یقین کریں اگر بہنیں باہر ہوتی اور ایسا بیان آتا تو وہ زمین آسمان ایک کر دیتی ۔ لیکن سوشل میڈیا خاموش ہے! 💔
اور پی ٹی آئی قیادت تو ہے ہی اسٹیبلشمنٹ کے چکلے 🖐️
تاریخ گواہ ہے کہ اس ملک کے مقبول ترین رہنماؤں کے ساتھ ہمیشہ کیا سلوک کیا گیا۔
عمران خان کو قیدِ تنہائی میں رکھ کر ان پر تشدد کی خبریں آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔
تمام پارلیمنٹرینز کو فوراً استعفیٰ دینا چاہیے۔
What kind of news is coming about imran khan??? We have normalised torture on him to an extent that such a news about the greatest son of soil can easily be circulated and talked about!!! My heart is drowning even thinking about this, i can't even say it 💔
عمران خان گیارہ مہینوں سے قید تنہائی میں ہے۔ ہر طرح کی کوششوں کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہیں ہوپائی۔ اسکے بعد اپوزیشن لیڈر کی جانب سے عمران خان پر جسمانی تشدد کی تصدیق کرنا بے معنی نہیں ہے۔
فوج ایک وزیراعظم کو قتل کروا چکی ، ایک کو پھانسی چڑھا چکی ، شیخ مجیب پر تشدد کرچکی اس فوج سے کسی بھی سطح کی بے غیرتی کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کے سامنے آرمی چیف اور ان کی ٹیم طالبان کی آبادکاری کا پلان لے کر آئے تو ان کی شرائط میں فاٹا مرجر کی واپسی کے ساتھ ساتھ یہ توہین آمیز شرط بھی شامل تھی کہ ریاست ان کے لیے مکانات تعمیر کرے گی اور یا تو ان کو سیکیوریٹی فراہم کی جائیگی یا ان کو اسلحہ سمیت آنے دیا جائیگا۔ میں نے سوال پوچھا کہ اول تو اس آبادکاری کا اُن ۷۰۰۰ سیکیوریٹی فورسز کے شہدا کے لواحقین کو کیا جواز فراہم کیا جائیگا جن کے عیال کے سروں سے فٹ بال کھیلے گئے، جن کے گلے کاٹے گئے؟ اے پی ایس کے معصوم بچوں کے لواحقین کو کیا جواب دیں گے جنہیں بے دردی سے شہید کیا گیا؟ اُن کے ٹیکس کے پیسوں سے آپ اب اُن کے قاتلوں کی آبادکاری کریں گے؟ جن کے گھروں کو آپ نے باقاعدہ مسجدوں میں یہ اعلانات کر کرکے مسمار کیا کہ یہ وطن دشمن اور قوم کے بیٹوں کے قاتل ہیں ان کے گھر آپ کس منہ سے خود تعمیر کریں گے؟ آرمی چیف اور اُن کی ٹیم کے پاس لفظوں میں ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا مگر اُن کی شکست خوردہ باڈی لینگیوج اُن کا وہ جواب تھا جس سے میں نے بہت عرصہ نظریں کترائیں۔ میرے ملک کی فوج کے سربراہ ایک ملیشیا کے ہاتھوں اتنے بے بس تھے یا ہمیشہ کی طرح ڈالری جنگ کی خواہش کے نشے میں اتنے مست تھے کہ اپنے جوانوں کے سر کاٹنے والوں کو ناصرف بنا کسی اکاونٹبلٹی واپسی کا راستہ دینے کی منصوبہ بندی کررہے تھے بلکہ ان کی لاشوں پر ان قاتلوں کے مسکن تعمیر کررہے تھے۔
میرے حوالے سے ان کے اقدامات نئے نہیں۔ گذشتہ کئی سالوں میں میرے خاندان دوستوں اور ساتھیوں کو اغوا، لاپتہ، تشدد کرنے سے گرفتار کرنے، گھر توڑنے کے متعدد واقعات ہوچکے ہیں۔ کل رات ان جرنیلوں کے مسلط کردہ ٹٹو کا بیان سُنا کے ایک ”مفرور” کے گھر کی خواتین سے دست درازی کرنا جائز ہے۔ میں اس تفصیل میں تو جاتا ہی نہیں کہ اِس ”مفرور“ کا اصل جرم کیا ہے مگر کل پہلی مرتبہ اپنی قوم کی زندگیوں کا سوال کرنے والوں سے ”آہنی ہاتھوں سے نبٹنے والی“ فوج کے آرمی چیف اور ان کی ٹیم کا شکست خوردہ انداز یاد کرکے ہنسی آئی۔ سیاسی مخالفین کے گھر توڑنے والوں، نہتی عورتوں پر ہاتھ ڈالنے والوں کا سامنا بندوقوں والوں سے ہوتا ہے تو اپنے اُن جوانوں کے خون کا بھی سودا کر آتے ہیں جن کی قربانیاں قوم کو ازبر کرا کرا کر اپنے ناجائز قبضے کا جواز ڈھونڈتے ہیں۔ خُدا کسی کو بے غیرت دشمن نہ دے۔
