سیٹ پر بیٹھا شخص اپنے آپ کو فرعون کیوں سمجھ بیٹھتا ہے
یونیورسٹی آف اوکاڑا کے غریب سیکیورٹی گارڈ کی تنخواہ تین ماہ سے روکی رکھی آواز اٹھائی تو اسے مارا گیا اور اسے جبری ریٹائر کردیا گیا
یہ ویڈیو ہر جگہ پہنچانا آپ پر فرض ہے کیونکہ غریب کی اگر کوئی سنتا تو وہ سوشل میڈیا ہی سنتا ہے
تین بار ہم تھانے میں آچکے ہیں۔
صبح 11 بجے کا واقعہ ہے ۔
میری بہنوں کی یہ حالت ہے ان کیساتھ زیادتی کی گئی ہے ان کو مارا بھی ہے ان کو گھسیٹا گیا ہے کپڑے پھاڑے گئے ہیں ۔
یہ میری والدہ کی حالت دیکھیں ۔
میرے بھائی کو اغواہ کیا گیا ہے اور جب ہم یہاں راولپنڈی تھانے میں آئے ہیں تو انہوں نے کہا ہے ہم کچھ نہیں کرسکتے سی سی ڈی کے پاس جائیں ۔
کیا اس ملک میں کوئی قانون نہیں ہے کیا ان پولیس والوں کی فیملی کو کوئی اٹھاکر لے جائے تو یہ ایسا کہیں گے ۔ ان کا نیٹورک نہیں چل رہا درخواست تک نہیں لے رہے
خاتون کا الزام
میں نے اس ویڈیو میں خواتین کے چہرے خود بلر کیے ہیں
یہ واقعہ ملتان میں جمعہ 31 جولائی 2026 کو پیش آیا ہے۔
ایک سب وے (Subway) کے ملازم کو مبینہ طور پر صرف اس لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ اس نے نہایت شائستگی سے ریسٹورنٹ کے اندر باہر کا کھانا لانے سے منع کیا، کیونکہ یہ ریسٹورنٹ کی پالیسی کے خلاف تھا۔ اس قسم کا تشدد کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔
متعلقہ حکام سے اپیل ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ اتنی معمولی بات پر تشدد کی کوئی بھی توجیہہ پیش نہیں کی جا سکتی۔
بجلی کا اصل بل محض 2,081 روپے جبکہ فکسڈ چارجز کے نام پر 4,725 روپے سرکار کا بھتہ !
فیول ایڈجسٹمنٹ اور دیگر ٹیکسوں کے بعد کل بل ملاکر صرف 56 یونٹ کا بل 7,601 روپے تک پہنچ گیا۔
استعمال سے 3 گنا زیادہ وصولی! خود کو "تجربہ کار" کہنے والی سرکار دراصل عوام کی جیبوں پر دن دیہاڑے ڈاکہ ڈال رہی ہے۔ غریب کا خون نچوڑ کر یہ کونسی معیشت ٹھیک کی جا رہی ہے؟ یہ بجلی کے بل کی پرچی نہیں،عوام کے معاشی قتل کا پروانہ ہے۔
مریم نواز کی پنجاب پولیس لوگوں کے گھروں میں داخل ہونے لگی۔ ایک شہری کے گھر میں داخل ہوئے تو شہری نے اسے پکڑ لیا، وہ وردی میں تھا۔ پھر شہری نے اس کے ساتھ کیا کیا، خود ویڈیو میں سن لیں۔ یہ ویڈیو کب کی ہے مجھے اندازہ نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب پولیس کی اس طرح کی غنڈہ گردی ہونی چاہیے؟
ظلم اور بدمعاشی کی انتہا۔۔۔
منڈی بہاوالدین تھانہ گوجرہ کی حدود گاؤں کھائی میں تصویر میں موجود عدنان عمر عرف دانی رانجھا نامی اس لڑکے نے غریب لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے
ہم نے کھائی گاؤں سے کافی لوگوں سے تحقیق کے بعد اس کے خلاف آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے کوئی بھی آدمی جا کر کھائی کے لوگوں سے پوچھ سکتا ہے اس کے بارے میں
اس کے شر سے کسی کا بچہ محفوظ نہیں اور نہ کسی غریب کی بہن بیٹی ۔۔
رانجھا برادری کے اثرورسوخ کی وجہ سے کوئی اسکے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش نہیں کرتا
لیکن آج اس نے ظلم کی انتہا کر دی ایک غریب اور شریف گھر کی لڑکی کو دن دہاڑے گلی میں مارنا شروع کر دیا جب وہ بھاگ کر اپنے گھر میں گھسی اسنے گھر میں گھس کر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھر کے اندر اسکے سر میں جوتے مارے کہ تم میرے ساتھ بات کیوں نہیں کرتی۔
اب اگر کوئی غریب اسکے خلاف کھڑا ہوا ہے تو ہمارا حق بنتا ہے اسکی آواز بنیں
