عید کی رات اسلام آباد کی اہم ترین ہاؤسنگ سوسائٹی گلبرگ گرین میں ڈیڑھ گھنٹہ تک دو گروپوں میں زمین کے تنازعہ پر شدید فائرنگ ہوتی رہی ،فائرنگ کی زد میں آ کر ایک راہگیر رہائشی بھی شدید زخمی ہوا جبکہ متعدد رہائشیوں کے مکانوں پر بھی گولیاں لگی،تاہم اسلام آباد پولیس موقع پر نہ آئی ایس ایچ او کرپا سمیت پولیس اہلکار ایک کلو میٹر دور کھڑے ہو کر فائرنگ رکنے کا انتظار کرتے رہے اور فائرنگ رکتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور ایک گروپ کی گاڑی قبضہ میں لے لی گئی ،حیرت انگیز طور پر پولیس نے کسی قسم کی ناکہ بندی بھی نہ کی اور نہ ہی گلبرگ سوسائٹی کے سینکڑوں گارڈ نظر آئے
ذرائع کے مطابق گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ ایک گروپ کی حمایتی ہے جسکی وجہ سے پولیس گلبرگ سوسائٹی سے پوچھے بغیر قدم نہیں اٹھاتی واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھی گلبرگ میں تصادم ہونے سے دو افراد جابحق جبکہ دیگر افراد زخمی ہو چکے ہیں
@PakPMO@MohsinnaqviC42@ICT_Police@dcislamabad@ccislamabad
Today I, being the Chief Executive of Khyber Pakhtunkhwa Province, along with my cabinet and parliamentarians, going to Adiala Jail situated in the province of Punjab to show solidarity with former Prime Minister of Pakistan Mr. Imran Khan.
The federal government has stopped us in Islamabad 26 number chowk. It’s not only an insult of the chief executive but of the 46 Million people of KP.
The federal government has also stopped the Gas of KP. Punjab government has stopped the wheat movement towards KP. All of these acts are against the spirit of federation and the constitution of Pakistan.
Mr. Imran Khan has lost 85% of his eyesight due to the negligence of Adiala Jail’s administration and their handlers. He is not being allowed to meet his legal counsel, family and even personal physician. The federal government is not obeying the court orders and Punjab government is violating the fundamental rights of a political prisoner. Mr. Imran Khan is being treated inhumanely and has been placed in complete solitary confinement since November 2025.
We strongly demand the immediate access of Imran Khan sahb’s family and personal physician to him without any further delay. The state of his health is a matter of serious national concern and any harm caused to him due to negligence or deliberate denial of medical care is the direct responsibility of the federal government, the Punjab police, the administration of Adiala Jail and their handlers. We warn that the nation is watching and history will not forgive those who remain silent or complicit. Justice must prevail and it will prevail!
🚨FINALLY… after digging through records and connecting the dots myself, I identified the woman involved in the jewellery shop raid.
She is reportedly Assistant Director “Rubab Qazi,” (spelled ‘Kazi’ also) wife of bureaucrat Aftab Qazi, while his brother Munsif Qazi is also a bureaucrat. The family belongs to #Sukkur, #Sindh.
Rubab Qazi is originally serving as an Assistant Director at @ECP_Pakistan and is currently posted at @FIA_Agency on deputation. That also explains why her name does not appear on the regular FIA officers’ list.
Despite being visibly present and issuing instructions during the raid, the media and authorities appeared determined to keep her identity hidden.
@soldierspeaks@Parizaad_reborn@Benazir_Shah@reema_omer@Matiullahjan919@AsadAToor@shazbkhanzdaGEO@Mehmal
یہ انداز کسی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سرکاری ملازمین کا نہیں ہے ایسا لگتا ہے ڈاکو دکان میں گھس گئے ہیں ، اصل قصور حکومت کا نہیں ان سرکاری ملازمین کے والدین کا ہے جنہوں نے اپنی اولاد کو عام آدمی سے بات کرنے کی تمیز نہیں سکھائی
اس تصویر میں تھانہ مارگلہ کی حدود ایف نائن پارک میں سادہ موٹر سائیکل پر بیٹھے اسلام آباد پولیس کے اہلکار ایک خاتون اور نوجوان کی چیکنگ کر رہے ہیں ۔۔ پولیس بتا سکتی ہے اس لڑکے اور خاتون سے کیا مشکوک چیز برآمد ہوئی۔۔۔ ؟؟؟؟؟ @ICT_Police
یہ اسلام آباد کی مسجد قبا ہے، آئی ایٹ مرکز جو اسلام آباد کے مصروف ترین مراکز میں سے ایک ہے، وہاں مسجد میں قیلولہ کارنز بنایا گیا ہے، مقصد ہے کہ اگر کوئی شخص چلچلاتی دھوپ میں کچھ دیر سکون کرنا چاہے تو مسجد میں ایک حصہ خاص کیا گیا ہے۔
عمران خان کے جیل میں ایک ہزار دن مکمل !
