1937 میں انگلینڈ میں چیلسی اور چارلٹن کے مابین فٹ بال کا لیگ میچ کھیلا گیا اور میچ کو 60 ویں منٹ میں شدید دُھند کی وجہ سے روک لیا گیا،
لیکن چارلٹن ٹیم کے گول کیپر سیمے بارٹرم کھیل کو روکنے کے 15 منٹ بعد بھی گول کے سامنے موجود رہے کیونکہ اُس نے اپنے گول پوسٹ کے پیچھے ہُجوم کی وجہ سے ریفری کی سیٹی نہیں سنی تھی، وہ اپنے بازوؤں کو پھیلائے ہوئے اور اپنی توجہ مرکوز کر کے گول پوسٹ پر کھڑا رہا، غور سے آگے دیکھتا رہا اور پندرہ منٹ بعد جب سٹیڈیم کا سیکورٹی عملہ اُس کے پاس پہنچا اور اُسے اطلاع دی کہ میچ منسوخ کردیا گیا ہے تو سیمے بارٹرم نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا،
”کتنے افسوس کی بات ہے کہ جِن کے دفاع کے لیئے میں کھڑا ہوا تھا وہ مُجھے ہی بُھول گئے 😰“
زندگی کے میدان میں کتنے ہی ایسے ساتھی موجود ہوتے ہیں جن کے مفادات کے دفاع کیلیئے ہم نے اپنا وقت، صلاحیت اور توانائی صرف کی ہوتی ہیں لیکن حالات کی دُھند میں وہ ہمیں بھول جاتے ہیں،
رشتے دار، دوست اور ساتھی چاہے کھیل کے میدان کے ہوں یا زندگی کے حالات و واقعات کے سرد اور گرم میں ایک اعلٰی ظرف انسان کی طرح ہمیشہ اُنہیں یاد رکھ کر ساتھ لے کر چلنا چاہیئے
Indian team b gali k un bachoon jaise hai jo khud to batting ly laite hain lkn dusri team ki dafa bhaag jate hain.
#PAKvIND#Pallekele#INDvPAK#AsiaCup2023
Do you have friends who want to see you succeed? The ones who will clap for you when no one else will. The ones who motivate and encourage you to be a better version of yourself. The ones who are happy for you; not the ones who are jealous and plotting against you.
"maine kabhi khud ko iss khush-fehmi mein nahin rakha ki meri kami kisi ko udaas karegi, logon ko log mil hi jatey hain, kabhi badtar se behtar aur kabhi behtar se behtareen"
Emergency 🚨 SOS
سیالکوٹ میں میرا گھر، فیکٹری، کاروبار مکمل سیل کر دیا گیا ہے، جناح ہاوس سمیت ہر قسم کی پراپرٹی کو سیل کرکے میری بوڑھی والدہ، اہل خانہ اور بچوں کو گھر سے نکال دیا گیا ہے، میرے گھر کی پردہ دار خواتین اور بچوں کو گھر سے نکال کر سڑک پر چھوڑ دیا گیا ہے، میری بیوہ ماں، اہلیہ اور بہنوں کو زبردستی گھر سے نکال کر میرا اور میرے خاندان کا مکمل کاروبار سیل کر دیا گیا ہے، کم از کم ڈھائی ہزار افراد فیکٹریوں میں کاروبار کرتے ہیں، جن پراپرٹیز کو سیل کیا گیا ہے وہ میرے اکیلے کی ملکیت نہیں ہیں، ظالم ظلم اور بربریت کی اُس سطح تک گِر چکا ہے جو ناقابل بیان ہے، ریاستی مشنری پوری قوت سے میرے خاندان پر ٹوٹ پڑی ہے، ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کے سر سے چادر چار دیواری کھینچنے والے اللہ کے انصاف سے ڈریں، آزاد ملک میں ہم سے جینے کا رہنے کا حق چھین لیا گیا ہے، جعلی مقدمات بنا کر انتقامی کاروائی کیلئے اپنی ہی سر زمین پر اشتہاری بنا دیا گیا ہے، محب وطن پاکستانیوں سے دہشتگردوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے، میں اللہ کے حضور اپنی والدہ کی مسلسل تضحیک کرنے والوں کا انصاف مانگتا ہوں۔ اعلی عدلیہ سے اپیل کرتا ہوں اس بربریت کا فوری اور بلا تاخیر نوٹس لیا جائے، میں ہر سطح پر قانون کا سامنا کرنے اور عدالتوں کے سامنے پیش ہونے کیلئے تیار ہوں لیکن اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ میرے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہوگا؟ قانون اور اداروں کا احترام کرتا ہوں لیکن قانون پر عملدرآمد کون کروائے گا؟ معزز ججز کے حالیہ فیصلے چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ انتقامی کاروائی کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا ہے۔