پاکستان آرمی گشتیوں کو حکمران بنائے گی تو نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ ان گشتیوں کے رشتہ دار اور بچے لڑکیوں کو اغواء کر رہے ہیں، زنا کر رہے ہیں اور ملین ڈالرز کرپٹو کرنسی جوئے میں ہار رہے ہیں
"یہ تھا افواج پاکستان کا شرمناک ویژن"
غیرت مند جرنیل جو عورتوں کی خرید فروخت میں نام کما گیا
عافیہ صدیقی کے وکیل کلائیو اسمتھ سے منسوب ایک دعویٰ جسمیں کہاگیا کہ جنرل پرویز مشرف کےدورِحکومت میں عافیہ صدیقی کو امریکی خفیہ ادارے CIA کے حوالےکیاگیا
یہ معاملہ بین الاقوامی عدالتوں اور امریکی قانونی نظام کا بھی حصہ رہاھے
@MaidahMuhammad مرگ بر غداران وطن... اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کو نشان عبرت بنا دے جنہوں نے اس ملک کو لوٹا اور پیسہ باہر منتقل کیا خواہ ان کا تعلق فوج سے ہوں یا سیاستدانوں اور بیوروکریسی سے ہوں... آمین ثم آمین یا رب العالمین
آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی کی بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دلت کے ساتھ مل کر لکھی گئی کتاب میں ایبٹ آباد آپریشن پر بھی گفتگو کی گئی ہے اور جنرل اسد درانی نے آئی ایس آئی کے ایک افسر کرنل اقبال کے بارے میں لکھا ہے کہ اس نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت میں انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا ’’ کرنل اقبال نے 5 کروڑ ڈالر(تقریباً5ارب روپے) لے کر امریکی کمانڈوز کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ تک پہنچایا تھا، اب کرنل سعید امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سین ڈیاگو میں رہائش پذیر ہے۔ یہ شخص اس "میجر شہریار اقبال" کا والد ہے جو پرویزمشرف کا سٹاف آفیسر اور بزنس پارٹنر ہے۔ یہ دونوں مل کر دبئی میں ایک پرائیویٹ ہسپتال چلا رہے ہیں اور اس ہسپتال میں شرما نامی بھارتی ڈاکٹر بھی شراکت دار ہے۔‘‘
اسی کرنل کے بارے میں ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ میں بھی گواہی موجود ہے جو میجر عامر عزیز نے دی۔ ڈان نیوز کے مطابق میجر عامر عزیز نے ایبٹ آباد کمیشن کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا تھا کہ ’’لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) سعید اقبال دو سے تین بار میرے گھر آئے تھے جو اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ کے قریب ہی واقع تھا۔ کرنل سعید مجھ سے بظاہر میری زمین خریدنا چاہتے تھے تاہم زمین کی خریداری کا معاملہ انجام کو نہ پہنچ سکا۔ کرنل سعید انتہائی مہنگی گاڑی پر میرے پاس آتے تھے جس کی قیمت تین سے چار کروڑ روپے ہو گی۔ یہ گاڑی ساؤنڈ پروف اور بلٹ پروف تھی۔کوئی ریٹائرڈ کرنل اتنی مہنگی گاڑی کی استطاعت نہیں رکھ سکتا۔ ایک بار کرنل سعید اقبال میرے گھر کی چھت پر بھی گئے اور میرے پالتوں جانوروں کی تصاویر بنائیں۔ میں نہیں جانتا کہ اس دوران انہوں نے اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ کی تصاویر بھی بنائی تھیں یا نہیں۔ان کے پاس جدید ترین ڈیجیٹل کیمرا تھا جو کوئی بھی شخص محض جانوروں کی تصاویر بنانے کے لیے نہیں رکھ سکتا۔
کرنل سعید کا ایک بیٹا سابق صدر پرویز مشرف کا اے ڈی سی بھی تھا اور اب ان کے پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر کام کر رہا ہے۔‘‘ ایبٹ آباد کمیشن کے اراکین نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’’میجر عزیز کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں سی آئی اے کا نیٹ ورک کیسے کام کر رہا ہے۔ میجر عزیز کے مطابق کرنل سعید اقبال نے آئی ایس آئی کے سابق اہلکاروں کو اپنے سکیورٹی بزنس میں بھی بھرتی کیا۔ان کے بیان سے کرنل سعید ایک انتہائی مشکوک شخص کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے اسامہ بن لادن کی موت میں اہم اور متحرک کردار ادا کیا۔
ایبٹ آباد کا واقعہ ہونے کے فوری بعد کرنل سعید اقبال پاکستان چھوڑ کر امریکہ منتقل ہو گیا تھا۔
پاکستان آرمی ایسے غداروں اور وطن فروشوں سے بھری پڑی ھے
#داستان_ایمان_فروشوں_کی
گھر میرا
گھر کی چھت میری
گھر کی چھت پر لگا سولر میرا
سورج اللہ پاک کا
سولر لگاؤں تو اجازت نیپرا سے لوں ؛ وجہ؟
اجازت لینے کے پیسے حکومت کو دوں ؛ وجہ؟
انی دیو مذاق اے 🤦♂️
When 12 people were killed in Charlie Hebdo attacks, World Leaders thronged to Paris for a Solidarity March
But no world leader has organised a march to protest killing 2000 civilians, ~200 children, ~300 women, 7 journalists, 178 health workers, and 3 UN peacekeepers in Lebanon
نو ڈیل - مگر کہانی ابھی باقی ہے!
