بریکنگ نیوز 🚨اعتزاز احسن کا بڑا مطالبہ۔ اسحاق ڈار کے بھانجے اور دیگر نامزد ملزمان کو پھانسی لگا دو۔ مثال قائم کرو 🔥🔥
اسحاق ڈار کے بیٹوں نے جو کیا وہ تو انتہا کی درندگی ہے۔ انہوں نے ہمارے سر شرم سے جھکا دیے ہیں۔ پاکستان کا نام مٹی میں ملا دیا۔ ان ملزمان کو پھانسی ہونی چاہیے۔ یہ ان خواتین کی جاۓ مخصوصہ پر شیشے کے ٹکڑوں سے زخم کرتے رہے۔ جو خواتین کے بیانات لیے گئے اسکی کاپی ان کی نہیں دی گئی انہوں نے وہاں پر لکھ لیا ہو گا جو شیشے یا بلیڈ سے زخم خواتین کو دیے گئے اس میں خواتین کی مرضی تھی۔
سوال یہ ہے کہ: ٹی ٹی پی کےمسلح افراد خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ایک سرکاری اسکول کے کلاس روم کے اندر تک کس کی سہولتکاری سے پہنچے ؟
ریاست کی رٹ کہاں ہے انٹیلجنس کہاں ہے ؟ ملک کے اندر دہشتگرد کہاں سے داخل ہوتے ہیں؟باڈر پر ڈیوٹی دینے والی فوج کہاں ہے ؟
کچھ دیر قبل جیل سے نکلنے والے مرتضٰی عرف مرتو نے سیکڑوں ہتھیار سے لیس بندوں کو لیکر میری کزن کے شوہر کو قتل کردیا.
ام رباب چانڈیو نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
#HumNews#ummerubab
غزہ میں ایک چھوٹی بچی اسرائیلی فضائی حملے میں شدید زخمی ہو گئی، جس کے نتیجے میں اسے دماغی نقصان پہنچا اور اندرونی خون بہنے لگا۔
اسرائیلی محاصرے کے باعث ادویات اور طبی آلات کی عدم دستیابی کی وجہ سے، ڈاکٹر بے بسی کے عالم میں اس کی موت کا تماشا دیکھتے رہے۔
فلسطینی صحافی احمد افاش کی رپورٹ - غزہ
بلوچستان سے ہولناک کہانی سنیں!!
سرگودھا سے ایجنسی کے اہلکار کو اغواء کیا گیا تھا, والد کو بتایا تک نہیں اور 3 دن بعد والد کو بتایا, آپکا بیٹا شہید ہؤا ہے!!
دہشت گردوں سے لاشیں بھی وہاں کے مقامی لوگ لائے ہیں, سیکورٹی فورسز کی ہمت نہیں تھی کہ لاشوں کو وصول کرسکے!!
🚨پلیز پاکستانیوں نیند سے جاگو دیر ہو جائے گی
اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد پاکستان مزدور کسان پارٹی کے چیئرمین افضل شاہ خاموش نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے جیل میں قیدیوں کو سخت مشکلات اور تکالیف میں دیکھا۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کے قیدی، بشمول بعض اراکینِ اسمبلی، بھی مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت، وزیراعلیٰ اور تحریک انصاف کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ اپنے قیدیوں کے حقوق کے لیے مؤثر آواز اٹھائی جائے
بریکنگ نیوز 🚨سینئیر سیاستدان اور سابق ن لیگی رہنما جاوید ہاشمی کی صبی کاظمی کے ساتھ انٹرویو میں تاریخی گفتگو 🔥🔥
عمران خان پاکستان کی قوم کا عشق بن چکا ہے، اس وقت دنیا میں اُس کے پائے کا کوئی لیڈر نہیں۔ خان کی تصویر کیلئے، ایک جھلک کیلئے لوگ ترستے ہیں۔ خان صاحب بھٹو سے ہزار گنا زیادہ مقبول ہے۔ اسٹبلیشمنٹ جتنا زور لگا لے الٹا بھی لٹک جائے پی ٹی آئی کو ختم نہیں کرسکتی۔ پاکستان کے موجود خراب حالات تباہی کے ذمہ دار جنرل ہیں۔
