الحمد للہ مدارس رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیمی بل مدارس دینیہ کے مطالبے کےمطابق گزٹ ہوگیا اللہ تعالیٰ اسکو مبارک فرمائیں آمین اس سلسلے میں حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مد ظلہم کی مضبوط اور اصولی حکمت عملی اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کے متفقہ موقف اور سینیٹر کامران مرتضیٰ صاحب کی جدوجہد قابل صد مبارکباد ہے پوری قوم کو مبارک ھو اسکے نتائج بہترین ہوں اور صوبوں کو بھی اسکے مطابق قانون سازی کی توفیق عطا ہو اس موقع پر حکومت نے جس معاملہ فہمی سے کام لیا وہ بھی قابل تعریف ہے
دینی مدارس کے رجسٹریشن کے حوالے سے جو بحث چل رہی ہے اس سلسلے میں کچھ نکات میں وضاحت کے لیے عرض کرنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہماری جو شکایت ہے وہ صرف ایوان صدر سے اور صدر مملکت سے ہے نہ کسی مدرسے سے ہے نہ مدرسوں کی کسی تنظیم سے ہے نہ ان سے وابستہ علمائے کرام سے ہے بلا وجہ خلط بحث کیا گیا، معاملے کو ایسا گمبھیر کیا گیا کہ اچھے بھلے دانشور لوگ بھی حیران ہیں کہ یہ مسئلہ کیا ہے۔ مسئلہ دو جمع دو چار کی طرح سادہ ہے، اسے غیر ضروری طور پر گمبھیر بنانا اس میں کیا فائدہ ہے ان لوگوں کو جنہوں نے ایسے حرکت کی، مجھے سمجھ میں نہیں آرہی۔ دینی مدارس کے رجسٹریشن کے حوالے سے یا ان کی بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے حکومت نے ڈرافٹ تیار کیا جب 26 ویں آئینی ترمیم پر گفتگو چل رہی تھی اس دوران اسی بل پر گفتگو چل رہی تھی اور ہم نے ڈیمانڈ کیا تھا کہ الیکشن سے پہلے میاں شہباز شریف صاحب کی حکومت میں جو ڈرافٹ اسمبلی میں لایا گیا تھا اور پاس نہیں ہو سکا تھا اسے بھی پاس کیا جائے۔ چنانچہ پہلے سینٹ میں آیا اور اتفاق رائے سے پاس کر دیا گیا۔ اس کے بعد قوم اسمبلی میں آیا اور یہ کاروا��ی 20 اور 21 اکتوبر کو صبح تک مکمل ہو گئی۔ جب آئینی ترمیم پر بھی دستخط ہو گئے تو پھر اس بل پر دستخط کیوں روکے گئے۔
یہاں میں دو باتیں کرنا چاہتا ہوں پہلی بات یہ کہ سیاسی جماعتیں جس میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین جس کے سربراہ خود جناب آصف علی زرداری صاحب ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب بلاول بھٹو صاحب جہاں اسلام آباد میں باتیں ہوتی رہیں وہاں میں خود بلاول ہاؤس کراچی گیا وہاں پانچ گھنٹے ان سے بات چیت ہوئی۔ وہاں سے ہم لاہور آئے رائیونڈ میں میاں نواز شریف صاحب کے گھر پر آصف علی زرداری صاحب کی موجودگی میں بلاول بھٹو صاحب کی موجودگی میں میاں شہباز شریف صاحب کی موجودگی میں ہم نے ان تمام چیزوں پر اتفاق رائے کیا۔ وزارت قانون نے اس کا ڈرافٹ تیار کیا اور ہم نے اس ڈرافٹ کو قبول کر لیا۔ جس ڈرافٹ کی تیاری میں حکومت کی طرف سے پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی دونوں شریک تھی اور ہم نے انہی کے ڈرافٹ کو تسلیم کیا اور قبول کیا ہے اس کے بعد آصف علی زرداری صاحب کو اس پر اعتراض کرنے کی کیا گنجائش تھی۔ ایک بات، دوسری بات یہ کہ یہ سب کچھ جو ہو رہا تھا کیا ریاستی ادارے اس میں انگیج نہیں تھے۔ کیا وہ پل پل کی صورتحال میں اپنا ان فٹ نہیں دے رہے تھے۔ کیا اس تمام تر مراحل میں وہ شریک نہیں تھے۔ اور ایک ایک لفظ چاہے 26ویں آئینی ترمیم کا ہو یا دینی مدارس کے حوالے سے اس بل کا ہو کہ سوسائٹی ایکٹ کے تحت یعنی سن 1860 کی سوسائٹی ایکٹ کے تحت اس میں ترمیم کی گئی اور ترمیم کے ساتھ اس کو ہ�� نے قبول کیا اور وہ پاس ہو گیا۔ اب جن لوگوں نے ہمارے ہی ان علماء کرام کو یا ہماری وہ مدارس کی تنظیمیں جو وزارت تعلیم کے ڈائریکٹریٹ جنرل سے وابستہ رجسٹریشن کر رہے ہیں یا کر چکے ہیں اس کا سارا نزلہ ہم پر کیوں گر رہا ہے۔ وفاق المدارس اور اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے ساتھ تنازعہ کیوں اٹھا رہے ہیں۔ ہمارا تو ان سے جھگڑا ہی نہیں ہے اور جنہوں نے ڈرافٹ تیار کیا ان کے کہنے پر آکر وہ شور و غوغا کر رہے ہیں اور وزارت تعلیم سے وابستہ ہو جائیں یا سوسائٹی ایکٹ سے وابستہ ہو جائیں نیا سوال اٹھا لیا انہوں نے، الیکشن سے پہلے بھی اگر ڈرافٹ تیار ہوا تھا تو وہ بھی تو سرکار نے بنایا تھا اور سرکار کے ڈرافٹ کو ہم نے قبول کیا تھا جس میں ہم نے یہ رعایت ضرور دی ہے اس وقت کہ اگر سوسائٹی ایکٹ سے کوئی وابستہ ہونا چاہے رجسٹریشن کے لیے یا وزارت تعلیم کے ڈائریکٹریٹ جنرل سے وابستہ ہونا چاہیے۔ تو اگرچہ ہمیں تحفظات ہیں کہ مدارس کے نئے وفاق کیوں بنائے گئے نئی تنظیمیں کیوں سامنے آگئی، اس کو کس نے توڑا ہے، کیا مدارس کی ان تنظیموں کو تقسیم کرنے میں اداروں کا ہاتھ نہیں تھا، اور جس نے یہ تقسیم کی تھی وہ باقی تمام معاملات میں مجرم تھا اور اس حوالے سے وہ صحیح تھا اور اس کو تسلسل دے رہا ہے انہوں نے، تو میں تو ��لماء کرام کی خدمت میں بھی گزارش کروں گا کہ جن لوگوں نے آپ کو بلایا، جنہوں نے آپ کو اکسایا، جن کے اشاروں پر آپ ایک محاذ اٹھا کر یہی تو ذمہ دار ہے اس ڈرافٹ بنانے کے، اب کس کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ کس کے ساتھ آپ لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ہمارا آپس میں نہ کوئی جھگڑا ہے، نہ ہم آپ کے خلاف فریق ہے۔ ڈرافٹ بھی انہوں نے بنایا وہ والا بھی انہوں نے بنایا تھا سو ہم نے تحفظات کے باوجود قبول کیا اور یہ بھی انہوں نے بنایا تھا سو آپ کا کیس ہمارا کیس نہیں ہے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی ڈیرہ اسماعیل خان میں اہم پریس کانفرنس
جےیوآئی خیبرپختونخوا کے صوبائی کابینہ کا اجلاس۔ دینی مدارس ایشو پر تمام ��ضلاع کو مولانا فضل الرحمن کے حکم پر الرٹ رہنے کا حُکم۔ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے بڑوں کے حکم کا انتظار رہےگاجوں ہی فیصلہ آجائے دمادم مست قلندر ہوگا
میں جمعیت علماءاسلام اور پاکستانی عوام کی طرف سے وزیر برائے مہاجرین افغانستان مولانا خلیل الرحمن حقانی کی شہادت پر امارت اسلامیہ افغانستان اور ان کے خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ھوں۔ اللہ تعالی انکی شہادت قبول فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔
آج اس تاریخی اور فقید المثال اجتماع کا انعقاد کر کے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ سرزمین فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور اس سرزمین پر صہیونیت کا کوئی حق نہیں ہے، چند مہینے قبل یہاں اسی اجتماع میں جس اجتماع کو ہم نے طوفان اقص��ٰ کا نام دیا تھا اور ہم نے اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا ہم آج بھی ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہم ایک مضبوط موقف پہ قائم ہیں اور جس طرح آپ میدان جنگ میں ہیں ہم بھی پاکستان کی سرزمین پر آپ کے شانہ بشانہ اور قدم بقدم آپ کے جہاد میں شریک ہیں۔
امریکہ ہو یا مغربی دنیا انسانی حقوق کے علمبردار بنتے ہیں مجھے ان کی تاریخ بھی معلوم ہے مجھے ان کا کل بھی معلوم ہے اور آج بھی معلوم ہے۔ جنگ عظیم اول میں اسی مغربی دنیا نے کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا، جنگ عظیم دوم میں اسی مغربی دنیا میں کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا اور آج 20 سا�� تک افغانستان میں افغانوں کا قتل عام ہوتا رہا، عرب دنیا میں عرب مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہا، آج غزہ کے مسلمانوں پر بمباریاں ہو رہی ہیں، 50 ہزار کے قریب وہ اپنے شہداء دے چکے ہیں، اسرائیل مجاہدین کی مقابلے میں میدان میں نہیں ٹھہر پا رہا وہ معصوموں اور بے بس مسلمانوں پر بمباری کر رہے ہیں، اس وقت بھی اگر 50 ہزار شہدا ہیں جو 15 