21 گھنٹے۔ ایران، امریکہ مذاکرات میں کوئی معاہدہ نہیں۔ مگر کہانی ختم نہیں ہوئی۔
12 اپریل 2026۔ صبح ساڑھے چھ بجے اسلام آباد کا وقت۔ جے ڈی وینس سرینا ہوٹل سے باہر آیا۔ صحافیوں کے سامنے کھڑا ہوا۔ بہت مختصر بات کی۔ ایکسیوز نے فوری خبر چلائی: "امریکہ ایران مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم۔"
وینس نے کہا: "جو بھی کمی رہی، وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں۔ انھوں نے شاندار کام کیا اور واقعی ہماری اور ایرانیوں کی فاصلے پاٹنے کی کوشش کی۔" پھر کہا: "ہم اکیس گھنٹے سے یہاں ہیں اور ایرانیوں کے ساتھ کئی ٹھوس بات چیت ہوئی۔ یہ اچھی خبر ہے۔ بری خبر یہ ہے کہ معاہدہ نہیں ہوا اور یہ ایران کے لیے امریکہ سے کہیں زیادہ بری خبر ہے۔"
سوال پوچھا گیا: ایرانیوں نے کیا مسترد کیا؟ وینس نے تفصیل میں جانے سے انکار کیا مگر ایک بات واضح کی: "سادہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ایران سے اس بات کا واضح عہد چاہیے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور ایسے آلات حاصل نہیں کرے گا جو فوری طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے میں مدد دیں۔ نہ صرف ابھی، نہ صرف دو سال بعد، بلکہ طویل مدت کے لیے۔ ہم نے ابھی تک یہ عہد نہیں دیکھا۔ امید ہے کہ دیکھیں گے۔"
پھر وینس نے ایک اور جملہ کہا: "ہم کافی لچکدار تھے، کافی معاون تھے۔ صدر نے ہمیں کہا تھا کہ نیک نیتی سے جاؤ اور معاہدے کے لیے پوری کوشش کرو۔ ہم نے کیا۔ مگر ہم آگے نہیں بڑھ سکے۔"
اب اس بیان کو پڑھیں۔ الفاظ تولے ہوئے ہیں۔ وینس نے کئی پیغام دیے ہیں بیک وقت:
پہلا: پاکستان کو مکمل عزت دی۔ "شاندار میزبان" کہا۔ "ناکامی ان کی وجہ سے نہیں" کہا۔ یہ سفارتی زبان میں اعلان ہے کہ امریکہ پاکستان کے ثالثی کردار سے مطمئن ہے اور مستقبل میں بھی اسی راستے سے آئے گا۔
دوسرا: ایران پر الزام رکھا۔ "انھوں نے ہماری شرائط قبول نہیں کیں" کہا۔ مگر دروازہ بند نہیں کیا۔ "امید ہے دیکھیں گے" کہا۔ "ابھی تک" کے الفاظ استعمال کیے۔ "ابھی تک" کا مطلب ہے "ابھی نہیں مگر شاید بعد میں۔"
تیسرا: ایٹمی نکتے کو مرکزی بنایا۔ آبنائے ہرمز نہیں، لبنان نہیں، منجمد اثاثے نہیں۔ ایٹمی ہتھیار۔ یہ ٹرمپ کا بھی تازہ ترین موقف ہے جو اس نے جمعے کو واضح کیا تھا: "ایٹمی ہتھیار نہیں۔ یہی بنیادی مقصد ہے۔" وینس نے ٹرمپ کے بیانیے سے ہٹ کر کچھ نہیں کہا۔ وفادار رہا۔
مگر ایرانی طرف سے کہانی مختلف ہے۔
ایران کی حکومت نے ایکس پر لکھا: "14 گھنٹے کی بات چیت کے بعد مذاکرات فی الحال ختم ہو گئے ہیں۔ کچھ اختلافات باقی ہیں مگر مذاکرات جاری رہیں گے۔" ایرانی ریاستی ٹی وی کے نامہ نگار نے بتایا کہ مذاکرات اتوار کو جاری رہیں گے۔ سی این بی سی نے تصدیق کی۔ یعنی ایران نہیں مانتا کہ مذاکرات ناکام ہوئے۔ ایران کہتا ہے مذاکرات ابھی ختم نہیں ہوئے، ایک وقفہ ہے۔
