رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ"
ترجمہ:
“وہ شخص ذلیل و خوار ہو جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔”
(جامع ترمذی)
جب آپ کے سامنے حضور کا نام لیا جائے یا پوسٹ گزرے تو درود شریف ضرور پڑھا کریں
اٙللـَّهـُمَّ صـَلِِِّ وَسّـلٙـِّمْ وَبـَارِكْ عـٙلـىِِ مُحـٙٙمّـدِِؐﷺ♥
السلام علیکم
صبح بخیر
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
اللّٰہ تعالیٰ انکو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔۔ موٹ اٹل حقیقت ہے لیکن والدین کے بچھڑنے کا غم انسان کے آخری سانس تک تازہ رہتا ہے ۔۔ سب احباب سے گزارش ہے کہ
@Mamakiprinces
کے والد کی روح کو ایصال ثواب کیلئے فاتحہ پڑھیں اور ریٹویٹ کریں ۔۔ ہم دعا اور ایصال ثواب ہی کر سکتے تو سب سے گزارش ہے دعا کریں
چاروں قل شریف سورت فاتحہ اول و آخر درود ابراہیمی
اے چشمِ یار ! مان گئے ، تیرے سحر کو
دل دے کے معتقد ترے ، منتر کے ہو گئے
ہم عرضِ حال کر نہ سکے اف رے رعبِ حسن
جاتے ہی ان کے سامنے پتھر کے ہو گئے
#قومی_زبان
﷽
السلام علیکم ورحمتہ الله وبرکاتہ
#خاتم_النبیین_محمدﷺ
#درود_وسلام
اے الله!
میرے لیے ہدایت آسان فرما اور جو مجھ پر زیادتی کرے اسکے مقابلے میں میری مدد فرما
یا رب اپنا بہت زیادہ شکر گزار،اور تجھ سے ڈرنے والا بنا۔
اور ان لوگوں میں شامل فرما جو صراطِ مستقیم پر ہیں
🩷🦋
عربی زبان کے الفاظ کی عمدگی اور بات کا موقع و محل کے مطابق ہونا اپنی مثال آپ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قرآنِ کریم کے لیے اس زبان کا انتخاب محض اتفاق نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے گہری حکمتیں پوشیدہ ہیں۔
عربی دنیا کی ان چند زبانوں میں سے ہے جس میں ایک ہی لفظ کے درجنوں مترادفات پائے جاتے ہیں اور ہر لفظ ایک الگ باریک مفہوم ادا کرتا ہے۔ قرآن پاک نے اس وسعت کو استعمال کرتے ہوئے نہایت جامع الفاظ میں بڑے بڑے حقائق بیان کر دیے، جنہیں کسی دوسری زبان میں بیان کرنے کے لیے طویل ابواب درکار ہوتے۔
نزولِ قرآن کے وقت اہل عرب اپنی زبان دانی پر بے حد نازاں تھے اور غیر عربوں کو "عجمی" (گونگا) کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو اسی زبان میں نازل فرما کر ان کے فصحاء اور شعراء کو چیلنج کیا کہ وہ اس جیسی ایک سورت بھی بنا لائیں۔ ان کی فصاحت قرآن کے الفاظ کی ترتیب اور اسلوب کے سامنے بے بس ہوگئی۔
عربی زبان میں یہ خاصیت ہے کہ اس میں "ایجاز" (کم سے کم الفاظ میں بڑی بات کہنا) پایا جاتا ہے۔ قرآن نے اس اسلوب کو اپنایا تاکہ انسان اسے آسانی سے یاد کر سکیں۔ قرآن پاک کی بلاغت کا عالم یہ ہے کہ یہ ایک بدو سے لے کر ایک بڑے عالم تک، ہر کسی کو اس کی فہم کے مطابق ہدایت فراہم کرتا ہے۔
دیگر زبانوں کے برعکس، عربی زبان کے قواعد اور الفاظ کے بنیادی ڈھانچے میں ہزاروں سال گزرنے کے باوجود تبدیلی نہیں آئی۔ اللہ نے قرآن کے لیے ایسی زبان چنی جو زندہ اور محفوظ رہنے کی صلاحیت رکھتی تھی تاکہ قیامت تک آنے والے انسان اسے اصل شکل میں سمجھ سکیں۔
عرب لوگ اپنی یادداشت اور حافظے کے لیے مشہور تھے۔ اللہ نے قرآن کو ان کی مادری زبان میں اتار کر پہلے ایک ایسی جماعت تیار کی جنہوں نے اپنی حیرت انگیز قوتِ حافظہ کے ذریعے اس کلام کو سینوں میں محفوظ کیا اور پھر اسے پوری دنیا تک پہنچایا۔
نہ صرف قرآن بلکہ پورے دین اسلام میں کوئی بھی شے اتفاقیہ نہیں ہے۔ ہر امر کے پیچھے میرے رب کی کامل حکمتیں ہیں۔
"بِلسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ"
ترجمہ: روشن عربی زبان میں۔
سورۃ الشعراء: 195
#اردو_زبان
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
اور ہم نے آپ کے لیے آپ کا ذکر بلند کر دیا۔
اٙللـَّهـُمَّ صـَلِِِّ وَسّـلٙـِّمْ وَبـَارِكْ عـٙلـىِِ مُحـٙٙمّـدِِؐﷺ♥
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
صبح بخیر