⚠️A very old video, around 2007, where intense Pakistani Airstrikes massacred many innocent Pashtun civilians in Mir Ali, North Waziristan. Pakistanis try to cover up this part of history and falsely show themselves as fighting terrorism but reality tells you something else. #TTP
Large numbers of mineral-laden trucks reportedly leave Khyber Pakhtunkhwa every day. Claims suggest each truck carries minerals worth PKR 800 million to 1 billion, with that the military seeks control over these resources.
The most disgusting part of this Medusa woman is that her husband was discussing how long he takes before he ejaculates with a known Anti Pashtun guy called Ali Chisiti. Imagine your Punjabi husband going around on spaces telling people hes having sex with a woman from Waziristan
What’s wrong with Punjabis? Every time someone suggests that your husband is Punjabi (which he most likely is) you get defensive, chimp out, and start hurling insults. Why are you so triggered by the mere suggestion? You’re acting like a racist bigot
Latest from KPK chaos: People of Peshawar are confronting armoured vehicles unarmed. This shows they could get rid of Asim Munir in a week if they take up arms.
کابل میں خفیہ اجلاس، بھارت کی جانب سے ایک کروڑ ڈالر کی پیشکش اور بی ایل اے کا ڈرون ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا منصوبہ، خفیہ نیٹ ورک کی اندرونی کہانی
بلوچستان میں مسلسل ناکامیوں، مالی وسائل کی کمی اور سیکیورٹی فورسز کی بڑھتی ہوئی نگرانی نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی قیادت کو ایک ایسے منصوبے پر غور کرنے پر مجبور کر دیا تھا جو تنظیم کی مستقبل کی سرگرمیوں کا رخ بدل سکتا تھا۔ تنظیم کے بعض کمانڈروں کا خیال تھا کہ روایتی طریقوں سے سیکیورٹی فورسز کا مقابلہ کرنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اسی لیے انھوں نے جدید ڈرون ٹیکنالوجی، فضائی نگرانی کے آلات اور ڈرون مخالف نظام حاصل کرنے کی تجویز پیش کی۔ تاہم اس منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رقم کی عدم دستیابی تھی۔
افغانستان کے علاقے قندھار میں قائم ایک خفیہ ٹھکانے میں بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب نے اپنے تین قریبی ساتھیوں کے ساتھ ایک طویل اجلاس کیا۔ اجلاس میں شریک کیپٹن رحمان گل نے بتایا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران تنظیم کو متوقع وسائل کا صرف 31 فیصد حاصل ہو سکا تھا، جبکہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں کئی مقامی نیٹ ورک غیر فعال ہو چکے تھے۔
بشیر زیب نے اس اجلاس میں مؤقف اختیار کیا کہ تنظیم کو اپنی موجودہ مشکلات پر قابو پانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈرون اور ڈرون جام کرنے والے نظام حاصل کرنے کی تجویز دی گئی، جن کی مجموعی لاگت ابتدائی اندازوں کے مطابق ایک کروڑ امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی تھی۔ مالی نگران نے واضح کیا کہ تنظیم کے پاس اس وقت اتنی بڑی خریداری کے لیے درکار رقم کا معمولی حصہ بھی موجود نہیں تھا۔
اس صورتحال میں تنظیم کی مالی کمیٹی کو فوری وسائل جمع کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ اگلے چند ہفتوں کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تاجروں سے بھتے کے مطالبات، تعمیراتی کمپنیوں کو دھمکیوں اور شاہراہوں پر مسافروں سے لوٹ مار کی وارداتوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ کہانی کے مطابق یہ سرگرمیاں ایک منظم مالی مہم کا حصہ تھیں، جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کی خریداری کے لیے ابتدائی سرمایہ حاصل کرنا تھا۔
