خواجہ حارث صاحب جاتی امرا میاں نوازشریف کے مقدمے کے سلسلے میں صلاح و مشورہ کے لئے تشریف لائے۔ انہیں گیراج میں کھڑی، حسین نواز کی ایک قیمتی گاڑی پسند آ گئی، آپ اس کے پاس گئے، اس کی چابی منگوائی، اسے سٹارٹ کیا اور ساتھ لے گئے۔ جب ان سے پوچھا گیا تو فرمایا، فیس میں ایڈجسٹ کر لیں گے۔ گاڑی دس کروڑ روپے سے زائد ملکیت کی تھی۔
ایک واقف حال کا شکوہ
ایٹمی دھماکوں سے قریبا ایک سال بعد ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے منہ سے یہ بات سنی تھی کہ جب انڈیا نے پانچواں دھماکہ 13 مئی کو کر لیا تو،
وزیر اعظم نوازشریف نے آرمی چیف، ڈاکٹر عبدالقدیر، اور مجھے وزیر اعظم ہاوس بلایا، یہ ٹاپ سیکرٹ میٹنگ تھی جس کا علم وزیراعظم کی کابینہ اور پرنسپل سیکرٹری تک کو نہیں تھا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مجھ پر بہت زیادہ عالمی دباؤ ہے کہ پاکستان دھماکے نہ کرے میں اس دباؤ کا اکیلے مقابلہ کر سکتا ہوں بشرطیکہ آپ مجھے بتادیں کہ اگر ہم ٹیسٹ کریں تو کامیابی کے چانسز ہیں یا نہیں؟ ڈاکٹر ثمر کہتے ہیں میں اور عبدالقدیر خان نے ان کو بتایا کہ ان شااللہ کامیابی کے مواقع 90 فیصد ہیں، فیل ہونے کے ٹینیکل چانسز ہوسکتے ہیں ویسے سب ٹھیک ھے، تو اس پر وزیراعظم کہنے لگے میں آپ لوگوں کو اختیار دیتا ہوں کہ آپ دھماکوں کی تیاری کریں لیکن یاد رکھیں اگر ہم ناکام ہوئے تو اس کا مطلب پاکستان کی سالمیت اور آزادی کا خاتمہ ہے اُس صورت میں نہ آپ زندہ رہنا چاہیں گے نہ میں،
تیاری یہ سمجھ کر کریں کہ آپ کی اور میری زندہ رہنے کا انحصار ہی ان دھماکوں کی کامیابی پر ہے”
نواز شریف نے 13 مئی کی رات کو دھماکوں کی تیاری کا حکم دے دیا تھا اور پاک فوج کو دھماکوں سے پہلے انڈیا کے حملے کی صورت میں مکمل جنگ Full scale war کا حکم دے دیا۔ لیکن بظاہر انہوں نے کئی ممالک کے دورے کیے دوست ممالک سے رابطے کیے کیونکہ یہ بات کلئیر تھی کہ دھماکوں کی صورت میں اقتصادی پابندیاں لگنی تھی اور ہمیں تعاون کی بھی ضرورت پڑنی تھی۔
ڈاکٹر ثمر کے بقول وہ دھماکہ پروجیکٹ کے گراونڈ انچارج تھے اور 15 مئی کی رات تک چاغی میں تیاری شروع ہوچکی تھی بقول ان کے یہ ان کی زندگی کے سب سے زیادہ سٹریس فل دن تھے اوپر آسمان پر ۲۲ سیارے ان کی نگرانی کر رہے تھے اور ادھر وزیر اعظم دن میں کئی کئی بار فون کرتے۔بہرحال دھماکے کامیاب ہوئے۔
نواز شریف کی حکمت عملی حیران کن تھی سعودی شاہی خاندان امریکہ کے قریب ترین اتحادی ہونے کے باوجود نواز شریف کا ساتھ دینے پر آمادہ ہوئے سالانہ 2 ارب ڈالر کا مفت تیل اور مجموعی قتصادی ترقی کے لیے بڑا پیکج دیا، اور امریکہ کی وسیع ترین پیش کش پاکستان نے ٹھکرا دی، جن جن حضرات کو مئی کا وہ مہینہ یاد ہے وہ جانتے ہیں کہ انڈین وزیراعظم واجپائی کی کھلی دھمکیوں نے پورے ملک کو پریشان کیا ہوا تھا ان دھماکوں نے پانچ منٹ میں ان دھمکیوں کو دوستی کی پشکش میں بدل دیا۔ اور اصل مسئلہ تو دھماکوں کے بعد پابندیوں سے نمٹنا تھا جو نواز شریف نے بخوبی انجام دیا۔۔ آج کے یوتھیے اور فلمی بلونگڑے کیا جانیں۔
