جتنا آپ بغیر کسی بدلے کے دیتے ہیں
اتنا ہی آپ کو بغیر توقع کے ملتا ہے
خیر کا کام خاموشی سے کریں
کیونکہ کل وہ آپ کے بارے میں
بلند آواز سے بولے گا
#محبت_مافیا
Ya Allah increase my finances. Hundred Thousands or more monthly and Give me the wisdom and strategy to multiply everything I get so I can financially support everyone in need. AMEEN! 🤲♥️
بے پردگی صرف جسموں کی نہیں، زندگیوں کی بھی ہوتی ہے
ہمارے بچپن میں ایک عجیب سا پردہ تھا۔ ایک ایسا پردہ جو مختلف طبقوں، مختلف زندگیوں اور مختلف حقیقتوں کے درمیان حائل تھا۔ ہم سنتے ضرور تھے کہ کچھ لوگ بہت امیر ہیں، بڑے بڑے محلات میں رہتے ہیں، ان کے پاس قیمتی گاڑیاں ہیں، وہ دنیا گھومتے ہیں، اور ان کی زندگی کسی خواب سے کم نہیں۔ کبھی کوئی کہتا تھا کہ فلاں آدمی کے گھر کے واش روم میں سونے کی ٹونٹیاں لگی ہوئی ہیں، کوئی کہتا تھا کہ وہ سونے کے چمچ سے کھانا کھاتے ہیں۔ یہ سب باتیں ہم سنتے تھے، حیران ہوتے تھے، لیکن صرف سننے کی حد تک۔
کیونکہ ہمارے اور ان کے درمیان ایک پردہ موجود تھا۔
ایک لوئر مڈل کلاس آدمی یا ایک غریب بچہ یہ سب سن تو لیتا تھا، لیکن دیکھ نہیں سکتا تھا۔ اس کے پاس اپنی زندگی تھی، اپنی خوشیاں تھیں، اپنے خواب تھے، اور وہ انہی میں مطمئن رہنے کی کوشش کرتا تھا۔
لیکن پھر وقت بدلا۔
انٹرنیٹ آیا، سوشل میڈیا آیا، موبائل فون آیا، اور ایک بہت بڑا پردہ ختم ہو گیا۔ مختلف طبقوں کے درمیان موجود فاصلہ ختم ہو گیا۔ آج ایک بچہ جو کسی جھونپڑی میں بیٹھا ہے، اپنے موبائل کی سکرین پر ایک ایسی دنیا دیکھ سکتا ہے جس کا اس کے اپنے حالات سے کوئی تعلق نہیں۔
وہ دیکھتا ہے کہ کوئی شخص اپنی وسیع و عریض کوٹھی میں اے سی کی ٹھنڈی ہوا میں بیٹھا ہے، اس کے ساتھ پالتو شیر موجود ہے، کروڑوں روپے کی گاڑی کھڑی ہے، وہ دنیا کے مہنگے ترین ممالک کی سیر کر رہا ہے، ایک سے بڑھ کر ایک کھانے کھا رہا ہے، اور اپنی زندگی کے ہر لمحے کو کیمرے میں قید کرکے دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔
ذرا سوچئے، اس غریب کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟
وہ بچہ جس نے شاید کبھی اپنی زندگی میں برگر تک نہ کھایا ہو، وہ روزانہ ایسے لوگوں کو دیکھتا ہے جو ایک وقت کے کھانے پر اس کے پورے مہینے کی آمدنی خرچ کر دیتے ہیں۔
یہ ایک نئی قسم کی بے پردگی ہے۔
ہم نے بے پردگی کے تصور کو صرف مرد اور عورت کی نگاہوں تک محدود کر دیا ہے، حالانکہ بے پردگی صرف جسموں کی نہیں ہوتی، زندگیوں کی بھی ہوتی ہے۔
اسلام نے پردے کا تصور صرف لباس تک محدود نہیں رکھا۔ پردہ انسان کی عزت، سکون، قناعت اور معاشرتی توازن کی حفاظت کا نام بھی ہے۔
بانو قدسیہ نے ایک جگہ لکھا تھا کہ لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ تصویر کیوں منع کی گئی؟ اس کے پیچھے صرف ایک وجہ نہیں بلکہ کئی حکمتیں موجود ہیں۔
اگر عورت کے تناظر میں بات کی جائے تو شکلوں کے عام ہو جانے سے کشش اور تقدس ختم ہونے لگتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اور چیز جنم لیتی ہے، اور وہ ہے "مقابلے کی آگ"۔
یہ مقابلہ صرف حسن کا نہیں، بلکہ زندگیوں کا مقابلہ ہے۔
مجھے یاد ہے، ایک زمانے میں میں اسلام آباد سے روزانہ ٹیکسلا سفر کیا کرتا تھا۔ رات کو دفتر سے نکلتے وقت گھر والوں کو پیغام بھیج دیتا تھا کہ کھانا تیار کر لیں، میں ایک گھنٹے میں پہنچ جاؤں گا۔
