مشال یوسفزئی نے، پاکستان تحریکِ انصاف سے پیسے لے کر بیانیہ بنانے والے تمام ’’صدیقوں‘‘ کو ننگا کر دیا ہے؛ جو پیسے لیکر ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر بیٹھ کر تحریکِ انصاف کے لیے بیانیہ بنانے کے لیے!
اسد قیصر کتنا بڑا دو نمبر نوسرباز کرپٹ آدمی ھے پہلے اربوں روپے کرپشن کرکے بیرون ملک بھجوائے پھر وھاں گھر خریدا ،خاندان کو باھر بھیجا اور اب بھی بھائی کو وزیر آعلی بنوانے کے چکر میں تھا۔
اقوامِ متحدہ کے مشن پر تعینات بھارتی فوج کے ایک کیپٹن کو خواتین افسران کی خفیہ طور پر ویڈیوز بنانے اور انہیں آن لائن فلم بند کرنے کے غیر اخلاقی عمل کے الزام میں عہدے سے ہٹا کر ملک بدر کر دیا گیا۔
شیر افضل مروت کا بڑا بیان🚨🚨🚨
👇👇👇👇
مراد سعید نے علی امین کو ہٹوایا، سہیل آفریدی کو وزیراعلی بنوایا۔۔ بشری بی بی کی بیٹی کے زریعے بشری بی بی اور پھر بشری بی بی کے زریعے عمران خان سے فیصلہ کروایا گیا۔۔ عمران خان سہیل آفریدی کو جانتے بھی نہیں تھے۔ صوبائی حکومت کے سب فیصلے مراد سعید کرتے تھے۔
@sherafzalmarwat
#FaislaAapKa TEAM | Hum News
جس طرح جمائما خان نے اپنے ٹویٹ میں ایک بچی کو اپنی سوتیلی بیٹی کہہ کر مخاطب کیا اور اس بچی نے اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اپنا سر نیم خان لکھا اگر ایسا سچ کسی اور پارٹی کا سامنے آتا تو PTI باجماعت اس پر میڈیا ٹاکس کرتی اور ٹالک شوز کا موضوع بھی یہی ہوتا کہ فلاں کو نااہل کرو وہ صادق و امین نہیں رہا وغیرہ مگر نون کے سوشل میڈیا آفیشل پیجز پر اس حوالے سے کوئی ایک پوسٹ دکھا دیں ؟؟؟
مریم نواز کی حکومت نے کچے کے علاقے کو کلیئر کیا،وہاں اب اسکول کالج بحال ہوئے ہیں،کیا مریم نواز مرکز کا انتظار کرتی کہ ان کا کام ہے؟ مرکزصوبے کے بغیر تو دہشتگردی کے خلاف نہیں لڑسکتا،سہیل آفریدی اور مراد سعید کیمپ ہی تباہی کا ذمہ دار ہے
یہ وہ بیشرم ہے جو کہتا تھا لانگ مارچ کے بعد قیامت آ جائے گی
اب کہہ رہا پختونخوا حکومت کے 90 فیصد لوگ لانگ مارچ کے حق میں نہیں تھے
دیکھنا خان جب آئے گا ان سب کو پارٹی سے نکال دے گا😂
🚨 آواران | کولواہ کے رہائشی مھیم ولد بچ در کا اپنے بڑے بھائی سے لاتعلقی کا اعلان
مھیم ولد بچ در، سکنہ کولواہ، ضلع آواران، نے اپنے بڑے بھائی سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔
#Awaran#Balochistan#Kohluwah
یہ بھی فرانس کی اک تصویر ہے!
