وزیرِاعظم ہاؤس سے روانگی کے وقت ہم نے پوچھا خان صاب آپ کا سامان؟
عمران خان: میں صرف ایک ڈائری لے کر آتا ہوں اور اسی کے ساتھ واپس چلا جاتا ہوں۔
😢
کیا کھو دیا آج ہم نے۔۔
اس مُلک کے غداروں کو قوم کبھی معاف نہیں کرے گی۔
عمران خان کی بہنوں کے خلاف ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پارٹی کے اندر اور باہر سے کمپین چلائی جا رہی ہیں۔
جتنا آپ خان صاحب کی بہنوں کو سپورٹ کریں گے اتنا ہی مخالفین کو تکلیف پہنچے گی 🔥
ایک نہتے بےگناہ بوڑھے بلوچ کو مارنے کیلئے پاکستانی فوجیوں کی پوری یونٹ نے سینکڑوں گولیاں برسا دی۔
کیا بلوچ کے جسم کو چھلنی کرنا ضروری تھا؟
کاکول اکیڈمی کے تربیت یافتہ یہی وہ بےرحم قاتل ہیں جنہیں ہزاروں کی تعداد میں فوج سے ریٹائرڈ کروا کے CCD اور پیرا فورس میں شامل کیا گیا ھے۔
علیمہ خان کا انکشاف 🚨
عمران خان کے ساتھ یہ وہی کرنا چاہتے ہیں جو مصر میں مرسی کے ساتھ ہوا تھا۔ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ آپ عمران خان کو زہر تو نہیں دے رہے ہیں
#PAKWatch🇵🇰: Today, THOUSANDS of Pakistanis led by Imran Khan's sisters and CM Sohail Afridi attempted to reach Adiala jail in Rawalpindi, to protest for the IMMEDIATE RELEASE OF IMRAN KHAN.
PAK = NO RULE OF LAW = 3RD WORLD.
FREE CAPTAIN PAKISTAN.
قیادت کو اپنی فکر پڑ گئی ہے کہ عوام میں وہ غیر مقبول ہو رہے ہیں ، جس کے لیے عوام کے پیسوں کا استعمال کر کے جلسے کیے جا رہے ہیں شاید کہ عوام ہم سے مطمئن ہو جاۓ..
عوام کو عمران خان کی رہائ کا لائحہ عمل چاہیے نہ کہ ٹرک کی بتی اور جلسے ۔۔۔
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
⚠️اگر اپ اسے ری ٹویٹ نہیں کریں گے تو یہ ان لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوگی جو عمران خان کے لیے باہر نکلے ہوئے ہیں⚠️
عمران خان کی رہائی کے لئے خوشحال گڑھ دھرنے میں بچوں اور خواتین کی شرکت 🔥
آپ کے پاس 15 دن ہیں اگر اس میں خان کی رہائی کے لئے کوئی ٹھوس اقدام نہ اٹھایا گیا تو ہم اس لائحہ عمل پہ کام شروع کر دیں گے جو ہم نے طے کر لیا ہے۔ 15 کے بعد کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا
تمام گراونڈ کے ورکرز جو آج خوشحال گڑھ جرگے میں تشریف لائے ان سب کا تہہ دل سے شکریہ
آج کے جرگے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ 26 نومبر 2024 سے لے کر آج تک خان صاحب کی رہائی کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آئی۔
ہم لائحہ عمل مانگتے رہے لیکن کبھی ایک ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا گیا اور کبھی دوسرے - نوبت یہاں تک آ گئی کہ خان صاحب کی آنکھ ضائع ہونا بھی نارملائز کر دیا گیا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ وہ تمام لوگ جو اس ملک یعنی عمران خان سے پیار کرتے ہیں وہ اپنے طور پہ خود سے نہ صرف لائحہ عمل دیں بلکہ سب کو کھینچ کر اپنے پیچھے لے کر آئیں۔
پارٹی کے فیصلوں میں گراونڈ ورکرز کی رائے کو شامل نہ کرنا پارٹی کے عہدیداران اور ورکرز کے درمیان عدم اعتماد کا باعث بن رہی ہے۔ ہمیں کسی بھی صورت پارٹی کی فیصلہ سازی میں ورکرز کی آواز شامل نہ ہونا قبول نہیں۔
ہم ورکرز نے ہمیشہ عہدیداروں اور نمائندوں کی کال پر۔لبیک کہا لیکن افسوس آج کہ جرگے میں پارٹی عہدیداران کا مکمل بائیکاٹ اور ورکرز کو کال کر کر جرگے میں شرکت سے روکنا ایک شرمناک عمل ہے۔
تاہم ہمیں اب آپ سے کوئی امید نہیں اور اب فیصلے ہم۔اپنے ہاتھوں میں لے چکے ہیں، جسے آنا ہو ساتھ اسے خوش آمدید اور جو اس میں روڑے اٹکائے گا وہ ہوشیار رہے کیونکہ اب خان کی جان پہ بات آ چکی ہے اور ایسے میں ہمارے لئے کوئی عہدہ یا عہدیدار کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