لیکن راستے میں چھ سات امتحان میرا انتظار کر رہے ہوتے تھے۔
ایک طرف میکڈونلڈ کا بڑا سا بورڈ، پھر کسی نئے پیزا برانڈ کی دلکش تصاویر، پھر ملنگ جان پلاؤ، پھر دنبہ کڑاہی، پھر ایک اور ریسٹورنٹ، پھر ایک اور اشتہار۔
جب گھر پہنچتا تھا تو جس شوق سے گھر کے کھانے کی امید لے کر نکلا ہوتا تھا، وہ شوق راستے میں کہیں مر چکا ہوتا تھا۔
گھر کی مرغی دال برابر لگنے لگتی تھی۔
حتیٰ کہ صرف سوچ سوچ کر بھی کھانے کا ذائقہ خراب ہو جاتا تھا۔
یہی حال پوری زندگی کا ہو چکا ہے۔
آج ہر شخص اپنی زندگی کے بہترین دس سیکنڈ دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے، اور دیکھنے والا اپنی پوری زندگی کا موازنہ ان دس سیکنڈ سے کر رہا ہے۔
نتیجہ؟
ناشکری۔
حسد۔
احساسِ محرومی۔
ڈپریشن۔
بے چینی۔
اور مسلسل مقابلے کی ایک ایسی دوڑ، جس کی کوئی منزل نہیں۔
پہلے انسان اپنے جیسے لوگوں میں رہتا تھا، اپنے حالات کو دیکھتا تھا، اپنے رزق پر خوش ہوتا تھا، اپنے گھر کو جنت سمجھتا تھا۔
آج ایک مزدور بھی دبئی کے محلات دیکھ رہا ہے، ایک متوسط طبقے کا نوجوان ارب پتیوں کی زندگیاں دیکھ رہا ہے، اور ایک کروڑ پتی شخص اربوں پتیوں کو دیکھ کر بے چین ہے۔
یعنی بے سکونی کی یہ آگ اوپر سے نیچے تک ہر طبقے میں پھیل چکی ہے۔
شاید اسی لیے اسلام میں پردے کا تصور صرف عورت اور مرد کے تعلق تک محدود نہیں، بلکہ انسان کے سکون، قناعت اور معاشرے کے توازن سے بھی جڑا ہوا ہے۔
ہر چیز کا عام ہو جانا ضروری نہیں ہوتا۔
ہر نعمت کا نمائش بن جانا ضروری نہیں ہوتا۔
ہر خوشی کا دنیا کے سامنے آ جانا ضروری نہیں ہوتا۔
بعض اوقات پردے میں رہنا، خاموشی میں جینا، اور اپنی خوشیوں کو اپنے گھر کی چار دیواری کے اندر محفوظ رکھنا، انسان کو وہ سکون دے دیتا ہے جو دنیا کی تمام نمائشیں مل کر بھی نہیں دے سکتیں۔
Shahid Rana
O Allah, do not let the Day of Arafah pass except that You have concealed our faults, erased our sins, accepted our repentance, relieved our worries, healed our sick, and forgiven our departed loved ones.
حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت ہے
*ہم ایک بکری کے ساتھ قربانی کر لیا کرتے تھے، آدمی اُسے اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ذبح کرتا تھا. پھر اس کے بعد لوگوں نے ایک دوسرے پر فخر شروع کر دیا، تو یہ قربانی فخر ہی بن گئی.
موطا امام مالک 1069
یہی روایت ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے
یہ اس کی دلیل ہے کہ
یہ حدیث اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ ایک جانور کی قربانی پورے گھرانے کی طرف سے کفایت ہے۔ فلاں کی طرف سے اور فلاں کی طرف سے کرنے کی ضرورت نہیں
قائد اعظم صاحب کی جیب میں کتنے کھوٹے سکے تھے وہ تو ہم نے نہیں دیکھا۔ لیکن جتنے کھوٹے سکے عمران خان کی پارٹی میں سے برآمد ہو رہے ہیں دیکھ کر بندہ حیران ہو جاتا ہے۔
خان نے پوچھا تھا کہ کوئی رہ تو نہیں گیا. تو خان صاحب کوئی نہیں رہا،نہ پارٹی والے اور نہ قوم ... بس بہنیں ہی رہ گئی ہیں آپکی... اور سوشل میڈیا بس باتیں چ و کے لیے
80 years of magic, thousands of songs, and a spirit that remained forever young. The world is quieter today, but her melody will live on in every heartbeat. Farewell to the ultimate Queen of Versatility.
