Simple,open,beguile,casually funny, pseudo intellectual,good planner but terrible executor, overburdened by ambitions that usually lack practical follow up.
میرے خیال میں پاکستان کے بحران کو سمجھنے میں سب سے بڑی مشکل یہی ہے کہ ہم ہر مسئلے کو الگ خانہ سمجھ کر دیکھتے ہیں، حالانکہ یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ معیشت سیاست کو متاثر کرتی ہے، سیاست حکمرانی کو، حکمرانی ریاست پر اعتماد کو اور اعتماد کی کمی پھر معاشرتی انتشار اور عدم تحفظ کو بڑھاتی ہے۔ یوں Cause اور Effect کی لکیر ہی دھندلا جاتی ہے۔
ہمیں اس سوال کے ساتھ کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضرور پوچھنا چاہیے کہ وہ کون سا نظام ہے جو ایک بحران کو دوسرے بحران میں تبدیل کرتا رہتا ہے۔ جب تک ان باہمی روابط اور Feedback Loops کو نہیں سمجھیں گے، ہماری اصلاحات بھی عموماً علامتی اور عارضی رہیں گی۔
اصل چیلنج بحران ختم کرنا نہیں، بحران پیدا کرنے والے اس پورے نظام میں وہ مقام تلاش کرنا ہے جہاں مداخلت کرکے یہ چکر توڑا جاسکے۔
دوسرا مسئلہ ریاست کی Capacity کے ساتھ ساتھ اس کی Legitimacy کا بھی ہے۔ ریاست صرف اس وقت مضبوط نہیں ہوتی جب اس کے پاس قانون نافذ کرنے، ٹیکس وصول کرنے یا انتظام چلانے کی صلاحیت ہو؛ ریاست اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب شہری اس کے قوانین کو جائز، منصفانہ اور قابل قبول سمجھتے ہوں۔
اگر شہری ریاستی قانون کو غیر منصفانہ سمجھنے لگیں، ریاستی اداروں کو غیر جانب دار نہ سمجھیں، اور یہ احساس پیدا ہوجائے کہ مواقع، انصاف اور وسائل تک رسائی یکساں نہیں، تو ریاست اور شہری کے درمیان ایک ایسا خلا پیدا ہوتا ہے جسے محض انتظامی طاقت سے پُر نہیں کیا جاسکتا۔
یہاں سے Trust Deficit ایک بنیادی متغیر یا variable بن جاتا ہے۔
اعتماد کی کمی سیاسی عدم استحکام کو بڑھاتی ہے؛ سیاسی عدم استحکام معاشی فیصلوں کو متاثر کرتا ہے؛ معاشی غیر یقینی روزگار، سرمایہ کاری اور سماجی تحفظ کو متاثر کرتی ہے؛ معاشی دباؤ سماجی بے چینی کو بڑھاتا ہے؛ سماجی بے چینی شناختی، مذہبی، لسانی، علاقائی اور طبقاتی تقسیم کو مزید گہرا کرسکتی ہے؛ اور پھر یہی تقسیم سیاسی نظام میں مزید عدم اعتماد پیدا کرتی ہے۔
بحران صرف اداروں کا نہیں، اداروں کے درمیان باہمی تعلقات اور تعلقات کار کا بھی ہے۔ اس بحث میں ایک اور اہم زاویہ Elite Capture کا بھی ہے جس پر شہری طبقات میں تقسیم خوفناک حد تک پیدا ہو چکی ہے۔ اس کا اظہار آئے روز ہم اپنے گلی کوچوں میں دیکھتے رہتے ہیں۔ لوگ اپنے حق کے لیے بھی پولیس سٹیشن، عدالت جانے سے گریز کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ طاقت کے گٹھ جوڑ کی نمائندگی کے اڈے ہیں۔ ان سے دوری میں ہی وقت اور پیسے دونوں کا تحفظ ممکن ہے۔