فرق سمجھیں: وینس کہتا ہے "ہم واپس جا رہے ہیں، معاہدہ نہیں ہوا۔" ایران کہتا ہے "مذاکرات جاری رہیں گے۔" یہ دو مختلف بیانیے ہیں اور دونوں بیک وقت سچ ہو سکتے ہیں۔ وینس واپس جا رہا ہے مگر تکنیکی ٹیمیں رہ سکتی ہیں۔ سیاسی سطح کا دور ختم ہوا مگر ماہرین کی سطح کا دور جاری رہ سکتا ہے۔
یہاں ایک بات اور سمجھنی ضروری ہے۔ وینس نے "quite flexible" اور "quite accommodating" کے الفاظ استعمال کیے۔ یہ الفاظ سفارتکاری میں اپنی پوزیشن ظاہر کرنے کے لیے بہت کم استعمال ہوتے ہیں۔ عام طور پر فریق کہتا ہے "ہماری پوزیشن واضح ہے۔" وینس نے کہا "ہم لچکدار تھے۔" اس کا مطلب ہے کہ وینس اندرونی طور پر جانتا ہے کہ امریکی پوزیشن میں کمزوری تھی اور وہ عوام کو پیغام دے رہا ہے: ہم نے پوری کوشش کی، ناکامی ہماری وجہ سے نہیں۔
ایم ایس ناؤ نے اپنے تجزیاتی مضمون میں لکھا تھا کہ وینس کے لیے یہ مذاکرات "زہر میں بجھا ہوا پیالہ" ہیں۔ اگر کامیابی ہو تو سہرا ٹرمپ کا ہو گا۔ اگر ناکامی ہو تو الزام وینس پر آئے گا۔ اور اگر جنگ بندی ٹوٹے تو "ٹرمپ اپنے نائب صدر کو بس کے نیچے پھینک دے گا۔" کرسچین سائنس مانیٹر نے سابق امریکی خصوصی ایلچی مچل ریس کا حوالہ دیا: "آپ مہاتما گاندھی بن کر بھی امریکہ کی نمائندگی میں آئیں تو ایرانیوں پر اس وقت اثر نہیں ہو گا۔" سٹمسن سنٹر کی بربارا سلاوین نے کہا کہ دونوں فریقوں کے مطالبات اتنے دور ہیں کہ پیش رفت کے امکانات کم ہیں۔
اب سب سے اہم سوال: جنگ بندی کا کیا ہو گا؟
جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہوتی ہے۔ دس دن باقی ہیں۔ وینس بغیر معاہدے کے واپس جا رہا ہے مگر ایران کہتا ہے بات جاری رہے گی۔ ایکسیوز نے لکھا: "مذاکرات کا تعطل دو ہفتے کی جنگ بندی کو غیر یقینی صورتحال میں رکھتا ہے اور جنگ کے دوبارہ بھڑکنے اور بڑھنے کا امکان ہے۔"
وینس نے ایک اور جملہ کہا جو نوٹ کرنے کا ہے: "ہم نے اپنی سرخ لکیریں واضح کر دی ہیں، جن نکات پر ہم انھیں جگہ دینے کو تیار ہیں اور جن پر نہیں ہیں، وہ بھی واضح کر دیے ہیں۔ ہم نے زیادہ سے زیادہ واضح ہونے کی کوشش کی اور انھوں نے ہماری شرائط قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔"
"انھوں نے فیصلہ کیا" اور "ہم نے فیصلہ کیا" میں فرق ہے۔ وینس نے الزام ایران پر رکھا۔ مگر ذرا ولی نصر کی بات یاد کریں: ایران سمجھتا ہے کہ وٹکاف اور کشنر کو مسائل پر گرفت نہیں تھی۔ کیا آج رات بھی وہی ہوا؟ 71 ماہرین نے تکنیکی نکات اٹھائے اور تین آدمیوں کے پاس ان کا جواب نہیں تھا؟ ابھی یہ واضح نہیں ہے۔ ایرانی طرف سے تفصیلی بیان آنا باقی ہے۔
فی الحال حقائق یہ ہیں:
اکیس گھنٹے مذاکرات ہوئے۔ تین رسمی دور ہوئے۔ پہلا بالواسطہ، دوسرا براہ راست، تیسرا تکنیکی۔ ساتھ کھانا کھایا گیا۔ 47 سال بعد پہلی بار آمنے سامنے ملاقات ہوئی۔ ایٹمی عہد، آبنائے ہرمز اور لبنان تین بڑے اختلافات رہے۔ وینس واپس جا رہا ہے۔ ایران کہتا ہے بات جاری رہے گی۔ پاکستان کو دونوں طرف سے عزت ملی۔
مگر سب سے بڑی بات وہ ہے جو وینس نے سب سے پہلے کہی: "جو بھی کمی رہی، وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں۔"
یہ جملہ سفارتی زبان میں سرٹیفیکیٹ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ غالباً اگلا دور بھی اسلام آباد میں ہو سکتا ہے۔ ثالث بھی پاکستان ہو گا۔
معاہدہ نہیں ہوا مگر دروازہ بھی بند نہیں ہوا۔ وینس نے "ابھی تک" کہا ہے "ختم" نہیں کہا۔ ایران نے "وقفہ" کہا ہے "ناکامی" نہیں کہا۔ اور اس "ابھی تک" اور "وقفے" کے درمیان جو جگہ ہے وہیں پاکستان کھڑا ہے۔
اکیس گھنٹے ضائع نہیں ہوئے۔ اکیس گھنٹوں میں 47 سال کی خاموشی ٹوٹی ہے۔ اکیس گھنٹوں میں سرخ لکیریں واضح ہوئی ہیں۔ اکیس گھنٹوں میں دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا ہے۔ اور جب آنکھوں میں دیکھنے کا مرحلہ آ جائے تو بم گرانا مشکل ہو جاتا ہے۔
22 اپریل قریب ہے۔ دس دن باقی ہیں۔ ان دس دنوں میں دو میں سے ایک بات ہو گی: یا تو ماہرین کی سطح پر بات آگے بڑھے گی اور وینس دوبارہ آئے گا۔ یا جنگ بندی ختم ہو گی اور بم دوبارہ گریں گے۔
پاکستان نے اپنا کام کر دکھایا. اب دنیا کے باقی چاچے مامے درمیان میں آئیں. . اپنی ساکھ داؤ پر لگا کر 21 ویں صدی کے خون ریز تنازعہ میں امن کے لیے مہلت پیدا کرنے کی کوشش کی. دنیا میں اپنی نوعیت کے سب سے بڑے حریفوں کو سامنے لا بٹھایا. شاباش پاکستان!
کہانی ابھی باقی ہے میرے دوست!
عارف انیس، اسلام آباد
@Shah15446472 اتنے بڑے مجمعے میں صرف ایک باشعور انسان، یہ بھیڑ بکریاں سوچنے سمجھنے سے قاصر ہیں جو اسے بولنے سے روک رہے ہیں؟ اس جانوروں کے ریوڑ پر عاصم خنزیر کی ہی حکومت ہونی چاہئیے یہ مویشی اس ہی کو ڈیزرو کرتے ہیں اور ڈیزرو کرتے ہیں کہ ہر روز مہنگائی کے ہاتھوں خود اپنا اور اولاد کا گلا دبا دیں
جب فیصلے سیاستدانوں کے بجائے ، پراپرٹی ڈیلر کرے تو پھر انجام تو یہی ہوگا
جیرڈ کوشنر نے اپنے سسر ٹرمپ کو اس جنگ میں دھکیل کر ڈبو دیا ۔ آج سان فرانسسکو، کیلیفورنیا کے اوشن بیچ پر ‘No Kings’ کے مظاہرین جمع ہوئے اور ایک پیغام بنایا: ‘TRUMP MUST GO NOW!’”
After much reflection, I have decided to resign from my position as Director of the National Counterterrorism Center, effective today.
I cannot in good conscience support the ongoing war in Iran. Iran posed no imminent threat to our nation, and it is clear that we started this war due to pressure from Israel and its powerful American lobby.
It has been an honor serving under @POTUS and @DNIGabbard and leading the professionals at NCTC.
May God bless America.