صدر پی پی کا۔۔چیرمین سینٹ پی پی کا۔۔دو گورنر پی پی کے۔۔۔
وزیر اعلی سندھ کے پاس 3500 ارب کا بجٹ ہ��۔۔۔
2008 سے اب تک NFC ایوارڈ کی مد میں تیس ہزار ارب روپے مل چکے۔۔
چھ سال سے کراچی کی BRT نا مکمل۔۔K4 منصوبہ 2008 میں شروع ہوا وہ بھی نامکمل۔۔
استعفی دو صدارت۔وزارت اعلی سے۔۔
سندھ سے محترمہ انیسہ بلوچ نے اپنے وی لاگ میں شرجیل میمن کو 9 کلومیٹر طویل سڑک کے بارے میں جو شرم دلانے کی کوشش کی ہے وہ قابل ستائش ہے۔
یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی!
اگر کل مولانا مودودیؒ کے انتقال کے ذکر میں کوئی یہ لکھ دے کہ: “یہ وہ شخصیت تھی جس نے قیامِ پاکستان کی مخالفت کی تھی، اکھنڈ بھارت کے تصور کو ترجیح دی تھی، اور اب اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے اعمال کا جواب دہ ہے”، تو کیا آپ اسے مناسب قرار دیں گے؟ یا پھر آپ یہی کہیں گے کہ مرنے والے کے بارے میں ایسے موقع پر اس نوعیت کی بات نہیں کرنی چاہیے؟
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی شخص اپنی زندگی میں کس سیاسی فکر یا شخصیت سے وابستہ تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ آپ ایک مرحوم کے ذکر میں ایک متنازع یا منفی سمجھے جانے والے پہلو کو چن کر اسے موضوعِ بحث بنا رہے ہیں، اور پھر اسے مثبت انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ ایک منفی پہلو کو مثبت رنگ دے کر اپنی دوہری معیار بندی اور منافقانہ طرزِ استدلال کی نمائش کر رہے ہیں۔ اگر یہی طرزِ عمل آپ اپنے مخالفین کے بارے میں قبول نہیں کرتے تو دوسروں کے لیے بھی اسے معیار نہیں بنانا چاہیے۔
اصول ایک ہی ہونا چاہیے: یا تو مرحومین کے ذکر میں اختلافات اور متنازع پہلوؤں کو نہ چھیڑا جائے، یا پھر سب کے لیے ایک ہی پیمانہ رکھا جائے۔
انجینئیر سعید مختار پروجیکٹ کنسلٹنٹ ورلڈ بینک اور ایشین ڈیولمنٹ بینک پاکستان نے سخی حسن اور سادمان نالے کی تعمیرات پر ناقص مٹیریل کی نشاندہی کردی
Engr. Saeed Mukhtar
Civil Engineer
Consultant for World bank projects and Asian development bank projects in pakistan.
گلگت میں کھڑے ہوکر لاہور اور کراچی پر ایک دوسرے کو گالیاں دینے والے اب حکومت میں ایک ساتھ بیٹھینگے😂
عوام بلاوجہ senti ہوجاتے ہیں۔
یہ دونوں خاندان بس یونہی بےوقوف بناتے آرہے ہیں۔🤭
شہلا رضا صاحبہ وہ “کتے” والی ٹوئیٹ ڈلیٹ ہی کردیں اب۔
بھٹو نے دوران تقریر “اچانک” مڑ کے دیکھا تو اپنی کرسی پر بیٹے مرتضی کو پایا۔
وہ چیخے؛
قوم کے بچے زمین پر بیٹھیں، تم کرسی پر؟ ناممکن، اٹھو، وہاں بیٹھو!جلسہ بھٹو نے لوٹ لیا۔
شام کو مرتضی گھر منہ پھیلائے بیٹھا تھا تو ماں نے پیار کیا، پوچھا کس نے کہا تھا کرسی پر بیٹھو؟
مرتضی: ابا نے
جبکہ یہاں پر کرسیاں موجود ہے لیکن ڈرامے بازیاں ضرور کرنی ہیں۔
