بلوچ استاد پرویز ولد مزار کو 13 اکتوبر 2026 کو ریاستی سکیورٹی فورسز اور ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے پسنی مین بازار سے جبری طور پر لاپتہ کر دیا تھا، اور 14 اکتوبر کی صبح ان کی مسخ شدہ لاش پھینک دی گئی۔
#StopBalochGenocide#SaveBalochTeachers
آصف بلوچ گزشتہ 3 ماہ سے لاپتہ ہیں اور ان کا خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے۔ اگر کوئی قصور ہے تو سامنے لایا جائے، یوں اندھیرے میں رکھنا بدترین ظلم ہے۔ آصف بلوچ کو فوری رہا کر کے ان کے گھر بھیجا جائے۔
#ReleaseAsifBaloch
مند سے لاپتہ دو کم عمر لڑکوں کی بازیابی کے لیے اہلِ خانہ کی اپیل، ایک بچے کی لاش ملنے کے بعد سخت ازیت سے گزر رہے ہیں، تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس
https://t.co/jdNIKhOsQA
تربت مند سے لاپتہ دو کم عمر لڑکوں کی بازیابی کے لیے اہلِ خانہ کی اپیل، ایک بچے کی لاش ملنے کے بعد سخت ازیت سے گزر رہے ہیں، تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس
ضلع تمپ گومازی سے تعلق رکھنے والے خواتین نے 12 سالہ کمبر ولد نظر اور زبیر ولد داد کریم کی بازیابی کے لیے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز اور انتظامیہ سے تعاون کی اپیل کی ہے۔
اہلِ خانہ نے کہا کہ ان کے تین بچے 3 ستمبر 2026 کو موٹرسائیکل پر سوار مند آزیان سے جا رہے تھے کہ انہیں مین روڈ پر مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز نے اغوا کرکے لاپتہ کر دیا ۔ انہوں نے کہا کہ تین روز قبل ان میں سے 14 سالہ حسین ولد جمعہ کی لاش مند میں پھینکی گئی تھی جب کہ ان کے دو دیگر بچے تاحال لاپتہ ہیں اور انہیں اپنے بچوں کی حالت کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں۔
اہلِ خانہ نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ ان کے بچوں کو کس حالت میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ بچوں کی بازیابی اور ان کی خیریت سے متعلق معلومات کی فراہمی کے لیے تعاون کیا جائے۔
انہوں نے اپیل کی کہ اگر ان کے بچوں پر کوئی الزام ہے یا انہوں نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ اہلِ خانہ کا کہنا تھا کہ اگر عدالت میں ان پر جرم ثابت ہو جائے تو انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے انہیں عدالتی فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
اہلِ خانہ نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کے دونوں بچوں کو بحفاظت بازیاب کرا کے انہیں خاندان کے حوالے کیا جائے۔
جبری بے دخلی کے خلاف مزاحمت کیجیے: یہ ہماری بقا کا سوال ہے
بلوچ راج!
