سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی تنخواہ 20 لاکھ سے زائد ہے، ایاز صادق نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ پہلے اپنے آنکھوں کے ڈاکٹر بیٹے کو لیسکو بورڈ میں جگہ دلوائی اور اس پر بھی تسلی نہیں ہوئی تو اب اس بیٹے کو قومی ایوارڈ بھی دلوا دیا ہے.
قائداعظم نے یہ ملک اسی لئے حاصل کیا تھا تاکہ یہاں پر وزیراعظم شہباز شریف غریب عوام سے پیٹرولیم لیوی کے نام پر اندھادھند "جگا ٹیکس" وصول کرے تاکہ ایاز صادق جیسے سیاستدان اپنے لئے اور اپنے بچوں کیلئے دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں سے سرکاری دولت اکٹھی کریں.
شرمناک نہیں.. انتہائی شرمناک حرکتیں ہیں اگر کوئی محسوس کرے.
دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہونے والے ملک کے وزیر خارجہ! بمقابلہ ایک لاکھ ہزار ارب قرض میں ڈوبے ملک کے افسران! مسئلہ کسی ایک تقریب کا نہیں ہے، مسئلہ ہماری حکمران اشرافیہ کا مائنڈ سیٹ ہے۔وہ مائنڈ سیٹ جو عوامی پیسے پر جہاز سے لے کر بگھی تک کا استعمال اپنا استحقاق سمجھتے ہیں۔
دیر اور سوات ۔۔۔۔مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے۔۔
دیر بالا / دوبندو چوکی میں محصور پولیس کے بہادر جوان آج صبح بخیر و عافیت پولیس لائن دیر بالا پہنچ گئے۔۔۔۔۔۔۔ ڈی ائی جی مالاکنڈ کا دیر بالا کے غیور عوام کا خصوصی شکریہ
سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے بیٹے ڈاکٹر محمد علی ایاز کو ایجوکیشن (میڈیکل) کے شعبہ میں اعلی کارکردگی پر تمغہ امتیاز سے نوازا جائے گا۔ اس گوہرِ نایاب کو آنکھوں کا ڈاکٹر ہونے کے باوجود وزارتِ توانائی نے لیسکو بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ممبر بھی بنایا تھا تاہم حرص تاحال ختم نہیں ہوئی۔
He is Rodri -captain of Spanish football team which won the World Cup. He also won the Golden Ball at the 2026 FIFA World Cup
He is standing in a Q while taking a flight from Madrid to Manchester.
Can you even imagine any of our cricketers standing in a line for boarding?
یہ دو تصاویر نہی دو مائنڈ سیٹ ہیں ۔۔۔
عاقب جاوید نے اپنی بیٹی ٹونی نامی بندے کے ساتھ بیاہ دی ہے ۔۔جسم پر ٹیٹو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کیا تربیت کی ہے بیٹی کی ۔۔ اور بتاتا چلوں عاقب جاوید کا تعلق شیخوپورہ کے مذہبی فیملی سے تعلق ہے انکے دادا عالم دین تھے ۔
دوسری طرف محمد یوسف کی بیٹی ہے جو یوسف یوحنا سے محمد یوسف بنے اپنی بیٹی کا سادگی سے اسلام کے مطابق نکاح کیا اپنی پوری زندگی اسلام کے مطابق گزار رہے ہیں ۔۔
یہ رب کے فیصلے ہوتے ہیں میرا رب جیسے چاہیے عزت دے ۔
اپکو یاد ہے عاقب جاوید اور محمد رضوان کی اپس میں لڑائیوں کا قصے ۔۔ عاقب جاوید ہمیشہ محمد رضوان پر تنقید کرتے رہتے تھے اور بلاوجہ تنقید ۔۔
عاقب جاوید رضوان سے بغض رکھتے تھے یہ بغض رضوان سے کرکٹ کی وجہ سے نہی تھا صرف اس وجہ سے تھا کہ وہ کرکٹ کے ساتھ اپنی دینی تعلیمات پر عمل کر رہے تھے ۔۔
جب کھلاڑی فری ہوتے تھے سبکو بلا کر دینی محفل سجتی تھی ۔ عاقب جاوید چاہتا تھا کھلاڑی پارٹیز کریں ڈسکو کلب جائیں ۔ گھومیں پھریں ۔ اور یہ کلچر رضوان اور بابر نے ا کر ختم کیا ۔
چیمپئنز ٹرافی میں قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آئی تھی کہ شکست کی بڑی وجہ چیف سلیکٹر عاقب جاوید اور اس وقت کے کپتان محمد رضوان کے درمیان اہم فیصلوں پر مشاورت نہ کرنا تھا اور رضوان کھلے عام اس بات پر نالاں تھے کہ ٹیم سے متعلق فیصلے ان سے پوچھے بغیر کیے گئے ۔
ایسے شخص سے جس کو ٹیم میں اک ایسا بندہ نہی پسند تھا جو دین تعلیمات پر عمل کرتے ہوے اپنے کرئیر میں اگے بڑھ رہا ہے وہ شخص اپنی بیٹی کی خاک تربیت کرتا ۔۔
اسے کیا فرق پڑتا ہے کہ اس کی بیٹی جس سے بھی شادی کرے ۔ اس لیے تنقید سے بھی اسے فرق نہی پڑتا اور پوری کرکٹ ٹیم کا بیڑہ غرق کر چکا ہے ۔۔ کرکٹ تباہ کر دی ہے ۔ اور اس پر بھی تنقید ہوی اسے کوی فرق نہی پڑا ۔۔
Muhammad Kaif as a young kid knew not to fan the flames of hatred between India and Pakistan. I am a citizen of neither but this young kid is ahead of all the adults around him.