@Kausarcsp@AryankhanK49260 Look who is saying this, a few months ago you were a transporter and now adays you become a lawyer,hope after a few months you would be a doctor and serving a health https://t.co/Q6X6YQD5lo can you talk about specialization
@mbilalghauri@nsiddiqui366 کمال کے لوگ ہیں آپ بھی الشریف کی محبت میں کیا کیا کرنا پڑ رہا ہے،قانون اسمبلی پاس کرتی ہے اور وزرات صرف تجویز کرتی ہے،اب اس وزرات کی وزیر اور اس کو پاس کرنے والے بے گناہ لیکن اس کو لکھنے والا سرکاری ملازم گناہگار۔
ڈی آئی جی صاحب اور میڈم ایس پی صاحبہ : کچھ توجہ ادھر بھی ۔۔۔
سائلہ بن کر تھانے گئی اور مجھے ہی تھانے میں بند کردیا گیا ۔۔۔۔
فتح پورہ کی رہائشی خاتون فائزہ نے ویڈیو بیان ریکارڈ کروا دیا ۔۔۔
فائزہ کے بقول اسکے محلے میں کچھ لوگوں نے پارکنگ سٹینڈ بنا رکھا ہے اوباش لوگ وہاں اکٹھے بیٹھے ہوتے ہیں اور آتی جاتی خواتین کو تنگ کرتے ہیں ، چند روز قبل میں وہاں سے گزری تو مجھے ہراساں کیا گیا.
حاجی اویس ، بالا گجر ، شہزاد گجر اور اشتیاق وغیرہ نے منع کرنے پر میرے گھر پر حملہ کیا اینٹیں ماریں اور دھمکیاں دیں۔
ویڈیو ثبوتوں کے ساتھ جب میں شکایت لے کر تھانہ ہربنس پورہ گئی تو بجائے میری داد رسی کرنے کے وہاں کے سب انسپکٹر اور اے ایس آئی نے مجھے بٹھا لیا ساری رات مجھے تھانے میں محبوس رکھا اور میرے سامنے میرے ملزمان سے پیسے لے کر میرے ساتھ بدتمیزی کی ۔۔۔ اگلے روز میں ڈی آئی جی دفتر گئی لیکن ڈی آئی جی صاحب نہیں ملے اور میری درخواست نیچے مارک کردی گئی ۔
میری افسران بالا سے گزارش ہے کہ غنڈوں بدمعاشوں سے مجھے تحفظ فراہم کیا جائے اور انکے خلاف کارروائی کی جائے ورنہ پشت پناہی کی وجہ سے یہ لوگ شیر ہو جائیں گے اور مجھے اور میرے اہل خانہ کو نقصان پہنچائیں گے
2009 میں گاڑی چوری ہوئی، 10 دن میں برآمد ہو گئی، FIR تھی تو کورٹ آرڈر سے گاڑی واپس ملی؟ تین دن پہلے پولیس نے اچانک سڑک پر روک لیا، تھانے لے گئے، گاڑی سیز کی ہوئی ہے
سارے کاغذات موجود تھے کورٹ آرڈر بھی تھا
کہتے ہیں FIR ہے؟
کورٹ گئے کوئی ریکارڈ نہیں مل رہا
گاڑی بند ہے
پیرافورس اور معلوم نہیں کون کونسی فلاں فلاں فورس غریب دیہاڑی دار کی ریہڑیاں اٹھانے یا توڑنے میں ایک منٹ نہیں لگائیں گی لیکن فائیو اسٹار ہوٹلوں اور بڑے بڑے برانڈز کے قریب ایف بی آر یا کوئی بھی ادارہ جانے کی ہمت نہیں کرتا۔
لاہور پی سی ہوٹل میں کیسے 16فیصد جی ایس ٹی عوام سے لیکر " کچی پرچی " پر ٹرخایا جارہا ہے
#پنجاب یونیورسٹی کے محققین کے مطابق یہ دراصل ذوالفقار علی بھٹو تھے جنہوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب غلام مصطفیٰ کھر کے ذریعے #بلوچستان میں پولیس ہڑتال کروا کر پنجابی پولیس اہلکاروں اور بیوروکریٹس کو بلوچستان سے واپس بلانے کا حکم دیا، جس سے صوبے میں دانستہ طور پر ایک انتظامی خلاء پیدا ہوا جسے بعد میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت کو مقامی افراد کی بھرتی کے ذریعے پُر کرنا پڑا۔ ان مطالعات میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بھٹو اس بات پر شدید برہم تھے کہ پی پی پی بلوچستان سے ایک بھی نشست نہ جیت سکی، اور وہ NAP کی قیادت کو ایک خودمختار وژن کے ساتھ صوبہ چلانے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں تھے، اسی لیے انہوں نے بلوچستان کی منتخب حکومت کو کمزور اور غیر مستحکم کرنے کے لیے پنجابی افسران کی واپسی کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔
جب ہم اپنے پسماندہ ہونے اور اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی بات کرتے ہیں تو ہر دعوے کے ساتھ ٹھوس حقائق اور مستند دستاویزات رکھتے ہیں، اس لیے آئیں افواہوں اور سنی سنائی باتوں سے مزید کنفیوژن پھیلانے کے بجائے غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے بامعنی، تعمیری اور مثبت بحث کریں ـ بےبنیاد گفتگو پڑھ لکھے لوگوں کو زیب نہیں دیتی۔
مسلمان ہو کر اپنی تاریخ میں دوسرے مسلمان سے اس لیے تعصب رکھنا ہے کہ وہ پنجابی نہیں تھا تو ایک سوری کا مجسمہ ہٹانے سے کیا ہو گا ؟ سب سے پہلے لاہور سے علی ہجویری کا دربار مٹائیں ، وہ بھی خراسان سے آ کر آباد ہوئے تھے ۔۔ ملتان کے بہاؤالدین زکریا کا خاندان بھی خوارزم سے تھا ۔ اور آپ کے پاکپتن والے بابا فرید گنج بخش کی یادگار “الہند سرائے “ کے نام سے یروشلم میں موجود ہے ، اب فلسطینیوں کو یاد دلائیں کہ وہ یاد گار ختم کریں کیونکہ پنجابی بابا فرید کا عرب فلسطین میں کیا کام ہے ۔۔ آپ بھی یہاں سے شاہی قلعہ اور جہانگیر کا مقبرہ اکھاڑ پھینکیں اور مزار اقبال کو کشمیر بھیج دیں ۔۔ مینار پاکستان اکھاڑ دیں کہ قرار داد پاکستان پیش کرنے والا پنجابی نہیں تھا ۔۔ لیکن یہ سب کرنے والے پہلے اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کروا لیں کیونکہ پاکستان کے جین پوُل میں عرب ، ترک ، فارسی اور ہندی گھل مل گئی ہے ۔۔
تعصب صرف اندھا نہیں ہوتا ، شدید والا جاہل بھی ہوتا ہے ۔ “بیرونی حملہ آور “ شیر شاہ سوری کا مجسمہ اتار کر جس “سارنگ خان گکھڑ کا مجسمہ لگا کر آپ کی نومولود پنجابیت کو تسکین پہنچی ہے ، وو تو خود تاتاری نسل سے تھا ، اس کے باپ کا نام تک “تاتار خان” تھا اور تاتار کوئی ہڑپہ یا دینہ میں نہیں ہے ۔ سارنگ نے بابر کے ہندوستان پر حملے میں مدد کی تھی اور اس سلطان سارنگ کی ساری سلطانی مغلوں کی مدد سےتھی اسی لیے وہ “بیرونی حملہ آوروں” بابر اور ہمایوں کا وفادار تھا ۔ اور اگر پھر بھی اصرار ہے سارنگ “تاتاری” پنجاب کا ہیرو اور شیر شاہ “سوری “ بیرونی ہے تو پھر روہتاس کا قلعہ بھی ڈھا دیں جو شیر شاہ سوری نے بنوایا تھا ۔۔ بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی ۔
اگر پنجابی اور غیر پنجابی کی تقسیم مذہب سے اوپر رکھنی ہے تو پھر محمد بن قاسم کے ساتھ آیا دین بھی آپ کے لیے بیرونی ہو گا، پھر “محمد عربی “ (ص) پر آپکا کوئی حق نہیں ، پھر بلال حبشی سے لے کر سلمان فارسی تک آپ کا کوئی تعلق نہیں ۔ اور اس سارے تعصب کو ابھارنے کا اصل مقصد بھی یہی ہے ۔۔
میں پنجاب سے ہوں ۔۔ مسلمان ہوں اور میری پہلی شناخت اسلام ہے ۔۔ مجھے فخر ہے کہ پنجاب کے مسلمان نے اسلام کے رشتے کو ہمیشہ زبان اور نسلی پہچان سے اوپر رکھا ہے ۔ ۔جو پنجاب میں لسانیت کو ابھار رہے ہیں نہ تو وہ پنجاب کی خدمت کر رہے ہیں اور نہ پاکستان کی ۔ وہ صرف پاکستان کی نظریاتی سرحد کو چوٹ پہنچا رہے ہیں ۔ پنجابی زبان احساس کی زبان ہے ۔ پنجاب تصوف کی زمین ہے ۔۔ اس کی تہذیبی اساس محبت ہے ، کشادگی اور اپنائیت ہے ۔ پنجاب کو فخر ہے کہ اس میں تعصب نہیں ہے ۔۔ اس کی تہذیب میں نفرت کا رنگ نہ بھریں ۔ (عائشہ غازی)