سوئٹزرلینڈ میں پاکستان چھا چھو گیا
سوئٹزرلینڈ کے مقامی لوگ پاکستانی میڈیا ،پاکستانی صحافیوں اور پاکستان کے نام کی اتنی زیادہ کوریج اور پذیرائی کی توقع نہیں رکھتے تھے مقامی پاکستانیوں کی تعداد کم ھونے کے باوجود برجن اسٹاک ریزورٹ میں پاکستان کے جھنڈوں اور تشہیر نے پاکستان کو توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ وہاں کے مقامی افراد بھی اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ اس بڑی جنگ کو ختم کرنے میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے
حضرت شماس بن عثمان رضی اللہ عنہ : وہ واحد صحابی جن کا جنازہ پڑھنے سے نبی کریم ؐ نے منع فرما دیا تھا ۔۔۔۔ نبی کریم ؐ نے اپنی حیات مبارکہ میں ہر صحابی کی نماز جنازہ پڑھائی ، حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کا جنازہ روایات کے مطابق 70 مرتبہ ادا ہوا ۔ لیکن احد کے معرکے میں نبی کریم ؐ پر اپنی جان نچھاور کرنے والے شماس بن عثمان رضی اللہ عنہ کو جب غسل کے بعد کفن پہنا دیا گیا تو نبی کریم ؐ نے انکی نماز جنازہ نہیں پڑھائی ۔ جب دیگر صحابہ کرام نے وجہ پوچھی تو آپ ؐ نے فرمایا ہم انتقال کرجانیوالوں کے درجات کی بلندی کے لیے نماز جنازہ پڑھتے ہیں لیکن شماس بن عثمان تو اس درجے پر پہنچ چکا ہے جس سے اوپر کوئی درجہ ہی نہیں اس لیے اسکا جنازہ پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں ۔۔۔ یاد رہے کہ جب دشمن نے نبی کریم ؐ پر تیروں کی بوچھاڑ کردی اور آپ کو شہیید کرنا چاہا تو حضرت شماس بن عثمان رضی اللہ عنہ نے ہر طرف سے پیارے نبیؐ کو ان تیروں سے بچایا ، اور انکی جانب پھینکے گئے تیر کو اپنے جسم پر روک لیا ۔۔۔۔۔ بلاشبہ اللہ کے نبی پر جان وارنے اور انکی زندگی بچانے سے بڑا درجہ بھلا کیا ہو سکتا ہے ۔۔۔۔
ایران میں اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب جنگ شروع ہونے میں صرف ڈیڑھ گھنٹہ باقی رہ گیا تھا۔
اس موقع پر فیلڈ مارشل صاحب نے وہاں کے اعلیٰ حکام سے صرف ایک بات کہی: "میں نے سچے دل سے پوری کوشش کی ہے کہ ایک بھی جان بچا سکوں۔ آپ جو بھی فیصلہ کریں، وہ آپ کا اختیار ہے، لیکن آخرت کے روز میں آپ سے صرف یہ گواہی چاہوں گا کہ میں نے پوری دیانت داری اور اخلاص کے ساتھ جنگ کو روکنے اور انسانی جانیں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔"
ایٹمی دھماکوں سے قریبا ایک سال بعد ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے منہ سے یہ بات سنی تھی کہ جب انڈیا نے پانچواں دھماکہ 13 مئی کو کر لیا تو،
وزیر اعظم نوازشریف نے آرمی چیف، ڈاکٹر عبدالقدیر، اور مجھے وزیر اعظم ہاوس بلایا، یہ ٹاپ سیکرٹ میٹنگ تھی جس کا علم وزیراعظم کی کابینہ اور پرنسپل سیکرٹری تک کو نہیں تھا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مجھ پر بہت زیادہ عالمی دباؤ ہے کہ پاکستان دھماکے نہ کرے میں اس دباؤ کا اکیلے مقابلہ کر سکتا ہوں بشرطیکہ آپ مجھے بتادیں کہ اگر ہم ٹیسٹ کریں تو کامیابی کے چانسز ہیں یا نہیں؟ ڈاکٹر ثمر کہتے ہیں میں اور عبدالقدیر خان نے ان کو بتایا کہ ان شااللہ کامیابی کے مواقع 90 فیصد ہیں، فیل ہونے کے ٹینیکل چانسز ہوسکتے ہیں ویسے سب ٹھیک ھے، تو اس پر وزیراعظم کہنے لگے میں آپ لوگوں کو اختیار دیتا ہوں کہ آپ دھماکوں کی تیاری کریں لیکن یاد رکھیں اگر ہم ناکام ہوئے تو اس کا مطلب پاکستان کی سالمیت اور آزادی کا خاتمہ ہے اُس صورت میں نہ آپ زندہ رہنا چاہیں گے نہ میں،
تیاری یہ سمجھ کر کریں کہ آپ کی اور میری زندہ رہنے کا انحصار ہی ان دھماکوں کی کامیابی پر ہے”
