@BloggerShahid یہ تبصرہ ھے یا خبر ھے؟
اگر تبصرہ ھے تو یہ ان کا فراڈ ھے کہ دو حکومتیں دکھا کر برا کام ایک کے ذمہ لگا دیتے ھیں ۔جو بھی صدر ھے وہ ذمہ داری لے اور جو بھی وزیر خارجہ وہ بھی ذمہ داری لے۔ یہ کوئی مذاق ھے کہ ملکون کو انگیج ایک کرے اور پھر زبان حال سے خبریں پہنچائے کہ دوسرے راصی نہی
@Imtiaz_Shaikh03 کامیاب کون؟
ایک جس کو کسی ایک مسئلہ پر تمام میڈیا جس میں سب سے آگے اپنے سپورٹر ھاتھ دھو کر پڑ جاتے ھیں اور دوسرا ۔۔ پٹرول 1000 روپے بھی ھو جائے ۔۔
مولانا کی سب باتیں ٹھیک ہوں گی لیکن کارگل تو انیس سو ننانوےمیں ہوا تھا اور نواز شریف نے برطرفی کے بعد کہا تھا وہ جب بھی اقتدار میں آئے تو کارگل پر کمشن بنا کر جنرل مشرف سمیت تیں جرنیلوں کو سزائیں دیں گے۔
کارگل کی پہاڑیوں پر ہمارے تین ہزار فوجی جوان شہید ہوئے تھے جنہیں پی ٹی وی اس وقت جنرل مشرف کی پالیسی تحت مجاہد کہتے تھے کہ حکومت پاکستان کا ان سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ مشاہد حسین سید صاحب کو یقینا یاد ہوگا جو اس وقت وزیر اطلاعات تھے۔
لیکن اس وقت کی فوجی قیادت کا ان سنگین الزامات پر احتساب کرنے کی بجائے
2002 کی پارلیمنٹ میں ایم ایم اے کی قیادت ۔۔قاضی حسین احمد اور فضل الرحمن نے مل کر جنرل پرویز مشرف کو وردی کے ساتھ الٹا صدر بنایا۔ ان سب نے قطار میں لگ کر اسمبلی کے اندر جنرل مشرف کو وردی کے ساتھ ووٹ ڈالا۔
یہاں تک بس نہ کی بلکہ جنرل مشرف کو کارگل سمیت نواز شریف حکومت توڑنے کے ہر قسمی فیصلوں پر ہر قسمی قانونی کاروائی سے immunity بھی دی جس کے تحت جنرل مشرف کے سینکڑوں فیصلوں کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہوگی جن میں یہ کارگل بھی شامل تھا۔
مولانا صاحب آپ اورایم ایم اے نے مل کر اس جنرل کو وردی سمیت صدر بنوایا بلکہ محفوظ راستہ بھی دیا۔ اس کے بدلے دیگر جنرل صاحب نے آپ کو اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنوایا پی پی پی کے مخدوم امین فہیم کو نہیں۔ آپ تو دونوں ایک دوسرے کے محسن تھے۔ 😊
@rehan_saghir فیاض صاحب کچھ لوگوں کو نالیوں، گٹروں اور گندے برتنوں میں گھسنے کا شوق ھوتا ھے وھیں سے ان کا مقصد حل ھوتا ھے، یاد ھے نہ ثاقب نثار ھسپتال میں دیگچوں پر تشدد فرما رھے تھے ۔۔ ان کو اگنور کریں، الحمدااللہ لاکھوں بلکہ شائد کروڑوں پاکستان سے باھر ھیں ۔ وہ سب انہی ائرپورٹ سے آتے جاتے ھیں
@Punjabidefender ایسا سین میں نے کچھ سال عرصہ قبل لبرٹی مارکیٹ لاھور میں بھی دیکھا تھا، لیکن یہاں دکانوں کے سیل مین اکھٹے ھوئے اور پھر انہوں نے ان کی اچھی کی تھی ۔
حکومت نے اگر طے کر ہی لیا ہے کہ عوام کو دشمن بنا کر چھوڑنا ہے تو اس کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں۔
شہباز حکومت پیٹرولیم مصنوعات قیمتوں کے معاملے میں انتہائی نااہل ثابت ہوئی۔
۱-FBR نااہلی لیوی کی صورت میں عوام سے وصولی گئئ
۲-جس دوران قیمتیں کررہی تھیں تو عوام کو پوری کمی واپس نہیں کی۔
۳-اب عوام پرروزانہ کی تلوار لٹکادی۔
نالائق !
