یہ جنگ پاکستان نے نہیں شروع کی۔
بلکہ یہ جنگ پاکستان پر زبردستی مسلط کی گئی ہے۔
ہمارے پاس اب کوئی آپشن نہیں سوائے اس جنگ کو لڑنے اور جیتنے کے۔ اللہ کی مدد ہمارے ساتھ ہے۔ دشمن کو شکست فاش ہو گی۔ انشاءاللہ
دس منٹ کی کلپ ہے اور میرے نہیں خیال کہ کوئی ایک بھی گندی بات کی گئی ہو۔
طارق جاوید کو سب پنجابی اسٹیج ڈرامے والے اپنا استاد سمجھتے ہیں۔
نسیم وکی اس وقت نیا نیا آیا تھا شاید اس ڈرامے میں اس کو جنجال پورہ والا رول دیا گیا ہے
ڈرامے کا نام نہیں یاد آ رہا
یا تو کمپنی نے وڈیو بنائی ہوئی ہے یا علی امین گنڈا پور کے ساتھ بن گئی ہے جو آپ اتنی عقل استعمال نہیں کر سکتی کہ نمبر کو بلر کرنا ہوتا ہے اور اس میں پیسوں کی بات کہا کی ہے ۔
زمین کے کھاتوں میں کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر اور دیگر اصطلاحات کیا ہیں؟ جانیے اس تحریر میں۔
1- موضع :
یہ ایک بڑا یونٹ ہوتا ہے جو عموماَ ایک بڑے گاؤں یا ایک سے زیادہ چھوٹے گاؤں کو ملا کر بنایا جاتا ہے۔ موضع کا نام اس گاؤں یا ایریا کے نام پر ہی درج ہوتا ہے ۔
2- کھیوٹ نمبر:
جب موضع بن جاتا ہے تو اس میں بہت سارے لوگوں اور خاندانوں کی زمین شامل ہوتی ہے اس کی تقسیم مزید آسان بنانے کے لیے کھیوٹ نمبر دے دیے جاتے ہیں، مثلا یہ ایک سو ایکڑ ایک خاندان کے پاس ہے اسے ایک نمبر دے دیا کہ فلاں موضع کا یہ کھیوٹ نمبر ہے جو فلاں خاندان کے ان ان حصہ داروں کے پاس ہے۔ یا مختلف خاندانوں یا لوگوں کی زمین کو ملا کر بھی ایک کھیوٹ بنایا جاتا ہے۔ اس کا نمبر تبدیل ہو سکتا ہے جب کوئی زمین فروخت کرتا ہے یا ایسی کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو آپ کے کھیوٹ کا نمبر بدل جاتا ہے۔
3- کھتونی نمبر:
موضع بھی بن گیا، اس میں کھیوٹ نمبر بھی لگ گئے اب کھیوٹ میں بہت سارے مالکان ہیں کسی کے پاس پانچ ایکڑ ہے کسی کے پاس دس اور کسی کے پاس دو ایکڑ تو ان کو کیسے پہچانے گے کہ اس کھیوٹ میں کونسے بندے کی کتنی زمین ہے تو اس کے لیے ہر حصہ دار کو ایک کھتونی نمبر لگا دیا جاتا ہے۔ مثلا کھیوٹ نمبر 1 میں دس ایکڑ زمین ہے اور دو مالک ہیں پانچ پانچ ایکڑ کے تو ان دونوں کو الگ الگ نمبر دے دیا جائے گا پانچ پانچ ایکڑ کا جسے کھتونی نمبر کہتے ہیں۔ یہ نمبر بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے جب کوئی اپنے حصے سے فروخت کر دے کسی کو یا ایسی کوئی دوسری تبدیلی ہو۔
4- خسرہ نمبر:
اب ایک کھتونی میں جو پانچ ایکڑ تھے (جو ہم نے مثال میں لیے پانچ ایکڑ، حقیقت میں ان کی تعداد جو بھی ہو گی) ہر ایکڑ کو ایک خاص نمبر دیا جاتا ہے جو خسرہ نمبر کہلا تا ہے۔ یہ نمبر کبھی تبدیل نہیں ہوتا چاہے کوئی فروخت کرے مگر کھیت کا خسرہ نمبر ایک ہی رہے گا۔ اور اس میں کھیت کی چاروں طرف سے پیمائش بھی لکھی ہوتی ہے کہ اس خسرہ نمبر کا جو کھیت ہے اس کی لمبائی چوڑائی وغیرہ کیا ہے۔
5- مساوی: (شجرہ)
یہ موضع کا نقشہ ہوتا ہے، کہاں کس کا کھیت ہے کہاں راستہ ہے کہاں کیا ہے سب اس میں ہوتا ہے۔ پٹواری کے پاس یہ نقشہ ایک کپڑے پر بنا ہوتا ہے جسے لٹھا بھی کہا جاتا ہے۔
6- جمعبندی:
اس میں ایک موضع کے کسی کھیوٹ کی کسی کھتونی کے کس خسرہ میں کتنے مالک ہیں سب کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ اس میں یہ بھی درج ہوتا ہے کہ مالک کون ہے اور زمین کاشت کون کر رہا ہے ٹھیکہ پر یا کیسے۔ زمین کی فرد بھی اسی رجسٹر کی تفصیل کی بنیاد پر جاری ہوتی ہے۔
7- گردوری:
آپ جس رقبہ کے مالک ہیں یا مزارع ہیں اس رقبہ میں کیا کاشت ہوتا ہے یا کیا کاشت کیا ہوا ہے اس کی تفصیل بھی پٹواری درج کرتا ہے اسے گردوری کہتے ہیں۔
