@irumrae Mera khyal ha is tehreer ka maqsad he aorat k ghar aor family k sath mukhlis aor gaya dar rehny ko behoodagi aor farsooda aor bosseda Purana nizam sabit krna ha. Halanky ye ain shariat k mutabiq ha. Jo k modernized moashra ko manzoor nahi. Jo Azad khyal librels ko giran guzarta
وہ لمحہ جب رپورٹر خود رو پڑا
وزیر خزانہ کے سامنے آکر رپورٹر نے بتایا کہ میں باقی کچھ نہیں کہتا خود پر گزرا سچ بتانا چاہتا ہوں، سب نے شور مچانا شروع کر دیا کہ یہ شاید کسی جرنیل کیخلاف کوئی بات کرنے لگا ہے اس نے کہا الله کا واسطہ کچھ بتا لینے دیں ذرا سی خاموشی ہوئی تو اس نے کہا حضور صرف 2 ماہ پہلے میری آنکھوں میں موتیا ہوا ڈاکٹر نے ایک ڈراپس لکھ دیا جس کی قیمت 300 سے کچھ روپے تھی میں نے خریدا تو دوکاندار نے کہا اب یہ 700 کا ہے میں نے لے لیا اسکے بعد 20 دن بعد جب ختم ہوا دوبارہ سٹور پر گیا تو انہوں نے کہا آب یہ 1500 روپے کا ہے، وه رو پڑا اور کہا جو مرضی کریں مگر غریب اگر دوائی نہ خریدنے کی وجہ سے مر گئے تو ذمہ دار کون یہ کہہ کر مائک واپس کیا اور چلا گیا...
یہ عسکری وزیر خزانہ وه ہے جس نے سیاستدانوں کی تنخواہیں 1 لاکھ سے 9 لاکھ کر دی ہیں اور قوم سے کہتے ہیں میں تنخواہ نہیں لیتا مریم کہتی ہے میں تنخواہ نہیں لیتی شہباز شریف کہتا ہے میں تنخواہ نہیں لیتا جبکہ غریب سے آج کہا گیا اگر 4 بھائی ہیں 1 روٹی ہے تو بانٹ کر کھا لیں، یوں لگ رہا ہے ہمیں من حیث القوم اللہ سے سزا ملی ہے اور بڑی سخت سزا ملی ہے
جہانزیب پاکستانی
المیہ دیکھیں کہ آزاد کشمیر کے مظاہرین کو جن نشستوں پر اعتراض ہے وہ ان مہاجرین کی نمائیندگی کیلئے مختص ہیں جو مقبوضہ کشمیر سے آئے ہیں اور یہ انکو کشمیری ماننے کو تیار نہیں، اور انکا آزاد کشمیر پر حق ماننے کو تیار نہیں، کہتے ہیں ہمارے کشمیر سے مقبوضہ سے آئے مہاجرین کو بھی نوکریاں ملتی ہیں جبکہ پاکستان میں مقبوضہ سے آئے مہاجرین اور آزاد کشمیر کے رہائشیوں کو بھی نوکریاں ملتی ہیں اس پر کسی کو اعتراض نہیں نہ صرف نوکریاں بلکہ جائیداد اور کاروبار بھی پاکستان میں ہیں (کبھی پاکستانیوں نے بھی اعتراض نہیں کہا بلکہ پاکستانیوں کو تو اب احساس دلایا جا رہا ہے کہ کشمیری ان سے الگ قوم ہیں ہم تو انکو پاکستانی سمجھتے آئے ہیں) جب پوچھا جائے کہ بھارت نے جب مقبوضہ کشمیر کو آئین کا حصہ بنایا تو آپ نے کتنے احتجاج کئے یہ بتائینگے کہ یہ تو پاکستان کی ڈیوٹی تھی، کشمیر کاز کیلئے کیا کر رہے ہیں تو بتائینگے کہ یہ پاکستان کی ڈیوٹی تھی، سارے فرائض پاکستان کے ہیں آپکے صرف حقوق ہیں؟
اس ٹوئیٹ کو یہ جواب ملا ہے کہ ہم نے وہ جہاز اپنی نئی کمرشل ایئر لائین Air Punjab کے لیے لیا ہے۔
میرے عزیز صاحبِ اقتدار گروہ۔
Gulf Stream 500 دنیا کی کسی کمرشل ایئر لائین کی فِلیٹ کا حصہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک لگژری Equipment کہلاتا ہے جو صرف چارٹر بزنس کے لئیے ہوتا ہے عام مسافروں کے لئیے نہیں اور دُنیا کی کوئ کمرشل ایئرلائن یہ جہاز کمرشل مسافروں کے لئیے نہیں خریدتا۔