Asha Bhosle
1933-2026
پاکستانی ٹک ٹاکرز اس ملک کا غلیظ ترین طبقہ ہیں
اگر انکی آئی ڈی بین ہونے کا خطرہ نہ ہو تو یہ لوگ پورے ننگے بھی ہوجائیں تاکہ ویوز ملیں اور گفٹ ڈالرز بھی
انکے والدین یا تو مرگئے ہونگے یا ڈالرز کے لئے غیرت بھی مرگئی ہوگی
پی ٹی آئی گیڈرشپ کا نیا چمتکار
عمران خان کی بینائی 85 فیصد متاثر ہوئی تھی جو اب بغیر علاج کے 95 فیصد ٹھیک ہوگئی ہے
عمران خان کے اصل دشمن یہی منافق ہیں۔۔۔ 😐😐
یوتھیو!!! آؤ تحریک انصاف اراکین اسمبلی کی فہرستیں تیار کریں۔ بالکل ویسے جیسے یہ سب لوگ جب روپوش تھے تو ہم انکے انتخابی نشانوں کی فہرستیں تیار کیا کرتے تھے کہ یہ لوگ اسمبلی میں پہنچ سکیں۔
ہمارے رویے درشت ہیں۔ ہمارے اعمال کالے ہیں۔ ہمارے دلوں میں کھوٹ ہے۔ ہمارے ذہنوں میں پستی ہے۔ ہماری آنکھوں میں ہوس ہے۔ ہماری نیت میں بدنیتی ہے۔ ہم سب مل جل کر ایک معاشرہ ترتیب دیتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر ہم سب کے انفرادی رویوں کا عکاس ہے۔
ہم اپنے سے کمتر کی تضحیک کرتے ہیں۔ کسی کی دل آزاری کرنے کو اگلے کی پھاڑ دینا کہتے ہیں۔ دل میں کینہ پال لیتے ہیں۔ جب موقع ملتا ہے اس کا اظہار کردیتے ہیں۔ ہم مٹی کے پتلے اپنی اپنی زندگی میں خدا بنے بیٹھے ہیں اور بے تکان دوسروں کی زندگی پر فیصلے صادر کرتے ہیں یہ جانے یہ سوچے بغیر کہ اگلے پر کیا گزرے گی۔ وہ پہلے کس کیفیت سے گزر رہا ہے۔
ہم اپنے سے کامیاب آدمی سے حسد کرتے ہیں۔ ہمیشہ یہ سوچتے رہتے ہیں کہ اگر میں اسکی جگہ ہوتا تو دھرتی ہلا دیتا۔ بھائی جس جگہ تم ہو یہاں ہونے کے کوئی اور خواب دیکھ کر وہ دھرتی ہلانا چاہتا ہے جو تم سے نہیں ہلائی جارہی۔
ہمارے روزمرہ مذاق کا ایک بڑا حصہ کسی کی شکل ، رنگت ، قد تک محدود ہے۔ حالانکہ ہم سب کے اندر ایک ایک چور بیٹھا ہے۔ جسے ہم چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسی نا کسی ایسی کمی کو برتری میں بدلنا چاہتے ہیں جو تاقیامت نہیں بدل سکتے۔ لیکن دوسرے کی ایسی ہی کسی کمی کا مذاق بناتے ہیں۔ جب خود نشانہ بنتے ہیں تو گھٹنوں میں سر دے دے کر روتے ہیں۔
ہم مہینے میں چودہ بل چکانے والے ، ہم کرائے کے مکانوں میں رہنے والے، ہم کچی نوکریوں والے ، ہم خاندانی مسائل میں الجھے ہوئے، ہم زندگی کی ریس میں آگے نکل جانے والے کو دیکھ کر کڑھتے ہوئے، ہم بچوں کی تعلیم کے لیے فکرمند ، انکے روزگار کے لیے فکر مند ، ہم بیٹیوں کے لیے انسان کا بچہ ڈھونڈتے ہوئے لوگ، ہم اپنی ضروریات کا گلا گھونٹتے ہوئے لوگ ، ہم خواہشات کو تو قتل کرتے ہوئے لوگ۔ ہم کرچی کرچی چہرے ہم ریزہ ریزہ لوگ۔
ہم سب ایک دوسرے کی خوشیوں کے قاتل ہیں۔ کسی کے سکون کے دشمن ہیں۔ کسی کی کامیابی کے بدخواہ ہیں۔ اپنی کسی معمولی سی طاقت پر خدا بنے بیٹھے ہیں۔ ہمارے سامنے تو پتھر دل نہیں ٹکتے۔ ہم حساس دلوں کو تو کچا چبا جاتے ہیں۔ یہ ہم لوگ ہیں جو ہم میں سے کسی کو اس حد تک مجبور کردیتے ہیں کہ وہ اپنی جان لے لے۔ جب تک ہم ویسی ذمہ داری دوسروں کے لیے ادا نہیں کریں گے جیسی توقع ہم دوسروں سے اپنے لیے کرتے ہیں ہم سب مل کر ایک دن ہم سب کو مار دیں گے۔