@BBCUrdu تیراہ کے بعد شمالی وزیرستان تحصیل شیواہ سے نقل مقانی شروع۔۔۔
وجہ کواڈ کاپٹر بمباری اور ابادی کے اندر سے فریقین کی شرارتی فائرنگ میں ابادی کو نشانہ بنانا بتائ جاتی ہے 😭
تیراہ کے بعد شمالی وزیرستان تحصیل شیواہ سے نقل مقانی شروع۔۔۔
وجہ کواڈ کاپٹر بمباری اور ابادی کے اندر سے فریقین کی شرارتی فائرنگ میں ابادی کو نشانہ بنانا بتائ جاتی ہے 😭
@BBCUrdu تیراہ کے بعد شمالی وزیرستان تحصیل شیواہ سے نقل مقانی شروع۔۔۔
وجہ کواڈ کاپٹر بمباری اور ابادی کے اندر سے فریقین کی شرارتی فائرنگ میں ابادی کو نشانہ بنانا بتائ جاتی ہے 😭
تیراہ کے بعد شمالی وزیرستان تحصیل شیواہ سے نقل مقانی شروع۔۔۔
وجہ کواڈ کاپٹر بمباری اور ابادی کے اندر سے فریقین کی شرارتی فائرنگ میں ابادی کو نشانہ بنانا بتائ جاتی ہے 😭
تمام ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارتکاری کی طرف واپسی کی فوری ضرورت ہے: شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو
مزید تفصیل: https://t.co/hM90qyidqv
@HamidMirPAK تیراہ کے بعد شمالی وزیرستان تحصیل شیواہ سے نقل مقانی شروع۔۔۔
وجہ کواڈ کاپٹر بمباری اور ابادی کے اندر سے فریقین کی شرارتی فائرنگ میں ابادی کو نشانہ بنانا بتائ جاتی ہے 😭
تیراہ کے بعد شمالی وزیرستان تحصیل شیواہ سے نقل مقانی شروع۔۔۔
وجہ کواڈ کاپٹر بمباری اور ابادی کے اندر سے فریقین کی شرارتی فائرنگ میں ابادی کو نشانہ بنانا بتائ جاتی ہے 😭
@AltafHussain_90 @QasimalirazaAli جمہوریت کیلئے بھٹو کی قربانی پر زرداری نے، اور نواز شریف کی قربانی پر شہباز نے پانی پھیر دیا😭
اور غیر جمہوری قوتوں کو بےلگام گھوڑوں کی طرح کھلا چھوڑ کر ملک کو سرزمین بے ائین و سینہ زوری بنا دیا😭
جمہوریت کیلئے بھٹو کی قربانی پر زرداری نے، اور نواز شریف کی قربانی پر شہباز نے پانی پھیر دیا😭
اور غیر جمہوری قوتوں کو بےلگام گھوڑوں کی طرح کھلا چھوڑ کر ملک کو سرزمین بے ائین و سینہ زوری بنا دیا😭
افغانستان ہمارا پڑوسی اسلامی ملک ہے، پاکستان کی جانب سے افغانستان پر حملے تشویشناک اورسمجھ سے بالاتر ہیں۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی جس میں صدرٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہیں افغانستان کا بگرام ایئربیس چاہیے۔اس کے بعد سے افغانستان سے لڑائی کاسلسلہ شروع ہوگیا ہے اور پاکستان کی جانب سے افغانستان میں حملے کئے جارہے ہیں۔
افغانستان سےپاکستان کی کبھی جنگ نہیں تھی،جب 1979ءمیں افغانستان میں سوویت یونین کی آمد کے خلاف افغانیوں نے لڑائی شروع کی تو وہ پاکستان کی لڑائی نہیں تھی لیکن بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لئے اس لڑائی کوجہاد کانام دیاگیا اور اس کا مرکز افغانستان سے اٹھاکرپاکستان لے آیاگیا، روس کے خلاف افغان مجاہدین کوتیار کیاگیا،انہیں اسلحہ اورٹریننگ دی گئی، اس کے لئے پاکستان کے قبائلی علاقوں کوچنا گیا، پاکستان کے تمام شہروں میں جہادی مدرسے قائم کئےگئے، علمااورمفتیوں کی جانب سے افغان جہاد میں شرکت کے فتوے جاری کئے گئے،ملک بھرمیں مذہبی جماعتوں کی جانب سے کیمپ لگائے گئے اورلوگوں کوافغانستان میں جہاد میں شرکت کے لئے کھلی دعوت دی گئی، ان کے نام لکھے گئے اورافغان جہاد کے نام پر انہیں ٹریننگ دیکرسوویت یونین کے خلاف لڑنے کے لئے افغانستان بھیجا گیا، اس مقصد کے لئے بوریوں میں بھر بھر کے ڈالر ملے۔حالانکہ وہ پاکستان کی جنگ نہیں تھی لیکن بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لئے پاکستان کو اس جنگ میں جھونک دیا گیا اورپاکستان کواس جنگ کا اڈہ بنادیا گیا۔آج پھرپاکستان کوبیرونی طاقتوں کے مفادات کی لڑائی کا ا��ہ بنایا جارہا ہے اور افغانستان پر حملے کئے جارہے ہیں اورپاکستان کامیڈیا اس حوالے سے بڑی بڑی بریکنگ نیوز دے رہاہے۔
