#Balochistan
If a person associated with State has to say this then it shows those deciding fate of this place have lost the plot.
I may not see eye to on everything said but needs to be heard.
They listen to Sarfaraz, Anwar ul Haque
Piece by @KaleemImam
https://t.co/uPhCDgBtJQ
ڈاکٹر ماہ رنگ اور صبغت اللہ بلوچ کی عمر قید کے خلاف دائر اپیلیں سماعت کے لیے منظور کر لی گئی ہیں۔ اپیلوں میں کیا موقف اختیار کیا گیا؟
جانیے: https://t.co/HsKYQacbYg
on #July15th1960and to Nawab Nauroz Khan who died as a prisoner on 25th December 1965 in Hyderabad, Sindh.
They symbolize the determination to not to bow to unjust and brutal assaults on their freedom and to resist regardless of the price that has to be paid for this honourable
جب آپ لوگوں کے ہجوم سے مختلف سوچیں گے تو وہ آپ سے نفرت کریں گے وہ اس لیے نہیں کہ آپ مختلف ہیں بلکہ اس لیے کہ آپ جرات مند ہیں اختلاف رکھنے کا ہمت رکھتے ہیں ۔
وقتی پروگرسیو پنجابی، ریاستی باریک وارداتیا |
ایسے وارداتیوں کی ماضی اور حال میں بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ پہلے یہ بلوچ یا پشتون طلبہ اور پروگریسو حلقوں میں جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں
انہیں لگتا ہے کہ بلوچ طلبہ اندھے بھگت ہیں، جو ان کی صف کھڑے کی ہر بات بلا سوچے سمجھے مان لیں گے۔
اسی موصوف سید مزمل شاہ کا پروگرام بڑے غور سے سنا، اور سننے کے بعد ہی یہ تجزیہ پیش کر رہا ہوں۔
دیکھیے یہ کس باریک واردات کے ساتھ نسل کشی، جبری گمشدگی، ترقی نہ ہونے، دہشت گردانہ حملوں، سینکڑوں شہریوں کے قاتل شفیق مینگل پر حملے جیسے معاملات کو کس طرح سوفٹ پروپیگنڈا بنا کر ریاستی بیانیہ آگے بڑھا رہا ہے۔
بظاہر تو صرف خبر دی جا رہی ہوتی ہے، مگر اسی خبر کے اندر ریاستی بیانیہ نہایت باریک انداز میں شامل کر کے پیش کیا جاتا ہے۔
موصوف کہتے ہیں کہ بلوچستان میں بی ایل اے سویلینز پر حملے کر رہی ہے، جس کی تازہ مثال شفیق مینگل ہے۔ پھر بتاتے ہیں کہ شفیق مینگل وفاقی وزیر کا بیٹا ہے اور اس نے مسلح تنظیموں کے خلاف تنظیم بنائی تھی، اس لیے اس پر حملہ ہوا۔ مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ شفیق مینگل پر سانحہ صفورہ، سیہون شریف دھماکہ، شکارپور دھماکہ، توتک کی اجتماعی قبریں اور داعش سے متعلق کیا کیا الزامات لگتے رہے ہیں۔ نہیں، وہ صرف "وفاقی وزیر کا بیٹا" اور "سیاستدان" ہے، اس لیے حملہ ہوا۔
اسی دوران مستونگ میں مارے گئے عیسئی برادری کے دو نوجوانوں کا ذکر بھی کیا جاتا ہے، مگر ایسے انداز میں کہ سننے والے کو یہی تاثر ملے کہ انہیں بی ایل اے نے قتل کیا۔ یہاں داعش کا نام نہیں لیا جائے گا۔ خبر ہی خبر میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ بی ایل اے یا بلوچ آزادی پسند ہر واقعے میں ملوث ہیں۔
پھر اچانک انڈیا اور افغانستان والا بیانیہ شامل کیا جاتا ہے، اور آخر میں کہا جاتا ہے کہ "یہ میں نہیں کہہ رہا، پرسوں آرمی چیف کہہ رہے تھے۔"
اس کے بعد آرمی چیف کا کلپ چلایا جاتا ہے، جس میں کہا جاتا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں ہمیں کسی قسم کے "ریشنل رسپانس" کا نہ کہیں، ہم ہر حد تک جائیں گے، اور اس میں کولیٹرل ڈیمیج بھی ہوگا، یعنی عام شہری بھی متاثر ہوں گے۔ ریشنل رسپانس کا مطلب عام شہریوں کی جانوں کا خیال رکھتے ہوئے صرف شدت پسندوں کو نشانہ بنانا ہوتا ہے، مگر جناب سید مزمل شاہ اسی بیان کو اپنے پروگرام کا حصہ بنا کر انڈورس کرتے ہیں۔
پھر کہتے ہیں کہ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے حملوں میں 42 لوگ مارے گئے، اور بیلہ میں بھی 11 لوگ مارے گئے۔ مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ وہ لوگ کون تھے؟ وہ فوجی تھے، جو آپریشن میں مارے گئے تھے۔ اتنی بددیانتی کیوں؟
کراچی میں ایک فیملی کے قتل کو بھی مسلح افراد پر ڈالا جا رہا ہے، جبکہ حقائق واضح ہیں کہ وہ لوگ فوجی اہلکاروں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ ابتدا میں یہی بات فوجی بیانیے نے بھی تسلیم کی، مگر بعد میں انہی اکاؤنٹس نے الزام مسلح افراد پر ڈالنا شروع کر دیا، اور آج سید مزمل شاہ اسی بیانیے کو آگے بڑھا رہے ہیں کہ چھوٹی بچیوں کے باپ کو بی ایل اے نے مار ڈالا۔
دوسرا نکتہ ہنہ اور منگی ڈیم حملہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سرفراز بگٹی بغیر بلٹ پروف گاڑی کے وہاں پہنچا، عیادت کی، سرفراز لیڈر ہے، سرفراز بہادر ہے۔
موصوف یہ نہیں بتائیں گے کہ جنگ زدہ علاقے میں فوج کہاں تھی؟ حملے کے خطرے کے باوجود پولیس کو آدھی رات بغیر ہتھیار کے وہاں تعینات کس نے کیا؟ یہ پلان کیسے بنایا گیا؟ کیا پولیس کے مارے جانے اور بعد میں ایک مخصوص بیانیہ بنانے کی بنیاد پہلے سے رکھی گئی تھی؟
