بازارِ جسم میں روحِ جسمانی کی دوکان سینہ اور اعضائے ظاہری ہیں، اس کی متاع شریعت ہے اور اس کی تجارت شرک سے پاک اعمال و احکامِ شریعت کی ادائیگی ہے۔
سرالاسرار، ص 49
سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللّٰہ عنہ
#ShaikhAbdulQadirGilani#SirUlAsrar#TheSecreteOfTheSecretes
پھر اگر وہ یہ تمہارا فرمانا قبول نہ کریں تو جان لو کہ بس وہ اپنی خواہشوں ہی کے پیچھے ہیں ، اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اپنی خواہش کی پیروی کرے۔
(سورۃ القصص ،آیت50)
#islamtaleematequran
21 رمضان الکریم: یوم شہادت شیرِ خدا حضرت سیدنا علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ الکریم
مسلم اول شہ مرداں علی
عشق را سرمایہ ایماں علی
ازرخ او فال پیغمبر گرفت
ملت حق از شکوہش فر گرفت
مرسل حق کرد نامش بوتراب
حق ید اللہ خواند درام الکتاب
ہر کہ دانائے رموز زند گیست
سر اسمائے علی داند کہ چیست
خاک تاریکے کہ نامِ او سن است
عقل از بیداد او در شیون است
اقبالؒ
تعلیمات باہو رحمۃ اللہ علیہ سے پتہ چلتا ہے کہ انسان دو جسموں کا مجموعہ ہے ایک انسان کا ظاہر ہے جو ظاہری اعمال سے پاک ہوتا ہے اور دوسرا انسان کا باطن ہے جو کہ باطنی اعمال سے پاک ہوتا ہے اور باطن کا عمل صرف اللہ تعالی کا ذکر ہے.
@SahibzadaSulta1@ferozekhaan@SultanAhmadAli
Lahore is densely populated city in Pakistan where thousands of people are exposed to polluted air every day. City is considered most polluted city in world, & residents face health problems, especially breathing problems. Govt. is taking steps to control the worst situation but more intensive efforts are needed for the welfare of citizens & protection of environment. We all should play our role to mitigate pollution & encourage climate friendly activities.
علم کی زکوٰۃ مخلوق الٰہی کو حق کی طرف دعوت دیناہے.
الفتح الربانی مجلس سوئم صفحہ ۱۰۱
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللّٰہ علیہ
#ShaykAbdulQadirTheTruthful
صد سالہ تقریبات بسلسلہ "اردو زبان، تحریکِ خلافت اور پاکستان-ترکیہ اخوت" میں شرکت اور اظہارِ خیال۔ تقریب کا انعقاد ادارہ فروغ قومی زبان، اسلام آباد میں کیا گیا تھا۔
گفتگو کے اہم نکات:
• آج ہم علامہ اقبال کی نظم "طلوع اسلام" کے سو سال مکمل ہونے کی خوشی بھی منا رہے ہیں۔ یہ نظم ترک افواج کی کامیابی کے تناظر میں لکھی گئی تھی۔ علامہ اقبال نے ترک افواج کی کامیابی سے قیادت کرنے پہ غازی مصطفےٰ کمال پاشا کو زبرست خراجِ تحسین پیش کیا، اگرچہ علامہ اقبال نے بعد کی تحاریر میں اُن کی پالیسیوں سے اختلاف بھی کیا ہے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں:
کتابِ ملتِ بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا
• علامہ اقبال نے جس وقت یہ نظم لکھی اس وقت مسلم دنیا مسلسل دو صدیوں سے زوال کا سامنا کر رہی تھی۔ تاہم انہوں نے ایسے ماحول میں ترک سرزمین، عوام اور ثقافت کے دفاع پہ ترک افواج کو خوب سراہا:
ہوئے احرارِ ملت جادہ پیما کس تجمل سے
تماشائی شگافِ در سے ہیں صدیوں کے زندانی
• علامہ اقبال نے بیان کیا کہ قومیں اپنے جذبے اور یقین سے اپنا دفاع کرتی ہیں۔ اسی لئے ترک نہایت کم وسائل کے باوجود اپنا دفاع کرنے میں کامیاب ہوئے جبکہ جدید اسلحہ رکھنے والا جرمنی ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔
ہوئے مدفُونِ دریا زیرِ دریا تیرنے والے
طمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کے گہر نکلے
جہاں میں اہلِ ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے
• نظم کا اختتام اور آغاز مسلم دنیا کیلئے امید اور یقین پہ مبنی ہیں:
دلیلِ صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
افق سے آفتاب ابھرا گیا دورِ گراں خوابی
بیا تا گُل بیفشا نیم و مے در ساغر اندازیم
فلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
(ترجمہ: آ تاکہ پھول برسائیں اور ساغر میں شراب ڈالیں۔ آسمان کی چھت میں شگاف کر دیں اور نئی بنیاد قائم کریں)