فرازانہ علی کو نوکری سے فارغ کروانا ذہنی پستی کی ایک اور انتہا ہے۔
بلوچستان ہو یا کے پی وہاں دہشت گردی اور دوسرے مسائل کی وجہ سے پہلے ہی خواتین بہت کم تعداد میں صحافت یا دوسرے شعبوں میں مشکل حالات میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ ان کے ساتھ یہ رویہ سمجھ سے باہر ہے۔ شرمناک
اس وقت جو گورنر راج کی بات کر رہے ہیں، اس سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے، لگانا چاہتے ہیں تو سو بسم اللہ، بالکل گورنر راج لگانی ہے، یا ایمرجنسی لگانی ہے۔ ویسے بھی صوبائی حکومت اور اسمبلی کا جو مینڈیٹ ہوتا ہے، حکومت کے پاس جو اختیار ہوتا ہے، وہ تو ویسے بھی چھینا گیا ہے، زبردستی چھینا گیا ہے۔ کیا اس طرح ہوتا ہے کہ اراکین اسمبلی اغوا ہوتے ہیں، اس طرح ہوتا ہے کہ پولیس بالکل بے بس ہو جاتی ہے، صوبائی حکومت کے کسی فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوتا، احکامات کہاں سے ہوتے ہیں، آرڈر کہاں سے ملتے ہیں؟ ویسے بھی عملاً انہوں نے اپنا راج قائم کیا ہوا ہے۔ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کریں لیکن ایک بات یاد رکھیں، گورنر راج کے لیے جو ماحول بنانا چاہتے ہیں، جو ڈرامہ رچانا چاہتے ہیں، تو بلوچستان میں کیا حال ہے، وہاں کیا ریشو ہے، آزاد کشمیر میں کیا ہو رہا ہے؟ پھر تو پورے ملک میں ایمرجنسی ڈکلیئر کریں گے، ادھر پنجاب میں جو کچے کے ڈاکوؤں کی حکمرانی ہے۔انہوں نے ویسے بھی ماورائے آئین سارے اقدامات کیے ہیں، لیکن گورنر راج شہباز شریف کی حکومت کو فارغ کرے گا، یہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماریں گے۔ ہم ہر صورت میں اپنی جمہوری جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے۔
عمران خان کے کزن قاسم خان کا کہنا ہے ہماری بہن علیمہ خان کو روڈ سے اور اس کے بعد نورین خان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو گھر سے تقریباً سو پولیس اہلکاران اغواء کرکے لے گئے۔ ان کے ساتھ شاہریز خان اور شیرشاہ،عظیم خان اور نورین خان کی بیٹی سکینہ بھی تھیں جن کو بعد میں رہا کردیا گیا۔
اگر خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کی غلطی کی تو وہی گورنر راج سندھ میں بھی لگے گا, پنجاب میں بھی لگے گا, بلوچستان میں بھی لگے گا .
عزتیں کسی کی محفوظ نہیں رہیں گی
یہ نظام کسی کو نہیں چھوڑے گا
کل جس قسم کا ٹریلر سہیل آفریدی نے دکھایا یے اس نے خوف پیدا کردیا ہے۔ حکومت کو دراصل علم ہے کہ عوام بہت زیادہ بڑی تعداد میں باہر نکل آئے گی اسلیے تو وہ گورنر راج اور ایمرجینسی لگانے کا سوچ رہے ہیں!ثاقب بشیر۔
ابھی تین گھنٹے سے زیادہ ہماری محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس سے میٹنگ ہوئی ہے ہم احتجاج کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے لانگ مارچ کے قائد سہیل آفریدی ہیں عمران خان نے ان کو مقرر کیا ہم ہر طریقے سے ان کو سپورٹ کریں گے
سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ
ہمیں یہ ڈراوا دینا کہ ایمرجنسی لگا دیں گے، گورنر راج لگا دیں گے، کوئی ہمیں اس سے ڈرا نہیں سکتا اس سے ہمارا اور عوام کا اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ مزید تقویت پکڑے گا، اور عوام مزید قوت کے ساتھ باہر نکلے گی۔
@salmanAraja
ہمیں ہے حکم ہے اب ہم نکل پڑے ہیں اب نا تو کوئی شہباز اور ناہی کوئی عاصم ہمیں روک سکتا ہے . ہمارا ساتھ دیں ........ چاہتے ہیں بغیر گولی چلے بغیر بنگلہ دیش سری لنکا نیپال بنے ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی آ جائے ۔
محمود خان اچکزئی
کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، گورنر راج لگانے پر ریکشن آئے گا اور بہت سے لوگوں کو بہا کر لے جائے گا۔ ہم تو کہتے ہیں لگاؤ گورنر راج پھر ہم جانیں اور گورنر جانے۔ ہمارے لیڈر پر جعلی مقدمات ہیں، یہاں تک کے اس کی بزگ بہنوں کو جیل میں قید کیا گیا، پھر کہتے ہیں لانگ مارچ نہ کرو۔ جنید اکبر۔
وزیر اعلی سہیل آفریدی کا لانگ مارچ کے حوالے سے فنڈ ریزنگ کے حوالے سے ویڈیو پیغام
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا @SohailAfridiISF پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ میں بروز جمعہ 2 اکتوبر شام 4 بجے موجود ہوں گے۔ وہ تمام افراد جو حقیقی آزادی لانگ مارچ کے لیے اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں، براہِ راست فنڈ وزیراعلیٰ صاحب کو دے سکتے ہیں۔
#LongMarchOnOctober4th https://t.co/HpMo7jFxvQ…
۔ آخری لڑائی! KP میں گورنراج یا ملک میں ایمرجنسی؟
۔نظام کے باؤنسر پر آفریدی کی HIT!
۔لانگ مارچ ملتوی، یا 4 اکتوبر D-DAY ہو گا۔۔؟
۔سیاسی دھماکوں کا ہفتہ، کون گھر جائے گا؟
مکمل ویڈیو لنک: https://t.co/qek5pC59yf
#خان_کی_بہنیں_فوری_رہا_کرو
معاشی ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان محمد زبیر عمر:
🔹 آپ کو پی ٹی آئی کی قیادت کا موقف بھی سمجھنا ہو گا۔ پی ٹی آئی کی قیادت پر ان کے کروڑوں ورکرز کا شدید دباؤ ہے۔ ان کے لیے خان صاحب 'ریڈ لائن' ہیں۔ آپ اور میں اس بات سے اتفاق کریں گے کہ ان کے ورکرز کے لیے خان صاحب ہی 'ریڈ لائن' ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ خان صاحب کی ان کے ذاتی ڈاکٹر سے بھی ملاقات نہیں کروا سکتے؟ اس وقت پی ٹی آئی کی قیادت شدید دباؤ میں ہے۔ وہ یہ نہیں کر سکتی کہ خاموشی سے بیٹھ جائے اور صرف پارلیمانی کمیٹیوں یا پارلیمنٹ کے اندر ہی اپنی جنگ لڑے۔ اس لیے ان کو تمام آپشنز مدنظر رکھنے ہیں، اور میں ان کے اس موقف کی مکمل حمایت و تائید کرتا ہوں۔"
طالبان کو دوبارہ بسانے کا پلان جنرل باجوہ کا تھا جسے پی ٹی آئی کابینہ نے ریجیکٹ کر دیا پھر رجیم چینج کے بعد موجودہ کابینہ نے اس پر دستخط کر کہ منظوری دی تھی۔
سہیل آفریدی نے شیطان باجوہ اور اس کے چیلوں کہ حقیقت کھول دی