ریاستی وسائل، اداروں اور پالیسی سازی تک رسائی اگر مسلسل محدود طبقات، گروہوں یا طاقتور مفادات کے گرد مرکوز رہے تو ریاست کی غیر جانب داری پر سوال اٹھتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں شہری ریاست کو ایک مشترکہ اجتماعی ادارے کے بجائے طاقت کے مختلف مراکز کے مجموعے کے طور پر دیکھنا شروع کرتے ہیں جیسا اوپر لکھا ہے۔
یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ ریاستی طاقت کس کے لیے، کس طریقے سے اور کس حد تک استعمال ہوتی ہے۔اس سوال کے ساتھ اسکرین پر کوئی بریکنگ نیوز آ جاتی ہے اور سوال سوچنے والا سمندر کی ایک طوفانی لہر کے زور سے وہ دور جا گرتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر حسن الامین صاحب کی فیس بک پوسٹ پر کمنٹ
سبوخ سید
پاکستان ایسوسی ایشن آف سائنس اینڈ سائنٹفک پروفیشنلز نے جون انیس سو چھیاسی میں قرآن اور سائنس کے موضوع پر جو بین الاقوامی سیمینار کروایا اس میں پاکستان کونسل فار سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) کے ایک سرکردہ ماہر ڈاکٹر ارشد علی بیگ نے اپنے تحقیقی مقالے میں معاشرے میں منافقت کی مقدار ناپنے کا فارمولا پیش کیا۔ آپ نے بتایا کہ ان کے تیار کردہ اسکیل کے مطابق مغربی معاشروں میں منافقت بائیس کے اسکیل پر ہے اور اگر انفرادی مطالعہ کیا جائے تو اسپین اور پرتگال وغیرہ میں سماجی منافقت چودہ اسکیل پر ہے۔ ڈاکٹر صاحب شاید وقت کی کمی کے سبب پاکستانی سماج کا منافقت اسکیل نہ بتا پائے۔
خلائی ریسرچ کے ادارے سپارکو کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم محمود کے مقالے کا موضوع تھا۔ آئین اسٹائن کا نظریہِ اضافت اور واقعہِ معراج۔
اکتوبر انیس سو ستاسی میں جو اسلامک سائنس کانفرنس منعقد ہوئی اس میں ستر کے لگ بھگ مقالے پڑھے گئے۔ چھیاسٹھ لاکھ روپے کا صرفہ حکومتِ سعودی عرب نے برداشت کیا۔ اس کانفرنس میں جرمنی سے تشریف لائے ایک ماہرِ ریاضی نے فرشتوں کی ٹھیک ٹھیک تعداد معلوم کرنے کا فارمولا پیش کیا۔ جب کہ قائدِ اعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ایم ایم قریشی نے وہ طریقہ بتایا جس کے ذریعے ایک نماز کا ثواب کیسے کیلکولیٹ کیا جا سکتا ہے۔
(وسعت اللہ خان)
لأول مرة على لسان زعيم عربي في الأمم المتحدة.. ملك الأردن يكسر الصمت تجاه إسرائيل!
الملك عبد الله الثاني:
"لا ينبغي لأحد في هذه الجمعية أن يظن أن أطماع ستتوقف عند فلسطين. إن شهية هذه الحكومة الإسرائيلية للتوسع أصبحت الآن تهديدًا إقليميًا. وسوريا اليوم هي التحذير الذي يختار المجتمع الدولي ألّا يراه.
توغلات متكررة، وتوسع إقليمي تدريجي، وفرض وقائع جديدة على الأرض، بما في ذلك حول مصادر المياه الحيوية. خطوة محسوبة تلو الأخرى، تختبر إسرائيل إلى أي مدى يمكنها أن تذهب. وفي كل مرة يغضّ فيها المجتمع الدولي الطرف، تتعلم إسرائيل أنها تستطيع الذهاب أبعد، متجاوزة الحدود والقيود القانونية."
