”رجیم چینج کی سازش صرف عمران خان کو ہٹانے کی سازش نہیں تھی یہ ملک توڑنے کا سودا تھا۔ عاصم منیر اور اس کے ماتحت ٹولے نے پاکستان کو جس آگ میں جھونک دیا ہے پاکستانی قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے ایک ایک کرکے اپنی باری کا انتظار کرنا ہے یا ایک ہی بار اور متحد ہوکر اس عفریت سے نجات کے لیے تگ و دو کرنی ہے۔ شاید ہمارے پاس ایسا کرنے کے لیے زیادہ وقت نہ بچا ہو.“۔@MuradSaeedPTI
#ذہنی_مریض
#مزاحمت_سے_انقلاب_آئے_گا
عمران خان کی حکومت گرا کر، تین سال عمران خان کو بدترین قید میں ڈال کر پاکستان کے چپے چپے میں جو آگ لگا دی گئی ہے۔ کوئٹہ سے کشمیر تک، اسلام آباد سے مریدکے تک جیسے اپنے لوگوں پر انہی کی حفاظت کے لیے مہیا کی گئی بندوقوں سے، انہی کے پیسوں سے خریدی گئی گولیوں سے، انہی کا خون بہا کر، انہی کے دیس کو لہولہان کیا جارہا ہے۔ جیسے خیبر پختونخواہ سے بلوچستان تک کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے آگ کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ صرف اور صرف اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ رجیم چینج کی سازش صرف عمران خان کو ہٹانے کی سازش نہیں تھی یہ ملک توڑنے کا سودا تھا۔ عاصم منیر اور اس کے ماتحت ٹولے نے پاکستان کو جس آگ میں جھونک دیا ہے پاکستانی قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے ایک ایک کرکے اپنی باری کا انتظار کرنا ہے یا ایک ہی بار اور متحد ہوکر اس عفریت سے نجات کے لیے تگ و دو کرنی ہے۔ شاید ہمارے پاس ایسا کرنے کے لیے زیادہ وقت نہ بچا ہو۔
5 اگست شام 6 بجے پشاور ٹول پلازہ پر فیصلہ کن جلسہ ہوگا، خیبرپختونخوا خصوصاً نوجوان بھرپور شرکت کریں، ظلم، ناانصافی، مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی کے خلاف عوام کو خود اٹھ کر آواز بلند کرنا ہوگی، 5 اگست کا جلسہ سیمی فائنل ہوگا، جسمیں اہم اعلانات کیے جائیں گے،
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی صحت تشویشناک ہے، ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی میں علاج کا آئینی و قانونی مطالبہ پورا نہیں کیا جا رہا، عمران خان کو غیر قانونی طور پر آئیسولیشن میں رکھا گیا، اہلِ خانہ، پارٹی رہنماؤں، ذاتی ڈاکٹرز اور بیٹوں سے ملاقات کی اجازت نہیں، عمران خان کی صحت اور حالت سے لاعلم رکھنا غیر قانونی ہے، ان کے ساتھ اغوا شدہ شخص جیسا سلوک ہو رہا ہے،
عمران خان کو انصاف نہیں مل رہا، مقدمات کی سماعت اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، اسپیکر، وزیراعظم، چیف جسٹس اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا مگر عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی گئی،
میں عمران خان کا نمائندہ ہوں، عوام نے عمران خان کے نام پر ووٹ دیا، خیبرپختونخوا میں ان کا وژن نافذ کرنا عوام کا مینڈیٹ ہے، تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کرنے کے بعد احتجاج ہی واحد راستہ بچا ہے، دو سال سے احتجاج نہیں کیا پھر بھی ملاقاتوں پر پابندی برقرار ہے،
عمران خان کو جھکانے کی تمام کوششیں ناکام ہوں گی، وہ جیل میں رہ کر بھی آزاد جبکہ حکمران اقتدار میں رہ کر بھی غلام ہیں، حکمران عوام کے بجائے اپنے لانے والوں کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں، بلوچستان اور کشمیر کے حالات پر بھی خاموش ہیں،
بندوق کسی مسئلے کا حل نہیں، تمام مسائل آئین اور قانون کے مطابق حل ہونے چاہئیں، ملکی معیشت تباہی کی طرف جا رہی ہے، مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی بڑھ رہی ہے جبکہ حکومت کی ترجیح صرف عمران خان کو پابندیوں میں رکھنا ہے،
چند افراد اپنی انا کی خاطر پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں، پاکستان کا نوجوان یہ ہونے نہیں دے گا، پاکستان کو عظیم ملک بنانے اور قوم کو متحد کرنے کی صلاحیت صرف عمران خان میں ہے، وہ پاکستان کی وحدت اور سلامتی کی ضمانت ہیں،
میرے خلاف 9 مئی کے مقدمات دوبارہ کھول دیے گئے، بریت کے بعد بھی دوبارہ تفتیش شروع کر دی گئی، 28 اور 29 جولائی کو مزید مقدمات مقرر کیے گئے، مگر میں نہ ڈرتا ہوں، نہ جھک سکتا ہوں، نہ خریدا جا سکتا ہوں، مرتے دم تک عمران خان کے نظریے پر قائم رہوں گا، کوئی طاقت مجھے پیچھے نہیں ہٹا سکتی،
دوسرے ضلع میں تقریر پر میرے خلاف کارروائی کی گئی جبکہ دوسرے صوبے کے وزیراعلیٰ کی انتخابی مہم پر الیکشن کمیشن خاموش ہے، پی ٹی آئی، اس کی قیادت اور خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے، تمام ادارے مل کر یہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں،
5 اگست کو پشاور پہنچیں، پاکستان کی تاریخ اور تقدیر بدلنے کا وقت آ گیا ہے.
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا @SohailAfridiISF کا پانچ اگست پشاور جلسے کے حوالے سے پیغام!
“مجھے اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم کو مکمل قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور جیل مینیول کے مطابق ہماری ملاقات بھی نہیں کروائی جاتی”۔
سابق وزیراعظم عمران خان
اڈیالہ جیل
25 ستمبر 2025
#RetweetImranKhan
“جب سے نام نہاد وٹس ایپ ٹرائیل کا آغاز کیا گیا ہے نہ تو مجھے کاروائی کی کوئی آواز پہنچتی ہے نہ ہی میرے وکلاء تک میری کوئی بات پہنچ پاتی ہے اور نہ ہی مجھے جج اور وکلأ نظر آتے ہیں۔ کئی گواہوں کے بیانات میری غیرموجودگی میں کر لیے گئے ہیں، ایسے ماحول میں شفاف ٹرائل کیسے ممکن ہے؟ یہ میرا قانونی حق ہے کہ میری موجودگی میں ٹرائل چلایا جائے”۔
سابق وزیراعظم عمران خان
اڈیالہ جیل
25 ستمبر 2025
#RetweetImranKhan