پاکستان کی ایک کینگرو کورٹ نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سیاسی رہنما گلزادی بلوچ کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ میں اس فیصلے کو صرف ایک سزا کے طور پر نہیں دیکھتی، بلکہ اسے بلوچستان میں انصاف کے ساتھ ہونے والے مسلسل مذاق اور پُرامن سیاسی آوازوں کو دبانے کے جاری عمل کی ایک اور مثال سمجھتی ہوں۔
جس مقدمے میں دفاع کے وکیل کی غیر موجودگی میں گواہ پر جرح کی جائے، جہاں دفاع کو اپنی بات مؤثر طور پر رکھنے کا مکمل موقع نہ دیا جائے، اور جہاں جج ملزم اور اس کے وکلاء کی عدم موجودگی میں طے شدہ احکامات کی تکمیل کرے، وہاں عدالت کے طرزِ عمل، دباؤ اور غیر جانب داری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ ایسے حالات میں ہمیں یہ پوچھنے کا پورا حق ہے کہ یہ عدالتوں کا یہ طرز عمل انصاف کے زمرے میں آتا ہے ؟
گلزادی بلوچ کوئی نامعلوم چہرہ نہیں، وہ ہماری ساتھی اور ہماری جدوجہد کا ایک حصہ ہے۔ اسے خاموش کرنے کے لیے عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے، مگر اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف ہماری آواز کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ گلزادی کی سزا اس بات کا ثبوت ہے کہ آج بلوچستان میں پُرامن سیاسی جدوجہد کو کس قدر دباؤ اور جبر کا سامنا ہے۔
ہمارے ساتھیوں پر جبر صرف قید اور مقدمات تک محدود نہیں۔ ہماری تنظیم کے سرگرم کارکن نذر مری بلوچ کو بھی گزشتہ ایک سال سے جبری طور پر لاپتہ رکھا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پُرامن سیاسی کارکنوں کو قید اور لاپتہ کرکے بلوچستان کے سیاسی مسئلے کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟
ہمیں مذاکرات کا درس دینے والوں سے میرا سوال ہے: جب ایک طرف ہمارے ساتھی جیلوں میں قید ہوں، دوسری طرف ان کے دفاع اور قانونی حقوق محدود کیے جائیں، اور سیاسی جدوجہد سے دستبرداری کے لیے دباؤ ڈالا جائے، تو پھر مذاکرات کس بنیاد پر ہوں گے؟ گلے پر چھری رکھ کر مذاکرات نہیں ہوتے، یہ صرف جبری خاموشی مسلط کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔
آج بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ مجرمانہ طرزِ عمل بلوچستان میں پُرامن جدوجہد پر ریاستی اداروں کے جاری جبر کی ایک سفاک مثال ہے۔ نام نہاد مذاکراتی عمل کے دوران، بلوچستان میں جاری خونریزی اور مسلسل جبر کے باوجود، معاملہ فہمی، سنجیدگی اور نیک نیتی کے بجائے دباؤ، ہٹ دھرمی اور دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔
مذاکرات کے نام پر مسلسل ہم پر دباؤ ڈالا گیا کہ ہم اپنی پُرامن سیاسی جدوجہد سے دستبردار ہو جائیں۔ ہمیں کہا گیا کہ تمام ججز ہمارے ہاتھ میں ہیں اور آپ کی دی ہوئی کوئی بھی درخواست کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ہم نے ��ن تمام حالات کے باوجود دلیل اور سیاسی جرات کا راستہ اختیار کیا، جو ہماری بنیادی سیاسی تربیت کا حصہ ہے۔ ہم بلوچستان کے عوام کے بنیادی حقوق کی جدوجہد کرنے والی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے عوام کے حقوق کے لیے ہم نے کبھی بھی مکالمے اور مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔
اس جبر کے دورانیے میں بھی ہماری تنظیم لاپتہ افراد کی سالانہ رپورٹ محکمہ داخلہ بلوچستان میں جمع کرائی، جو ہمارے زمہدار تنظیم ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
مگر ہم نے مذاکرات کے نام پر کسی بھی سیاسی انجینئرنگ کو نہ پہلے قبول کیا ہے اور نہ آئندہ کریں گے۔ بی وائی سی بلوچ عوام کی نمائندہ جماعت اور ان کی امانت ہے۔ ہماری جدوجہد کسی فرد یا عہدے کے لیے نہیں بلکہ اپنے عوام کے بنیادی حقوق اور انصاف کے لیے ہے۔
