قربانی کی توہین نہیں کر سکتے۔
ایسے وقت میں، جب دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور ماؤں کے جوان بیٹے (بشمول افواج پاکستان، دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سب سے بڑھ کر ہمارے سویلینز) روز قومی پرچم میں لپٹ کر واپس آ رہے ہیں، ان کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے۔ مولانا صاحب نے صرف ایک ادارے کو نہیں، ہزاروں شہداء، زخمیوں، بیواؤں، یتیم بچوں اور سوگوار والدین کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔
اس وقت مولانا کابیان ہندوستانی میڈیا کی زینت بن چکا ہے جس میں دھرتی ماں پر جان نچھاور کرنے والے شہدا کا تمسخر اڑایا جارہا ہے اور اب تک مولانا نے اپنے بیان پر رجوع نہیں کیا جس پر مورخ یہ لکھ چھوڑے گا کہ تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے
ایسے سخن فروش مولانا کو مر جانا چاہیے
کیونکہ ہمارے شہدا ہماری ریڈ لائن ہیں اور ان کی تضحیک کرنے والا چاہے کوئی بھی ہو بخشا نہیں جائے گا
کیس از ڈسمسڈ
سعودی عرب کے ابھا ائیرپورٹ پر حوثی باغیوں کی جانب کی حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
ایران کی جانب سے نئی جنگ کا آغاز ہی نہیں بلکہ احسان فراموشی کی بدترین مثال ہے۔
مشرق وسطیٰ کو جنگ میں دھکیلنے والوں کی اپنی زمین تندور بنا دی جائے
تاریخ ہمیشہ جسٹس قاضی فائز عیسی کا نام سنہری حروف میں لکھے گی کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں واحد جج اور واحد چیف جسٹس قاضی فائز عیسی ہی آئے ہیں جنہوں نے سیاسی اور غیر سیاسی دبائو کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے دلیری کے ساتھ 100 فیصد آئین و قانون کے مطابق فیصلے دیئے، ایسی بزدلی بھی نہیں دکھائی کہ اہم مقدمات کو التواء میں ڈال کر فائلیں دبا دیں اور ثاقب نثار اور کھوسہ وغیرہ کی طرح بطور ٹائوٹ جج کام کرنے سے انکار کیا۔
دلیری اور آئین و قانون کی بالادستی ہی جسٹس قاضی فائز عیسی کا فخر ہے۔
Appreciation to the Prime Minister of Pakistan, Mr. Shehbaz Sharif, for attending the farewell and State funeral of the martyred Supreme Leader.
@CMShehbaz
🚨خیبر پختونخواہ میں لاتعداد مراعات کا بل پیش کرنے کی ویڈیو
یہ چیک کریں پی ٹی آئی بل پیش کر رہی جبکہ شفیع جان مکر گیا ہے اس بل کی ایک شق یہ کہ کے پی اسمبلی کے ممبر کسی بھی عدالت سپریم کورٹ تک میں پیش نہی ہوں گے سب کو استشنی ہو گا
آٹھ کلاشنکوف لائسنس ملیں گے ۔بجلی گیس کے بل نہی دیں گے ٹیکس نہی دیں گے مگر پاکستان میں موجود ہر مفت سہولت کے ریسٹ ہاوس استعمال کر سکیں گے
یہ تبدیلی کے دعوے والوں کا حال ہے
The Government did not have much space to reduce petroleum prices after it last week cut the prices more than the reduction in the international market. The petrol price was reduced by Rs14 and diesel by Rs7 per litre more than global prices. It used Rs3.9 billion from a special fund for one week to sustain a deeper cut.
For this week, there was almost no increase in levy on petrol that remained below Rs67 per litre. On Diesel, levy was increased by Rs6.6 but it remains within maximum limit of Rs80 per litre. The Government’s stance is correct here.
آخر کیا وجہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم نہیں ہو سکیں؟
کیا آئل کمپنیوں کے بااثر مالکان حکومت کو بلیک میل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں؟
عالمی منڈی میں گزشتہ پانچ دنوں کے دوران خام تیل کی قیمت تقریباً 7 فیصد تک کم ہو چکی ہے، اس کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا کوئی معقول جواز نظر نہیں آتا۔
جنگ کے دنوں میں عوام نے مہنگے ایندھن کا بوجھ برداشت کیا، اب وقت آ گیا ہے کہ اس ریلیف کا فائدہ بھی عوام تک پہنچایا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ آئل کمپنیوں کے مالکان کو لگام دے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی کا اعلان کرے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
#Petrolprice
معذرت وزیراعظم صاحب!
پیٹرول کی قیمت بڑھاتے وقت آپ کی گفتگو ایسے تھی جیسے عوام کے دکھ میں بےہوش ہی نہ ہو جائیں۔
آج کم کرنے کا وقت تھا تو پیٹرولیم کمپنیاں اور FBR وغیرہ آپ کے چہیتے نکلے۔عوامی مفاد سے آپ کا کچھ لینا دینا نہیں۔ آپ صرف اشرافیہ کے مفاد کے نگران ہیں
@CMShehbaz@PakPMO
حکومت کا پٹرول قیمتوں پر عوام کو ریلیف دینے سے گریز شرمناک فیصلہ ہے، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر کر 70 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آ چکی ہے مگر حکومت عوام کو فائدہ پہچانے سے انکاری ہے۔ اس سے زیادہ عوام دشمن بات کیا ہوگی کہ جنگ کے دنوں میں بھی عوام سے پٹرولیم لیوی وصول کی گئی۔ 11 ماہ میں لیوی وصولی کا ظالمانہ سال کا ھدف بھی پورا کر لیا، پھر بھی لیوی ختم نہیں کی۔ یہ گورننس نہیں لوٹ مار اور غریبوں اور مڈل کلاس لوگوں پر ڈاکا ہے۔ حکومت نے ثابت کردیا وہ عوام کی نہیں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی نمائندہ ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی گرتی قیمتوں کے تناظر میں میاں شہباز شریف صاحب @CMShehbaz کو کوشش کرنی چاہئے کہ تیل کی قیمتیں واپس 250 یا 260 تک لائی جائیں۔
عوام کو مہنگائی کے اس طوفان میں کچھ ریلیف ملے گا۔
مشکل وقت میں ساتھ دینے والی عوام کو نظر انداز کرکے مشکل وقت میں حرامزدگی کرنے والی آئل کمپنیوں کو پھر سے نوازا گیا ہے۔
رانا ثناء اللہ صاحب کے آئل کمپنیوں کے خلاف کاروائی کے دعوے وڑ چکے ہیں
کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے!
ایران و پاکستان در آرمانها و امیدهای خود اشتراکات عمیقی دارند. تلاش بیدریغ پاکستان برای گسترش صلح در منطقه ریشه در فرهنگ غنی این کشور دارد.
در سفرم به پاکستان به منظور تقدیراز میانجیگریهای پاکستان، درباره گسترش تعاملات با برادرانم آصف زرداری، شهباز شریف و عاصم منیر صحبت کردیم.