کشمیر میں جوانوں کی شہادتیں مسلسل جاری ہیں لیکن چور مال مسروقہ پہ لڑ رہے ہیں۔ انہیں انسانی جانوں اور کشمیر سے زیادہ اپنی سیٹوں کی فکر ہے۔ لعنت ایسی سیاست پر!
سہیل آفریدی کو مروت ، گنڈاپور سے زیادہ ٹائم ملا۔ سہیل آفریدی پر بوجھ بھی گنڈاپور اور مروت وغیرہ سے زیادہ آئے گا اور انجام بھی زیادہ بھیانک۔ جس ڈھٹائی اور بے شرمی کا مظاہرہ سہیل آفریدی اور اسکے گینگ نے کیا ہے کسی دوسرے نے نہیں کیا۔ تنقید ہوئی تو کنٹینر کا پھیرا لگا آیا۔ بجٹ سرپلس دینے کا موقع آیا تو اڈیالہ جانا شروع کردیا۔ بجٹ پاس ہوگیا تو اڈیالہ جانا بند کردیا۔ جلسے جلوسوں میں بڑھکیں شروع کردیں۔ لوگ زیادہ نکلنا شروع ہوگئے تو ریلیوں کا سلسلہ ختم کردیا۔ عمران خان کی آنکھ کے مسئلے پر احتجاج ہوا تو پختونخواہ ہاوس میں خود ساختہ محصوری اختیار کرلی۔
جس ملک میں بجلی کا بل دیکھ کر نوجوان پھندے سے جھول جاتے ہیں ، دس ہزار کا ادھار نا دے سکنے پر خودکشی کرلیتے ہیں ، مائیں بھوک سے بلکتے بچوں کے ساتھ نہروں میں کود جاتی ہیں وہاں یہ طعنے کون بے غیرت مار رہا ہے کہ دو کروڑ لو اور اپنا بچہ بارڈر پر بھیجو؟
پاک فوج اعلان کردے کہ کوئی شخص مالی حالات کے باعث خودکشی نا کرے بلکہ آکر پاک فوج سے دو کروڑ لے اور بارڈر پر چلا جائے۔
بات سخت ہے لیکن اتنی ہی بڑی حقیقت ہے کہ جنہوں نے ایک عورت اور مرد کے حلال رشتے نکاح پر زمانے بھر کا گند اچھالا تھا آج وہ اغوااور زنا کا دفاع کر رہے ہیں ۔ اللہ اللہ ۔!!!
ٹھیک ہی کہا گیا ہے خدا کسی کو تب تک موت نہیں دیتا جب تک اس کا اصل سامنے نہ لے آئے۔
"جس شخص نے پاکستان کو ایٹم بم دیا، آج اسی کی بیٹی عدالتوں میں دھکے کھا رہی ہے!" محسنِ پاکستان کی بیٹی کے رلا دینے والے انکشافات!
ڈاکٹر عبدالقدیر خان... وہ نام جس کی وجہ سے آج ہم سکون کی نیند سوتے ہیں، جس نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس عظیم ہیرو کے مرنے کے بعد ان کے نام اور ان کی فیملی کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟
محسنِ پاکستان کی صاحبزادی، ڈاکٹر دینا خان نے خاموشی توڑتے ہوئے ایک ایسا لرزہ خیز انکشاف کیا ہے جس نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔
"جب میں اپنے باپ کا آخری خواب بچانے کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹ رہی تھی، تو میں سوچتی تھی کہ کیا میرے والد نے اپنی پوری زندگی، اپنا سب کچھ اس ملک پر لٹا کر کوئی غلطی تو نہیں کر دی؟ آج اس ملک میں ان کے نام کو مٹایا جا رہا ہے اور ان کی بیٹی کو رلایا جا رہا ہے!"
ہوا کچھ یوں کہ 2013 میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے غریبوں کے مفت علاج کے لیے لاہور میں 500 بیڈز کے ایک عظیم 'ٹرسٹ ہسپتال' کی بنیاد رکھی۔ لیکن ان کے انتقال کے فوراً بعد، ان کے اپنے قریبی ساتھیوں اور نام نہاد 'دوستوں' کی نیتیں بدل گئیں۔ انہوں نے جعلی کاغذات بنائے، ڈاکٹر دینا کو ٹرسٹ سے دھکے دے کر نکال دیا اور محسنِ پاکستان کے نام پر لوگوں سے کروڑوں روپے بٹورتے رہے۔
ڈاکٹر دینا نے ہمت نہیں ہاری! اس اکیلی بیٹی نے ایک طویل قانونی جنگ لڑی، ان آستین کے سانپوں کو بے نقاب کیا اور اپنا ٹرسٹ بڑی حد تک واپس لیا۔ لیکن آج بھی مافیا ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔
انتہائی دکھی دل کے ساتھ ڈاکٹر دینا نے سوال کیا: "کیا باوقار قوموں کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے محسنوں کو بھول جائیں اور ان کی اولاد کو ذلیل کریں؟" انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ انہیں ان کے والد کا آخری خواب (غریبوں کا ہسپتال) پورا کرنے کے لیے آسانیاں فراہم کی جائیں۔
جس عظیم انسان نے دن رات ایک کر کے ہمیں ایٹم بم دیا اور دشمنوں سے محفوظ کیا، آج اس کی بیٹی اپنوں سے ہی انصاف کی بھیک مانگ رہی ہے۔
علیمہ خانم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالا جائے وہ عمران خان کے بی ہاف پر ایران تعزیت کے لیے جانا چاہتی ہیں۔
اخے تحریک انصاف کا وفد ایران نہیں گیا مخے ہنڑ ایتھے وڑو
اگر تبصرہ پاڑوں کا عمران خان سے سابقہ آرمی چیف کی ملاقاتیں والا شغل ختم ہوگیا ہو تو برائے یاد دہانی اطلاع ہے کہ عمران خان کئی مہینوں سے قید تنہائی میں ہے ایک آنکھ کی بینائی ختم ہونے کی اطلاع تین چار مہینے پہلے ایک مبہم سی ملاقات کے بعد آئی اور اب مکمل اندھیرا ہے۔
مزاحمت ہی عمران خان کا حکم ہے، مزاحمت ہی ہمارا راستہ ہے اور مزاحمت سے ہی آزادی ملتی ہے۔
یاد رکھیں
مزاحمت کریں گے تو شاید کچل دئیے جائیں لیکن مزاحمت نہیں کریں گے تو یقینا" کچل دئیے جائیں گے
کتنے دن ہو گئے ؟
کسی نے سہیل آفریدی ' بیرسٹر گوہر ' بیرسٹر سلمان اکرم راجہ سے کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ خان کی رہائی کیلئے احتجاجی تحریک کے معاملے پر "گھن وٹہ" بن کر کیوں بیٹھ گئے ہو.
کبھی سوچا نہیں کہ خان کس حال میں ہے ؟
خان کے پاس تو شیشے کی بوتل میں گڑ بھی نہیں