رفتار کی کراچی کی تباہی اور اس میں پیپل�� پارٹی کے کردار پر ڈاکیومنٹری کی ریلیز کے دو تین دن تک سوشل میڈیا پر پیچ و تاب کھانے، رفتار کے لئے کام کرنے والوں کو دو تین تک گالیوں کے ذریعے جواب دینے کے بعد کسی انتہائی عقلمند نے @MediaCellPPP کو مشورہ دیا کے کسی دستیاب صحافی سے ایسا ہی ویلاگ کروایا جائے سو تلاش شروع ہوئی اور بہت تگ و دو کے بعد @QayyumReports کے ذریعے جواب آں غزل سامنے آ گیا۔ خیر اس میں قیوم صاحب نے اپنے تئیں پورا زور لگایا کے پیپلز پارٹی کے گھو کو سونا ثابت کریں لیکن بطور کراچی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ میرے نزدیک موصوف ذرہ بر بھی درست انداز میں وکالت نا کر سکے اس سے بہتر پیپلز پارٹی کراچی سے کسی صحافی کا انتخاب کرتی تو شاید بہتر نتائج پاتی کیوں کہ اسلام آباد میں بیٹھے صحافی کو کیا پتا کے کراچی کے مسائل کیا ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو باوجود حکومت سندھ کے زیر تصرف میڈیا منیجمنٹ کے بے پناہ بجٹ کے باوجود کراچی بیسڈ صحافی نہیں ملا جو ان کا مقدمہ لڑنے کی ہمت پکڑتا۔
ان کا ویلاگ سننے کے بعد سوچا کہ اس پر عوامی رائے کا جائزہ جو کہ بطور ریپلائز موجود ہے دیکھا جائے تو ان کے impact کا صحیح تعین ہو سکے تو مشاہدے میں آیا کے صرف پیپلز پارٹی کے میڈیا سیل میں کام کرنے والوں نے یہ ویلاگ سنا، شئیر کیا اور لائک کیا یا پھر اس پر کمنٹ کیا۔
اس کی اسکرین ویڈیو منسلک ہے دیکھیں اور فیصلہ کریں۔
اس کے برعکس @raftardotcom کی ڈاکیومینٹری انتہائی مدلل پر اثر اور حیران کر دینے والے ��قائق پر مشتمل تھی۔ اور اس پر آئے کمنٹس مخلوط سیاسی سوچ رکھنے والی اصل کراچی کے متاثرین کے تھے۔
آج کل ڈیجیٹل دور ہے یہاں کیا اصل ہے کیا نقل ہے اور کیا پیڈ ہے اور کیا نان پیڈ ہے وہ سب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا ہے۔
یہ تین سال پہلے تک صمد بونڈ کا نشہ کرتی تھی، پھر رب نواز بلوچ نے اس کا علاج کروایا، بینظیر انکم سپورٹ سے اس کا وظیفہ باندھا، اب لگتا ہے یہ واپس کسی سستے نشے پر لگ گئی ہے۔ پھر سے علاج کرواو اس کا۔۔
ایک پنڈ میں دو میراثی رہتے تھے۔ انہیں پورے گاٶں میں کوئی منہ نہیں لگاتا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو خوش کرنے کے لئے حقہ پکڑ لیتے اور ایک دوسرے کو ہی کہتے رہتے۔
"چِھک چودھری ، لے توں چِھک چودھری"
یہ نارتھ ناظم آباد کا حال ہے۔ یہ غلاظت اور آلائشیں نہیں بھٹو کی لاش ہے جس سے تعفن پھیل رہا ہے۔ شہر کراچی کو بچانا ہے تو اب بھٹو کو دفنانا ہو گا !!
#بااختیار_کراچی
یہ کام سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا ہے
جس کا اختیار سندھ حکومت کے پاس ہے
اسی لئے کہتی ہوں غصہ کسی پر بھی آرہا ہو گالی صرف پیپلزپارٹی کو ہی دیں!
