لیفٹیننٹ ارحم نے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی تھی
اس کے آخری الفاظ تھے :
"ابا، آپ نے مجھے فوج میں نہیں بلکہ جہنم میں بھیج دیا تھا، میرے سینئر افسر میری شکل دیکھ کر میرا ریپ کرتے تھے۔
ایسا پاک فوج میں ہوتا ھے، مگر میں ایسی زندگی نہیں جی سکتا
(لیفٹیننٹ ارحم)
#IndiaPakistan
غزہ میں نتن یاہو کی ہدایت پر جس طرح نمازیوں کو قتل کیا اسی طرح کے اقدام اب عاصم منیر کی ہدایت پر پاکستان میں کیا جارہا ہے نماز پڑھتے ہوئے ایک باریش شخص کو رینجرز نے 60 فٹ کی اونچائی سے پھینک کر شھید کردیا
Imagery of the horrific massacre in Pakistan is something like this.
جنرل ضیا کے دور میں جنرل موسی کے پاس کوئٹہ میں ایک اعلی نسل کا کتا ہوا کرتا تھا۔ پنڈی کے ایک جنرل صاحب کے پاس ایک کتیا تھی اور ان کی خواہش تھی کہ اس کی بریڈنگ کوئٹہ والے کتے سے ہو۔ کتیا کو کوئٹہ پہنچانے کیلئے پی آئی اے کے جہاز کی آپشن زیرغور آئی لیکن جنرل صاحب جہاز میں دستیاب سہولیات سے مطمئن نہ تھے۔ چنانچہ چکلالہ سے سی ون تھرٹی جہاز منتخب کیا گیا جس میں ویسے تو ٹینک، توپیں وغیرہ ٹرانسپورٹ کی جاتی ہیں، لیکن تاریخ میں پہلی بار اس کے ذریعے ایک کتیا کو کوئٹہ پہنچایا گیا کیونکہ جنرل صاحب کا حکم تھا۔
یہ جہاز دو دن کوئٹہ رہا۔ اس دوران کتے اور کتیا کو مکمل رومانس کرنے کا موقع دیا گیا اور مطلونہ عمل مکمل ہونے کے بعد وہ کتیا واپس سی ون تھرٹی کے ذریعے پنڈی پہنچائی گئی۔
کل جب عام فوجیوں کی لاشوں کو گدھوں کے ذریعے منتقل کرنے کی تصویریں دیکھیں تو یہ واقعہ یاد آگیا جو کئی سال قبل کسی کتاب میں پڑھا تھا۔
عام سپاہی ہوں یا عوام، جرنیلوں کے نزدیک ان کی حیثیت کتوں سے بھی کمتر ہے!!!
ریٹائرڈ چیف جسٹس کے لئے تو قانون لندن میں جاگ گیا لیکن صرف دو ہفتے پہلے سندھ پولیس نے اس لڑکی کو کراچی کی سڑکوں پر گھسیٹا تھا
وہ پوچھنا تھا کیا یہ عورت نہیں یا یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں نہیں آتا 💔
پی آئی اے کے پاس چھ عدد بوئنگ 777 جہاز ہیں۔ ایک بوئنگ 440 ملین ڈالرز میں پڑتا ہے جو کہ تقریباً چودہ ارب روپے بنتے ہیں۔
کل پوری پی آئی اے کی قیمت صرف دس ارب روپے لگائی گئی جبکہ پی آئی اے کے پاس کل 32 جہاز ہیں۔
پی آئی اے وہ ادارہ ہے جس کا سربراہ ہمیشہ کوئی ائیرمارشل، ریٹائرڈ وردی والا ہی رہا اور آج پی آئی اے جس حال کو پہنچ چکی ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان لوگوں نے باقی ماندہ ملک کا کیا حشر کیا ہوگا۔
پیارے پاکستانیوں!
آج صرف دس منٹ نکال کر یہ ویڈیو غور سے سنیں پلیز 🙏
یہ ویڈیو ان تمام لوگوں کے منہ پر تماچہ ہے جو کہتے تھے کہ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم نے عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہا تھا۔
ساتھ ہی ساتھ یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ عمران خان کے ساتھ جو ہو رہا ہے کون کرا رہا ہے
جزاک اللہ
@MoeedNj " ہم (پنجاب پولیس) نے آپ بڑے بھائی (آرمی) کے کہنے پر عوام خان کی تراش خراش کی،
اب عوام خان، بڑے بھائی آپکی تراش خراش کرنا چاہتا ہے،
اور جس وقت عوام خان نے آپکی تراش خراش کی تو آپ یہ برداشت نہیں کرسکے گے "
درجن بھر کیمروں ، لاتعداد صحافیوں اور ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں ہونے والے کھلم کھلا حملے کو ڈرامہ قرار دینے والے مولانا فضل الرحمان اور دیگر سیاست دانوں جیسے لوگ اگر اکسٹھ ہجری میں موجود ہوتے تو ان سے کچھ بعید نہیں تھا کہ سانحہ کربلا پر بھی جے آئی بنانے کا مطالبہ کر دیتے