نواز شریف نے 13 مئی کی رات کو دھماکوں کی تیاری کا حکم دے دیا تھا اور پاک فوج کو دھماکوں سے پہلے انڈیا کے حملے کی صورت میں مکمل جنگ Full scale war کا حکم دے دیا۔ لیکن بظاہر انہوں نے کئی ممالک کے دورے کیے دوست ممالک سے رابطے کیے کیونکہ یہ بات کلئیر تھی کہ دھماکوں کی صورت میں اقتصادی پابندیاں لگنی تھی اور ہمیں تعاون کی بھی ضرورت پڑنی تھی۔
ڈاکٹر ثمر کے بقول وہ دھماکہ پروجیکٹ کے گراونڈ انچارج تھے اور 15 مئی کی رات تک چاغی میں تیاری شروع ہوچکی تھی بقول ان کے یہ ان کی زندگی کے سب سے زیادہ سٹریس فل دن تھے اوپر آسمان پر ۲۲ سیارے ان کی نگرانی کر رہے تھے اور ادھر وزیر اعظم دن میں کئی کئی بار فون کرتے۔بہرحال دھماکے کامیاب ہوئے۔
نواز شریف کی حکمت عملی حیران کن تھی سعودی شاہی خاندان امریکہ کے قریب ترین اتحادی ہونے کے باوجود نواز شریف کا ساتھ دینے پر آمادہ ہوئے سالانہ 2 ارب ڈالر کا مفت تیل اور مجموعی قتصادی ترقی کے لیے بڑا پیکج دیا، اور امریکہ کی وسیع ترین پیش کش پاکستان نے ٹھکرا دی، جن جن حضرات کو مئی کا وہ مہینہ یاد ہے وہ جانتے ہیں کہ انڈین وزیراعظم واجپائی کی کھلی دھمکیوں نے پورے ملک کو پریشان کیا ہوا تھا ان دھماکوں نے پانچ منٹ میں ان دھمکیوں کو دوستی کی پشکش میں بدل دیا۔ اور اصل مسئلہ تو دھماکوں کے بعد پابندیوں سے نمٹنا تھا جو نواز شریف نے بخوبی انجام دیا۔۔ آج کے یوتھیے اور فلمی بلونگڑے کیا جانیں۔
( طارق رحمن )
آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی المعروف کن کترا کمیٹی کیوں اختجاج کر رہی ہے؟
مہاجر سیٹیں؟
سیاسی انجینئرنگ؟
12 سیٹیں؟
اگر آپ کا جواب یہ ہے تو یقین مانیں آپ بہت سادہ ہیں۔
اصلی باریک واردات میں یہاں بیان کر رہا ہوں جو شاید خود ایکشن کمیٹی کے حمایتیوں کو بھی پتہ نہیں ہوگی!
اس جوان نے سرائیکی زبان میں یوتھیا وائرس کی کمال کی چھترول کی ھے👌👏
مسئلہ یہ نہیں عمران کی تیار کردہ نسل جاہل ھے مسئلہ یہ ھے یہ نسل اپنی جہالت پر فخر بھی کرتی ھے مسئلہ یہ نہیں کہ یہ نسل ریاست کے اداروں کے خلاف ایک بیانیے پر کھڑی ہے مسئلہ یہ ہے کہ انہیں یہ سمجھ بھی نہیں ہے کہ اگر ریاست کمزور ہو گئی تو ملک کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا مسئلہ یہ نہیں کہ یہ نسل سمجھتی ہے کہ عمران کے اوپر بہت بڑا ظلم ہو رہا ہے مسئلہ یہ ہے کہ ان کو پتہ نہیں کہ پاکستان کے سیاسی رہنماؤں نے کیسی کیسی قربانیاں دی ہیں مسئلہ یہ نہیں کہ اس نسل کو معاشیات، آئی ایم ایف (IMF) کی پالیسیوں کی سمجھ نہیں ہے۔ مسئلہ یہ بھی نہیں کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ عمران نے اپنی دورِ حکومت میں لیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ نسل سمجھتی ہے کہ عمران اپنی حکومت میں ملک کے قرضے اتارے ہیں
ایک طرف مسٹر پتلو دوسری طرف اس سستے ایکٹر نے یوتھیوں کو ٹک ٹاک پر آگے لگا رکھا
آؤ تمھیں غیرت کا ٹیکا لگاؤں تاکہ تم سوشل میڈیا پر پاکستان اور پاکستانی فوج پر بھونکنا بند کر دوں یوتھیے کا غیرت کا ٹیکا لگوانے سے صاف انکار 😂
اپریل 2022 تک فوج بہت پروفیشنل تھی ، عدلیہ آزاد تھی ، آرمی چیف قوم کا باپ تھا ، الیکشن کمیشن غیر جانبدار تھا ، قوم خود دار تھی۔ بس پھر جونہی کرسی گئی تو قوم غلام ہو گئی، فوج متنازع ہو گئی ، آرمی چیف میر جعفر ہو گیا اور عدلیہ بکاؤ ہو گئی۔
#ٹوٹ_بٹوٹ
جب ایک شہید کو قبر میں اُتارا جاتا ہے تو صرف ایک جسم مٹی میں نہیں جاتا،
پورا وطن اپنے ایک محافظ کو آنکھوں میں آنسو اور دل میں فخر کے ساتھ رخصت کرتا ہے۔
یہ دھرتی اپنے بیٹوں کے لہو سے ہمیشہ محفوظ رہے گی۔