#بااختیار_کراچی@sswmb
یہ کراچی واٹر پمپ کا حال ہے۔ ایسی لاتعداد ویڈیوز مزید میرےپاس موجود ہیں۔ میں لگاتا رہوں تو رات سےصبح ہوجائے۔ بتانےکا مقصد یہ ہےجتنی توانائیاں اور پیسہ پیپلز پارٹی اپنی جھوٹی تعریفیں کروانےکےلئےسرف کر رہی ہے وہ اگر کام پہ سرف کی جائیں تو معاملات کچھ بہتر ہوجائیں۔
#بااختیار_کراچی
سعید چنہ نامی معاشرے کا ناسور، جنگلی سور ایک بھولڑو گروپ میں بول رہا ہے جب ساجد علی نے ساڑے تین لاکھ میں بہن کو بیچ دیا تھا تو اس کی بہن گھر سے بھاگی کیوں۔ بالکل ٹھیک کیا ساجد علی اور گوپانگ نے اسے قتل کر کے۔
یہ ہے ان حرامخوروں کی اصلیت اور کلچر۔ یاد رہے ایسے معاشرے کے ناسوروں کو پیپلز پارٹی نے بینظیر انکم سپورٹ کے نام پر پالا ہوا ہے جہاں سے انہیں ہر ماہ ادائیگی ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کا مکمل سوشل بائکاٹ کیا جائے۔ اور اس کے اکاونٹ کو رپورٹ بھی کیا جائے۔ 👇
@BeingSAOfficial
خیر آزاد اور بے لگام میڈیا ہے۔ کوئی کہیں بھی کچھ بھی کہہ دیتا ہے۔ اسی آزادی کا فائدہ اٹھا کر جنجوعہ صاحبہ کو یہی دعوت دے سکتا ہوں محترمہ کراچی کا کوئی بھی حلقہ منتخب کر لیں اور تحریک انصاف سے ٹکٹ لے لیں اور ن لیگ سے آشیرواد اور جی ایچ کیو سے پرشاد اس کے بعد الطاف حسین کے کو صرف یہ آزادی دلوا دیں کے وہ متعلقہ حلقے میں لائیو خطاب کر کے اپنے کسی بھی گمنام کارکن کو اپنا امیدوار ڈکلئیر کرنے کا اعلان کسی کارنر میٹنگ یا جلسہ میں کر سکیں۔
دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائیگا۔
کیا خیال ہے عوامی رائے عامہ کا ؟
آج ایم کیو ایم لندن کی ہریس کا کانفرنس کا لب لباب یہ تھا کہ الطاف حسین پر بین ہٹایا جائے اگر اسٹیبلشمنٹ الطاف حسین کو واپس کراچی کی سیاست میں لائے گی تو ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ ملا کر بٹھائے گی لیکن ووٹ بینک اس وقت کراچی کا ایم کیو ایم سے زیادہ، الطاف حسین سے زیادہ، پیپلز پارٹی سے زیادہ۔۔ "عمران خان پی ٹی ائی" کا ہے کراچی کی عوام کا ووٹ پی ٹی ائی کو پڑے گا اگر اصل کاؤنٹ ہوگا تو
فوڈ ڈیپارٹمنٹ سندھ میں کھربوں کی کرپشن پر نڈر بےباک صحافی سلطان رند بھائی کی سیکرٹری فوڈ ڈیپارٹمنٹ سندھ غلام عباس نائچ سے گفتگو
https://t.co/lj5LlWhw3a
ٹھٹہ تباہ اور برباد ہو چکا ہے مظلوم عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور ڈپٹی کمشنر ٹھٹہ کا دفتر تو وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلی سندھ کے دفتر سے بھی ہائی فائی ہے۔ کاش ٹھٹہ کے حالات بھی ڈی سی کے دفتر جیسے ہوتے
پیپلز پارٹی وہ حرامخور پارٹی ہے جس نے اپنی حرامخوریوں کے دفاع کے لئے بھی اپنے جیسے ہی حرامخور رکھے ہیں۔ مطلب یہ خود مان رہی ہے پچھلے اٹھارہ سال میں پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اور شاہراہ بھٹو کے علاوہ پورے کراچی کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔
بینظیر انکم سپورٹ پر پلنے والی ایک بھولڑی نے ٹویٹ کیا تو دوسرے راتب خور بھولڑے نے اسے آرٹی کر دیا۔ 🤣
#بااختیار_کراچی
#پیپلز_پارٹی_چور_ہے