محمود خان اچکزئی صاحب! اگر آپ کو یقین ہے کہ عمران خان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، بلیک میل کیا جا رہا ہے اور ان پر جسمانی تشدد بھی ہوا ہے، تو بطور قائدِ حزبِ اختلاف آپ اس پر عملی طور پر کیا کر رہے ہیں؟ آپ کے پاس پارلیمانی منصب اور اپوزیشن کی قیادت موجود ہے۔ قومی اسمبلی میں یہ معاملہ اٹھائیں، پارلیمانی تحقیقات، فوری ملاقات اور آزادانہ طبی معائنے کا مطالبہ کریں، تمام اپوزیشن کو متحرک کریں۔ سپریم کورٹ جائیں، محض انٹرویوز میں اس نوعیت کے سنگین انکشافات اور خدشات بیان کرنا کافی نہیں ہے۔ جس ذمہ داری کے لیے آپ کو یہ منصب دیا گیا، اسے مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے لیے اب تک آپ نے کیا عملی اقدامات کیے ہیں۔یہ قوم جاننا چاہتی ہے۔
عمران خان پر جسمانی تشدد کی تصدیق کرنے سے پہلے محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈری اور تحریک انصاف کو اسمبلیوں سے الگ ہوجانا چاہیے۔
اگر ہم خدانخواستہ فوج سے انصاف نہ لے پائے تو عمران خان کے نام پر عہدوں اور اسمبلیوں سے چپکے ہوئے حرامزادے ہی سہی۔
عمران خان پر جیل میں جسمانی تشدد کی تصدیق اپوزیشن لیڈر کررہا ہے۔ اگر اس سب کے باوجود تحریک انصاف اسمبلیوں میں بیٹھی رہتی ہے تو پھر بیرسٹر گوہر ، سلمان اکرم راجہ ، محمود اچکزئی سمیت اسمبلیوں میں بیٹھے تین سو لوگ عمران خان کے قتل کے سہولتکار ہوں گے۔
عظمٰی خان کا شوہر 🚨
ہمیں ریلیف نہیں مل رہی, اب بتاؤ ہم کیا کریں؟ میں تو پوری عوام سے پوچھتا ہوں, جو بھی یہ دیکھے, کہ اب اپ, آپ بتاؤ ہم کیا کریں
ستر سال کی عورتوں کو پکڑ کے جیل میں ڈال دیا، اس سے بڑی کیا ناانصافی ہوگی؟
#شوکت_خانم_کی_شیر_اولاد
جسٹس ابراڈ کے ڈائریکٹر مائیکل پولاک نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی کی مبینہ جبری گمشدگی اور غیرقانونی حراست کے معاملے پر اقوام متحدہ سے فوری مداخلت کی درخواست کردی۔
مائیکل پولاک کی جانب سے اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے من مانی حراست اور ورکنگ گروپ برائے جبری و غیررضاکارانہ گمشدگیوں کو ہنگامی درخواستیں جمع کرا دی گئیں۔
جسٹس ابراڈ کی پریس ریلیز کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور اسپیکر بابر سلیم سواتی کو 11 اکتوبر 2026 سے نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے، جبکہ حکام کی جانب سے ان کی موجودگی کے مقام کی تصدیق نہیں کی گئی۔
پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں منتخب عوامی نمائندوں کو اہل خانہ اور وکلا تک رسائی نہیں دی جا رہی اور ان کی حراست کے لیے کوئی وارنٹ یا قانونی حکم بھی پیش نہیں کیا گیا۔
مائیکل پولاک نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان فوری طور پر دونوں رہنماؤں کے مقامِ حراست سے آگاہ کرے، انہیں اہل خانہ اور وکلا تک رسائی دے اور رہا کرے۔
