🚨سی سی ڈی نے حال ہی میں ایک منشیات فروش گرفتار کیا جب اس کا موبائل فون دیکھا گیا گیا تو اس میں پنجاب کے کئی بیوروکریٹس کے نمبر نکل آئے جن سے وہ بذریعہ واٹس ایپ رابطہ میں تھا اور ان کو باقاعدہ آئس کی سپلائی بھی دے رہا تھا،
🚨وائس نوٹس اور میسیجز کا تبادلہ بھی موبائل میں موجود تھا ،
🚨ان منشیات کے عادی بیوروکریٹس میں خواتین بیوروکریٹس کی بھی بڑی تعداد موجود ہے جو بڑے بڑے دفتروں میں بیٹھ کر منشیات استعمال کرکے عوام کے مستقبل کے فیصلے کررہے ہیں۔
🚨اس پر شفاف تحقیقات ہونی چاہیے اور ان سب کے بلڈ ٹیسٹ کیے جائیں اور نشئی بیوروکریٹس کو فوری نوکری سے برخاست کیا جائے۔
اہم اعلان:
اسلام آباد میں اگر کوئی پیٹرول پمپ آپ کو پیٹرول/ڈیزل دینے سے انکار کرے تو فی الفور ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کے کنٹرول روم نمبر 051 9108084 پر رابطہ کریں یا بذریعہ سوشل میڈیا ہمیں آگاہ کریں، شکریہ
بیکری سے کھانے پینے کا سامان خریدو تو 18 فیصد سیلز ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ حالت یہ ہے کہ بال بنانے کا کنگھا خریدو تو اس پر بھی 18 فیصد سیلز ٹیکس ہے۔ مڈل کلاس کا خون نچوڑ رہے ہیں جبکہ اعلی سرکاری افسران ٹیکسوں سے بننے والے قومی خزانہ سے تین تین گاڑیاں 1800, 2800 اور 4700 سی سی رکھ سکتے ہیں۔
مفتئ اعظم غزہ ڈاکٹر محمود شوبکی نے آج کی تقریب میں ایک ایسی تلخ حقیقت بیان کی کہ ہم غزہ کے لوگوں نے ایک ارب ستر کڑور مسلمانوں سے صرف ایک درخواست کی تھی کہ ہم تک صرف روٹی پہنچا دیں لیکن یہ امت ہم تک روٹی بھی نہ پہنچا سکی ، جہاد تو دور کی بات ہے
لاہور میں بسنت پر ایک طبقہ کے لوگ اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں ایک طبقہ کے پاس کتنی دولت ہے جبکہ ملک کی 40 فیصد آبادی غربت کی سطح سے بھی نیچے زندگی گزار رہی ہے اور یہ غریب لوگ ایک وقت کا کھانا مشکل سے کھاتے ہیں۔
اس قوم کے پاس بسنت اور دیگر تہوار منانے کیلیے اربوں، کھربوں روپے ہیں لیکن اپنے شہروں میں گندے پانی کے نکاس کیلیے سیوریج سسٹم بچھانے کیلیے ورلڈ بینک سے قرض لیتی ہے۔ شہروں میں ٹیوب ویل لگانے، پانی کی فراہمی کی اسکیموں کیلیے جاپان (جائکا) سے عطیات لیتی ہے!
معاشی ترقی اور حکومتی کارکردگی کی ایک مثال یہ بھی ہے: مالی سال 25-2024 میں حکومت کے ملکیتی اداروں کو 123 ارب روپے کا خالص خسارہ ہوا جو اس سے پچھلے سال 30.6 ارب روپے تھا۔
1947 میں پاکستان میں دو کروڑ غریب تھے اور چین میں آزادی کے وقت 1949 میں 50 کروڑ غریب تھے۔ 2020 میں چین میں غربت کی لکیر سے نیچے کوئی نہیں تھا۔ چین 80 کروڑ لوگوں کو غربت کی لکیر سے اوپر لے آیا جبکہ 2026 میں پاکستان کی حالت یہ ہے کہ 45 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔
2024 میں پاکستان نے بیرون ملک سے 4 ارب ڈالر مالیت کا کھانے کا تیل درآمد کیا۔ اگر ہم زرعی ترقی پر توجہ دیتے تو یہ تیل ملک کے اندر کینولا، مکئی، سرسوں وغیرہ سے حاصل کیا جاسکتا تھا۔
غیر سرکاری اندازوں کے مطابق پاکستان میں اسوقت بے روزگاری کی شرح 22 فیصد ہے۔ تقریباً ہر دوسرا پاکستانی غریب یا غربت کے قریب ہے، ہر چوتھا شہری بے روزگار ہے، گزشتہ تین سے چار برسوں کے دوران مہنگائی کے باعث قوتِ خرید میں تقریبا 65 فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے۔
ریاست ہند میں بالآخر مسلمان بچی کا نقاب کھینچنے والے بہار کے وزیراعلی نتیش کمار کو استعفی دینا پڑا۔
ریاست طیبہ میں ۔۔۔ 4 سالوں سے عورتوں کے کپڑے اور چادریں کھینـچنے والوں کا وقت کب آنا ہے؟؟؟
انسانی ترقی۔ پاکستان 25 کروڑ آبادی کا ملک ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی ترقی کے اشاریے (HDI) کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی مسلسل نیچے آتی جا رہی ہے۔ 21-2020 میں پاکستان کا درجہ 161 ویں نمبر پر تھا، 24-2023 میں یہ 164 ویں نمبر پر تھا۔ اور تازہ ترین اشاریے میں مزید گر کر 168 ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ یہ معاشی ترقی ہے؟؟
ورلڈ بینک نے پاکستان کے سولہ شہروں میں سیوریج سسٹم اور پانی ٹریٹمنٹ پلانٹس کے لیے 40 کروڑ ڈالرز یعنی 112 ارب روپے قرض منظور کیا ہے۔ ہم وہ قوم ہیں جو گندے پانی کے نکاس کا نظام بنانے کیلیے بھی بیرونی قرضوں کے محتاج ہیں۔
ایک سال میں چینی 50 روپے فی کلو مہنگی ہوگئی ہے بہتر ہو گا کہ پاکستان کے عوام صرف دو ماہ کے لیے چینی کا استعمال چھوڑ دیں شکر یا گُڑ استعمال کریں یہ قیمت 100 روپے فی کلو سے بھی نیچے چلی جائے گی میں آج سے
چینی چھوڑنے کا اعلان کرتا ہوں
#StopUsingSugar https://t.co/k1HLWA00nw