بُرا لگتا ہے کہنا مگر عاجزی سے کہہ رہا ہوں کہ ساڑھے تین سال مسلسل میں نے وال اسٹریٹ پر اسی Gulf Stream میں سفر کیا ہے اور 1350 گھنٹوں سے زیادہ سفر کیا ہے
ایسے بیان نہ دیا کریں جس کا پول میرے جیسا بے عقل تقریباً جاہل اور نابلد بھی کھول دے حقائق کے ساتھ۔
ایک ہیں ہمارے مسلمانوں کے ہاسپٹل اور دوسری طرف یہ ہیں غیر مسلم ممالک کے ہاسپٹل نہ یہ اللّٰہ کو مانتے ہیں نہ قرآن پڑھتے ہیں نہ نماز پڑھتے ہیں نہ ہی حج و عمرہ کرتے ہیں نہ ہی یہ دورانِ ڈیوٹی چاۓ پینے جاتے ہیں مگر انسانیت میں یہ ہم سے 10 گنا آگے ہیں۔
ہنری فورڈ کی وہ وصیت جو دنیا کو حیران کر گئی
جب 1947 میں ہنری فورڈ کا انتقال ہوا، تو امریکہ کو ایک ایسے راز کا علم ہوا جسے اس نے اپنی پوری زندگی چھپائے رکھا تھا۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی جو اخباری خبروں یا انٹرویوز میں بتائی گئی ہو، بلکہ یہ ایک خاموش سچائی تھی جو کمپنی کے کھاتوں میں قید تھی۔
جب ان کے خاندان نے فورڈ موٹر کمپنی کے حسابات کھولے، تو انہیں صرف فیکٹریوں اور مشینوں کی سلطنت نہیں ملی، بلکہ ایک ایسا "خزانہ" ملا جس نے سب کو دنگ کر دیا۔ کمپنی کے پاس 700 ملین ڈالر نقد (Cash) موجود تھے، یہ وہ رقم تھی جس پر نہ کوئی قرض تھا، نہ کسی بینک کا حق اور نہ ہی کسی سرمایہ کار کا دعویٰ۔ آج کے حساب سے یہ رقم اربوں ڈالر بنتی ہے۔
پوری کاروباری دنیا ایک لمحے کے لیے تھم گئی۔ کیونکہ ہنری فورڈ نے تاریخ کی عظیم ترین صنعتی سلطنت کسی سے ایک پیسہ ادھار لیے بغیر کھڑی کی تھی۔ جہاں دوسرے کار ساز ادارے وال اسٹریٹ (Wall Street) کے سامنے گھٹنے ٹیک رہے تھے، فورڈ نے ان کے لیے اپنے دروازے بند کر رکھے تھے۔
نہ کوئی قرض، نہ کوئی حصص (Stocks)، نہ بورڈ رومز میں بینکوں کی مداخلت۔
بینکوں اور سرمایہ کاروں نے اسے بے پناہ پیشکشیں کیں، لیکن فورڈ نے سب کو ٹھکرا دیا۔ اس کا فلسفہ سادہ مگر باغیانہ تھا:
"اگر تم نے بینک کے 100 ڈالر دینے ہیں، تو یہ تمہارا مسئلہ ہے۔ اگر تم نے بینک کے 100 ملین ڈالر دینے ہیں، تو یہ بینک کا مسئلہ ہے۔"
فورڈ ان دونوں میں سے کسی صورتحال کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا۔ اس نے "اندرونی ترقی" کا راستہ چنا۔ اس کی فیکٹری میں خام لوہا ایک طرف سے داخل ہوتا تھا اور دوسری طرف سے تیار گاڑی باہر نکلتی تھی۔ کوئی درمیانی آدمی نہیں، کوئی قرض خواہ نہیں۔
جب عظیم کساد بازاری (Great Depression) آئی اور امریکہ کی بڑی بڑی کمپنیاں قرضوں کے بوجھ تلے دب کر ختم ہو گئیں، فورڈ سکون میں تھا۔ اسے کسی بینک کی کال کا خوف نہیں تھا، کیونکہ اس کا مستقبل اس کے اپنے ہاتھ میں تھا۔ جب دنیا نے اس کے بینک بیلنس کو دیکھا، تو وہ محض پیسہ نہیں تھا، بلکہ اس کی آزادی اور خود مختاری کا ثبوت تھا۔
ہنری فورڈ کی اس کامیابی کے پیچھے چند ایسے پہلو بھی ہیں جو اس کہانی کو مزید گہرا کرتے ہیں:
عمودی انضمام (Vertical Integration): فورڈ صرف گاڑیاں نہیں بناتا تھا، اس نے ربڑ کے درختوں کے لیے برازیل میں جنگلات خریدے، کوئلے کی کانیں لیں اور مال برداری کے لیے اپنے جہاز اور ریل گاڑیاں بنائیں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ سپلائی چین میں بھی وہ کسی کا محتاج نہ رہے۔
پانچ ڈالر یومیہ اجرت: 1914 میں فورڈ نے اپنے ورکرز کی تنخواہ دگنی کر کے 5 ڈالر یومیہ کر دی تھی۔ یہ محض ہمدردی نہیں تھی، بلکہ ایک چال تھی تاکہ اس کے ملازم اتنے خوشحال ہو جائیں کہ وہ خود فورڈ کی گاڑیاں خرید سکیں (مارکیٹ بنانا)۔
وال اسٹریٹ سے نفرت: 1919 میں جب اسے لگا کہ دوسرے شیئر ہولڈرز اس کے فیصلوں میں مداخلت کر رہے ہیں، تو اس نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر کمپنی کے تمام شیئرز واپس خرید لیے اور فورڈ کو مکمل طور پر ایک "فیملی بزنس" بنا دیا تاکہ کوئی باہر والا اسے حکم نہ دے سکے۔
آج کے دور میں جہاں ہم چھوٹی سی چیز کے لیے بھی لون (Loan) اور کریڈٹ کارڈ کے محتاج ہیں، فورڈ کا فلسفہ ہمیں ایک سبق دیتا ہے: "قرض صرف سود نہیں لیتا، یہ آپ کی آزادی بھی چھین لیتا ہے۔"
اگر آپ اپنی منزل خود طے کرنا چاہتے ہیں، تو پہلے اپنی جکڑی ہوئی زنجیروں کو توڑنا سیکھیں۔ خود پر یقین رکھیں، کیونکہ جو سلطنت اپنے دم پر کھڑی ہوتی ہے، اسے کوئی طوفان نہیں گرا سکتا۔
سی ایم لطیف پاکستان کا
"ٹاٹا/امبانی"
محمد لطیف 1907ء کو مشرقی پنجاب کے شہر بٹالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام مہر میران بخش تھا۔ محمد لطیف نے اعلی ٰ تعلیم حاصل کی اور 1930ء میں مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ 1932ء میں انہوں نے اپنے آبائی شہر کے نام پر ”بٹالہ انجینئرنگ کمپنی (بیکو BECO )“ کی بنیاد رکھی۔
جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا سی ایم لطیف چاہتے تو بھارت میں رہ کر اپنا کاروبار بچا سکتے تھے مگر انہوں نے اپنی فیکٹریاں اور اپنا سب کچھ بھارت میں ہی چھوڑا اور پاکستان کی محبت میں ہجرت کر کے لاہور آ گئے۔
سی ایم لطیف نے لاہور میں بیکو کمپنی کے نام سے صنعت قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ دسمبر 1947ء کو انہوں نے لاہور کے علاقے بادامی باغ میں پھر سے کمپنی کو زیرو سے آغاز کیا اور تین سال کی انتھک محنت کے بعد کمپنی کے قیام کو مضبوط بنیاد پر کھڑا کر دیا۔ کمپنی میں سٹیل ورکس، سٹیل فاؤنڈری، سٹیل رولنگ ملز، آئرن فاؤنڈری، مشین ٹول شاپ، ڈیزل انجن شاپ، سٹرکچرل شاپ اور جنرل انجینئرنگ شاپ سمیت 8 شعبے قائم تھے۔ بیکو میں اس وقت مشینوں کے پرزہ جات، واٹر پمپس، پاور لومز، کرینیں، الیکٹرک موٹرز اور سائیکل تیار کیے جاتے تھے۔
بیکو 60ء اور 70ء کی دہائی میں ایک بین الاقوامی اور پاکستان کا قابل فخر ادارہ بن چکا تھا۔ مختلف ممالک کے سربراہان بیکو کا دورہ کرنے کے لئے بادامی باغ آیا کرتے تھے اور اپنے انجینئرز کو بھی بیکو میں ٹریننگ کے لئے بھیجا کرتے تھے۔ چین کے اس وقت کے وزیراعظم چو این لائی نے بیکو کا دورہ کیا اور اپنے انجینئرز بیکو میں ٹریننگ کے لئے بھیجا، چو این لائی نے بیکو کے سٹرکچر اور انتظامی امور کی طرز پر چین میں باقاعدہ ادارے اور فیکٹریاں قائم کی۔