جسٹس ابراڈ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے اہل خانہ کی جانب سے دائر حبسِ بے جا کی درخواستیں پشاور ہائی کورٹ میں 3 نومبر 2026 کو سماعت کے لیے مقرر ہیں۔
مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مبینہ حراست اور سیاسی سرگرمیوں کے تناظر میں یہ معاملہ شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق ہے۔
ساڑھے چار سال سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح سے پی ٹی آئی کی قیادت سے عمران خان کے فیصلوں کو الگ کر دے جس میں ناکامی ہوئی ہے، مائنس عمران خان پاکستان کی عوام اور عمران خان کے مخلص ساتھی کبھی بھی ہونے نہیں دیں گے، کسی بھی سیاسی جماعت کی مرکزی قیادت پر مشتمل کمیٹی لائحہ عمل تیار کرتی ہے اُمیدواروں کے لیے ٹکٹس کے فیصلے کرتی ہے، عمران خان نے 9 مئی کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریاستی اغواء سے رہائی کے بعد زمان پارک میں رہائش کے دوران ہی ٹی آئی سینیئر قیادت کی 12 افراد پر مشتمل ایک خفیہ سیاسی کمیٹی بنائی ہوئی تھی جس کے ناموں کا اعلان اس لیے نہیں کیا گیا تھا کہ انہیں آرمی اسٹیبلشمنٹ اغواء کر لیتی، یہ کمیٹی تمام فیصلے کر رہی تھی اس میں سندھ سے کوئی ممبر شامل نہیں تھا، 8 فروری 2924 کے الیکشن کے وقت بھی یہی کمیٹی تھی، اس کے بعد جب پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی بنی تو سیاسی کمیٹی کے ممبران میں اضافہ کر دیا گیا اور پھر ایک وقت آیا کہ وہ تمام 12 لوگ جنہیں عمران خان نے چنا تھا وہ تمام سیاسی کمیٹی سے ہی نکال دیئے گئے جبکہ کور کمیٹی میں بھی اب 70 سے 80 لوگ ہیں، اب فیصلوں کا اختیار پارلیمانی کمیٹی کو دیئے جانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، سیاسی کمیٹی تو فارم 45 سے جیتے ہوئے تمام لوگوں پر مشتمل ہونی چاہیئے جنہیں فارم 47 دے دیا گیا جس میں بلوچستان، پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ سے زبردستی ہروائے گئے لوگ شامل ہیں، عمران خان نے کہا تھا کہ فارم 45 پر جیتے ہوئے ہر بندے کو پارلیمانی کمیٹی میں شامل کیا جائے گا لیکن ان کو تو آج تک پارلیمانی کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیا اور صرف پارلیمان میں بیٹھے ہوئے لوگ ہی پارلیمانی کمیٹی میں بیٹھے ہیں۔
جب تک خان صاحب کی اپیلیں میرٹ پر نہیں سنی جاتی تب تک ہر روز کوئی نہ کوئی گرفتار ہوتا رہے گا اور مہینے دو مہینے بعد رہا ہوتا رہے گا جیسے ہو رہا ہے جن کو نو مئی میں سزائیں ہوئی ہیں ان کی اپیلیں اور ملٹری کورٹ والوں کو سزاؤں کے خلاف اپیلوں کا حق بھی خان صاحب کے ساتھ منسلک ہے فوکس خان صاحب کے معاملات پر ہونا چاہیے
NEWS: Michael Polak of Justice Abroad (@expertsabroad) has filed submissions with the UN Working Groups on Arbitrary Detention (@UN_SPExperts) and UN Working Group on Enforced Disappearances (@WGEID) for KP Chief Minister Sohail Afridi and Speaker Babar Saleem Swati, unlawfully seized and held incommunicado since 11 October.
@ImranKhanPTI@PTIofficial@akhan4pakistan@MrsSFaisall@PTIKPOfficial
#Pakistan #EnforcedDisappearances #ArbitraryDetention #Pakistan #KhyberPakhtunkhwa.
Read more here:
https://t.co/dKklGdrF6y