تنظیم کے مالی ریکارڈ میں اس مہم کو منصوبہ سنگِ مرمر کا نام دیا گیا تھا۔ حارث زنگی نے ابتدا میں تین ماہ کے اندر تقریباً 24 لاکھ ڈالر کے مساوی رقم اکٹھی ہونے کی توقع ظاہر کی تھی۔ لیکن سیکیورٹی فورسز کی نگرانی، مقامی تاجروں کی مزاحمت اور متعدد سہولت کاروں کی گرفتاری کے باعث یہ اندازے پورے نہ ہو سکے۔
تین ماہ کے اختتام پر ہونے والے جائزہ اجلاس میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر صرف چار لاکھ 80 ہزار ڈالر کے مساوی وسائل جمع کیے جا سکے تھے۔ ان میں سے بھی ایک بڑی رقم تنظیم کے روزمرہ اخراجات اور غیر فعال نیٹ ورکس کو دوبارہ منظم کرنے کی کوششوں پر خرچ ہو چکی تھی۔
مالی وسائل کی اس ناکامی کے بعد بشیر زیب نے افغانستان میں موجود تنظیم کے رابطہ کار مُلا فرید سے رابطہ کیا۔ مُلا فرید کئی برسوں سے افغان سرزمین پر مختلف مسلح گروہوں، غیر قانونی کاروباری حلقوں اور بیرونی رابطہ کاروں کے درمیان ثالث کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔ تنظیم کے اندر اسے بیرونی معاملات کا نگران کہا جاتا تھ ۔
مُلا فرید نے بشیر زیب کو بتایا کہ کابل میں موجود بعض بیرونی رابطہ کار جدید ڈرون ٹیکنالوجی کی فراہمی کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہیں، لیکن اس کے لیے تنظیم کو اپنے مالی وسائل اور مطلوبہ سامان کے بارے میں واضح فیصلہ کرنا ہوگا۔ ان رابطوں کے نتیجے میں افغانستان میں ایک اہم اجلاس بلانے پر اتفاق کیا گیا۔
ستمبر کے تیسرے ہفتے میں کابل کے مضافات میں واقع ایک نجی رہائش گاہ، جسے رابطہ کاروں نے گلستان ہاؤس کا نام دے رکھا تھا، میں چھ افراد جمع ہوئے۔ اجلاس میں بشیر زیب ، تنظیم کے مالی نگران رحمان گل، افغان رابطہ کار مُلا فرید، بیرونی معاملات کے مشیر کامران ساحلی اور دو دوسرے افراد شریک تھے۔
ان میں ایک شخص نے اپنا تعارف راجیو مہرا کے نام سے کروایا۔ وہ خود کو بھارتی خفیہ رابطہ کاری کے ایک خصوصی شعبے کا نمائندہ ظاہر کرتا تھا، جبکہ دوسرا شخص دیپک رانا تھا، جسے اجلاس کے مالی امور کی نگرانی کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔
اجلاس کے آغاز میں بشیر زیب نے بلوچستان میں تنظیم کو درپیش مشکلات کی تفصیلات بیان کیں۔ اس نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز کی بڑھتی ہوئی نگرانی نے تنظیم کی نقل و حرکت محدود کر دی ہے، جبکہ مالی وسائل میں کمی کے باعث کئی منصوبے تعطل کا شکار ہیں۔ اس کے مطابق اگر تنظیم کو جدید ڈرون اور ڈرون مخالف ٹیکنالوجی حاصل نہ ہوئی تو آنے والے مہینوں میں اس کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
رحمان گل نے اجلاس میں مالی صورتحال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بھتے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں سے مطلوبہ سرمایہ جمع کرنے کی کوششیں توقعات کے مطابق کامیاب نہیں ہوئیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وسائل کی کمی نے تنظیم کے اندر اختلافات پیدا کر دیے ہیں اور بعض علاقائی کمانڈر مرکزی قیادت کے فیصلوں سے ناخوش ہیں۔
اس موقع پر راجیو مہرا نے شرکا کو یقین دلایا کہ مالی وسائل کی کمی منصوبے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔
اس نے میز پر رکھی دستاویز بند کرتے ہوئے کہا، 'آپ کو ٹیکنالوجی چاہیے، اس کے لیے سرمایہ فراہم کیا جائے گا۔ لیکن پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ منصوبے کی نگرانی کون کرے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری کس پر ہوگی۔'
طویل گفتگو کے بعد راجیو مہرا نے ایک کروڑ امریکی ڈالر فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ اس رقم کو جدید ڈرون ٹیکنالوجی، ڈرون مخالف نظام، تربیتی اخراجات اور متعلقہ تکنیکی معاونت کے لیے مختص کیا جانا تھا۔ اجلاس میں شریک بھارتی نمائندوں نے مالی معاونت کو مرحلہ وار منظوری سے مشروط کیا، جبکہ تنظیم کو منصوبے کی انتظامی نگرانی کے لیے ایک الگ کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت دی گئی۔
