My brother jeeyand Baloch's 4th month is going on. He is still in custody of pakistani forces. Untill he would not be released i can't be silent, I will raise voice for my brother to get him safe and soon back.
#ReleaseJeehandLiaquat#EndEnforcedDisappearances
Where is Zahid Baloch?
لیاری سے لاپتہ زاہد بلوچ کی گمشدگی کیخلاف فیملی کا کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج دسویں روز میں داخل۔ اگر زاہد پر کوئی الزام ہے تو عدالت میں پیش کریں یا بازیاب کریں۔ زاہد کےبیمار والد بیٹا کاراہ دیکھ رہا ہے۔
#ReleaseZahidBaloch@Alijanmaqsood12@mmatalpur
At today’s Sit-In, families carried the silent grief of Footsteps Without Return.
Balochistan bleeds under the weight of war crimes & enforced disappearances shattering dreams, tearing families apart, & erasing lives in silence.
But the voices of the disappeared echo through us.
On this day in 2016, we lost dozens of experienced lawyers in a Quetta civil hospital blast whose memories yet yearn for justice – strangely with the culprits rejoicing in their martyrdom in the guise of well-wishers in their anniversary.
#8thAugustTragedy
They don’t just pick up bodies
They pick up minds
The abduction Hakeem, Zakria, Zahid, Kashif and hundreds of youth and students is part of systematic erasure of educated and politicised Baloch youth who dare to think and Speak.
#EndEnForcedDisapperances#SaveBalochStudents
آج صدف بلوچ نے اپنے والد امیر بخش بلوچ کی جبری گمشدگی کو 11 سال مکمل ہونے پر کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرکے انکی بازیابی کا مطالبہ کیا۔
#ReleaseAmeerBaksh
“میں ریاست پاکستان، عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، اور ہر اس شخص سے اپیل کرتی ہوں جو انسانیت پر یقین رکھتا ہے۔ ہم انصاف مانگتے ہیں، انتقام نہیں۔ ہم اپنے والد کو واپس مانگتے ہیں، کسی کے خلاف نفرت نہیں۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کیا جائے۔
ہر انسان کو جینے کا حق ہے، ہر انسان کو اپنی فیملی کے ساتھ رہنے کا حق ہے، ہر شخص کو قانون کے مطابق سنا جانے کا حق ہے۔ ہم اپنے والد کی بازیابی کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فریاد کر رہے ہیں۔
میں صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ میں اپنے والد کی بیٹی ہوں، میں نے ان کی کمی کے ساتھ اپنی پوری زندگی گزاری ہے۔ لیکن میں آج بھی یقین رکھتی ہوں کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔ میں آج بھی یقین رکھتی ہوں کہ میری فریاد حکام تک پہنچے گی، میرا درد سنا جائے گا، اور شاید کوئی دل پگھلے گا۔
میں اپیل کرتی ہوں کہ میرے والد امیر بخش بلوچ کو بازیاب کیا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو عدالت میں پیش کریں، اور اگر بے گناہ ہیں تو فوری طور پر رہا کریں۔ ہم صرف اپنے پیارے کو گلے لگانا چاہتے ہیں، اس کے بغیر زندگی کا ہر لمحہ ادھورا ہے” صدف امیر بخش
#ReleaseAmeerBaksh
آج میں نے @SammiBaluch کے ہمراہ، اپنے والد امیر بخش بلوچ کی جبری گمشدگی کو 11 سال مکمل ہونے پر کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرکے انکی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ امیر بخش کی گمشدگی میری خاندان کیلئے اجتماعی اذیت ہے۔ میرے والد امیر بخش کو بازیاب کیا جائے۔
#ReleaseAmeerBaksh
میرے والد امیر بخش بلوچ کی جبری گمشدگی کو 4 اگست کو 11 سال مکمل ہو جائیں گے۔ اس سلسلے میں کل شام 4 بجے کراچی پریس کلب میں میری فیملی کی جانب سے ایک پریس کانفرنس منعقد کی جائے گی۔
کراچی میں موجود تمام ساتھیوں سے گزارش ہے کہ وہ ہماری پریس کانفرنس میں شریک ہوں۔
#ReleaseAmeerBaksh
We are going to run a Campaign against completion of 11 years of enforced disappearance of Ameer Baksh, missing for 4 August, 2014 from Kulanch. I, daughter of Ameer, request everyone join us and raise your voice against injustice.
#ReleaseAmeerBaksh@mmatalpur@Alijanmaqsood12