مہینوں میں دے چکے ہیں 75 فیصد اس میں چھوٹے بچے اور خواتین ہیں، آپ بتائیں کہ اس ظلم اور فلسطینیوں کی اس نسل کشی پر اگر امریکہ انہیں سپورٹ کر رہا ہے، اگر برطانیہ ان کو سپورٹ کر رہا ہے، اگر نیٹو ممالک ان کو سپورٹ کر رہے ہیں تو کیا ان کو آج کے بعد انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟ جن کے ہاتھوں انسانی حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، جن کے ہاتھوں انسان کی جان محفوظ نہیں، جن کے ہاتھوں انسان کا مال محفوظ نہیں، جن کے ہاتھوں انسانوں کی عزت و آبرو محفوظ نہیں اور چھوٹے چھوٹے شیر خوار بچے آج وہاں پر یہ نہیں سمجھ پائیں گے کل کہ ہم کس کی اولاد ہیں میرے باپ کا نام کیا تھا اور میری ماں کا نام کیا تھا۔ کیا ان کو بھی انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟ تمہارے ہاتھوں سے انسانوں کا خون ٹپک رہا ہے، انسانیت کا خون ٹپک رہا ہے، انسانی حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، تم انسانیت کے قاتل ہو۔ اگر صدام حسین کو اس بنیاد پر پھانسی دی جاتی ہے کہ آپ نے ایک شہر میں آپریشن کیا اور اتنے لوگ آپ نے قتل کیے تھے تو اتنی انسانیت کے قتل عام پر کیا نیتن یاہو کو پھانسی پہ چڑھانا ان کا حق نہیں بنتا؟ یہ انسانیت کا دشمن ہے۔ امریکہ اور مغربی دنیا انسانیت کے قاتل ہیں اور ان شاءاللہ ہم نے یہاں پر حق و انصاف کی آواز بلند کی ہے، ہم نے اس خطے میں انسانیت کو شعور عطا کیا ہے پتہ چل جائے کہ دنیا میں مظلوم کون ہے اور ظالم کون ہے۔
پارلیمنٹ کا پاس کردہ، مدارس رجسٹریشن بل پر ایوان صدر کے اعتراضات سے،،��لی تھیلے،،سے باہر آگئی ہے،
بل پر اعتراضات سے ثابت ہوا کہ اصل مقصد مدارس کو،فیٹیف،کے کہنے پر،فیٹیف،کے حوالے کرنا،
یہ بھی ثابت ہوگیا کہ پارلیمنٹ پاکستان کا نہیں،فیٹیف، کا پارلیمنٹ ہے،
کیا،فیٹیف،ہمیں ڈکٹیٹ کرے گا کہ کون سا ادارہ کس قانون کے تحت کام کرے گا؟
قوم پر واضح ہوگیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا پارلیمنٹ قانون سازی میں آج بھی آزاد نہیں ہے،
ایوان صدر کے،بابووں،نے سوسائیٹیز
ایکٹ، پڑھا ہی نہیں ورنہ اعتراضات
اٹھانے کی نوبت ہی نہیں آتی۔
کیا سوسائیٹیزایکٹ کا قیام ،فائن آرٹ،کےلئے ہیں؟
ایوان صدر قوم کو بتائے کہ آج تک،
فائن آرٹ،کے ادارے کتنے ہیں،آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں،
ایوان صدر کے مدارس بل پر اعتراضات محض،،جھوک ،،ہیں اور کچھ نہیں۔
جمعیت طلباء اسلام ایک عالمگیر طلبہ تنظیم ہے۔جو ہر قسم لسانی و قومی تعصبات سے پاک بلا تفریق نوجوانوں کی نظریاتی و فکری رہنمائی کر رہی ہے۔
آئیے اور جمعیت طلباء اسلام پاکستان کا ممبر بنیں
محمود صالح
صدر جمعیت طلباء اسلام یونیورسٹی کیمپس پشاور
#StudentsHopeJTI
جمعیت طلباء اسلام نے ہمیشہ تعلیمی میدان میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس تنظیم کا ماننا ہے کہ دین اور دنیا کی تعلیم کو ساتھ لے کر چلنا وقت کی ضرورت ہے۔ JTI نے مختلف سیمینارز، ورکشاپس اور مباحثوں کا انعقاد کیا تاکہ طلباء میں آگاہی اور علمی قابلیت کو بڑھایا جا سکے۔
#StudentsHopeJTI
جمیعت طلباء اسلام یونیورسٹی کیمپس پشاور صدر محمود صالح کی زیر صدارت اور جنرل سیکرٹری نہار علی شنواری کی زیر انتظام عظیم الشان و تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد ہوا ۔ پروگرام میں متعدد طلباء و طالبات بشمول گراں قدر اساتذہ کرام اور پروفیسر حضرات نے شرکت کی ۔ پروگرام میں
شرکاء سے مہمان خصوصی فرزند قائد جمیعت و سابق وفاقی وزیر مواصلات مفتی اسعد محمود صاحب، مرکزی رہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قاضی احسان احمد صاحب اور پرو وائس چانسلر جامعہ پشاور ڈاکٹر نعیم مخاطب ہوئے۔ پروگرام میں دیگر اہم شخصیات سابق مرکزی صدر جمیعت طلباء اسلام و صوبائی صدر اور