@fawadchaudhry Hard 2 believe that Karzai & Ghani killed pashtoon.Both leaders were avowedly anti taliban & tried hard 2 convince their neighbours to take tough stance on taliban.must blame those who think taliban as strategic assets & nurtured them rather thn leaders who tried to rein them in
**مسلمانوں میں دانشوروں کی عدم موجودگی کے بارے میں:**
ابن خلدون بھارتی
بھارتی مسلمان پسماندگی کا لیبل لگانا پسند کرتے ہیں۔ یہ ایک سیاسی بیانیہ ہے جس کا مقصد بھارتی ریاست کو یہ باور کرانا ہے کہ اس نے انہیں پسماندہ رکھا ہے۔ وہ اپنے اس دعوے کی تصدیق کے لیے سچر کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہیں۔
اس بحث میں پڑے بغیر کہ آیا یہ پسماندگی حقیقی ہے یا خیالی، اور کیا مسلمانوں کا ہر طبقہ ہندو برادری کے مساوی گروہوں سے واقعی پیچھے ہے یا نہیں، ایک ایسا شعبہ ہے جہاں ان کی پسماندگی سب سے زیادہ نمایاں ہے لیکن سب سے کم تسلیم کی جاتی ہے: وہ ہے فکری پسماندگی۔ مسلمان برادری کے پاس کوئی دانشور طبقہ نہیں ہے۔ یہ بات کم از کم چونکا دینے والی ہے کہ تقریباً 20 کروڑ کی آبادی، جس کی شرح خواندگی کا تخمینہ 80 فیصد ہے، اس کے پاس کوئی قابل ذکر دانشور طبقہ نہ ہو۔
ان میں دانشور طبقے کی عدم موجودگی کا سب سے واضح ثبوت یہ ہے کہ عوامی گفتگو میں ان کی نمائندگی بائیں بازو کے لبرل ہندو کرتے ہیں۔ اگر وہ خود بول سکتے تو انہیں وکیلوں کی کیا ضرورت ہوتی؟ جو اس عمل میں ان کی جگہ خود لے لیتے ہیں اور انہیں ہمیشہ کے لیے گفتگو سے باہر رکھتے ہیں۔ بائیں بازو کے لبرل لوگوں کے لیے، مسلمان وہ "خاموش لاکھوں" لوگ ہیں جو اپنی بات خود کہنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اس لیے ان کی نمائندگی کرنا ضروری ہے۔
اپنی ایک اہم تحریر میں، فلسفی گایتری چکرورتی سپیوک نے ایک سوال اٹھایا تھا: "کیا محکوم طبقہ (Subaltern) بول سکتا ہے؟" بائیں بازو کے لبرل دانشوروں کو یہ کہتے ہوئے سمجھا جا سکتا ہے کہ "کیا مسلمان بول سکتا ہے؟" اور سپیوک کی طرح—جس نے خود ہی جواب دیا تھا کہ "نہیں، محکوم بول نہیں سکتا"—بائیں بازو کے لبرل لوگوں نے بھی اسی شدت سے جواب دیا: "نہیں، مسلمان بول نہیں سکتا، اور اس لیے، اس کی طرف سے بولا جانا چاہیے۔" ان کے نقطہ نظر میں، مسلمانوں میں سیکولر اور جمہوری گفتگو کے لیے درکار اقدار، تصورات اور الفاظ کی کمی ہے۔ اس لیے، مسلمان برادری کی نمائندگی کی ذمہ داری ان پر ہے—بلکہ یہ ان کی خصوصی جاگیر ہے۔
ایک ضمنی بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں ایک خاص گروہ ایسا بھی ہے جو خود کو مسلمانوں کا فطری دانشور سمجھتا ہے: سابقہ بیوروکریٹس۔ جب سے آئی ایف ایس افسر سید شہاب الدین (1935–2017) نے 1980 میں سفارت کاری سے استعفیٰ دے کر سیاست میں قدم رکھا—اور جمہوری اخلاقیات کی پرواہ کیے بغیر، مسلم لیگ کے پرانے بیانیے کو دوبارہ زندہ کیا—تب سے بہت سے مسلمان بیوروکریٹس کا خواب رہا ہے کہ وہ ان لوگوں کو فکری قیادت فراہم کریں جو اپنے اگلے قائد کے منتظر ہیں۔ شہاب الدین اور مسلم پرسنل لا بورڈ نے راجیو گاندھی کو—جو کہ اب تک کے سب سے زیادہ مینڈیٹ والے وزیراعظم تھے—شاہ بانو کیس پر ہچکچانے، کمزور پڑنے اور جھکنے پر مجبور کر دیا، اور پھر رشدی کی کتاب "شیطانی آیات" (The Satanic Verses) پر پابندی لگوا دی۔ اپنے جریدے "مسلم انڈیا" کے ذریعے، انہوں نے مسلمانوں میں "مظلومیت کا نفسیاتی روگ" (Victimhood psychosis) پیدا کیا اور اسے ایک نظریے کی شکل دی۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ کو "مسلم انڈیا" کی شکایات کی فہرست کا سرکاری ورژن کہا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے اور دیگر مسلم رہنماؤں نے رام جنم بھومی-بابری مسجد تنازع پر ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا۔
لیکن، ان بیوروکریٹس میں حق جتانے کا جو گہرا احساس ہے، انہیں یہ خیال کبھی نہیں آیا کہ وہ بیوروکریسی کے پیشے اور فکری کام کے درمیان تعلق کی وضاحت کر کے اپنی قیادت کے دعوے کو ثابت کریں۔ اس گروہ کی اہمیت حاصل کرنے کی مایوسی سب سے زیادہ افسوسناک ہے اور رحم، نفرت اور حقارت کا احساس پیدا کرتی ہے۔