چو این لائی کے علاوہ شام کے سربراہ مملکت حافظ الاسد اور تھائی لینڈ کے بادشاہ بھی بیکو کا دورہ کر چکے ہیں۔ چین کے ساتھ ساتھ جاپان اور جرمنی کے انجینئرز بھی بیکو میں ٹریننگ کے لئے بھیجے جاتے تھے۔ آج ان تینوں ممالک کے انجینئرنگ نے اپنا لوہا منوایا۔ اپنے عروج کے زمانے میں بیکو میں 6000 لوگ ملازمت کیا کرتے تھے۔ سی ایم لطیف دوراندیش انسان تھے۔ انہوں نے ایک ایسا مثالی ادارہ قائم کر دیا تھا جو اپنے وقت کا شاہکار اور پاکستان کا قیمتی اثاثہ تھا۔ مگر کیا کیجئے کہ بدقسمتی چپکے سے ان کے ادارے کا پیچھا کر رہی تھی۔
یکم جنوری 1972ء کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان میں اقتصادی اصلاحات نافذ کرتے ہوئے 31 اہم صنعتی اداروں کو nationalize کرنے یعنی قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ کر لیا جس میں بیکو بھی شامل تھا۔ ایک ہی رات میں سی ایم لطیف سے سب کچھ چھین لیا گیا، ان کے سالوں کی محنت ضائع کردی گئی اور ان کو ان کے اپنے ہی ادارے سے نکال کر ادارے کو حکومت پاکستان نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ ایک ہی رات میں وہ پھر سے 1947ء والی پوزیشن پر آچکے تھے۔
جس ملک کی محبت میں انہوں نے سب کچھ چھوڑا 1972ء میں اسی ملک نے ان سے سب کچھ چھین لیا تھا۔ حکومت وقت نے بیکو کا نام تبدیل کر کے پاکستان انجینئرنگ کمپنی (پیکوPECO ) کر دیا۔ حکومت نے اپنے وقت کے اس صنعتی شاہکار ادارے کو بعد میں ان لوگوں کے سپرد کر دیا گیا جنہیں مکینیکل انجینئرنگ کی الف تک نہیں آتی تھی اور پھر اس عالیشان ادارے کا وہی حال ہوا جو ہر سرکاری ادارے کا ہوتا ہے۔
بیکو نے پھر کبھی منافع نہیں کمایا اور پاکستان کا قومی اثاثہ کہلایا جانے والا ادارہ آہستہ آہستہ ختم ہو گیا۔ بیکو نے 1972ء سے لے کر 1998ء تک 760 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان کیا۔ بعد میں جنرل ضیاءالحق نے سی ایم لطیف کو بیکو واپس لینے کی آفر کی جن کو انہوں نے ٹھکرا دیا۔
سی ایم لطیف پاکستان سے مایوس ہو کر جرمنی چلے گئے اور انہوں نے اپنی باقی تمام عمر جرمنی میں گزار دی۔ سی ایم لطیف نے بعد میں ساری زندگی کوئی کاروبار کیا اور نہ ہی کوئی فیکٹری بنائی۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت باغبانی اور پھولوں کو اگانے میں لگاتے تھے۔
سی ایم لطیف 2004ء میں 97 سال کی عمر میں جرمنی میں فوت ہوئے اور وہیں دفن ہوئے۔ 💔
#قومی_زبان
ایک چشم کشا تحریر
کیا آپ جانتے ہیں کہ حکومت پاکستان کو اپنی مرضی سے کرنسی جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں.؟
آپ کی جیب میں پڑا ہر کرنسی نوٹ ایک قرض ہے جو آپ کی حکومت نے سٹیٹ بنک سے اس وعدے پر لیا ہے کہ وہ اس نوٹ کو سود سمیت واپس کرے گی.