20 سال پہلے ایک زلزلے نے ہزاروں گھر اُجاڑ دیے… مگر ایک باپ کی امید آج بھی زندہ ہے۔
8 اکتوبر 2005 کی صبح، مظفرآباد کی 10 سالہ معصوم بچی ارفع طارق بھی ہر روز کی طرح اپنا اسکول بیگ اٹھا کر گھر سے نکلی تھی۔ کسی کو کیا معلوم تھا کہ یہ اس کی اپنے گھر والوں سے آخری ملاقات ثابت ہوگی۔
چند ہی لمحوں بعد زمین لرز اٹھی۔ عمارتیں گرنے لگیں، ہر طرف چیخ و پکار، گرد و غبار اور قیامت کا منظر تھا۔
ارفع گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول مظفرآباد کی پانچویں جماعت میں پڑھتی تھی۔
اس کی چند کلاس فیلوز، جو اس سانحے میں زندہ بچ گئیں، آج بھی یہ گواہی دیتی ہیں کہ انہوں نے ارفع کو اسکول کے باہر زخمی حالت میں دیکھا تھا۔ یعنی ارفع ملبے سے زندہ نکل آئی تھی…
لیکن اس کے بعد وہ کہاں گئی؟
یہ سوال آج بھی اس کے والد طارق محمود کی آنکھوں میں آنسو بن کر زندہ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ انہیں آج بھی اپنی بیٹی کے زندہ ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ ایک باپ کا دل اب بھی اسی امید کے ساتھ دھڑکتا ہے کہ شاید ایک دن دروازہ کھلے گا، اور برسوں پہلے بچھڑ جانے والی اس کی بیٹی اسے آواز دے گی۔
ارفع کی والدہ منور سلطانہ (بےبی) نے بھی بیٹی کی جدائی کا ہر دن ایک صدی کی طرح گزارا ہے۔ اس کی بہنیں گل افشاں (افشی) اور زنیرہ طارق بھی آج تک اپنی بہن کی راہ دیکھ رہی ہیں۔
اگر ارفع زندہ ہے تو آج اس کی عمر تقریباً 31 سال ہوگی۔ ممکن ہے اسے اپنا بچپن یاد نہ ہو، اپنا نام بھی یاد نہ ہو، مگر شاید کوئی چہرہ، کوئی یاد، کوئی نشان اسے اس کے اپنے خاندان تک واپس لے آئے۔
میں آپ سب سے ایک درخواست کرتا ہوں۔
اس پوسٹ کو صرف پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں۔
براہِ کرم اسے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
کون جانتا ہے کہ یہ پوسٹ کس کی ٹائم لائن پر پہنچے، کون اسے پہچان لے، یا شاید ارفع خود ہی اسے دیکھ لے۔
ہم نے اللہ کے فضل سے برسوں بعد سینکڑوں بچھڑے ہوئے لوگوں کو ان کے خاندانوں سے ملتے دیکھا ہے۔ اسی لیے میں آج بھی مایوس نہیں ہیں۔
شاید اگلی خوشخبری ارفع طارق کی ہو۔
اگر آپ کے پاس ارفع طارق کے بارے میں کوئی بھی معلومات ہوں، چاہے وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ لگیں، براہِ کرم فوراً رابطہ کریں۔
+923162529829
9 july 2026
#waliullahmaroof #MissingChild #Earthquake2005 #MissingSince2005 #Muzaffarabad
An American soldier trying to force his dog to attack an Iraqi woman, but even the animal shows more humanity than the American soldiers themselves. 2006, Baghdad, Iraq.