ہمارا خان کی رہائی کے علاوہ کوئی ایجنڈا نہیں ہے اور ہم۔صرف اسی پہ فوکس کئے ہوئے ہیں۔ اگلے پندرہ دن ہم دن رات ایک کر کے خود کو عمل کے لئے تیار کریں گے
یاد رکھیں ہم۔سب عمران خان کے مقروض ہیں اور ہم کبھی خان صاحب کو تنہا نہیں چھوڑیں گے چاہے اس کی قیمت ہمیں کچھ بھی ادا کرنا پڑے۔
ہم۔جیتیں گے کیونکہ ہم۔حق پر ہیں اور ان شاء اللہ خان صاحب کو اس ظالمانہ قید سے آزادی دلوائیں گے۔
نہ۔کوئی بڑا دعوی کرتے ہیں، نہ کوئی بڑھک، صرف اور صرف عمل کر کے دکھائیں گے۔
تیاری پکڑیں۔
اللہ ہم۔سب کا حامی و ناصر ہو اور ہماری رہنمائی فرمائے
ہم نے علی آمین کو ہٹا کر اپ کو مزاحمت کے لئے لایا تھا لیکن اپ سے بڑے ڈرامے باز نکلے، ہمیں اس کا اس کی نہیں چاہیے ہمیں لائحہ عمل دو تاریخ دو
جلسہ ختم ہوتے ہی عوام غصے سے اگ بگولا
جلسے میں سہیل آفریدی کا انڈوں سے استقبال کرینگے۔اس بزدل نے پٹھانوں کو بدنام کردیا ہے۔
اپنی تقریر بھول گیا۔ جب اس نے کہا تھا۔عشق عمران میں جان دینگے۔ہمارے لیڈر کی آنکھ چلی گئی اور یہ محمود خان اچکزائی کا انتظار کر رہا ہے۔اڈیالہ کے باہر کارکنان آپے سے باہر
پریس بیان
از جانب: خالد یوسف چوہدری، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
سابق وزیراعظم عمران خان کے قانونی دستاویزات پر دستخط کا معاملہ اب سنگین صورت اختیار کر چکا ہے، جو نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ انصاف کے عمل پر براہِ راست اثرانداز ہو رہا ہے۔
میں، خالد یوسف چوہدری، بطور وکیلِ سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان، اس امر کی تصدیق کرتا ہوں کہ میں نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ایک بار پھر باضابطہ خط ارسال کیا ہے، جس کے ساتھ پاور آف اٹارنی اور دیگر اہم قانونی دستاویزات دوبارہ بھجوائی گئی ہیں۔ ان دستاویزات پر فوری دستخط کروا کر واپس کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ مراسلہ میرے 6 اپریل 2026 کے سابقہ خط کا تسلسل ہے، جس کے تحت مذکورہ دستاویزات 7 اپریل کو ٹی سی ایس کے ذریعے روانہ کی گئیں اور 9 اپریل کو سہ پہر 3 بج کر 13 منٹ پر جیل حکام کو موصول ہوئیں۔ اس کے باوجود، جب میں 13 اپریل کو ذاتی طور پر اڈیالہ جیل کے گیٹ نمبر 5 پہنچا تاکہ دستخط شدہ دستاویزات وصول کر سکوں، تو کئی گھنٹے انتظار کے بعد یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ اہم دستاویزات جیل کے ریکارڈ میں “نہیں مل سکیں”۔
میرا واضح مؤقف ہے کہ اس نوعیت کی حساس قانونی دستاویزات کا اس طرح غائب ہونا نہ صرف شدید انتظامی غفلت ہے بلکہ یہ قانونی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف بھی ہے۔ اس غیر ضروری تاخیر کے باعث قیدی کے بنیادی حقوق، خصوصاً انصاف تک رسائی اور منصفانہ ٹرائل کا حق بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی قانونی مدت تیزی سے ختم ہو رہی ہے، اور ہر گزرتا دن سابق وزیر اعظم عمران خان کے مؤثر قانونی دفاع کے امکانات کو کم کر رہا ہے۔
میں جیل حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ:
•دوبارہ بھیجی گئی پاور آف اٹارنی اور دیگر قانونی دستاویزات فوری طور پر سابق وزیراعظم کے سامنے پیش کی جائیں
•ان سے بلا تاخیر دستخط کروائے جائیں
•اور 24 گھنٹوں کے اندر دستخط شدہ دستاویزات واپس کی جائیں
میں اس معاملے کو انتہائی ہنگامی قرار دیتا ہوں اور فوری کارروائی کی ضرورت پر زور دیتا ہوں۔
مزید برآں، اس خط کی نقول متعلقہ اعلیٰ حکام کو ارسال کر دی گئی ہیں، جن میں:
•رجسٹرار سپریم کورٹ
•سیکرٹری چیف جسٹس سپریم کورٹ
•رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ
•آئی جی خانہ جات پنجاب
•سپرنٹنڈنٹ پولیس صدر سرکل راولپنڈی
•اور وکیل سابق وزیر اعظم عمران خان جناب عزیر کرامت بھنڈاری (مزید قانونی کارروائی کے لیے)