زمان پارک سے اٹک جیل اور اٹک جیل سے اڈیالہ جیل۔۔
بیوی جیل میں،بہنیں جیل کاٹ چکیں،پارٹی توڑ دی گئی،مینڈیٹ،مخصوص نشستیں،فیر ٹرائل چھین لیا گیا،چھبیسویں،ستائسویں آئینی ترمیمیں،الیکشن ایکٹ،نیب ترمیمیں اور پیکا ایکٹ مطلب سب کچھ عمران فیکٹر کو ختم کرنے کیلئے کر لیا گیا،کردار کشیاں،دو اڑھائی سو مقدمے،قیدِ تنہائی،بیماری،ملاقات پابندی سب کچھ بھگت لیا اور بھگت رہا عمران خان مگر نہ آصف زرداری کا رستہ لیا اور نہ نوازشریف پتلی گلیاں استعمال کیں اور آج بدترین دشمن بھی مان رہے کہ جیل کاٹنے کا حق ادا کر دیا عمران خان نے۔۔
عمران خان کے جیل میں ایک ہزار دن مکمل !
یہ خاتون تحریک تحفظ آئین پاکستان سے تو بہتر ہے ، کم از کم نظام کے جبر پر آواز تو اٹھا رہی ہے ، جہاں بڑے بڑے مکمل خاموش ہو گئے ہیں ، یا اچھی لفاظی کی پریس ریلیزوں کے پیچھے چھپ گئے ہیں ، وہاں یہ خاتون نتائج کی پرواہ کیے بغیر اپنے ضمیر کی آواز بلند کررہی ہے ، حالانکہ اسے نہ تو کوئی ٹکٹ چاہئے اور نہ عہدہ ۔۔۔
*اسلام آباد کی نازیہ آنٹی - برگر والی*
اسلام آباد کے G-9 مرکز میں شام ڈھلے ایک ریڑھی لگتی ہے۔ ریڑھی سادہ سی، مگر صفائی ایسی کہ دل خوش ہو جائے۔ اس کے پیچھے کھڑی ہوتی ہیں 40 سال کی نازیہ آنٹی۔ سر پر سلیقے سے دوپٹہ، ہاتھ میں کفگیر، اور چہرے پر تھکن کے ساتھ ایک عجیب سا سکون۔
*نازیہ آنٹی کی کہانی*
3 سال پہلے نازیہ آنٹی کے شوہر کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ بستر سے لگ گئے۔ دو بیٹے ہیں۔ بڑا 12ویں میں ہے، چھوٹا 8ویں میں۔ گھر کا کرایہ، دوائی، بچوں کی فیس۔ رشتہ داروں نے پہلے مہینے ہمدردی کی، پھر نمبر بدل لیے۔
نازیہ آنٹی نے سلائی سیکھ رکھی تھی، مگر اس سے گزارہ نہیں ہو رہا تھا۔ ایک دن بیٹے نے کہا "امی، آپ کے ہاتھ کے بنے شامی برگر تو پورا محلہ مانگتا ہے۔ کیوں نہ اسٹال لگا لیں؟"
زیور بیچ کر 25 ہزار کا سامان لیا۔ ریڑھی پرانی لی، خود رنگ کیا۔ پہلے دن صرف 6 برگر بکے۔ آنٹی رات کو چھپ کر روئیں۔ مگر ہمت نہیں ہاری۔
آج نازیہ آنٹی روز 80 سے 100 برگر بیچتی ہیں۔ 120 کا سنگل، 200 کا ڈبل پیٹی۔ ساتھ خود بنائی ہوئی چٹنی فری دیتی ہیں۔ کہتی ہیں "بیٹا، نفع کم سہی پر برکت ہو۔ کسی کو دھوکہ نہیں دینا۔"
*ہم کیا کر سکتے ہیں؟*
1. *جب بھی ادھر سے گزرو*: G-9 مرکز، میٹرو اسٹیشن کے پاس شام 5 سے رات 11 تک۔ ایک برگر ہی سہی، خرید لو۔