فکری کام کا مطلب صرف ذہانت کا ہونا نہیں ہے۔ لہذا، یہ کہنا کہ مسلمانوں میں دانشور طبقے کی کمی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان میں اعلیٰ ذہانت اور علمی صلاحیت رکھنے والے افراد نہیں ہیں۔ ان میں لاکھوں سائنسدان، ماہر معاشیات، مورخین، ادیب، مصنفین، صحافی، شعراء، وکلاء، پوڈکاسٹرز، سیاستدان اور بیوروکریٹس موجود ہیں۔ لیکن اعلیٰ ذہانت اور پیشہ ورانہ کامیابی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دانشور بن گیا ہے۔
"دانشور" ایک تکنیکی اصطلاح ہے جو ایسے شخص کے لیے استعمال ہوتی ہے جو اپنے معاشرے کے بارے میں گہرائی سے سوچتا ہے، معاملات کا تنقیدی جائزہ لیتا ہے، عوامی مباحثوں میں حصہ لیتا ہے، پرانی روایات اور موجودہ نظام (Status quo) پر سوال اٹھاتا ہے، حاکمیت کو چیلنج کرتا ہے، اور مختصراً، طاقت کے سامنے سچ بولتا ہے۔ سب سے بڑھ کر، وہ اپنی برادری کو مسلسل خود احتسابی کی حالت میں رکھتا ہے۔
اجمل کمال ۔۔
Helen once walked into the den of one of the underworld’s biggest dons.
She needed his help to recover money that a producer owed her.
Helen was owed ₹20,000.
At that time, ₹20,000 was a huge amount.
She was worried and didn’t know what to do.
Someone told her:
“Karim Bhai ke paas chali jaiye.”
So Helen went to Karim Lala.
He didn’t even know who she was, as he wasn’t a movie fan at the time.
He initially wondered who she was.
Helen explained her problem.
A little later, she returned home.
Before she even reached home, she found the producer waiting on the stairs.
He handed her an envelope containing the ₹20,000 and said:
“Main to dene hi wala tha.”
Helen was thrilled.
But she hadn’t taken Karim Lala’s number, so she couldn’t call and thank him.
A few days later, she spotted him at a film event.
She immediately went up to him, kissed him on the cheek in excitement and thanked him.
Karim Lala was reportedly extremely embarrassed.
Helen had simply wanted to say thank you.
But she had completely caught the don off guard. He soon went home.
موروثیت ہے یا نہیں لیکن ایک منتخب رکن قومی اسمبلی کے ساتھ اس طرح کا سلوک عمران خان صاحب کی بہنوں کو زیب نہیں دیتا ۔ تحریک انصاف انہی رویوں کی وجہ سے کئی دھڑوں میں تقسیم ہے ۔ ان رویوں کا اظہار دیگر جماعتوں میں بھی دکھائی دیتا ہے لیکن یہاں اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے۔
Italian journalist Oriana Fallaci removing her chador during her tense 1979 interview with Ayatollah Ruhollah Khomeini in Qom, Iran...
In October 1979, Italian journalist Oriana Fallaci traveled to Qom, Iran, to interview the Islamic Revolution's supreme leader. To get inside the room, Fallaci was forced to cover herself from head to toe in a heavy black chador, leaving only her face visible.
The conversation inside the room was tense from the very start. Fallaci did not hold back her questions.
She pushed the Ayatollah on political executions, the sudden shutdown of independent newspapers, and the sharp loss of rights for Iranian women under the new regime.
When she asked about the forced wearing of the veil, Khomeini dismissed her concerns and claimed the garment was meant to protect young and respectable women. He then added,
"If you do not like the Islamic dress, you are not obliged to wear it."
Fallaci took his words literally and replied, "Thank you, Mr. Imam. Since you tell me so, I am taking it off right now."
With a quick move, she pulled the chador off her head, leaving her hair completely exposed right in front of the Supreme Leader.
Khomeini was furious.
He stood up without saying another word and walked out of the room. The room fell silent, and the interview was abruptly stopped. However, Fallaci refused to leave Iran until he returned a day later to finish the conversation.
This confrontation became legendary in the history of journalism.