اس کمیٹی کا سربراہ کامران ساحلی مقرر ہوا، جبکہ رحمان گل کو مالی امور اور فرید کاکڑ کو افغانستان میں رابطہ کاری کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اجلاس کی کارروائی کو انتہائی محدود افراد تک رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اگلے مرحلے میں بین الاقوامی نیٹ ورکس سے رابطوں کا معاملہ زیر بحث آیا۔ مُلا فرید نے بتایا کہ اس کے بعض روابط ایسے غیر قانونی تجارتی گروہوں سے ہیں جو مختلف ممالک میں ممنوعہ اور حساس ٹیکنالوجی کے کاروبار سے منسلک رہے ہیں۔ اس نے دو گروہوں کے نام پیش کیے، جن میں ایک کو مشرقی یورپ کے جرائم پیشہ نیٹ ورک اور دوسرے کو بین الاقوامی کارٹیل سے منسلک بتایا گیا۔
پہلے گروہ کی نمائندگی وکٹر مارکوف نامی شخص کر رہا تھا، جبکہ دوسرے نیٹ ورک کا رابطہ کار لوئس مورینو تھا۔ دونوں افراد اپنے اپنے حلقوں میں تکنیکی سامان کے غیر قانونی کاروبار سے تعلق رکھنے کا دعویٰ کرتے تھے۔ تاہم اجلاس میں ان کی حقیقی صلاحیتوں اور دستیاب سامان کے بارے میں کئی سوالات اٹھائے گئے۔
کامران ساحلی نے ان رابطوں کی نگرانی اپنے ذمہ لی، جبکہ فرید کاکڑ کو افغانستان میں آنے والے سامان اور تربیتی انتظامات سے متعلق پیش رفت سے آگاہ رکھنے کا فیصلہ ہوا۔
منصوبے کا دوسرا اہم حصہ تربیت تھا۔ اجلاس میں طے پایا کہ ڈرون ٹیکنالوجی سے متعلق ابتدائی تعارف اور تکنیکی تربیت افغانستان میں فراہم کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے کابل کے مضافات میں دو نجی مراکز اور ایک متبادل رہائشی کمپلیکس کا جائزہ لیا گیا۔ ان مقامات کو اندرونی دستاویزات میں مرکزِ الف، مرکزِ ب اور مرکزِ ج کے نام دیے گئے۔
بعد میں ایک انتظامی جائزے کے دوران مرکزِ ب کو ابتدائی تربیتی مقام کے طور پر منتخب کر لیا گیا۔ یہ فیصلہ مُلا فرید اور کامران ساحلی کی مشترکہ سفارش پر کیا گیا تھا۔ منصوبے کے مطابق پہلے مرحلے میں 18 افراد تربیت میں شریک ہونے والے تھے، جبکہ دوسرے مرحلے کی تعداد کا تعین ابتدائی پروگرام کی تکمیل کے بعد ہونا تھا۔
اس دوران کابل میں موجود رابطہ کاروں نے مرکزی کمیٹی کو اطلاع دی کہ منصوبے سے متعلق بعض الیکٹرانک پرزہ جات اور تکنیکی آلات افغانستان پہنچ چکے ہیں۔ مُلا فرید کی جانب سے بھیجی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سامان کی پہلی کھیپ میں 14 پیکج شامل تھے، تاہم ان کی مکمل تکنیکی جانچ ابھی باقی تھی۔
Dear Medusa, your boyfriend is a Punjabi who thinks hes Persian and Hashmi Arab, but he only speaks Urdu and pretends not to know Punjabi, do you want him to one day discover hes a Ranjeet Singh then you will cry in regret.
We've got a Peshawar-based lawyer who claims to be a former legal adviser to the Afghan Embassy in Pakistan, has represented Afghan nationals in citizenship & deportation cases, uses the handle “AfghanNarrative” & replies “Pakhtunkhwa First” to “Pakistan First” 😀
Honoured to meet @iShaheenAfridi today. It was a heartfelt conversation. I appreciated his services to Pakistan and the dedication he brings to the national team every time he represents the country. Wishing him continued success ahead. 🇵🇰🏏
Thousands of thugs from Punjap police, Punjapi army and Punjap rangers are being deployed across Pashtunkwa
This is an attack on the honour of every PASHTUN
PASHTUNISTAN LIBERATION ARMY (PLA)
requires every Pashtun Zalmay to destroy the cameras that the regime has installed
Sohail Afridi repeatedly used to say that we ordered and also paid for APCs for our police and CTD but federal government is refusing to give us the APCs,but now the moment PTI government got ousted,the APCs arrived. I am really starting to believe what Sohail Afridi was saying.