میں پاکستان کے حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ امریکہ اورمغربی طاقتوں نےبھی کئی برسوں تک افغانیوں سے لڑائی کی اورپھربالآخر انہیں وہاں سے نکلناپڑا۔ اب پاکستان کی جانب سے افغانستان سے لڑائی کی جارہی ہے۔ میں پاکستان کےحکمرانوں سے کہتا ہوں کہ افغانستان ہماراپڑوسی اسلامی ملک ہے، اس سے جنگ نہ کریں، اس پر حملے نہ کریں، بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لئے جنگیں نہ کریں۔آخر ہم کب تک غیروں کے مفادات کی لڑائی لڑتے رہیں گے اوراپنانقصان کرتے رہیں گے؟ خداکے لئے یورپ سے سب�� حاصل کریں جنہوں نے برسوں تک جنگیں کیں، جن میں لاکھوں لوگ مارے گئے، بالآخر انہوں نے جنگیں ختم کیں، امن کے راستے پرچلے اور ایک دوسرے سے جنگ وجدل کے بجائے آپس میں بہترتعلقات قائم کئے۔ آپ بھی افغانستان سے جنگ وجدل کے بجائے بات چیت کرکے معاملات کوطے کریں اور بہتر تعلقات قائم کریں۔
ایک طرف تو افغان باشندوں کوپاکستان کے قبائلی علاقوں سے نکالاجارہاہے اور انہیں ٹرکوں میں بھربھر کے افغانستان واپس بھیجا جارہا ہے، انہیں وہاں رہنے تک کی اجازت نہیں ہے لیکن دوسری طرف وہ افغان باشندے جو کراچی میں بڑے بڑے کاروبار کررہے ہیں، جن کے عالیشان کاروبارہیں انہیں نہ صرف کراچی میں رہنے سہنے کی آزادی ہے بلکہ ہرطرح کاکاروبارکرنے کی کھلی اجازت ہے، میں حکومت اورفوج کے حکام کودعوت دیتاہوں کہ وہ خود کراچی کادورہ کرکے دیکھ لیں کہ وہاں بڑے بڑے کاروبار کون کررہاہے۔ یا توافغان باشندوں کوافغان جنگ ختم ہونے کے بعد ہی ان کے ملک واپس بھیج دیاجاتا لیکن اب جبکہ انہیں یہاں رہتے ہوئے 40سال ہوگئے ہیں توانہیں واپس بھیجاجارہا ہے۔
میں یہی سمجھتاہوں کہ افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے اس سے جنگ کسی بھی طرح درست نہیں لہٰذا میں پاکستان اور پاکستان سے باہررہنے وا لوں سے کہتاہوں کہ وہ افغانستان پر حملوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔اس وقت پاکستان کوامن و استحکام اوریکجہتی کی ض��ورت ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 389 ویں فکری نشست سے خطاب
16 مارچ 2026ء
X
The American defeat will not only be the defeat of America, but also of a system built on lies, hypocrisy, oppression, lawlessness, injustice, corruption, bribery, and brutality.
امریکہ کا ایران کے جزیرہ خارگ پر فوجی اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ: ہتھیار ڈال کر جو رہ گیا ہے اسے بچا لیں، ٹرمپ کا تہران کو مشورہ
تفصیلات: https://t.co/0FuppFG5eH
X
The American defeat will not only be the defeat of America, but also of a system built on lies, hypocrisy, oppression, lawlessness, injustice, corruption, bribery, and brutality.
X
The American defeat will not only be the defeat of America, but also of a system built on lies, hypocrisy, oppression, lawlessness, injustice, corruption, bribery, and brutality.
افغان طالبان کے خلاف افغانستان کے اندر سے آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں کہ پہلے طالبان نے القاعدہ کے لئے ملک کو 20 سالہ جنگ میں جھونکا، اور اب ٹی ٹی پی کے لئے یہی غلطی کی جا رہی ہے
@ShahzadIqbalGEO#AfghanistanPakistanWar
جہاں افغانستان میں موجود دھشت گردی کے اڈوں پر پاکستانی حملوں کی پوری دنیا نے تائید کی ہے اور ایک بھی ملک افغانستان کے ساتھ نہیں کھڑا ہوا یہاں وہاں بیٹھے پرانے سرخے جو سوویت یونین کی شکست کا غم نہیں بھلا پا رہے وہ حملوں کی مذمت کر رہے ہیں، یہ لوگ ہیں بھی طالبان کے خلاف لیکن پاکستان دشمنی میں بدترین نظام کو بھی قبولیت دے رہے ہیں!
وطن عزیز کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پرتگال میں پراپرٹی لے چکی ھے اور شہریت لینی کی تیاری کر رہی ھے۔ اوریہ نامی گرامی بیوروکریٹس ھیں ۔ مگر مچھ اربوں روپے کھا کے آرام سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہیں۔ بزدار کا ایک قریب ترین بیوروکریٹ چار ارب بیٹیوں کی شادی پر صرف سلامی وصول کر چکا ھےاور آرام سے ریتٹائرمنٹ کی زندگی ��ذار رہا ھے۔ سیاستدان تو انکا بچا کھچا کھا تے اور چولیں مارتے ھیں نہ پلاٹ نہ غیر ملکی شہریت کیو نکہ الیکشن لڑنا ھوتا ھے۔ پاک سر زمین کو یہ بیروکریسی پلیت کر رہی ھیں۔
When oppression, injustice, bribery, corruption, and other evils in a country receive religious, social, institutional, judicial, and state support, what path to reform is left?