گزشتہ کئی مہینوں سے بلوچستان کے کئی علاقوں سے ہزاروں خاندانوں کو جبری نقل مکانی پر مجبور کیا گیا ہے۔ زہری، سردشت، کلانچ، جیونی، نوشکی، چاغی، خاران، مند، دشت، سنی شوران، منگچر، مستونگ، مشکے اور دیگر کئی علاقوں میں بلوچ عوام کو اپنے آباؤ اجداد کے گھر خالی کرنے پر مجبور کیا جا چکا ہے، جبکہ کئی اور علاقوں کو خالی کرانے کے نوٹیفکیشن جاری کیے جا چکے ہیں۔ یہ فہرست ہر گزرتے دن کے ساتھ لمبی ہوتی جا رہی ہے، اور کوئی نہیں جانتا کہ کل کس بستی کی باری ہے۔
مقامی لوگوں کو کاغذ کا ایک ٹکڑا تھما کر اُن سے وہ زندگی چھین لی جاتی ہے جسے بنانے میں برسوں کی محنت لگی تھی، اور انہیں عمر بھر کے لیے اپنی ہی سرزمین پر مہاجر کی شناخت دے دی جاتی ہے۔ اس شناخت کے ساتھ وہ اپنا گھر، اپنا روزگار اور موسموں کی سختیوں سے تحفظ، سب کچھ کھو دیتا ہے۔ وہ یا تو کسی شہر میں سڑک کنارے کچی بستی کا حصہ بن جاتا ہے، یا عارضی پناہ گاہوں میں در بدر پھرتا رہتا ہے۔ آج بھی کئی لوگ کوہِ مراد کے مسافر خانوں میں خانہ بدوشوں جیسی زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ کئی اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ یہ صرف گھروں کی بے دخلی نہیں۔ ساحل کا ماہی گیر اپنے سمندر سے کاٹ دیا جاتا ہے، کسان اپنی زمین سے، اور مالدار اپنے ریوڑ اور چراگاہوں سے۔ وہ ہنر اور روزگار جو نسلوں سے اس سرزمین سے جڑے تھے، ایک حکم نامے کے ساتھ بے معنی ہو جاتے ہیں۔ ایک حکم نامے کی بنیاد پر ہمارے لوگوں کو انکے اجداد کی قبروں کی زمین سے دور کر دیے جاتے ہیں، اور اس وطن کے وارث ہونے کے باوجود وہ بے یار و مددگار مہاجر کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو کئے جاتے ہیں۔ جو گھر چھوڑ کر جاتا ہے، وہ صرف دیواریں نہیں چھوڑتا، وہ اپنی تاریخ، اپنی یادیں اور اپنی شناخت پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔
بلوچ راج!
اسی جبر کا نام قبضہ گیریت ہے۔ کوئی بیرونی طاقت آ کر آپ کو کاغذ کا ایک ٹکڑا تھماتی ہے اور آپ سے آپ کی زندگی چھین لیتی ہے۔ وہ اسے کبھی "سیکیورٹی" کا نام دیتی ہے اور کبھی "ترقی" کا، مگر ہم سب جانتے ہیں کہ یہ ہماری زمینوں پر قبضہ اور ہماری جبری بے دخلی ہے۔ وہ ترقی کیسی ترقی ہے جس میں مقامی آدمی کے لیے نہ گھر ہے، نہ روزگار، نہ عزت؟ وہ سیکیورٹی کیسی سیکیورٹی ہے جس میں سب سے زیادہ غیر محفوظ اسی زمین کا اصل وارث ہے؟ بلوچستان میں سیکیورٹی کے نام پر جو کچھ کیا جا رہا ہے، وہ مقامی لوگوں کے لیے نہیں بلکہ بیرونی مفادات کے لیے ہے۔ بیرونی افراد کو بلوچستان لانا، ان کے لیے گھر، کاروبار اور منصوبے بنانا، ان کی رہائش اور نقل و حرکت کو محفوظ بنانا، اسی سیکیورٹی کی آڑ میں عام بلوچ تشدد کا نشانہ بن رہا ہے۔ آئے روز ہمیں سڑکوں پر چیکنگ کے نام پر ذہنی اذیت دی جاتی ہے، آئے روز ہم پر ڈرون حملے کیے جاتے ہیں، آیے روز ہمارے اپنوں کو جبری گمشدہ کیا جاتا ہے ، اتل کیا جاتا ہے، آئے روز فوجی آپریشنوں میں ہمارے گھر جلائے، گرائے اور لوٹے جاتے ہیں، اور اگر اس سب کے بعد بھی جی نہ بھرے تو ہمیں جبری نقل مکانی پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے ریاست اپنے بیانیے کے ذریعے ہم سے چھپاتی ہے، اور جو ہم پر تب آشکار ہوتی ہے جب ہم خود اس جبر کا شکار بنتے ہیں۔ میڈیا خاموش ہے، ایوان خاموش ہیں، اور بے گھر ہونے والوں کی فریاد کسی خبر کا حصہ نہیں بنتی۔ یہ خاموشی اتفاق نہیں، یہ اس پالیسی کا حصہ ہے۔ جب تک ظلم کا ذکر نہ ہو، تب تک ظلم کرنے والا بے خوف رہتا ہے۔
باشعور قوم!