کل فرانس میں ہونے والے مظاہروں کے دوران جو لوٹ مار ہوئی اور جو مناظر سامنے آئے، ان میں یہ ایک تصویر بھی ہے، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ تصویر کے ساتھ شیئر کی جانے والی کہانی کے مطابق، دائیں جانب ایک فرانسیسی خاتون ہے، جو مظاہروں کے دوران ایک شاپنگ مال سے چوری کیے گئے کپڑوں کے ساتھ باہر نکل رہی ہے، جبکہ بائیں جانب اس کا عرب مسلمان شوہر اسے اس حرکت پر ڈانٹ رہا ہے اور لوٹے گئے کپڑے واپس مال کی طرف لے جا رہا ہے۔
اپنے ذہنوں سے گوروں کی برتری کا تصور نکال باہر کریں! اخلاقیات یورپ کی ایجاد نہیں اور پسماندگی مسلمانوں کی پہچان نہیں! مغربی معاشروں کی ترقی اور سائنسی کامیابیوں سے انکار نہیں، لیکن یہ سمجھ لینا کہ ہر گورا مہذب اور ہر مسلمان پسماندہ ہے، محض ایک تعصب ہے۔ چوری، بددیانتی اور لوٹ مار کسی بھی معاشرے میں ہو سکتی ہے، جبکہ سچائی، دیانت داری اور اچھا کردار کسی بھی قوم کے انسان میں پایا جا سکتا ہے۔
اسلام نے صدیاں پہلے امانت، دیانت، عدل اور دوسروں کے حقوق کی پاس داری کی تعلیم دی۔ کسی مسلمان کا کردار اس وقت قابل تعریف ہے جب وہ ان تعلیمات پر عمل کرے اور کسی غیر مسلم کا اچھا کردار بھی اپنی جگہ قابل قدر ہے۔ انسان کی عظمت کا معیار اس کی رنگت، قومیت یا زبان نہیں، بلکہ اس کا کردار اور اخلاق ہیں۔
لیکن پروپیگنڈے کے زور پر یہی باور کرایا جاتا ہے کہ ہر خوبی سے اہل مغرب کا دامن مزین اور مشرقی باشندے ہر خیر وخوبی سے تہی دست۔ یہ مناظر اب اس پروپیگنڈے کے غبارے سے ہوا نکال چکے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل سے عوام کے بجائے پی ٹی آئی رہنماؤں اور رشتہ داروں نے فائدے اٹھائے : شمالی وزیرستان کی شہریوں کا انکشاف #دستار_کے_ہر_تار_کی_تحقیق_لازم
پورے خیبر پختونخوا اور بالخصوص شمالی وزیرستان میں معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہونے کے باوجود پسماندگی ختم نہ ہو سکی؛ پی ٹی آئی قیادت نے وفاق پر الزام تراشی کرتے ہوئے تمام اہم ٹھیکے اپنے بیٹوں، بھتیجوں اور رشتہ داروں میں تقسیم کیے۔
پی ٹی آئی کا معدنیات وفاق کے پاس ہونے کا دعویٰ جھوٹا تھا، تمام ٹھیکے من پسند افراد کے پاس رہے
شمالی وزیرستان اور دیگر اضلاع کے قیمتی معدنی وسائل وفاقی حکومت نہیں لے کر گئی بلکہ سابق حکمران جماعت نے آپس میں بانٹے۔
پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد اب امید ہے کہ ان وسائل کا حقیقی فائدہ وزیرستان کے عوام کو پہنچے گا۔
وزیرستان میں ترقیاتی کام ٹھیکیداروں اور پی ٹی آئی مشران کی مبینہ کرپشن اور کمیشن خوری کے باعث رکے
ترقیاتی منصوبوں کی رقم ٹھیکیداروں کی جیبوں میں جانے اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے حصہ وصول کرنے پر کاموں پر پابندی لگی؛ موجودہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد اب بند شدہ ترقیاتی کاموں کو بلا تاخیر بحال کیا جائے۔
سابقہ حکومت کے خاتمے کے بعد خیبر پختونخوا کے پسماندہ علاقوں کو ان کے جائز حقوق دینے کا مطالبہ
پی ٹی آئی دور میں معدنیات کے ٹھیکوں کی بندر بانٹ اور ترقیاتی فنڈز کی غیر شفافیت کے باعث وزیرستان کا شدید نقصان ہوا
اب عوام کا حق انہیں واپس دلانے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کا مطالبہ۔
یہ درگاہوں کے گدی نشین اور پیر اپنوں سے بھی رنگ بازی کرتے ھیں ۔ یہ مزار وں کی گدیاں نہیں فرنچائز ھیں۔ چند سال پہلے گدی کے نذرانوں اور پہ عین مزار کے اندر آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ سوشل میڈیا پہ سارا جھگڑا چڑھا ھوا تھا۔ انکا شجرہ اس کتاب میں چیک کریں گدی کے ساتھ انکا کیا رشتہ ھے یا گدی نشینوں کے مزراروں دفن بزرگوں اور اولیاء اللہ کے ساتھ انکا کوئ تعلق ھے یا نہیں ۔ 1857 کی جنگ آزادی میں انہوں آزادی کے متوالوں کا ملتان میں قتل عام کیا اور جاگیریں حاصل کیں.
