آبنائے ہرمز میں موجود ہر سویلین جہاز۔۔ ویسل ۔۔ آئل ٹینکر۔۔ غیر فوجی بوٹ۔۔ پر حملہ کرنا ۔۔میزائل چلانا۔۔ فائرنگ کرنا۔۔ یا وارننگ شاٹس فائر کرنا۔۔
دراصل جنگ بندی معاہدے پر حملہ ہے۔
شاید یہ بات آپ کو سخت لگے۔۔
کڑوی لگے۔
لیکن یہی سچ ہے۔
سچ کڑوا ہوتا ہے۔
وفاقی حکومت کی پاکستان انفرااسٹرکچر کمپنی PIDCL کا غیر معیاری کام بے نقاب ایم کیو ایم پاکستان کے ایم این سے کے فنڈ سے کورنگی 32c کے علاقے ناصر جمپ تک خستہ حال نالے کی تعمیر ناقص مٹیریل سے جاری ہے
ابھی لوگ خیبر پختونخواہ اسمبلی کی جانب سے موجودہ اور سابقہ اراکین اسمبلی اور ان کے اھل خانہ کیلئے آفیشل بلیو پاسپورٹ سمیت مختلف مراعات کی منظوری کے صدمے سے باھر نہیں نکلے تھے کہ سینٹ کی ایک قائمہ کمیٹی نے سابق پارلیمینٹیرینز اور انکے اھل خانہ کیلئے بلیو پاسپورٹ کی سفارش کر دی ھے
ایسے ھی اقدامات منتخب ایوانوں کو بے وقعت کرتے اور مسائل کی زنجیروں میں جکڑے عوام کی نظر میں سیاستدانوں کو قابل تحقیر بناتے ھیں ۔۔
جب تک سیاستدانوں ، بیوروکریٹس ، اعلٰی عدلیہ اور سینئیر فوجی افسران کو حاصل غیر معمولی مراعات کو مناسب سطح تک نہیں لایا جاتا ، ناانصافی سماجی ناھمواری اور عوامی اضطراب کی دیمک معاشرے کو گُھن کی طرح چاٹتی رھے گی ۔۔
جب کسی کیس میں پکڑے جائیں تو کہتے بچے کا اقتدار میں موجود باپ وغیرہ سے کیا تعلق وہ اپنا ذمہ دار خود ہے مگر جب سہولیات بلو پاپاسپپورٹ دینا ہو پھر بیوی بچوں سمیت سات نسلوں کو دیتے ہیں ایسے منافق سیاستدان ہیں پاکستان کے
عجیب بات ہے کہ سستا پیٹرول 4 ہفتے تک پاکستان نہیں پہنچ سکا ۔
مگر مہنگا پیٹرول دو دن میں پاکستان پہنچ گیا ۔۔۔
پاکستان کی عوام کو جتنا لوٹا جا سکتا ہے ۔ ن لیگ لوٹ رہی ہے ۔۔۔ انہیں نہ تو خوف خدا ہے نہ ہی شرم ۔۔۔۔ ان لوگوں کے پیٹ پتہ نہیں کب بھریں گے
اس ملک کی اشرافیہ کو کچھ اندازہ نہیں کہ
عام آدمی کو اپنا فلیٹ بنانے۔ کسی مارکیٹ میں اپنی ذاتی دکان بنانے ۔ اپنا گھر بنانے میں کتنے سال۔ کتنی محنت ۔ کتنی خواہشات ، کتنے خواب خرچ کرنا پڑتے ہیں۔
ابھی آپ اک نسلہ کو رو رہےہیں ، ادھر مریم نواز پنجاب میں بیوٹیفیکیشن کے نام پر لوگوں کی کئی نسلوں کی محنت ، جائز ، لیگل دکانیں گرا رہی ہے ۔
انکو پتہ ہی نہیں کہ دکان صرف پتھر کی دیواروںکا نام نہیں۔ بازار میں اڈے کا نام بنانے پر عمریں لگ جاتی ہیں ۔
لیکن یہ لوگ بیک جنبش قلم سب برباد کر دیتے ہیں
@MaryamNSharif
ان ظالم لوگوں کو اللہ کی پکڑ کا کوئی خوف نہیں۔
یا الٰہی آپ ہی ان سے نبٹیں۔
بات پاپولزم کی نہی ہے اگر تو واقعئ معاشی حالات خراب ہوتے حکومت مجبوری میں پیٹرول مہنگا بیچ رہے ٹیکس بڑھا رہے بجلی مہنگی دے رہے تو عوام کو شکایت نا ہوتی
مگر یہ تو اس کے بدلے لگثری جہاز خرید رہے مہنگی ترین گاڑیاں بانٹ رہے اراکین اسمبلی وزیروں مشیروں کی تنخواہیں مراعات بلو پاسپورٹ بزنس ٹکٹ دے رہے ہیں
غریب کو لوٹ کر الیٹ کا جیب بھر رہے ہیں اس پر تو لعنت ہی بنتی اور یہئ آج کی حق کی بات ہے
Minister Sahib, thank you for the detailed response.