آج ہم ان تکالیف سے گزر رہے ہیں۔ ہمارے اپنے لوگ نقل مکانی پر مجبور کیے جا رہے ہیں۔ قبضہ گیریت کے تسلط میں ہماری مقامی آبادی آہستہ آہستہ سکڑ رہی ہے جبکہ بیرونی قبضہ اپنے پر پھیلا رہا ہے۔ یہ عمل ہمیں مٹا دے گا، ہماری ہی سرزمین پر ہمیں اقلیت میں بدل دے گا، اور ہماری نسل کشی کو مزید آسان بنا دے گا۔ آج ہم پر لازم ہے کہ اپنی زمینوں، اپنے گھروں اور اپنے لوگوں کے لیے مزاحمت کریں۔ ہم اس جبری بے دخلی کو کسی صورت قبول نہ کریں۔ اس کے خلاف لکھیں، بولیں اور سڑکوں پر نکلیں۔ بے گھر ہونے والوں کی کہانیاں محفوظ کریں، ان کی آواز کو گلی گلی اور دنیا کے ہر کونے تک پہنچائیں، اور متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہ چھوڑیں۔ یہ چند علاقوں یا خاندانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بقا کا مسئلہ ہے، ایک قومی مسئلہ، جس کے خلاف آواز اٹھانا ہم سب پر لازم ہے۔آئیے متحد ہو کر نسل کشی کی ان پالیسیوں کو للکاریں۔ آئیے آواز اٹھائیں، تاکہ ہمارا شمار جبر سہنے والوں میں نہیں بلکہ جبر کو للکارنے والوں میں ہو۔ آئیے اس خاموش نسل کشی کے خلاف مل کر صدا بلند کریں اور اسے مسترد کریں، تاکہ اگر ہم اسے روک نہ بھی سکیں تو کم از کم ہمارا دشمن بے نقاب ہو اور ہمارا زخم دنیا کے سامنے آئے۔
بلڈوزر گھروں کو ملبے میں بدل سکتے ہیں، درختوں کو جڑوں سے جدا کر سکتے ہیں اور بستیوں کو ویران کر سکتے ہیں لیکن کسی قوم کی تاریخی شناخت، اجتماعی شعور اور اپنی سرزمین سے محبت کو مٹا نہیں سکتے۔
#StopForcedDisplacementInBalochistan
ہمیں تحفظ دینے کے بجائے اب کیا میرے کیس اب سیاسی ڈیلاگ بن گئی؟ نام نہاد انکوائری کمیٹی بنائی گئی کیا اس کمیٹی کا آج تک رپوٹ سامنے آئی؟ میں پوچھنا چاہتی ہوں کیا حکومت ہمیں تحفظ دے سکتی ہے؟ کیا ملزموں کو قانون کے تحت سزا مل سکتی ہے ؟ حکومت ملزموں کو قانون کے کٹہرے میں لا سکتی ہے؟ ہم اور کتنا اس اذیت کو برداشت کرے؟
#JusticeForAsmaJattak
#JusticeForInayatullahJattak
@MHidayatRehman@HamidMirPAK@DrJalalBaloch1@SabihaBaloch_@Meena_Majeed@MahrangBaloch_
ہمیں تحفظ دینے کے بجائے اب کیا میرے کیس اب سیاسی ڈیلاگ بن گئی؟ نام نہاد انکوائری کمیٹی بنائی گئی کیا اس کمیٹی کا آج تک رپوٹ سامنے آئی؟ میں پوچھنا چاہتی ہوں کیا حکومت ہمیں تحفظ دے سکتی ہے؟ کیا ملزموں کو قانون کے تحت سزا مل سکتی ہے ؟ حکومت ملزموں کو قانون کے کٹہرے میں لا سکتی ہے؟ ہم اور کتنا اس اذیت کو برداشت کرے؟
#JusticeForAsmaJattak
#JusticeForInayatullahJattak
@MHidayatRehman@HamidMirPAK@DrJalalBaloch1@SabihaBaloch_@Meena_Majeed@MahrangBaloch_
سیکیورٹی کے بیانیے کی آڑ میں نوآبادیاتی تسلط اور بلوچ قوم کی اپنی سرزمین سے بے دخلی و بے اختیاری۔
نوآبادیاتی نظام ہمیشہ فتح اور قبضے کے واضح اعلان کے ساتھ سامنے نہیں آتا۔ کبھی یہ سیکیورٹی، ترقی، تزویراتی منصوبہ بندی اور قومی مفاد کے نام پر اپنا جواز پیش کرتا ہے۔ لیکن اس کی بنیادی منطق وہی رہتی ہے زمین، وسائل اور آبادی پر اختیار قائم کرنا، جبکہ مقامی باشندوں کو اپنی سرزمین کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق سے محروم کر دینا۔