"سرفراز بگٹی بغیر بلٹ پروف گاڑی گیا، حالات نارمل ہو گئے" یہی وہ بیانیہ ہے جو چند دن پہلے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے سوشل میڈیا پر بوسٹ کیا گیا، اور پھر سید مزمل شاہ نے اسے اپنے پروگرام میں پینٹ کر کے پیش کر دیا۔
پھر کہا جاتا ہے کہ بلوچستان میں 70 سال سے ترقیاتی کام اس لیے نہیں ہو سکا کیونکہ جہاں کام ہوگا وہاں مسائل آ جائیں گے۔
سوال یہ ہے کہ بزور طاقت ملٹری چیک پوسٹس بن سکتی ہیں، FWO کے منصوبے مکمل ہو سکتے ہیں، مگر عام ٹھیکیدار کو دیا گیا منصوبہ کیوں ناکام ہو جاتا ہے؟
70 سال تو دور کی بات، کیا صرف پانچ سال پہلے حالات اتنے خراب تھے؟ پانچ سال پہلے بنایا گیا انفراسٹرکچر آج کہاں ہے؟
یہی وہ بددیانتی ہے، جس کے ذریعے ایک پنجابی چند سال تک خود کو انقلابی ظاہر کرتا ہے، صفوں میں جگہ بناتا ہے، اور پھر اپنے اصل رنگ میں آکر فوجی بیانیے کا چینل بن جاتا ہے۔
مگر بلوچ اندھے بھگت نہیں ہیں۔ آپ اپنے پنجابیوں کی ذہن سازی کریں، جو بلوچوں کو وحشی سمجھیں اور روزِ محشر تک ریاستی بیانیہ سن کر ان کے خلاف ہوتے رہیں۔ بلوچستان یا اس کی تحریکوں پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ یہ تحریکیں پنجابیوں کی منظوری پر نہیں چل رہیں۔
وسلام،
سید مزمل فوجیتہ۔
#Balochistan
#BalochistanFacts
Op-ed:
"Whenever the level of violence decreases, the government claims victory over terrorism. But when violence increases, it puts all the blame on external factors."
https://t.co/86KbwxPJsv
Sit-ins continue in both Ziarat and Quetta, where families are demanding justice for the victims of the Ziarat attack.
May we never become so accustomed to scenes like these that they no longer break our hearts.
#JusticeForZiaratMartyrs#StopBalochandPashtunGenocide
انسانی تہذیب کی ہر بڑی کامیابی کے پیچھے کہیں نہ کہیں ظلم، استحصال، جنگ، یا کسی کمزور طبقے کی قربانی بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس لیے تہذیب کی ہر یادگار اپنے اندر بربریت کی ایک کہانی بھی سموئے ہوئے ہے۔
TTP has occupied mountains north of Quetta. State has propped up mercenaries, mostly ex-Afghan army men, to fight them.
Both are attacking local villages, with state nowhere. Dozen ppl martyred only last week. 3rd Dharna in Qta in a week.
This is “good Taliban” repackaged.
Read, learn,understand how a revolutionary faces #SolitaryConfinement and the lessons she acquires from it.
Read it to understand what @MahrangBaloch_ is in her own words in an interview to @Akbar_notezai
The state is mistaken if it thinks it can cow her.
https://t.co/An8ShPdFqg
The Shame
"If You Read This and Do Nothing, You Are the Verdict"
You have read about the July 27 attack.
You have seen the videos of Frontier Corps firing.
You have learned about the life sentences.
You know about the faceless trials.
And you will close this post.
You will scroll to a meme.
You will laugh at a joke.
You will sleep in your bed.
While Dr. Mahrang Baloch sleeps on a prison floor.
While Sibghatullah Shah jee counts bars instead of stars.
While mothers in Balochistan wonder if their sons are in graves or torture cells.
Your comfort is built on their suffering.
Your silence is purchased with their blood.
Your peace is just the absence of their screams in your ears.
If you read this and do nothing
if you share nothing
if you feel nothing
then you are not a citizen.
You are not a human.
You are the Anti-Terrorism Court.
You are the life sentence.
You are the violence.
And history will remember you
exactly as you deserve.
#ReleaseBYCLeaders
#IStandWithBYCLeaders
ہاتھ انصاف کےچوروں کابھی کیامیں کاٹوں
جرم قانون کرے، اور سزا میں کاٹوں
تیرے ہاتھوں میں ہے تلوار مرے پاس قلم
بول سر ظلم کا تو کاٹے گا یا میں کاٹوں
#ReleaseDrMahrangBaloch#ReleaseBYCLeaders
Mahrang Baloch’s detailed interview from her prison cell.
“Dr Mahrang Baloch’s prison reads: the books that have inspired her.”
https://t.co/INle8bDvwh
In August 2020, KU student Hayat Baloch was shot eight times by FC personnel in front of his parents in Turbat. The next day, his family was told ‘sorry, woh FC wala pagal tha.’ His mother never recovered her senses. Bugti sahb, can you tell us what happened to that FC officer?