( طارق رحمن )
نمک حرامی افغانی ہو یا کشمیری حل صرف ماتھے پر سوراخ ہے
جھنڈا جلانا یا جھنڈا پھاڑنا یا پاکستان کے نام کو ایسے مٹانا غداری کے زمرے میں آتا ہے
ان کے لیے گمنام انجیکشن ہونے چاہیے
اگر گلگت والوں کو سندھ جیسی اعلیٰ تعلیم چاہیے تو پیپلزپارٹی کو ووٹ دیں ۔ اور پھر یہ ویڈیو ضرور دیکھیں جہاں سندھ میں عالمی معیار کے اسکول بین الاقوامی امداد سے بنائے گئے ۔ اربوں روپے تعلیم کے نام پر کرپشن کی نظر ہوگئے ۔ کیونکہ سندھ پڑھ لکھ گیا تو پھر پی پی کو ووٹ کون دے گا
🚨معمر قذافی کا کہنا تھا کہ 👇
"جن لوگوں نے 9/11 کو نیویارک پر حملہ کیا وہ افغانی نہیں تھے۔ وہ عراق یا افغانستان سے نہیں اڑے تھے۔ وہ جے ایف کے ایئرپورٹ سے اڑے تھے۔ یہ سارا عمل امریکہ میں ہی انجام دیا گیا۔ انہیں امریکہ میں ہی تربیت دی گئی تھی۔"
حکومت کے اپنے ادارے بتا رہے کہ پاکستان میں مہنگائی ریکارڈر سطح پر پہنچ چکی ہے جبکہ نون کے وزیر روزانہ منہ پکا کر کے کہہ رہے کہ حکومت نے مہنگائی کم کر دی ہے
جانے کونسی دنیا میں یہ وزیر بستے ہیں جو حقائق سے اتنے کٹ چکے ہیں
محترم فیلڈ مارشل صاحب ایک آپریشن ردالمہنگائی مافیا بھی بہت ضروری ہو چکا گذشتہ چار سال میں بجلی گیس پیٹرول چینی چور متحرک ہو چکے مہنگے ترین بجلی گھروں کے مالکان بے بس عوام کو لوٹنے میں مصروف نام نہاد سیاسی حکومت عوام کی دادرسی کی بجائے عوام کو مہنگائی کے مزید کوڑے مارنے کا کام کر
بلیک میلر جماعت کا لونڈا بدتمیزی پر اتر آیا ہے گلگت میں مثال کے طور پر دکھانے کو کچھ نہیں تھا تو BISP بیچتا رہا ہے آج مہنگائی کیوں ہے یہ تم بھی جانتے ہو تمھارے آئینی عہدوں پر بیٹھے چاچے مامے بھی جانتے ہیں
احسن اقبال کی بات پر طنز وہ کر رہا ہے جن سے یونیورسٹی روڈ تک نہ بنی 😂😂
پی ٹی سی ایل کی نجکاری ہوئی
لوگوں کو تار والے فون کی ضرورت ہی نہ رہی
اب بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری ہونے والی ہے
اور چند سالوں میں لوگوں کو تار والی بجلی کی ضرورت ہی نہیں رہنی۔
😂😂😂
ایک بندے کا بل 3 یونٹ پر 550 روپے آیا ہے ۔ صرف فکسڈ چارجز 400 روپے ہیں یعنی بجلی استعمال کریں یا نہ کریں فکسڈ چارجز دینے پڑیں گے ۔
آخری آپشن یہی رہ جائے گا کہ لوگ بجلی کے کنیکشن ہی ختم کرانا شروع کردیں گے ۔
آئی پی پیز کو نوازنے کیلئے عوام کا خون نچوڑا جارہا ہے، @akleghari کچھ تو شرم کرلیں اگر باقی بچی ہے تو. آپ کو خوف خدا بھی نہیں، اپنی قبر کا بھی خوف نہیں آتا. سیٹھوں، ایلیٹ کلاس کی جیبیں بھرنے کیلئے عوام پر آگ برسانے، بجلیاں گرانے کے بعد آپ کو رات کو سکون سے نیند آکیسے جاتی ہے.