2. *عزت دو*: آنٹی کو 'باجی' یا 'آنٹی' کہہ کر بلاؤ۔ ریڑھی والوں کو بھی سیلفی کا حق ہے، تمسخر کا نہیں۔
3. *آگے بتاؤ*: اپنے دوستوں کو لے کر جاؤ۔ واٹس ایپ اسٹیٹس لگا دو۔ ایک کسٹمر سے دس بنتے ہیں۔
4. *ادھار نہیں، ایڈوانس*: کبھی آنٹی کو پیسے کم لگ رہے ہوں تو کہہ دو "آنٹی کل کے پیسے آج ہی لے لیں۔"
*سبق*: نازیہ آنٹی جیسی ہزاروں مائیں اس شہر میں اپنی عزت بیچے بغیر محنت کر رہی ہیں۔ KFC اور McDonald's تو روز جا سکتے ہو۔ مہینے میں ایک دن نازیہ آنٹی کا برگر کھا لو۔ یقین کرو، ذائقے میں محنت اور دعا دونوں ہوں گی۔
برگر 120 کا ہے، پر جو دعا آنٹی دیتی ہیں وہ انمول ہے۔
*ایسے لوگوں کی مدد کریں۔ یہی اصل صدقہ ہے۔*
کوئٹہ میں نکاح کی ایک تقریب کا دلچسپ واقعہ
ایک شادی کی تقریب میں حق مہر کے لیے 5 سے 8 لاکھ روپے اور 5 تولے سونے کی بات ہو رہی تھی۔
سسر نے اپنے داماد کو ساتھ والی کرسی پر بلا کر سرگوشی میں پوچھا، "بیٹا، آپ کتنا مہر آسانی سے دے سکتے ہیں؟"
داماد نے جواب دیا، "آپ لوگ جو مقرر کریں، منظور ہے، لیکن زیادہ سے زیادہ کوشش کروں تو دو لاکھ دے سکتا ہوں۔"
سسر نے نکاح خواں سے کہا، "مہر ایک لاکھ ہوگا۔"
پھر سسر نے سونے کے بارے میں پوچھا۔
داماد نے کہا، "میں دو تولے بنا چکا ہوں، تین اور بنا لوں گا۔"
سسر نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے اعلان کیا، "سونا دو تولے ہوگا۔"
یہ سن کر تمام عزیز و اقارب ناراض ہوئے اور کہنے لگے کہ اتنے کم مہر اور سونے پر بات کیوں ختم کی؟
سسر نے وضاحت کی، "آج اگر میں اس سے کوئی بھی ڈیمانڈ کروں، یہ مجبوراً پوری کرے گا۔ لیکن بعد میں میری بیٹی کو جو پوری روٹی ملے گی، وہ آدھی ہو جائے گی، کیونکہ یہ قرض لے کر یہ ڈیمانڈز پوری کرے گا۔ میں چاہتا ہوں کہ میری بیٹی بعد میں آرام اور خوشی سے رہے۔"
اس شادی کو 15 سال گزر چکے ہیں۔ وہ داماد اپنی بیوی کا بہت خیال رکھتا ہے اور سسر کی خود سے بھی زیادہ عزت کرتا ہے۔ یہ واقعہ کوئٹہ کا ہے۔
تاحیات استثنیٰ کے ذریعے خود کو انتہائی بااختیار سمجھنے والے عاصم منیر کی شکل پر ناکامی ، مایوسی تاحیات لکھی جا چکی ہے ۔ یہ جتنا مرضی طاقتور ہو جائے جتنی مرضی آئین و قانون میں اپنے لیے ترامیم کروا لے، صدر بن جائے امریکہ میں جتنی مرضی لابنگ کروا لے قدرت نے اسکے حصے میں ہمیشہ کے لیے شکست خوردہ رہنا لکھا دیا ہے ۔ یہ عمران خان کے سامنے بونا ہی رہے گا۔