پڑوسی ملک کو دہشت گردی کے الزام سے بری قرار دینے کا کارنامہ بھی صرف پنجاب کی وزیراعلیٰ سرانجام دے سکتی ہے سندھ، پنجاب یا بلوچستان کا وزیراعلیٰ ایسی بات کردے تو اسکی زندگی عذاب ہو جائے
عائشہ بخش: گریڈ 20 کے افسر کو جج کرنے کے اختیار دے دیے گئے ہیں۔ حکومت کا تنخواہ دار ملازم کیا حکومتی خواہش کے خلاف فیصلہ کرنے کی جرأت رکھے گا؟
شہزاد چوہدری: مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی خطرہ کس چیز کا ہے؟ کون سا دہشتگرد ہے جس کے پیچھے یہ جا رہے ہیں
الحمد للہ 🙏 !
آپ سب کی کوششوں سے آج عمران خان صاحب کا چیک اپ اور علاج ان کی فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں الشفأ ہسپتال میں ہونے جا رہا ہے-
پاکستانیو۔۔ ابھی ہم نے مزید محنت کرنی ہے۔ آرام کا وقت نہیں ہے۔ یہ آپ کی کامیابی کا پہلا قدم ہے۔ آگے کا مرحلہ سخت ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ ہم نے عمران خان، بشرٰی بی بی ، تمام لیڈران اور تمام ورکرز کو انصاف دلانا ہے اور ناحق قید سے آزاد کروانا ہے- بس آپ نے گھبرانا نہیں اور اپنے اللّٰہ پر ایمان کامل رکھنا ہے۔ انشاء اللّٰہ فتح حق اور سچ کی ہوگی۔
افسوسناک 💔
"ہمارا سٹیٹ آف دی آرٹ بس سٹینڈ تیار پڑا ہے NHA والے NOC نہیں دے رہے۔ ہمارا ڈیم تیار پڑا ہے صرف NOC چاہئے لیکن ہمیں نہیں دے رہے ڈیم سے صرف خیبرپختونخوا کو نہیں پورے ملک کو فائدہ ہوگا۔ یہ خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہے ہیں"۔ وزیراعلی سہیل آفریدی
عمران خان کا ویژن اور خیبر پختونخواہ کے ڈاکٹروں کی کاوشوں سے پاکستان میں پہلی دفعہ Endoscopic Cardiac Surgery بغیر سینا چاک کئے ممکن ہوا۰ یہ پاکستان میں اس نوعیت کا پہلا پروسیجر ہوا ہے۰
اہم بات یہ ہے عمران خان کی حکومت میں یہ علاج مفت ہے۰
Endoscopic cardiac surgery another milestone for PIC - Newspaper - https://t.co/4idFk2tzJ5 - https://t.co/TlJ3dxMHuX
جو کام شاید بھارت بھی کشمیر بھی نہ کرتا ہو وہ پاکستانی عسکری الیکشن کمیشن نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں کر دیا ہے
انتخابی نشان کی الاٹمنٹ کے آخری دن “گلگت بلتستان ڈیموکریٹک پارٹی” سے انتخابی نشان چھین لیا گیا
کیونکہ GDBP نے تحریک انصاف سے اتحاد کر لیا تھا اور PTI کے امیدواروں نے GBDP کے ٹکٹ جمع کروائے تھے
اس سے پہلے گلگت بلتستان کے منتخب وزیراعلی خالد خورشید کو عسکری احکامات نہ ماننے اور عمران خان سے وفا کے جرم میں جعلی کیس بنا کر نااہل کر کے تحریک انصاف کی حکومت ختم کی گئی اور پھر انہیں توہین محسن نقوی میں 34 سال کی سزا سنائی گئی
پاکستان کے بعد گلگت بلتستان میں بھی عوام سے ان کا حق رائے دہی مکمل طور پر چھینا جا چکا ہے
رسول اللہ ﷺ کی ایک جامع دعا (روایت: حضرت ابنِ عمرؓ)
آج کے دور میں اس دعا کا نواں (9) حصہ بیحد اہم ہے
یہ ایک نہایت جامع اور عظیم الشان دعا ہے جو جامع ترمذی (حدیث: 3502) میں منقول ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب کسی مجلس سے اٹھتے تو اکثر اپنے صحابہ کے لیے یہ دعا فرماتے تھے:
اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تَحُولُ بِهِ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ، وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ، وَمِنَ اليَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مَصَائِبَ الدُّنْيَا، اللَّهُمَّ مَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُوَّاتِنَا مَا أَحْيَيْتَنَا، وَاجْعَلْهُ الْوارِثَ مِنَّا، وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا، وَانْصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا، وَلَا تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا، وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا، وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا
دعا کی تشریح و نکات
1. خشیتِ الٰہی: اے اللہ! ہمیں اپنا اتنا خوف عطا کر جو ہمارے اور گناہوں کے درمیان رکاوٹ بن جائے۔ (سچا خوف وہ ہے جو انسان کو نافرمانی سے روک دے)۔
2. فرمانبرداری: ہمیں وہ نیک اعمال نصیب فرما جو ہمیں تیری جنت کا مستحق بنا دیں۔
3. کامل یقین: ہمیں وہ 'یقین' عطا کر جس کے ذریعے دنیا کی بڑی سے بڑی تکلیف بھی ہمیں چھوٹی اور برداشت کے قابل لگنے لگے۔
4. صحت کی برکت: اے اللہ! جب تک ہمیں زندہ رکھ، ہماری سماعت، بصارت اور جسمانی قوتوں کو سلامت رکھ۔
5. قوتوں کا دوام: اور ان نعمتوں کو ہمارا 'وارث' بنا (یعنی یہ نعمتیں بڑھاپے اور موت تک ہمارے ساتھ رہیں)۔
6. انصاف کی طلب: ہمارا بدلہ ان سے لے جنہوں نے ہم پر ظلم کیا (ہم خود بدلہ لینے کے بجائے معاملہ تیرے سپرد کرتے ہیں)۔
7. نصرت الٰہی: ان دشمنوں کے خلاف ہماری مدد فرما جو ہم سے بغض اور عداوت رکھتے ہیں۔
8. دین کی سلامتی: سب سے اہم بات، ہماری آزمائش ہمارے 'دین' میں نہ ڈالنا (دنیا کا نقصان برداشت ہو جاتا ہے، ایمان کا نقصان تباہ کن ہے)۔
9. دنیا کی حقیقت (انتہائی اہم): اے اللہ! دنیا کو ہمارا سب سے بڑا مقصد اور فکر نہ بنانا، اور نہ ہی اسے ہمارے علم کی انتہا بنانا۔ (آج ہم دنیا کی آسائشوں میں اس قدر مگن ہیں کہ آخرت کو بھول بیٹھے ہیں، یہ نکتہ آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ ہے)۔
10. رحم دل حکمران: اور ہم پر ایسے لوگوں کو مسلط نہ کرنا جن کے دلوں میں ہمارے لیے کوئی رحم نہ ہو۔
پیغام: اس دعا کو حفظ کریں اور ہر مجلس کے اختتام پر پڑھنے کی عادت بنائیں۔ یہ نہ صرف دنیاوی آفات سے بچاتی ہے بلکہ ہمارے زاویہ نظر (Perspective) کو درست رکھتی ہے۔