شریف خاندان کے پاس 28 آئی پی پیز ہیں، جبکہ دیگر مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے پاس 16 آئی پی پیز ہیں۔
آصف علی زرداری کے پاس 16 آئی پی پیز ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے پاس 9 آئی پی پیز ہیں! ایثار رانا۔
ٹک ٹاک کی تباہی کاریاں 💔🚨
اب جس دن سے بچے مرے ہیں💔
ہر روز رات کو خواب میں آکر ماما ، ماما کہتے ہیں
اور میں چیخیں مار کر جاگ اٹھتی ہوں
🥲💔:
اٹلی میں بیٹھے شخص نے گجرات کے ایک گھر میں نقب لگا دی ،
سگی ماں نے دو پھول جیسے بچوں کو اس چالاکی سے مار ڈالا کہ 3 ماہ تک قانون کی گرفت میں نہ آئی ۔۔۔
🚨💔
مکمل واقعہ کی تفصیلات 💔
بدقسمت باپ اور ایس ایچ او کی زبانی
۔۔۔۔
تصویر میں موجود دو بچوں سے محروم ہونے والا بدقسمت باپ فروری کی پانچ تاریخ کو دوپہر کے وقت جب کام سے گھر آیا تو اسکے دونوں بچے بیڈروم میں کمبل میں تھے ۔
یہ انکے سونے کا وقت تھا
اس نے جگانے کی کوشش کی تو بچوں کا نہ دم نہ سانس اور نہ کوئی حرکت ۔
پریشان ہو کر اس نے چیخ کی
بیوی نازش کو آواز دی مگر وہ انجان بن گئی ، میاں بیوی دونوں بچوں کو گود میں اٹھا کر رکشے پر عزیز بھٹی ہسپتال لے گئے ،
ڈاکٹروں کو معاملہ مشکوک لگا ،
بچوں کے جسم پر زخم کا کوئی نشان نہ تھا ،
نہ وہ کسی مرض میں مبتلا تھے
پھر اچانک موت
کیسے ؟
مقامی پولیس کو بلایا گیا تو پولیس کو معاملہ میں کچھ گڑ بڑ لگی
والد سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ اسکی نہ کسی سے دشمنی ہے اور نہ اسے کسی پر شک ہے وہ اللہ کی رضا پر راضی ہے ۔۔۔
البتہ پولیس نے بچوں کے پوسٹ۔ مارٹم کے لیے والد کو راضی کر لیا ، حالانکہ والدہ نے شور مچایا میرے بچوں کے جسم کو تکلیف ہو گی ایسا نہ کیا جائے لیکن پوسٹ۔ مارٹم ہوا اور نمونے لے کر لیبارٹری بھجوا دیے گئے جبکہ والدین اور رشتہ دار بچوں کی میتیں گھر لے گئے جسکے بعد تدفین ہو گئی ۔۔
بچوں کی موت کے 12 روز بعد انکی ماں نازش گھر سے غائب
ہو گئی
شوہر نے پہلے تو بیوی کو اپنے طور پر ڈھونڈا اور پھر تھانہ اے ڈویژن گجرات کو اطلاع کی ، درخواست پر پولیس نے اغ۔وا کا مقدمہ درج کیا اور خاتون کی تلاش شروع کی لیکن جلد پولیس کو خاتون کا 164 کا بیان موصول ہو گیا جس میں اسکا کہنا تھا کہ وہ اغ۔وا نہیں ہوئی
اپنی مرضی سے گھر سے نکل آئی ہے
بچوں کے بغیر اسے اب وہاں رہنا بے مقصد لگتا تھا شوہر سے اسے کوئی دلچسپی نہیں لہذا اسکے اغ۔وا کا مقدمہ خارج کیا جائے ،
پولیس عدالتی حکم کے تابع تھی لیکن چند ہفتے گزرے تو پولیس کو بچوں کی میڈیکل یا پوسٹ ۔مارٹم رپورٹ موصول ہو گئی ۔۔
۔ ایس ایچ او تھانہ اے ڈویژن گجرات انجم زبیر کے بقول ۔۔۔۔
پولیس کو پہلے دن سے خاتون پر شک تھا
لیکن کوئی گواہی ثبوت موجود نہ تھا
پھر شوہر بیوی سے اتنا پیار کرتا تھا کہ اس نے یہ بات جھٹلا دی کہ بیوی کا اپنے بچوں کی موت میں کوئی ہاتھ ہو سکتا ہے ،
پوسٹ ۔مارٹم رپورٹ میں یہ ثابت ہو گیا کہ بچوں کی موت قدرتی نہیں تھی
بلکہ سانس بند ہونے سے ہوئی پولیس نے بچوں کے والد سے وہ موبائل مانگا
جو خاتون کے استعمال میں رہتا تھا
اور وہ اس پر بچوں کی ٹک ٹاک ویڈیوز اپلوڈ کرتی تھی ۔
موبائل سے خاتون کے ثمر عباس نامی ایک نوجوان سے رابطے سامنے آگئے ۔
پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے خاتون کو ٹریس کیا اور جلد اسے گرفتار کرکے تھانے لایا گیا
جہاں چند گھنٹوں میں خاتون نے ساری کہانی بیان کردی ۔۔۔۔
پتہ چلا کہ فساد کی جڑ اور محبتوں وفاؤں کی دیوار میں نقب ٹک ٹاک کے ذریعے ہی لگا ۔
