Atheist logic
How universe came into existance
By none/ accidently
How life came into existance
By none/ accidently
What is nature?
none/ accident
Car travels there is driver
But universe most perfect stars plantes travelling in space
Controlled by By none/ accident
Classic believer logic:
1. There is God - written in the book
2. He chose a truthful messenger - written in the book
3. Analyse his message - written in the book
4. He cannot be wrong - written in the book
and so on.....
I'm not surprised why y'all can't use your brains.
These are TTP terrorists and their handlers operating from Afghanistan and fighting against Pakistan.....
American CIA & Mossad is paying Kabul regime 160 million dollars every month to wage their campaign of terror against Pakistan.
Indian intelligence is paying them hundreds of millions of dollars separately...
The white guy in front is neither an Afghan nor a Pakistani..... He is a CIA/Mossad operator. Most probably from JSOC. Joint special operations command.
Just check the level of equipment these savages have.....
یونیورسٹی واقعہ پوری پلاننگ اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاک ارمی کے خلاف گھناونی سازش ہے ایک اکیلے باوردی شخص کو اس کی عورت کے سامنے پورا جتھا بے دردی سے زد و کوب کر رہا ہے وہ کیا کرتا پھول پیش کرتا یا اپنا دفاع کرتا،،،
حافظ صاحب نے ایک سے زائد مواقع پر مریم بی بی کو اعلانیہ طور پر بہن کہا ہے یا بہن کہہ کر مخاطب کیا تا ہم یوتھڑز یہی سمجھتے ہیں کہ حافظ صاحب کے خیالات اپنی بہن کے بارے میں وہی ہیں جو ان یوتھڑز کے اپنی اپنی بہنوں کے بارے میں ہیں۔
اس سوچ کو کیسے بند کرو گے
تمہاری آج کی تمام گالیوں کا ایک جواب
یہ جو کالے سوٹ کالے چشمے والے نوجوان نے جو ہاتھ میں پائپ پکڑا ہوا ہے وہ کرنل صاحب کو مارنے کیلئے نہیں پکڑا بلکہ یونیورسٹی میں پلمبری کا کام کرتا ہے
ابھی دودھ کے دانت ٹوٹے نہیں اور ملک کے محافظوں کو یہ ماریں گے جس دن ہم لوگوں کا دماغ گھوم گیا نا سب کو نانی یاد ا جائے گی
تو طے یہ ہوا کہ جتھا جہاں بھی جمع ہو جائے اسکے حقوق زیادہ ہوتے ہیں۔۔۔چاہے کسی کو آگ لگا کر مار دے، کسی کی بہن بیٹی یا بیوی کو تنگ کرے، کسی کا گھر جلا ڈالے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچائے، ایمبولینس کا راستہ روک کر ہلاکت کا باعث بنے۔۔ہمیں ہر حال میں جتھے کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا۔
کرنل صاحب کو سلیوٹ ہے کہ جس نے اپنی عورت کی عزت پہ پہرہ دیا اور خاموش رہنے کی بجائے غیرت کو ترجیح دی ✊
ویسے یہاں تو خاور مانیکا جیسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں 🤷♂️
I appreciate Lt Col. Asfund Yar for not shooting and killing a few among those rapist mob. If I was there I'd have definitely killed 3-4 of them.
Wish he continues his service after court martial completes. While whole mob is recorded, 15 years in Attock Qila InShaAllah for all.
سرحد یونیورسٹی واقعہ؛ EXCLUSIVE اھم ترین حقائق ‼️
لیفٹننٹ کرنل اسفند یار ولی اور طلبہ کے درمیان کیا ہوا کیوں ہوا معاملہ کہاں سے شروع ہوا، سب اصل حقائق میں آپ کو بتانے جا رہی ہوں، تمام ثبوتوں کے ساتھ ‼️
اس ٹویٹ کے ساتھ لگی تمام تصاویر دیکھئیے !