ہماری کوئی رشتے دار نہیں وہ لڑکی صرف اور صرف حق اور سچ اور ایک مظلوم کی آواز بن رہے ہیں
اور اس بات کی تصدیق کوئی بھی کھائی گاؤں میں جا کر عام عوام سے بھی کر سکتا ہے ایک ایک لفظ سچ ہے جو ہم لکھ رہے
اسکا ایک بھائی پولیس میں اور ایک آرمی میں ہے اسکے نیفے میں پسٹل چلنا ایک امتحان ہے محکمے کا
گوجرہ تھانہ کے ایس ایچ او عباس ہاشمی صاحب اور اے ایس آئی شوکت صاحب نے بھر پور کاروائی کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لے لیا ہے ۔جو کہ بہت ماہرانہ قدم ہے ملزم کو آدھے گھنٹے کے اندر گرفتار کرنا کوئی عام بات نہیں
اب خدارا اربابِ اختیار ڈی پی او منڈی بہاوالدین ایس ایچ او عباس ہاشمی صاحب، سی سی ڈی منڈی بہاوالدین ، سہیل ظفر چٹھہ صاحب اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ سے اپیل ہے اس ظالم کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے
خدارا ایسے لوگوں کے بھی مقابلے کرو جن کے خلاف آواز اٹھانے سے بھی لوگ ڈرتے ہیں
زیادہ سے زیادہ شئیر کریں تاکہ اعلیٰ حکام تک مظلوم کی آواز پہنچ سکے۔۔
اس نوجوان کا نام مبشر نور ہے۔
مبشر لاہور کے نشتر کالونی کا رہائشی ہے۔
مبشر کی بہن نے رابطہ کرکے بتایا کہ: میرے بھائی کو سال دوہزار چوبیس میں رحیم یارخان کے ایک ایجنٹ نے برما میں کال سینٹر کی نوکری دلانے کا کہہ کر ویزہ لگواکر برما بھیجا۔
وہاں پہنچ کر مبشر نے تین ماہ کام کیا اور پیسے بھی گھر بھیجے۔
ایک دن مبشر نے گھر کال کرکے بتایا کہ ہمارے ساتھ دھوکا ہوا ہے، جس جگہ ہمیں بھیجا گیا ہے ایک اسک٭یم سینٹر ہے۔ یہاں لوگوں کو کال کرکے فر*اڈ کیا جاتا ہے۔
یہ بارہ پاکستانی لڑکے تھے سب نے وہاں سے بھاگنے کا پلان بنایا۔
چھ لڑکے وہاں سے تھائی لینڈ میں داخل ہوئے اور چھ لڑکے رہ گئے۔
براستہ تھائی لینڈ میں گرفتار ہوکر یہ لڑکے پاکستان ڈی پورٹ ہوگئے۔
مبشر اکلوتا بھائی ہے سات بہنیں ہیں۔
دو سال سے مبشر کا کوئی پتہ نہیں چل رہا۔بہن کا کہنا ہے کہ ہم جائیں تو کہاں جائیں۔
بہنوں نے اپنے طور پر کوشش کی تو میانمار کے کسی سرکاری اہلکار نے تین لاکھ روپے لیکر دھوکا کیا۔
میانمار میں کوئی بھی صاحب ہماری پوسٹ پڑھے اور انکو مبشر کے متعلق معلوم ہو تو برائے مہربانی ہم سے رابطہ کریں۔
حکومت وقت سے اپیل ہے کہ مبشر کو بازیاب کرانے میں سفارتی سطح پر اقدام کیا جائے۔
لاہور کی سات بہنیں اپنے اکلوتے بھائی کے لئے دن رات رورہی ہیں۔خدارا انکی داد رسی کی جائے۔
برائے رابطہ نیچے نمبر درج ہے
+923162529829
#waliullahmaroof
جیفری ایپسٹین اور اس کے ساتھی دن میں تین بار میرا ریپ کرتے تھے۔ میری عمر صرف 10 سال تھی۔ میں انسانی سمگلنگ کا شکار تھی۔
متاثرہ خاتون منظر عام پر آ گئیں ۔
میں نے اپنے ابو کے ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھا اور میری امی بھی شہید ہو گئی ۔💔🥹
میری بہن اس کے بچے بھی شہید ہو گئے ۔میں جب سو رہا تھا تو دھماکے کی اواز سے میری انکھ کھلی ۔لبنان🥹
ایک امریکی فوجی سٹیون گرین نے ایک 14 سالہ عراقی لڑکی کا ریپ کیا اور پھر اسے اور اس کے والدین کو قتل کر دیا۔
دنیا کو دوبارہ سوچنا چاہیے کہ اصل مجرم اور دہشت گرد کون ہیں۔
سول سرونٹس کی کیا ہی بات ہے۔
پاکستان سول سروسز اکیڈمی کے ڈی جی سائیکل چلا کر ’کفایت شعاری‘مہم میں حصہ ڈال رہے ہیں، ساتھ میں اس کارنامے کی ویڈیو بنانے کیلئے گاڑی ساتھ ساتھ چل رہی ہے جس میں بیٹھا ماتحت بتا رہا ہے سرجانے دیں تھوڑا سے آگے۔۔