“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم�� یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
ایک بے گناہ بزرگ خاتون، جو کینسر سروائور بھی ہیں، جنرل عاصم منیر کے زیر سایہ ریاستی اداروں کی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنتے ہوئے گزشتہ ڈھائی سال سے بدترین قید میں ہیں۔ نہ ان کا مناسب علاج کروایا جا رہا ہے اور نہ ہی انہیں ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کی طبیعت ناساز ہونے پر انہیں سخت سیکیورٹی میں کوٹ لکھپت جیل سے سروسز اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں مکمل شفا دے اور ظالموں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچائے،
#ReleaseDrYasminRashid
@fawadchaudhry چھ سات سو سال پہلے اسلام میں داخل ہونے کے بعد تم لوگوں نے دعاؤں اور لعن طعن کے سوا کیا ہی کیا ہے۔ الّلہ دعا تب قبول فرماتا ہے جب کھڑی جدوجہد اور قربانی کے بعد دعا کی جائے۔
Let me add another dimension also to the sugar saga. If the imports go ahead now as planned, the stocks will arrive around start of November, just in time to crash the procurement prices for the fresh crop. Don’t ask me who benefits again? #Nosugarimportsafterexports
@AbuzarFurqan جس طرح پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ نے کے پی کا امن، معیشت اور اقدار برباد کئے اسی طرح پی ٹی آئی کے پنجابی سوشل میڈیا بھی یہی کر رہے ہیں۔ بتاؤ پنجاب کی قیادت، ممبران اسمبلی اور ورکرز نے اب تک کون سا کارنامہ سرانجام دیا ہے ؟
@HamxaaTweets کامران جیسے لاکھوں نوجوانوں کی قربانی و جرات کی شکل اگر سپاری جیسوں کی شکل میں نکلنی تھی تو ہم ووٹ ہی نہ دیتے اور اسکے اور اسکے مالک کی طرح فوجی گود میں بیٹھ جاتے۔سی ایم ہاؤس منڈی لگا کرمال بنا رہے ہیں۔کنٹینر کا جنریٹر اور ساؤنڈ سسٹم خراب ہونے کا پوچھو تو باولے ہو جاتے ہیں۔
@iAmjadKhann بلوچستان کے مولوی کو کوئی بتائے کہ کے پی میں ورکرز نے ن��گی طاقت اور زور زبردستی فارم 45 لیا اور اپنے مینڈیٹ کی حفاظت کی۔مولویوں کو مسجدوں میں کیمپین کرنے پر باہر نکالا، پانچ اور دس دس بندوں کے سامنے مولوی جلسےکرتے رہے۔
@geonews_urdu وجوہات تو بہت ساری ہیں جیسے میر خلیل الرحمن کا چکلا جسے جنگ گروپ اور جیو کے نام سے جانا جاتا ہے اسکو ذہن سازی، جھوٹ اور پروپیگینڈا کیلئے اربوں کھربوں روپے دینا بھی اک ��ڑی وجہ ہے۔
@AmanAfridi_1 ملک نصیر کوکی خیل بھی بدقسمت انسان ہیں، ساری پی ٹی ایم کو کھلایا، پلایا، پالا اور اپنی جائیداد تک وقف کردی مگر کامریڈ صاحبان روسی وڈکہ پی کر نو دو گیارہ ہو جاتے ہیں۔
آفریدی قوم کے پاس بھی بس تاریخ ہی بچی ہے،مزاحمت نہیں دکھا سکے۔
@MeFaheem جب شاھد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب عسکری وکٹیمائئزیشن کا آلہ ہے اسکو ختم کریں تب یوتھیوں کو آگ لگ جاتی تھی۔ ڈاکٹر امجد علی کو وکٹمائئز کیا جا رہا ہے، بے ننگ مردار ریاست
ہمارے والد نے اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت پاکستان میں گزارا - ہم سے دور ۔ اس لیے نہیں کہ اُنہیں ایسا کرنا پڑا، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے ایک کرپٹ نظام کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔
وہ ہر روز ہمارے ساتھ ایک باپ کے طور پر موجود نہیں تھے، لیکن پاکستان کے لیے وہ ہمیشہ ایک رہنما بن کر کھڑے رہے۔ انہوں نے اس ملک کو سب کچھ دیا: اسپتال، یونیورسٹیاں، اور انصاف کی ایک تحریک۔
انہیں پیشکش ہوئی کہ وہ اپنی باقی زندگی سکون سے گزاریں - ہمارے ساتھ انگلینڈ میں چہل قدمی کریں یا کرکٹ کھیلیں۔
لیکن انہوں نے اس کے بجائے ایک اندھیری قید میں بند رہنے کو چُنا۔
اُن کی قربانی پاکستان کے لیے ہے۔
اُن کی طاقت - پاکستان کی عوام ہے۔
Our father lived in Pakistan - away from us - for most of our lives. Not because he had to, but because he chose to stand up against a corrupt regime. While he wasn’t there every day as a father, Pakistan had him as a leader. He gave his country everything: hospitals, universities, and a movement for justice.
He’s been offered the chance to spend the rest of his days in comfort - going on walks or playing cricket with us in England. Instead, he chooses to remain locked away in a dark prison cell.
His sacrifice is for Pakistan.
His strength comes from its people.
@GKamranKhan اگر کرنل صاحب ت��ن سے چار کروڑ میں ایم پی اے کی سیٹ بیچ سکتا ہے تو یقین کریں مرزا آفریدی بیس سے تیس کروڑ میں ایم پی اے خرید سکتا ہے اور جرنیلوں کو اربوں روپے کے فارم ہاؤسز اور آف شور پراپرٹیز دے سکتا ہے۔