چونکہ کرنسی جاری کرنے کا اختیار ہی صرف سٹیٹ بنک کے پاس ہے اس لیئے کرنسی نوٹ کی واپسی پر سٹیٹ بنک کے حصے کے سود کا پیسا بھی سٹیٹ بنک ہی چھاپتا ہے اور اس پر دوبارہ سود لیا جاتا ہے. وہ سود واپس کرنے کے لیئے دوبارہ نوٹ چھاپے جاتے ہیں اور دوبارہ ان پر سود لیا جاتا ہے. یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا.
اسی وجہ سے ملک کا اندرونی قرضہ کبھی بھی کم یا ختم نہیں ہوا اور مہنگائی مسلسل بڑھتی رہتی ہے.
سٹیٹ بنک آف پاکستان حکومتِ پاکستان کے ماتحت نہیں بلکہ ایک آزاد ادارہ ہے.
ہر کرنسی نوٹ اس بات کی رسید ہوتا ہے کہ سٹیٹ بنک کے پاس اس نوٹ کے متبادل سونا موجود ہے. جبکہ اصل میں کرنسی نوٹ کے مقابلے میں سٹیٹ بنک کے پاس موجود سونے کی شرح بیس فیصد سے بھی کم ہے.
آپ کی جیب میں موجود کرنسی نوٹ پر لکھی تحریر *"حامل ہزا کو مطالبے پر ادا کرے گا"* کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی حکومت آپ کے مطالبے پر اس نوٹ کے برابر سونا ادا کرنے کی پابند ہے.
اگر آج ہی پاکستان کی کل آبادی سٹیٹ بنک کو نوٹ واپس کر کے سونا لینا شروع کر دے تو صرف بیس فیصد نوٹ قابلِ استعمال ہونگے. باقی اسی فیصد نوٹوں کی قیمت تیرہ روپے فی کلو ہے. کیوں کہ باقی نوٹوں کا سونا موجود ہی نہیں اس لیئے ان کی قیمت وہی ہے جو ردی کوڑے کی ہوتی ہے.
دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کے لوگ لکڑی کی جگہ کرنسی نوٹ جلاتے تھے. کیوں کہ لکڑی کی قیمت کرنسی سے زیادہ ہو گئی تھی.
مہنگائی بڑھنے کی شرح جسے انفلیشن یا افراط زر کہتے ہیں کا کانسیپٹ صرف سو سال پرانا ہے.
ایک مرغی کی قیمت فرعون کے دور میں دو درہم تھی جو کی انیسویں صدی کہ آخر تک دو درہم ہی رہی. اگر ہم غور کریں تو آج بھی اس کی قیمت دو درہم ہی بنتی ہے. مطلب صفر فیصد انفلیشن.
پچھلے صرف 100 سالوں کے دوران کاغزی کرنسی کی قیمت کئی سو گنا گر چکی ہے.
انفلیشن دراصل ایک ٹیکس ہے جو امیر اور غریب بغیر کسی تفریق کے برابر ادا کرتے ہیں.
آج غربت اور افلاس کی سب سے بڑی وجہ ہی پیپر کرنسی اور اس پر دیا جانے والا سود ہے.
