@SenatorMushtaq Allah will aid the brave men who stand against injustice and cry out for justice, and ultimately, every oppressive regime will meet its demise.
The Students Organisations of Balochistan organised a collective protest against the unlawful arrest of students and the use of violence on students. The Protest was supported by various organizations across Balochistan, who joined in solidarity to advocate for the protection of student rights and to denounce the use of force against peaceful assembly.
More than 128 students are kept in illegal custody of police on 3MPO which is a violations and an attack on students rights. The college hostels are still closed and students are being mentally tortured which is a illegitimate punishment.
We demand the immediate release of students and reopening of hostels, otherwise we will expand our protests throughout Balochistan.
#SaveBalochStudents
#BMC
#Quetta
Alarming
A female student got panic attack at BMC hostel due to atmosphere of fear and unavailability of food, water at the hostel.
The students are continuously being harassed which made them traumatised and there is a tense situation at BMC hostel.
Everyone is requested to raise their voices.
#SaveBalochStudents
#Quetta
#BMC
سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ کی عدم بازیابی کو تین سال مکمل ہونے پر جامعہ بلوچستان میں دو روزہ دھرنا کیمپ جاری ہے۔
سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ کی عدم بازیابی کو تین سال مکمل ہونے پر جامعہ بلوچستان میں دو روزہ دھرنا جاری ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ میں دوروزہ دھرنا کیمپ لگایا گیا ہے جس کا آج پہلا روز ہے۔
بلوچستان یونیورسٹی کے دو طالبعلم سہیل اور فصیح بلوچ جو گزشتہ تین سالوں سے جبری گمشدگی کا شکار ہیں، ان کو 1,2 نومبر 2021 کی رات جامعہ بلوچستان کوئٹہ سے جبراً گمشدہ کیا گیا تھا۔ ان کی عدم بازیابی پر احتجاجی ریلیاں ہوتے آرہے ہیں، صوبائی حکومت کی یقین دہانی اور پارلیمنٹ میں ان کی بازیابی کیلئے طویل گفتگو کے باوجود آج تین سال گزرنے کے بعد بھی بے قصور بلوچ طلباء کو رہائی نہیں ملی ہے۔
دو روزہ دھرنے کے علاوہ، دوسرے شہروں میں ریلی نکالنا سمیت سوشل میڈیا پہ کیمپن بھی چلایا جائے گا۔
-ترجمان؛ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
#ReleaseSohailAndFassiehBaloch
#SaveBalochStudents
The two-day sit-in camp held at University of Balochistan started today is continued.
The camp is being held against the enforced disappearances of Sohail Baloch and Fassieh Baloch on their three years of forceful abduction.
#ReleaseSohailAndFassiehBaloch
سہیل اور فصیح بلوچ کی عدم بازیابی کے خلاف کوئٹہ میں دو روزہ کیمپ سمیت دیگر شہروں میں احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
بلوچستان یونیورسٹی کے دو طالبعلم سہیل اور فصیح بلوچ جو گزشتہ تین سالوں سے جبری گمشدگی کا شکار ہیں، ان کو 1,2 نومبر 2021 کی رات جامعہ بلوچستان کوئٹہ سے جبراً گمشدہ کیا گیا تھا۔ ان کی عدم بازیابی پر شدید تحفظات ہیں، صوبائی حکومت کی یقین دہانی اور پارلیمنٹ میں ان کی بازیابی کیلئے گھنٹوں طویل گفتگو کے باوجود آج تین سال گزرنے کے بعد بھی بے قصور بلوچ طلباء کو رہائی نہیں ملی ہے جو کسی بھی المیہ سے کم نہیں ہے۔ طلباء کو یونیورسٹیوں سے اٹھا کر کال کوٹھڑیوں میں بند کرنا قانون اور انصاف کے ساتھ سنگین مزاق ہے جسے بند ہونا چاہیے۔