It showed a reporter refusing to bow down to authority, even in one of the most dangerous settings imaginable.
Fallaci proved that real journalism requires standing up to power, asking hard questions, and refusing to be silenced by fear or tradition.
When journalists trade raw courage for easy access and comfortable silence, we lose one of our strongest shields against tyranny.
In an era where true courage in reporting feels rare, her brave stand reminds us that honest journalism still has the power to light up the dark, giving a voice to the voiceless and inspiring future generations to speak truth without fear.
#archaeohistories
A historic moment from January 1988: Rajiv Gandhi the then prime minister of India and a young @RahulGandhi at the funeral of Khan Abdul Ghaffar Khan (Bacha Khan) in Peshawar.
The weight of grief bears down on me at the news of the passing of my honoured and cherished friend: Dr Manmohan Singh.
Obituaries, essays and books a plenty there will surely be about this great man, celebrating him as the architect of India’s economic reforms. As Prime Minister, Dr Manmohan Singh was the midwife of India’s emergence as one of the world’s economic giants.
I had the rare privilege of witnessing the early years of these transformative policies first-hand while we both served as finance ministers during the 1990s. We shared a fervent commitment to the war against corruption — even collaborating on unravelling a major case.
The praise that will follow in the days ahead will be truly well-deserved. Dr Manmohan Singh, slightly awkward as a politician but undeniably upright, steadfast and resolute as a statesman, leaves behind a legacy that will inspire generations to come.
To me, he will be all that and much more. Not many people know this, and it is time that I share it with Malaysians: during the years of my incarceration, he extended a kindness that he didn’t have to — one that was neither politically expedient nor, as one can imagine, appreciated by the Malaysian government at that time. Yet, true to his character, he did it anyway. He offered scholarships for my children, particularly my son, Ihsan. Although I had declined the gracious offer, such a gesture undoubtedly showed his extraordinary humanity and generosity, demonstrative, as the Bard would have it, of a man so full of “the milk of human kindness”.
In those dark days, as I navigated the labyrinth of imprisonment, he stood by me as a true friend. Such acts of quiet magnanimity defined him, and they will remain etched in my heart forever.
Goodbye, my mitra, my bhai, Manmohan.
Photo: Getty images
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر یہاں بھی بنکاک جیسی آزادی مل جائے تو سیاحت کو فروغ مل جائیگا لیکن میں اِس سے اتفاق نہیں کرتا۔ ہر شہر اور ملک کی اپنی ’نیش‘ ہوتی ہے، بنکاک نے اپنی ایک انفرادیت قائم کی ہے جسکی نقل کرنا ممکن نہیں۔ ہماری انفرادیت دریا، جھیلیں یا بلند و بالا عمارتیں نہیں ہیں، دنیا میں یہ چیزیں ہم سے کہیں بہتر موجود ہیں، ہماری انفرادیت اندرون شہر لاہور ہے، ٹیکسلا ہے، تخت بائی ہے، موہنجودڑو، ہڑپہ، مہر گڑھ، سوات، روہتاس، بھنبھور اور وادی کیلاش ہے۔ ہم جھیل سیف المکوک کو بیچنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ناروے میں ایسی جھیلیں چپے چپے پر رُل رہی ہیں۔
https://t.co/b1iE4EMk4V
نام نہاد راولپنڈی سازش کیس کے فورا بعد راجہ غضنفر علی خان جو اُس وقت ہندوستان میں پاکستان کے سفیر تھے،فیض کو اپنے ساتھ دہلی لے گئے۔ایک شام اُنہوں نے دوستوں کو فیض کا کلام سننے کو مدعو کیا۔بہت سے لوگ آۓ،اُن میں بڑی تعداد بن بلاۓ لوگوں کی تھی۔ ہجوم گھر کے باہر تک پھیل گیا۔محفل شباب پر تھی کہ راجہ صاحب کو ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت نہرو کا فون آیا ۔ وہ راجہ صاحب سے گلہ کررہے تھے کہ اُنہیں کیوں نہ بُلایا گیا-پھر وہ اُن سے اجازت لے کر نصف شب کو پہنچے اور آخر تک بیٹھے رہے۔
حمید اختر کی کتاب “آشنائیاں کیا کیا” سے اقتباس
نوٹ: یہ اُس وقت کا واقعہ ہے جب دونوں ملکوں پر مہذب لوگوں کی حکومتیں ہوا کرتی تھیں!!
اقبال حسین