اہم نوٹ: زمین خریدتے وقت ہمیشہ خسرہ نمبر کی فرد کی بنیاد پر زمین خریدیں۔ مثلا فرض کریں ایک بندہ دو ایکڑ کا مالک ہے اس کا کھیوٹ نمبر 1 اور اس کے دو ایکڑ کھیوٹ نمبر 1 کی الگ الگ کھتونی نمبر 5 خسرہ نمبر 50 اوردوسرا ایکڑ کھتونی نمبر 10 میں خسرہ نمبر 100 ہیں۔ آپ اس سے ایک ایکڑ خریدنا چاہتے ہیں اور وہ آپ جو پسند کرتے ہیں اس کا خسرہ نمبر 50 ہے مگر اسے فرد اس 50 نمبر خسرہ کی نہیں بلکہ پوری رقبے کی کھیوٹ سے ملتی ہے جس میں وہ آپ کے نام ایک ایکڑ کروا دیتا ہے تو اب قانوناَ آپ اس کے دونوں ایک میں خسرہ نمبر 50 اور خسرہ نمبر 100 میں آدھے آدھے ایکڑ کے مالک بن جائیں گے اور اگر خسرہ نمبر 50فرد ہی آپ کو دے گا تو اس کی بنیاد پر وہی ایکڑ پورا آپ کے نام لگے گا۔ بیشک وہ آپ کو آپ کا پسند کیا ہوا خسرہ نمبر 50 ہی کاشت کے لیے دے رہا ہو مگر مستقبل میں آپ کے بچوں میں جھگڑا ہو سکتا ہے کہ آپ کے یا اس کے بچے کہیں آپ کا آدھا ایکڑ یہاں بول رہا ہے یہاں جاؤ ہمارا وہاں ہے ہم وہاں جائیں گے وغیرہ۔ یہ تو دو ایکڑ کی مثال تھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی زیادہ ایکڑ کے مالک سے زمین خرید لیں تو بعد میں وہ کہتا ہے کہ میں نے یہ ایکڑ نہیں بلکہ کوئی دوسرا دیا تھا لہذا اسے کاشت کرو جا کر وہ چاہے بنجر ہو۔ اس لیے زمین لینے سے پہلے تسلی کر لیا کریں۔)
#اک_تمنا_لاحاصل_سی
اکــⷦـͥــ تمنـــᷲــᷡــⷶــⷨــⷶــⷮــا لاحاصـᷞــͥــᷤــⷶــⷩــⷶــᷞــل ســـͥـᷤــی
وتر کسے کہتے ہیں۔۔۔۔؟؟؟
جانتے ہو وتر میں ہم ہر روز الله سے ایک وعدہ کرتے ہیں ۔
اور وہ وعدہ بھی عبادت کی سب سے آخری ایک رکعت میں ہوتا ہے.
دعائے قنوت ایک عہد ہے الله سبحانہ و تعالی کے ساتھ ۔۔۔۔ ایک معاھدہ ہے۔۔ ایک وعدہ ہے ۔
*الّٰلھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ* ۔۔۔۔ اے الله ! ہم صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔
*وَنَسْتَغْفِرُکَ* ۔۔۔۔۔ اور تیری مغفرت طلب کرتے ہیں ۔
*وَنُؤْمِنُ بِکَ* ۔۔۔۔ اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں ۔
*وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ* ۔۔۔۔۔۔ اور تجھ پر ہی توکل کرتے ہیں ۔
*وَنُثْنِی عَلَیْکَ الْخَیْر* ۔۔۔۔ اور تیری اچھی تعریف کرتے ہیں ۔
*وَنَشْکُرُکَ* ۔۔۔۔ اور ہم تیرا شکر ادا کرتے ہیں ۔
*ولا نَکْفُرُکَ* ۔۔۔۔ اور ہم تیرا انکار نہیں کرتے ۔
*وَنَخْلَعُ* ۔۔۔ اور ہم الگ کرتے ہیں ۔
*وَنَتْرُکَ مَنْ یّفْجُرُکَ* ۔۔۔۔ اور ہم چھوڑ دیتے ہیں اس کو جو تیری نا فرمانی کرے ۔
*اللھُمَّ ایّاکَ نَعْبُدُ* ۔۔۔ اے الله ! ہم خاص تیری ہی عبادت کرتے ہیں ۔
*وَلَکَ نُصَلّیْ* ۔۔۔ اور تیرے لئے نماز پڑھتے ہیں ۔
*وَنَسْجُدُ* ۔۔۔۔ اور ہم تجھے سجدہ کرتے ہیں ۔
*وَاِلَیْکَ نَسْعٰی* ۔۔۔ اور ہم تیری طرف دوڑ کر آتے ہیں ۔
*وَنَحْفِدُ* ۔۔۔۔۔ اور ہم تیری خدمت میں حاضر ہوتے ہیں ۔
*وَ نَرْجُوا رَحْمَتَکَ* ۔۔ اور ہم تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں ۔
*وَنَخْشٰی عَذَابَکَ* ۔۔۔۔ اور ہم تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں ۔
*انّ عَذَابَک بِالْکُفّارِ مُلْحِقْ*۔۔۔۔۔ بے شک تیرا عذاب کافروں کو پہنچنے والا ہے ۔
کبھی کبھی کچھ باتیں بڑی دیر سے پتہ چلتی ہیں ۔۔۔ یا شاید پتہ تو ہوتی ہیں ۔۔۔ لیکن ان کی اصل سے ان کے راز سے واقف ہونے کا بھی کوئی وقت کوئی لمحہ ہوتا ہے ۔
سارا علم کتابوں میں تو نہیں ہوتا نا ۔۔۔ کچھ دلوں پر اترتا ہے ۔