سہیل اور فصیح کو آج سے تین سال قبل 2021 کو بلوچستان یونیورسٹی کے احاطے سے جبری طور پر گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا جن کی بازیابی کیلئے لواحقین سمیت طلباء تنظیموں نے یونیورسٹی کے اندر دو مہینے تک احتجاج ریکارڈ کرایا جس میں ایک مہینے کی احتجاجی دھرنا شامل ہے جہاں حکومت کی اس یقین دہانی پر احتجاج موخر کیا گیا کہ سہیل اور فصیح کو 15 دن کے اندر بازیاب کیا جائے گا، ہمیں اس بات کی یقین دہانی دی گئی کہ انہیں علم تھا کہ وہ کہاں اور کس کے پاس ہیں لیکن بدقسمتی سے بلوچستان میں بندوق کے زور پر تمام فیصلے ہوتے ہیں اور مقتدرہ قوتیں جب چاہے کسی بھی طلباء کو ماورائے عدالت حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ عدالتوں سے لیکر دیگر تمام ادارے اس ناانصافی کے خلاف ایکشن لینے سے مکمل طور پر قاصر ہیں۔ جب طلباء اپنے حقوق کیلئے احتجاج کرتے ہیں تو انہیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے جبکہ وہ طلباء جو پرامن طور پر اپنی تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں انہیں جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سہیل اور فصیح کو بلوچستان کے سب سے بڑے تعلیمی ادارے کے ہاسٹل کے احاطے سے اٹھا کر جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا جو بلوچستان میں تعلیمی نظام کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔ اُس وقت کے صوبائی حکومت کے 15 دن اب تین سال میں تبدیل ہوگئے ہیں لیکن سہیل اور فصیح کے حوالے سے اب تک کسی کو علم نہیں ہے۔
اسی حوالے سے طلبہ تنظیمیں سمیت لواحقین انصاف کے ہر دروزے کو دستک دیتے آرہے ہیں جس میں عدالت میں کیس کا چلنا سمیت کمیشن میں اس کیس کو اجاگر کرنا شامل ہے جہاں بلوچ طالبعلموں کی بازیابی کے حوالے ایک کمیشن بنائی گئی تھی مگر اب تک صرف تاریخ ہی دی جارہی ہے اور کوئی موثر پیش رفت دیکھائی نہیں دے رہے۔ جبکہ دوسری طرف طالبعلموں کی بازیابی کے لئے مختلف ادار میں احتجاج و سوشل میڈیا کیمپئین کا انعقاد ہوتا آرہا ہے مگر بد قسمتی سے مایوسی کے سوا اور کچھ نہیں ملاہے۔
بلوچستان میں جبری گمشدگی ایک سنگین مسئلہ بن چکاہے جس میں ہزاروں طلباء شکار ہوئے ہیں اور ہزاروں زہنی امراض میں مبتلہ ہیں۔ سہیل اور فصیح بلوچ جیسے ہونہار طلباء جو اپنے تعلیمی کیرئیر کے لئے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں مگر وہ اب کال کوٹڑیوں میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ ہم تمام اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سہیل اور فصیح بلوچ کی بازیابی کیلئے آواز بلند کریں جو ناکردہ جرم کی سزا کاٹ رہے ہیں جبکہ اس حوالے سے تنظیم کی جانب سے بلوچستان یونیورسٹی کے اندر دو روزہ کیمپ کا انعقاد سمیت بلوچستان کے دیگر شہروں میں احتجانی ریلیاں نکالی جائیں گی اور سوشل میڈیا میں کیمپئن سمیت ایکس اسپیس کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔ تمام طالب علم اور انسان دوست افراد سے شرکت کی اپیل کرتے ہیں۔
مرکزی ترجمان بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
#ReleaseSohailAndFassiehBalochh
سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ ایک ناکردہ جرم کے پاداش میں تین سالوں سے کالی کوٹھریوں میں ازیتیں سہ رہے ہیں۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں سے انسانی بحران نے جنم لیا ہے جن میں بیشتر بلوچ طالبعلم اس کے شکار ہورہے ہیں۔ اس سنگین انسانی جرم کے سبب بلوچ نوجوانوں کے اندر ایک عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہوا ہے جس سے تمام بلوچ نوجوان ازیتناک کیفیت میں مبتلا ہیں۔
اسی دردناک داستان میں جامعہ بلوچستان کے دو طالبعلم سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ گزشتہ تین سالوں سے جبری گمشدگی کے شکار ہیں جنہیں آج سے تین سال قبل 2021 کو 1,2 نومبر کی رات جامعہ بلوچستان کے احاطے سے ماورائے عدالت اٹھایا گیا جو تاحال منظرعام پر نہیں لائے گئے۔ سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ ایک ناکردہ جرم کے پاداش میں تین سالوں سے کالی کوٹڑیوں میں ازیتیں سہ رہے ہیں۔
بلوچ طالبعلموں کو ماورائے عدالت جبراً گمشدہ کرنا ایک عالمی جرم ہے۔ آئیں اپنے نوجوانوں کو بچانے میں اپنا کردار ادا کریں اور اس معاشرے کو رہنے کے قابل بنائیں جہاں انصاف، انسانی حقوق و انسانی زندگی محفوظ رہیں۔
دو روزہ دھرنا کیمپ
بقام یونیورسٹی آف بلوچستان
بہ روز 31 اکتوبر سے 1 نومبر 2024
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
#ReleaseSohailAndFassiehBaloch
جبری گمشدگی کے تین سال
سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ ایک ناکردہ جرم کے پاداش میں تین سالوں سے کالی کوٹھریوں میں ازیتیں سہ رہے ہیں۔
دو روزہ دھرنا کیمپ
یونیورسٹی آف بلوچستان
31 اکتوبر سے 1 نومبر 2024
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
#ReleaseSohailAndFassiehBaloch