A few questions remain.
1. If Platts Petrol was $76/barrel on 27 February and is $88/barrel today, that is a difference of roughly $12/barrel or about Rs22/litre. Yet retail petrol is up by about Rs54/litre (Rs257 to Rs311). Where does the remaining Rs32/litre come from?
2. If PL+CSL is unchanged and Platts is only $12/barrel higher, why is the pump price Rs54/litre higher than the pre-war price?
3. When international prices fall, consumers are repeatedly told to wait for averaging, inventories and shipping cycles. When international prices rise, the pass-through appears much faster. Why?
1. July 6 - Saudi Aramco slashes $11/barrel or Rs20/litre
2. July 10 - Pakistan increases price by Rs13/litre
3. When the international price goes up it reaches Pakistan in 21 minutes
4. When the international price goes down it needs 21 days
5. An increase of Rs13/lire is Rs890 million/day
6. An increase of Rs13/lire is Rs325 billion/year
7. Who is making Rs890 million/day?
آئندہ نیشنل اسمبلی کا ووٹ ن لیگ کے لئے ختم شد !
ہم نے ووٹ نواز شریف کے وزیر اعظم بننے کے لئے دیا تھا ۔ شہباز شریف کے لئے نہیں ۔
عوام کو دو ہفتے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر آج پیٹرول مہنگا کر دیا !
یہ صاحب صرف اشرافیہ کے وزیر اعظم ہیں ۔ غریب عوام کے نہیں ۔
ماشاء اللہ
وزیراعظم نے اپنے دل سے پتھر اٹھا کر عوام کی تشریف پہ رکھ دیا ہے۔
دو ہفتے عالمی منڈی میں خام تیل سستا رہا مگر وہ پ چ خام تیل پاکستان نہیں پہنچ سکا مگر وہی خام تیل تین دن پہلے عالمی منڈی میں مہنگا ہوا تو ڈھائی دنوں میں پاکستان پہنچ گیا۔
بس اتنی سی سائنس ہے۔
شہباز رانا کے مطابق پچھلے جمعے کو جو ریلیف دینا تھا اسے لیوی میں ڈال کر ستر کیا گیا اور اب دس روپے بڑھا کر 80 روپے لیوی کی گئی ہے
شہباز رانا کہتے ہیں آج لیوی 41 ہونی چائیے لیکن حکومت 40 اور ٹھوک کر ظلم کر رہی ہے اور آج پیٹرول کا ریٹ 270 ہونا چائیے تھا
یہ سراسر زیادتی ہے
ایک مہینے میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی کم قیمت کا ریلیف عوام تک نہیں پہنچ سکا لیکن دو میزائل چلتے ہی قیمتوں میں اضافے کا منصوبہ تیار۔
اللّٰہ کریم ہدایت دے