میرے اکاؤنٹ پر ایک بار پھر Restriction لگ گئی ہے لگتا ہے کوئی ہمارے کام سے بہت زیادہ ناراض ہے آپشن دو ہی ہیں یا کام چھوڑ دیں یا آپ سب کی مدد سے اُسے تُن دیں .
اس پوسٹ کو لائک شئیر اور comment کریں تاکہ اکاؤنٹ کی سانسیں بحال کی جاسکیں 🙏❤️✌️
Check out my latest article: Stay relaxed is fine, but staying committed is better https://t.co/8tNsQ7Q3qO via @LinkedIn Be positive and vigilant always to move forward.
I just published A Silent Architect of Growth https://t.co/8WTsvEWJwm
"دنیا تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے، لیکن پاکستان ایسے لُوٹیرے اور کرداروں میں الجھا ہوا ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام کی سمت درست نہ ہونے تک کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہوگی۔"
لاہور میں میزائل حملے، پاکستانی حکومت اور فوج کی جانب سے شہریوں کو کوئی وارننگ نہیں دی گی، پاکستان کا دفاعی سسٹم پوری طرح ناکارہ ھے اور یا پھر" کتی چوراں نال ملی ہوئی اے "
آغا صاحب۔!
السلام وعلیکم و رحمتہ اللہ، ہم پاکستانی عوام آپ افغانوں کے بھائی ہیں. آپ جانتے ہیں کہ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے لہٰذا مسلمانوں کو آپس میں جنگ نہیں لڑنی چاہیے. پاکستانی جرنیل صہیونی ایجنٹ اور طاغوتی مُہرے ہیں. انہیں انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل تھی. جوکہ بتدریج ختم ہو رہی ہے. افغان بھائیوں کو صبر و تحمل اور حکمت سے کام لیتے ہوئے(طاغوتی غلام) جرنیلوں کو شکست دینے کیلئے پاکستانی عوام سے تعاون کرنا چاہیے. امید کرتا ہوں آپ میری تجویز پر غور فرمائیں گے۔
تحریک طالبان پاکستان (TTP) کا مسئلہ سراسر پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے، جس کا افغانستان یا امارتِ اسلامیہ کے قیام سے کوئی واسطہ نہیں، بلکہ(TTP) پاکستانی فوج کے ظلم و جبر کا نتیجہ ہے۔
اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ اس تحریک کا امارتِ اسلامیہ کے قیام سے تعلق ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ "ضربِ عضب" آپریشن کس کے خلاف کیا گیا تھا؟
"عزمِ استحکام" کی جنگ کس کے خلاف لڑی گئی تھی؟
اگر واقعی تحریک طالبان پاکستان والے افغانستان سے جاتے ہیں، تو پھر فرضی سرحد پر قائم سینکڑوں فوجی چوکیوں اور گنتی بھر سپاہیوں کی موجودگی کا کیا جواز ہے؟
مزید برآں، پاکستان کے اندرونی شہروں جیسے ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور، کوئٹہ، کراچی اور پنجاب میں ہونے والے حملے کس کے ہاتھوں سرزد ہو رہے ہیں؟
جہاں تک ان وزیرستانی مہاجرین کا تعلق ہے جو افغانستان میں پناہ گزین ہیں، تو یہ وہی لوگ ہیں جن کے گھروں کو پاکستانی فوج نے "ضربِ عضب" کے دوران ملبے کا ڈھیر بنا دیا اور انہیں بے گھر ہونے پر مجبور کیا۔ ان کے حالات سے امارتِ اسلامیہ کا کوئی واسطہ نہیں ہے، البتہ ان کی حفاظت امارت اسلامیہ کا دینی اور اخلاقی فریضہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ اپنے اندرونی مسائل کی گہرائی سے چھان بین کرے اور ان کا سنجیدہ حل تلاش کرے۔ آئندہ افغانستان کی طرف بری نگاہ ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے، ورنہ اپنی سیاسی، معاشی، سیکیورٹی اور دیگر درجنوں مشکلات کے ساتھ ایک نئی مصیبت کو بھی دعوت دے بیٹھو گے۔