جب ہم آئی ایم ایف سے قرضہ لیتے ہیں تو اصل میں ڈالرز ہمارے پاس منتقل نہیں ہوتے. بلکہ امریکہ میں ہی کسی بینک میں موجود ایک اکاؤنٹ میں صرف کمپیوٹر کے زریعے ٹرانزیکشن ہوتی ہے. اس اکاؤنٹ میں بھی ڈالرز منتقل نہیں ہوتے.
آج تک دنیا میں موجود ڈالرز کا صرف تین فیصد چھاپا گیا ہے. باقی ستانوے فیصد ڈالرز صرف کمپیوٹرز کی ہارڈ ڈسکس میں محفوظ ہیں.
آئی ایم ایف کے چارٹر میں یہ بات تحریر ہے کہ کوئی ملک سونے اور چاندی کے سکے جاری نہیں کر سکتا. اگر کرے گا تو آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک ایسے ملک کو قرضہ نہیں دیں گے.
امریکہ سمیت دنیا میں کئی سربراہ مملکت اس بات پر قتل ہو چکے ہیں کیوں کہ انہوں نے اپنی کرنسی یا سونے اور چاندی کے سکے جاری کرنے کی کوشش کی.
اس ملک کی حکومت وزیرِ خزانہ اور سیکریٹری فائیننس آئی ایم ایف کی اجازت کے بغیر نہیں لگا سکتی.
آئی ایم ایف قرضہ دیتے ہوئے سب سے پہلی شرط پرائیویٹائیزیشن کی رکھتا ہے اور اس کے بعد قرض دیا جاتا ہے. کبھی غور کیجئیے گا کہ ایسا کیوں ہے.
سعودی عرب اور ایران سمیت تمام پٹرول برآمد کرنے والے ملک اس بات کے پابند ہیں کہ پٹرول صرف ڈالرز کے بدلے بیچا جائے گا نہ کہ بیچنے یا خریدنے والے ملک کی کرنسی میں.
انسانی تاریخ میں کبھی بھی اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو بیوقوف نہیں بنایا جا سکا. یہ انسان کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ ہے.
حضرت عیسی (علیہ السلام) جن کی نرم دلی کی مثالیں دی جاتی ہیں انہوں نے بھی سود لینے والوں کی میزیں الٹ دیں تھیں اور ان کو ڈنڈے سے سبق سکھایا.
سود ایسی واحد لعنت ہے جس کے متعلق اللہ نے خود اعلانِ جنگ کیا ہے. آپ بتائیں کہ جنگ اگر اللہ سے ہے تو جیت کس کی ہوگی؟
ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ہمیں دجال کے فتنوں سے ڈرایا تھا. دجال کا سب سے بڑا فتنہ اس وقت آپ کی جیب میں موجود ہے.
Copied
کے ایف سی اپنا مقدمہ ہار گیا!
برسوں تک یہ چھپانے کی کوشش کرنے کے بعد کہ کے ایف سی کے برگر 100% چکن کے ہیں اب شکاگو کی عدالت نے فیصلہ دے دیا کہ کے ایف سی میں صرف 15% چکن اور باقی 85% کھانے کے لیے بھی موزوں نہیں بلکہ کتوں کے کھانے کے لیے ہے کونسل آف اسلامی جسٹس نے کے ایف سی سے اپنا حلال گارنٹی سرٹیفیکیٹ واپس لے لیا ہے کیونکہ یہ بھی معلوم ہوا کہ مصالحے، کیچپ اور مایئونیز بھی سور کی چربی سے ملا کر بنائے گئے ہیں۔
https://t.co/Esm0kfrp5W
یہ بچہ اللہ کے سامنے مسلمانوں کی شکایت لگارہا ہے یہ کہہ رہا ہے اے مسلمانوں ہم روز مرتے ہیں پھر جیتے ہیں پتہ نہیں کیسے تم سکون سے کھاتے پیتے سوتے ہو یا اللہ دنیاں ہمیں چھوڑ چکی مگر تو ہمیں تنہا نہ چھوڑنا اور خاموش مجرموں کو بھی ہرگز معاف نہ کرنا
یا ربی میں رورہا ہوں ۔😭💔