خاتون اپنے بچوں کی ویڈیوز اپلوڈ کرتی تھی ان ویڈیوز کے ذریعے اٹلی میں مقیم ایک نوجوان ثمر سے خاتون کا رابطہ ہو گیا ۔
وہ بچوں کی ویڈیوز کی تعریف کرتے کرتے خاتون کے قریب آگیا ۔ اور دو بچوں کی ماں کو اٹلی والے نوجوان سے محبت ہو گئی ۔
یہ محبت جلد اتنی بڑھی کہ جس روز خاتون نے بچوں کے منہ پر کشن رکھ کر انہیں موت کے گھاٹ اتارا اس کے چند روز بعد ثمر ٹکٹ کٹا کر گجرات آگیا ادھر نازش گھر سے غائب ہو کر اسکے پاس پہنچ گئی ۔ دونوں ایک دوسرے کو پاکر بہت خوش ہوئے احتیاطی طور پر ثمر نے نازش سے عدالت میں بیان دلوا دیا ۔
دونوں کا اصل پلان یہ تھا کہ کچھ دنوں بعد نازش شوہر سے خلع لے گی اور اس سے شادی کر لے گی ۔
لیکن خاتون کے گرفتار ہونے سے دو روز قبل اسکا عاشق ثمر واپس اٹلی چلا گیا ۔
اپنے دو بچوں کی قا۔تلہ ماں اب جیل میں ہے جبکہ پولیس اسکے عاشق ثمر کو انٹرپول کے ذریعے واپس لانے کے لیے کوشاں ہے ۔۔
۔ تھانے کی حوالات میں جب پولیس نے خاتون سے پوچھا تم نے اپنے سگے بچوں کو کیوں مار ڈالا تو اسکا جواب تھا ، میں اندھی ہو گئی تھی ۔ اپنی تعریفیں سن کر پاگل ہو گئی تھی ۔ ۔
حافظ آباد میں ایک بھیک مانگنے والی خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے بعد اسے خون میں لت پت حالت میں چھوڑ دیا گیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا، جبکہ مقامی رپورٹس کے مطابق خاتون کافی دیر تک خون میں لت پت مدد کی منتظر رہی۔
یہ کروا رہا ہے، وہ کروا رہا ہے۔۔۔ارے آپ روک کیوں نہیں رہے؟ ہونے کیوں دے رہے ہیں؟ خالد انعم
@khaledanam1
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
میرپورخاص کی تحصیل کوٹ غلام محمد میں جعلی عامل راموں کولھی کے ہاتھوں ایک معصوم بچی کی المناک ہلاکت اور دوسری بچی کی تشویشناک حالت انتہائی افسوسناک اور انسانیت سوز سانحہ ہے
سندھ حکومت اور سندھ پولیس کو چاہیے کہ اس واقعے کی فوری، شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات یقینی بنائیں، مرکزی ملزم راموں کولھی سمیت تمام سہولت کاروں اور پورے نیٹ ورک کو قانون کے کٹہرے میں لائیں، متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کریں، جبکہ زخمی بچی کو بہترین طبی سہولیات مہیا کر کے علاج کے تمام اخراجات برداشت کیے جائیں۔
جعلی عاملوں، تعویذ گنڈوں اور پیروں کی آڑ میں معصوم شہریوں کا استحصال کرنے والے عناصر کے خلاف سندھ بھر میں مؤثر کریک ڈاؤن کیا جانا چاہیے۔ ایسے درندے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب، فرقے یا برادری سے ہو، ناقابلِ معافی ہیں اور انہیں قانون کے مطابق سخت ترین سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی بھی ایسی سفاکانہ حرکت کی جرات نہ کر سکے۔
معصوم بچوں اور خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے ایسے سنگین جرائم سندھ میں امن و امان کی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی سندھ متاثرہ خاندان کے غم میں برابر کی شریک ہے اور انصاف کی فراہمی تک اس معاملے پر اپنی نظر رکھے گی
بریکنگ 🚨CIA کے سابقہ آفیسر نے انکشاف کیا کہ اسرائیل واحد ملک ہے جس نے حال ہی میں گرجا گھروں اور عبادت گاہوں دونوں پر بمباری کی ہے لیکن وہ مسلمانوں کو "دہشت گرد" کہتا رہتا ہے۔
ایک پولیس والا خود بتا رہا ہے کہ 18 گھنٹے تک پولیس والے لڑے رہے انکے پاس اسلحہ ختم ہو گیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ ریاست کدھر تھی فوج کیوں انکی مدد کو نہ پہنچی ؟ کیوں ان پولیس اہلکاروں کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پہ چھوڑا گیا؟ کیا بلوچستان فوج کے ہاتھ سے نکل چکا ہے ؟