پرامن احتجاج کا اپنا آئینی حق استعمال کرنے پر تو کبھی کسی جمہوری ملک میں خواتین کی تذلیل نہیں کی گئی چہ جائیکہ یہ سب ایک ایسے جمہوری ملک میں کیا جائے جو (جمہوری ہونے کے ساتھ) اسلامی بھی ہو۔ یہ خواتین کو سیاست سے نکال باہر کرنے کی سوچی سمجھی مہم ہے۔
خواتین کی پکڑ دھکڑ اور انہیں خوفزدہ اس لئے کیا جارہا ہے کہ ان کے مرد (اہلِ خانہ) سیاسی سرگرمیوں میں ان کی شرکت کی حوصلہ شکنی کریں۔
اب یہ اطلاعات تیزی سے موصول ہورہی ہیں کہ جیلوں میں بعض خواتین کیساتھ (جنسی) چھیڑ چھاڑ کے ساتھ انہیں ہراساں کئے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔
ارشد شریف کو کینیا کی پولیس نے نہیں بلکہ فوج نے شہید کیا، کیونکہ ارشد شریف کو قتل کرنے والا جنرل سروس یونٹ نیم فوجی دستہ ہے اور تین ہفتے گزرنے کے باوجود اس کے کسی افسر یا اہلکار کی معطلی، گرفتاری یا برطرفی عمل میں نہیں آئی اور نہ ہی حکومتِ پاکستان نے اس سلسلے میں کوئی کوشش کی۔
جس شخصیت کو عمران خان کے خلاف پریس کانفرنس کرنے کے لیے دباوُ ڈالا جا رہا یہ بھی کر کے دیکھ لو ناکام ہو گے وہ 18 میں بھی اپنی مقبولیت سے آیا تھا اور اس بار بھی آئے گا مسلہ یہی ہے کے ��ہ تمہارے قابو میں نہیں آ رہا۔۔۔
سیلاب زدہ بزرگ نے سندھ پر قابض 14 سالہ راج کیخلاف آواز اٹھانے کی گستاخی و غلطی کر دی تھی تو سزا تو بھگتنی پڑنی تھی آخر جسکا راج ہوتا ہے اسکی مرضی ہوتی ہے کہ عوام پر ظلم کرئے یا مافی دے مافیاز کو سب جائز ہے
#ضرورت_ہمیں_عمران_کی_ہے#عمران_خان_بچائےگا_پاکستان