پہلی تصویر ڈاکٹر جدون خان کی، سابقہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ HoD ۔۔۔ جو کرنل اسفند پر حملہ آور ہے ۔۔۔
اب کہانی سنئیے ۔۔۔
ڈاکٹر جدون کیخلاف ایک طویل عرصے سے خواتین طلبا اور ٹیچرز کیطرف سے شکایات تھیں ہراسانی کی۔ کہ جدون خان ان کو غیرضروری طور پر دفتر بلاتے ہیں غیرمناسب باتیں کرتے ہیں اور دیگر طریقوں سے ہراساں کرتے ہیں۔ ڈاکٹر آئینہ جو کہ کرنل اسفند کی اہلیہ ہیں وہ اسی ڈیپارٹمنٹ میں سٹوڈنٹ افئیرز کی انچارج تھیں۔ جب سٹوڈنٹ لڑکیوں نے ہراسانی کی شکایات کیں تو ڈاکٹر آئینہ نے ڈاکٹر جدون کیخلاف یونیورسٹی انتظامیہ/وائس پرنسپل کو شکایت کی۔ تحقیقات ہوئیں ڈاکٹر جدون خان مجرم پائے گئے اور ان کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ ڈاکٹر آئینہ کو جدون خان کی جگہ HoD بنا دیا گیا۔ ڈاکٹر جدون خان نے اس معاملے کا کینہ دل میں رکھ لیا۔ اور اس کے بعد ڈاکٹر آئینہ کو ان کے فون پر دھمکی آمیز میسیجز بھیجنے شروع کر دیے۔ معاملہ صرف یہیں تک نہیں رکا، گزشتہ جمعے 21 اگست کو ڈاکٹر جدون خان، ڈاکٹر آئینہ کے آفس میں زبردستی آ دھمکے، انہیں گالیاں دیں دھمکایا حتی کہ انہیں مارنے کیلئے آگے بڑھے۔ اس صورتحال پر ڈاکٹر آئینہ نے فورا پولیس کو 15 پر رابطہ کیا اور اس کے فورا بعد تھانہ ھمک چلی گئیں ڈاکٹر جدون کیخلاف کاروائی کیلئے۔ اب میری ٹویٹ کیساتھ لگی وہ درخواست دیکھئیے جو ڈاکٹر آئینہ نے جدون خان کیخلاف گزشتہ جمعے کو تھانے میں دی FIR کیلئے۔ اسی دوران اس معاملے کی خبر وائس پرنسپل کو ہوئی وہ فورا تھانے پہنچ گئے اور ڈاکٹر آئینہ سے درخواست کی کہ وہ پولیس کاروائی نہ کروائیں معاملے کو یہیں رفع دفع کریں کیونکہ یونیورسٹی کی عزت کا سوال ہے۔ وائس پرنسپل نے ڈاکٹر آئینہ کو یقین دہانی کروائی کہ وہ خود اس معاملے کو ہینڈل کرینگے اور جدون خان آئندہ انہیں تنگ نہیں کرے گا۔ پہلے تو ڈاکٹر آئینہ نہیں مانیں انہوں نے بتایا کہ جدون خان انہیں دھمکی آمیز میسیجز بھی بھیجتا رہا ہے اور آج یہاں تک اتر آیا ہے لہذا وہ پولیس کاروائی لازما کروائیں گی۔ وائس پرنسپل کی کافی منت سماجت پر ڈاکٹر آئینہ صرف اتنا مانیں کہ ٹھیک ہے پولیس کاروائی نہ ہو گی مگر پولیس کے پاس میری درخواست موجود رہے گی ریکارڈ میں تاکہ اگر دوبارہ جدون خان کوئی ایسی حرکت کرے تو پولیس کے پاس ریکارڈ موجود ہو۔ جدون خان نے پولیس کے سامنے ڈاکٹر آئینہ سے معافی مانگی اور تحریری معافی نامہ لکھ کر دیا جو پولیس ریکارڈ کا حصہ ہے۔ میری ٹویٹ میں تصویر دیکھئیے جدون خان کے معافی نامے کی۔ اس تمام واقعے کے بعد ڈاکٹر آئینہ جب گھر گئیں تب انہوں نے اپنے شوہر کرنل اسفندیارولی کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس سے پہلے انہوں نے شوہر سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے کرنل اسفند کو کہا کہ معاملہ وائس پرنسپل کے کہنے پر ختم ہو گیا ہے۔ کرنل اسفند اہلیہ کے یہ سب بتانے پر مطمئن ہو گئے کہ ٹھیک ہے رفع دفع ہو گیا۔ اس قسم کے افسوسناک واقعات تعلیمی اداروں میں ہوتے رہتے ہیں جو انتہائی افسوسناک ہے۔ خیر اب آئیے کہ 24اگست سوموار کے روز کیا ہوا۔ یونیورسٹی میں طالبات اپنے پیپرز کے حوالے سے ایک الگ احتجاج کر رہیں تھیں۔ ڈاکٹر آئینہ چونکہ ہیڈ آف سٹوڈنٹ افئیرز ہیں وہ ان طالبات کے پاس معاملے کے حل کےلئے گئیں۔ اسی دوران جدون خان لڑکوں کا جُھنڈ لے کر احتجاج کروانے چلے آئے، جس کی مکمل پلاننگ کی گئی تھی، اور احتجاج کا مقصد یہ تھا کہ جدون خان کو بحال کیا جائے۔ اھم سوال کہ جدون خان خود اس احتجاج میں کیوں موجود تھا!!!؟؟؟ جدون خان کرنل اسفند پر حملہ کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے!!! جدون خان نے جان بوجھ کر ڈاکٹر آئینہ کو دیکھ کر ان کیخلاف مغلظات بکنا شروع کر دیں۔ یہ سب دیکھ کر فطری طور پر ڈاکٹر آئینہ نے سوچا کئ یہ شخص تو پھر شروع ہو گیا یہ باز ہی نہیں آ رہا، انہوں نے ایک بار پھر 15 پولیس کا کال کر دی۔ جو پولیس آپ کو ویڈیو میں نظر آ رہی ہے وہ ڈاکٹر آئینہ کے بلانے پر آئی ہوئی تھی!!! پولیس 15 کو کال کرنے کے بعد ڈاکٹر آئینہ نے پشاور میں اپنی بہن کو کال کر کے اس واقعے سے آگاہ کیا کہ جدون خان پھر اپنی حرکتوں پر اتر آیا ہے۔ ڈاکٹر آئینہ نے سب سے پہلے اپنے شوہر کرنل اسفند کو کال نہیں کی!!!! یہ جاننا بہت اھم ہے!!! یہ سب آن ریکارڈ ہے۔
🚨
ڈاکٹر آئینہ نے اپنی بہن کو کہا کہ تم اسفند کو مت بتانا، کیونکہ وہ ظاہر ہے اپنے شوہر کے طبیعت کو پہچانتی ہیں، کہ جب وہ جانیں گے کہ ایک بار پھر ایسی حرکت ہوئی ہے تو طیش میں آئیں گے۔
پھر کہوں گا کرنل کو نوکری سے برخاست کردیں کورٹ مارشل ذریعے پھائے لگادیں لیکن اس عمل دوران وردی پر بکواس کرنے والے اور عوام کو بغاوت کیلئے اکسانے والے کتی کے بچوں پر قانون مطابق کاروائی ضرور کریں اور اگر ایسا نہیں کرسکتے تو سمجھ جائیں کہ آپ کی غیرت کے پرزہ میں بدترین کچرا پھس چُکا ہے اور یہاں سلام ہے اس کرنل پر جس نے غیرت کھاتے ہوئے اپنی نوکری قربان کردی لیکن آوارہ کتوں کے آگے لما نہیں پڑا اور کم از کم اپنی بقیہ زندگی اپنی بیوی اور بچوں کے سامنے عزت سے گزار سکے گا
پاک فوج نے کام کر دیا اور اپنے آفیسر کے خلاف تادیبی کاروائی کا حکم دے دیا۔ اب حکومت سے گزارش ہے جن جن نے باوردی آفیسر پر ہاتھ ڈالا، جنہوں نے وڈیو بنا کر اپلوڈ کی اور جو اس واقع کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں ان کے خلاف بھی کاروائی کریں۔
مہذب معاشروں میں ایک باوردی بندہ کھڑا ہوتا ہے اور سینکڑوں اس کے سامنے خاموش ہوتے ہیں۔ احتجاج یا طالب علم ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بد مست ہو جائیں
ایک پروفیسر خواتین کو ہراساں کر رہا پھر اس نے سٹوڈنٹ کو استعمال کیا ایک خاتون ملازم کو یرغمال بنایا اس سب کے دوران یہ سرحد یونیورسٹی انتظامیہ کہیں نظر نہی آئی اس یونیورسٹی کو بھی بند ہونا چاہیے یہ بچوں کو کیا سیکھا رہے ہوں گے ؟