بلوچستان میں جاری صورتحال ایک ایسے نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتی ہے جس میں مقامی آبادیوں کی جبری بے دخلی، نقل و حرکت پر پابندیوں اور رہائشی علاقوں میں مداخلت کو قومی سلامتی، ترقی اور تزویراتی مفادات کے نام پر جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پسنی کے علاقے شادی کور، سردشت اور قلات میں مقامی آبادیوں کی بے دخلی اور معمولاتِ زندگی میں خلل نے اس بنیادی سوال کو جنم دیا ہے کہ ریاستی سیکیورٹی اور ترقی کے دعووں میں ان لوگوں کے حقوق، زمین اور مستقبل کی کیا حیثیت ہے جو نسلوں سے ان علاقوں میں آباد ہیں۔
9 اور 10 جولائی 2026 کو پسنی کے علاقے شادی کور میں سیکیورٹی کارروائیوں کے بعد مقامی آبادی کو علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا، جس کے نتیجے میں لوگوں کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ نقل و حرکت اور بنیادی ضروریات تک رسائی پر پابندیوں نے متاثرہ آبادی کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا، جبکہ تقریباً پانچ ہزار افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ پسنی کے علاقے سردشت، قلات، شور پارود اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی 2026 کے دوران سیکیورٹی خطرات کے نام پر مقامی آبادیوں کی جبری بے دخلی اور رہائشی علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور کیے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
ان واقعات کو محض سیکیورٹی کارروائیوں یا انتظامی پالیسیوں کے تناظر میں دیکھنا اس نوآبادیاتی منطق کو نظرانداز کرنا ہے جس کے تحت کسی سرزمین پر اختیار قائم کرنے کے لیے وہاں کی مقامی آبادی کو ہی بے دخل اور بے اختیار کر دیا جاتا ہے۔ جب بلوچ عوام کو ان کے آبائی گھروں سے نکالا جائے، زمین اور ذرائع معاش تک ان کی رسائی محدود کی جائے اور ان کی رضامندی کے بغیر ان کے علاقوں کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے، تو یہ محض جبری نقل مکانی نہیں رہتی، بلکہ اپنی سرزمین پر بلوچ قوم کے تاریخی تعلق، اجتماعی اختیار اور حقِ فیصلہ کو کمزور کرنے کا عمل ہے۔
نوآبادیاتی نظام کی ایک بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے تسلط کو محض طاقت کے ذریعے برقرار نہیں رکھتا، بلکہ اسے جائز ثابت کرنے کے لیے ایک مخصوص سیاسی زبان اور بیانیہ بھی تشکیل دیتا ہے۔ قومی سلامتی، ترقی، امن و امان اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسی اصطلاحات اسی وقت نوآبادیاتی جواز کا حصہ بن جاتی ہیں جب ان کے ذریعے مقامی آبادی کے حقوق، سیاسی مطالبات اور مزاحمت کو مشکوک بنا کر پیش کیا جائے، جبکہ زمین پر اختیار قائم کرنے، آبادیوں کو بے دخل کرنے اور وسائل پر کنٹرول کے سوالات کو پسِ پشت ڈال دیا جائے۔ اس طرح طاقت صرف زمین اور لوگوں پر قابض نہیں ہوتی، بلکہ وہ اس بات کا تعین کرنے کی کوشش بھی کرتی ہے کہ کس کی آواز جائز ہے، کس کے مطالبات قابلِ سماعت ہیں اور کس کی مزاحمت کو خطرہ قرار دیا جائے گا۔