لاہور سے ہی ایک اور ن لیگی کارکن نے اپنا بل بھیجا ہے جس کے یونٹ 180 بن رہے تھے کیوں کہ اس نے سولر لگوایا ہوا ہے لیکن لیسکو نے 180 یونٹ کا بل 10676 لگایا ہوا ہے ۔
فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 8909 روپے ڈال دئے۔ جب وہ بل لیکر XEN کے پاس گیا تو اس نے کمرے یہ کہہ کر نکال دیا کہ سولر والے مفت خور ہیں۔
بھئی حکومت سیدھا سیدھا قانون بنادے کہ مملکت خداداد پاکستان میں سولر لگوانا جرم ہے
یوں کرو عوام کی کھال اتار کر اس میں بھوس بھر دو تاکہ سیٹھ کی الیٹ کی کپیسٹی پیمنٹ پوری ہو جائے کیا یہ معاہدے عوام نے کیے تھے ؟
آپ کو رتی بھر حیا نہی آتی عوام پر اتنا ظلم کرنے پر ؟
اویس لغاری صاحب پاکستانی کوئی بھک منگے نہیں ہیں۔ جو سبسڈی سبسڈی کی گردان کررہے ہیں۔
نہ دیں سبسڈی۔
صرف یہ بتائیں پورے ایشیا میں سب سے مہنگی بجلی کیوں دے رہے ہیں۔
اگر شہری 10 یونٹ استعمال کررہا ہے تو دس یونٹ کے پیسے لیں۔
لیکن اس شہری سے پورے 200 یونٹ کے پیسے کس کھاتے میں لئے جارہے ہیں
اگر آئی پی پیز کو دینے کیلئے پیسے نہیں ہیں تو یہ عوام کا مسئلہ نہیں ہے یہ ان کا مسئلہ ہے جنہوں نے دنیا کے سب سے مہنگے بجلی معاہدے کئے
ان معاہدے کرنے والوں کی تمام جائیداد ضبط ہونی چاہیے
چونکہ بند بجلی گھروں کا خرچہ بھی حکومت نے دینا ہے اس لیے شہباز شریف حکومت کا اعلان ہے
بجلی استعمال کریں نا کریں بل آپ کو پورا دینا ہو گا اب بات استعمال شدہ یونٹ کی نہی رہ گئ ہے
جس طرح پی پی کی 2008/13والی زرداری حکومت نے پنجاب سے پی پی کا ووٹ بینک ہمیشہ کے لئے ختم کر کے بلاول بھٹو کی وزارت اعظمی کا خواب ہمیشہ کے لئے خاک میں ملا دیا تھا اسے طرح شہباز شریف صاحب کی حالیہ وفاقی حکومت نواز شریف نہی بلکے مریم نواز کی مستقبل کی پنجاب سے سیاست کے لیے تباہ کن ہو گی موجودہ بجلی گیس پیٹرول بلوں کے بعد پنجاب سے کون نون کو ووٹ دے گا ؟
پندرہ سو سے زائد پنجابیوں کی لاشیں بلوچستان سے آئی جن کی گاڑیوں کو روک کر شناختی کارڈ چیک کیا “ ان میں پشتونوں کو کہا جاتا تم سائیڈ پر ہو جاو “ تب عوام ماہرنگ کے دہشتگردوں کے حمایتیوں کی شکلیں دیکھتی مذمت کے مطالبے کرتی تو یہ دلے جشن منایا کرتے تھے
اس گنجے کی پنجابیوں سے دشمنی کی لاتعداد ویڈیوز ہیں
آج اپنی پھٹنی پر آئی تو ماتم ؟ تم لوگ منافق ترین لوگ ہو