@muzamil_45 آپ ان کے تمغے کی تعریف کر دیں ۔ بحریہ یا ڈی ایچ اے شفٹ ھو جائیں اور کوئی جائے پناہ نہی اور نہ ھی مستقبل قریب میں متوقع بھلے ایران مفت گیس دے یا عرب مفت پٹرول دیں ۔۔ یا یہ کہ سی ڈی آیف کی تعریف ٹرمپ کے علاوہ پوری دنیا کرے ۔۔ آپ کی بجلی اسی طرح ملے گی۔
کوئ بتائے گا کوئٹہ کس ملک میں ہے؟؟؟؟🙄
کوئٹہ سے کراچی 20 جولائ کے فضائی کرائے۔۔۔۔
فلائ جناح۔ 54,000 روپے
پی ائ اے۔۔ 60,000 روپے
ایئر سیال۔۔ 80,000 روپے
واضح ہو کہ یہ کرایہ یکطرفہ ہے اور بغیر سامان کے ہے، یہ بھی جانیں کہ کراچی دوبئ کا کرایہ 60,000 روپے ہے،
اب اگلا تماشہ بھی دیکھ لیں۔۔۔۔
اسی تاریخ کو فلائ جناح کا کراچی تا لاہور کرایہ صرف 19000 روپے ہے
اگر پتا نہیں تو یہ بھی جان لیں کوئٹہ کراچی کا فاصلہ اتنا ہی ہے جتنا کراچی ملتان کا ہے۔۔
وزیراعظم صاحب یا تو سڑکوں پہ تحفظ فراہم کریں یا پھر کوئٹہ کراچی روٹ پہ ہر ایئر لائن کو پابند کریں کہ دو فلائٹیں چلائے ایک فلائٹ کراچی لاہور یا کراچی اسلام آباد کو براستہ کوئٹہ چلائیں ایک کو ڈائریکٹ کراچی کوئٹہ کراچی چلائیں۔۔۔۔
ورنہ بوٹا گالاں کڈدا رہے گا💔🥵
اخے۔۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور اب ہم روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم پرائسسز میں ردوبدل کریں گے۔
یہ کہنے والی حکومت
ابھی بھی
ایک لیٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر 125 روپے فی لٹر لیوی سمیت ٹیکسسز کی مد میں وصول کر رہی ہے۔
(گزشتہ مالی سال میں پیٹرولیم و ماحولیاتی لیوی کی مد میں عوام کی جیبوں سے 1478 ارب روپے سے زائد وصول کیے)
اور اب ایک لیٹر پٹرول پر 125 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 113 لیوی، ٹیکس اور مارجنز وصول کیے جا رہے ہیں۔
دستاویزات کےمطابق 18 جولائی 2026 سے ایک لیٹرپیٹرول کی بنیادی لاگت 191روپے 42 پیسے بنتی ہے تاہم حکومت نے فی لیٹر قیمت 315 روپے 15 پیسے مقرر کی ہے، پیٹرول پر 80 روپے پٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی، 18 روپے 16 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 6 روپے 95 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہے۔
اس مالی سال میں پٹرولیم سمیت لیویز سے 1700 ارب روپے عوام کی جیبوں سے نکالنے کا ٹارگٹ ہے۔
فیر کیندے۔۔بوٹا گالاں کڈدا
(اسد آر چوہدری)