فرانز فینن نے اپنی کتاب افتادگانِ خاک میں نوآبادیاتی نظام کو محض سیاسی یا معاشی تسلط نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کے طور پر سمجھا جس میں طاقت، تشدد اور انسانوں کی درجہ بندی ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ فینن کے تجزیے کی روشنی میں دیکھا جائے تو نوآبادیاتی طاقت پہلے مقامی آبادی کو ایک مسئلے یا خطرے کے طور پر پیش کرتی ہے، پھر اسی تصور کو اپنے جابرانہ اقدامات کے جواز کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ یوں طاقت کے ذریعے پیدا ہونے والی بے چینی اور مزاحمت کو مزید طاقت کے استعمال کی دلیل بنا دیا جاتا ہے۔
ایڈورڈ سعید نے اپنی معروف کتاب اورینٹلزم میں واضح کیا کہ طاقت صرف فوجی یا انتظامی اختیار کے ذریعے کام نہیں کرتی، بلکہ علم، زبان اور نمائندگی کے ذریعے بھی اپنے لیے جواز پیدا کرتی ہے۔ کسی قوم کو پسماندہ، غیر مہذب، خطرناک یا ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دینا اس عمل کا حصہ بن سکتا ہے جس کے ذریعے اس پر بیرونی اختیار کو فطری یا ضروری ثابت کیا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں جب کسی مقامی آبادی کے سیاسی مطالبات کو نظرانداز کرکے اسے محض سیکیورٹی کے مسئلے کے طور پر پیش کیا جائے، تو اس کی تاریخ، شناخت اور اپنے مستقبل کے فیصلے کرنے کے حق کو بھی پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔
#StopForcedDisplacementInBalochistan
BNM UK Chapter Holds Fifth Council in Honour of Mama Qadeer Baloch; Naseem Abbas Elected President, Saleem Elahi General Secretary
Monday, 13 October 2026 | #BNMOrganisationalActivities | #BNMinUK |#BNMElections
https://t.co/C1RGslbtNW…
مستقل مزاجی انسان میں وہ صلاحیت ہے جو دنیا کی ہر طاقت کو شکست دے سکتی ہے۰نذر مری کو سال گزر کر ڈیڑھ سال ہونے کو ہے کہ وہ پاکستان کے وحشیوں کی تحویل میں ہے۰زندان کی یہ ڈیڑھ سال نذر مری کو ابھی تک کمزور نہیں کر سکیں۰وہ ابھی تک مستقل مزاجی سے اپنی مؤقف پر کھڑا ہے۰
#ReleaseNazarMarri
Another Baloch Teacher Extrajudicially Killed
State security forces and members of death squads forcibly disappeared Baloch teacher Parvaiz, son of Mazar, from Pasni’s Main Bazaar on October 13, 2026. Today, on the morning of October 14, his mutilated body was found dumped.
70 days of agony uncertainty and silence
Naseeb Rasheed remains missing and his family is trapped in endless pain without answers or accountability Enforced disappearances must end Where is Naseeb?
#EndEnforcedDisappearances#SaveBalochArtist#ReleaseNaseebRasheed