بندہ جیل میں اکاؤنٹ امریکہ میں- کیا حسن اتفاق ہے یہ؟؟ ‼️‼️
🔺تاریک انتشار کی مرکزی قیادت اسوقت سب پاکستان میں یا جیل میں ہے لیکن اس کا آفیشل ہینڈل اور لیڈر کا اکاؤنٹ آج بھی بلا ناغہ امریکہ سے چل رہا ہے۔ اسی طرح مراد سعید جو افغانستان ہے اور دوسرے لیڈران ان کے اکاؤنٹ بھی امریکہ اور یورپ سے چل رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ بندے کو پتہ ہی نہیں اور اس کا اکاؤنٹ چلے؟
پارٹی کی لیڈرشپ سے جب سوال ہو #WhoRunsPTISocialMedia تو وہ کہے ہمیں پتہ ہی نہیں کہ اکاؤنٹ کس کے پاس ہے اور کیسے چل رہا ہے۔
بات صاف اور کلئیر ہے گولڈسمت کو جب اپنا پراجیکٹ ڈوبتا نظر آیا تو اس نے تمام ڈوریں اپنے قبضے میں کر لیں ہیں۔ اب پاکستان کی لیڈرشپ وہ گڑیا ہے جس کی جان طوطے میں اور طوطا یعنی سوشل میڈیا کا کنٹرول صہیونی طاقتوں کے پاس۔
یہی وہ طاقتیں ہیں جنہوں نے پراجیکٹ ڈوبنے کی پادا۔ میں اپنے مہروں سے وہ کام کروائے کہ اب سب کے سب یا جیل میں ہیں یا مفرور‼️‼️
سن لیں۔ مینگورہ ھے۔
بندہ پہلے کلمے کی قسم کھا کے کہہ رہا ھے، سوات میں خوشیاں ہی خوشیاں ہیں۔روشنیاں ہی روشنیاں ہیں۔
مگر ساتھ میں کہا کہ ہر بندہ کہہ رہا ھے ان ڈاکوو ں چوروں چرسیوں سے پائ پائ کا حساب لینا ھے۔
یہ قطرہ قطرہ دریا بنے گا۔ انشاءاللہ۔
اور یہ محمد زئ کا وعدہ ھے، اپنے مرنے سے پہلے ایک وہ دن دریا بھی ضرور دکھائوں گا۔
پی ٹی آئی کی ابلاغی دو نمبری رنگے ہاتھوں پکڑی گئی...!
10 ملین فالورز کا ڈھونگ رچانے والوں کے ویوز ایک لاکھ بھی نہیں آتے؟ اسے کہتے ہیں "Computational Propaganda"جہاں بوٹس اور جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے شہرت کا جھوٹا تاثر بنایا جاتا ہے۔ جھوٹ اور فریب کی اس سیاست پر کروڑ بار لعنت، ویڈیو دیکھیں اور ان کا فراڈ سمجھیں..
فرانس کے احتجاج کی فوٹیج دکھاتے ہوئے پاکستانی میڈیا کو حقائق کی تصدیق کرنی چاہیے۔ محض یہ کہنا کہ ’’گولی کوئی نہیں چلی‘‘ مکمل تصویر نہیں۔ پُرامن احتجاج حق ہے، مگر لوٹ مار، جلاؤ گھیراؤ اور تاریخی عمارتوں کو نقصان پہنچانے کی حمایت کہیں بھی نہیں ہونی چاہیے۔
یقین مانیں کہ میڈیا کا زوال یونہی نہیں ہوا۔۔
اک ادارے میں اتنے سال تک بیوروچیف رہنے کے باوجود جب آپ کو شہید کے فرق کا ہی معلوم نہ ہو تو ماتم ہی کیا جاسکتا تھا۔۔۔
میڈم اب ریٹنگ کیلئے بے تکی گفتگو اور سوال پوچھتی جاتی ہیں
اللہ انکے حال پر رحم فرمائے۔ آمین