ہمارے انکار کے بعد چار رکنی عسکری مذاکراتی ٹیم نے ہمیں کہا کہ فیصلہ یہ ہے کہ جب تک آپ ہماری باتیں نہیں مانیں گے، آپ جیل میں رہیں گے۔ ہمیں یہ بھی کہا گیا کہ جج کو بھی یہی حکم دیا گیا ہے۔ ہمیں یہ پیشکش بھی کی گئی کہ اگر ہم ان کی بات مان لیتے ہیں تو ہم میں سے ایک شخص کو رہا کر دیا جائے گا؛ وہ باہر جا کر ان کی باتوں پر ��مل کرے گا تو باقی لوگوں کو بھی رہا کر دیا جائے گا۔ہمیں دو، تین سال کے لیے یورپ میں آباد ہو جانے کی پیشکش بھی کی گئی۔ ہم نے ان سمیت تمام ایسی پیشکشوں کو مسترد کیا، کیونکہ ہماری جدوجہد کسی وقتی رعایت، مراعات یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں ہے۔
ہم نے واضح کیا کہ ہم کسی سلیکٹڈ پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بنیں گے، جو عوام کے بجائے عسکری قوتوں کے ترجمانی کریں نہ کبھی بلوچستان کو چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں پناہ لیں گے۔ ہمارا انتخاب بلوچستان کی عوام ہیں، اور ہمارا راستہ اپنے عوام کے بنیادی جمہوری حقوق کی جدوجہد ہے۔ اگر اس جدوجہد کی قیمت قید ہے تو ہم یہ قیمت ادا کریں گے، اور جیل سے بھی اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ہم ان تمام اداروں کو یہ واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ طاقت کے بل پر آپ بلوچستان کے سیاسی مسئلے کو حل نہیں کرسکتے۔ آپ نے بی وائی سی کے رہنماؤں کو قید کرنے اور کارکنوں کو لاپتہ کرنے کے باوجود بلوچستان میں امن قائم نہیں کیا-
آپ کی کینگرو عدالتوں سے ملنے والی سزاؤں کو ہم اپنے اور اپنی تنظیم کے لیے اعزاز سمجھتے ہیں، کیونکہ تمام تر وسائل، مقدمات، قید اور پروپیگنڈے کے باوجود آپ ہمارے ساتھیوں کے جدوجہد کے حوصلے کو نہیں توڑ سکے۔ ہم اپنی قوم کے اعتماد کا سودا نہیں کریں گے ہ��ارے لیے قومی نظریے، سیاسی اصول اور اپنے عوام کے ��اتھ وفاداری کسی بھی ذاتی فائدے سے زیادہ اہم ہیں۔
ہماری سزائیں اور قید ہمارے قوم کے حوصلے کو نہیں توڑ سکتے، جس دن بھی اس قید سے رہائی ہوئی، اس دن آپ ہمیں لاپتہ افراد کے لواحقین، اپنے قومی شہیدوں کے خاندانوں اور بلوچستان کے ان تمام مظلوم عوام کے ساتھ انصاف کی جدوجہد میں کھڑا پائیں گے، جنہوں نے اپنے حقوق کے لیے قربانیاں دی ہیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
ہدہ جیل کوئٹہ
22ستمبر 2026
#GulzadiSentencing
Sentencing of @GullzadiC to life simply shows the Power Baloch Women have acquired and how afraid State is of Peoples' Power.
Gulzadi like @MahrangBaloch_@ShahGBaloch is undeterred in her determination for achieving a life of Dignity and Justice.
بی وائی سی رہنما گل زادی بلوچ کو جبری گمش��گیوں کا شکار افراد کے لیے آواز بلند کرنے کی پاداش میں مچھ میں قتل کے جھوٹے مقدمے میں عمر قید کی سزا دینا قابلِ مذمت ہے۔ بنیادی انسانی حقوق اور آئینی حقوق کی آوازوں کو ظلم و جبر سے دبایا نہیں جا سکتا۔
#ReleaseBYVLeaders
We are alarmed by the life sentence handed down to prominent Baloch rights activist and Baloch Yakjehti Committee leader Gulzadi Baloch. The use of baseless charges against peaceful activists raises serious concerns about the misuse of laws to silence and criminalise dissent.
Those in power must understand that the criminalisation of peaceful activism will not remain restricted to Balochistan. When the fundamental rights of one community are denied, the rights of others across Pakistan are also put at risk.
I appeal to civil society and the media across Pakistan to stand in solidarity with Baloch rights activists, raise their voices against the blatant misuse of laws, and unite in the struggle to defend our fundamental rights. Your silence today could come at a much greater cost tomorrow for you all.
آج میری بہن گل زادی بلوچ اور وکلاء کی غیرموجودگی، دلائل کے بغیر جسٹس قاد�� بخاری نے انتہائی غیر منصفانہ، جانبداری پر مبنی فیصلہ سنا کر گل زادی بلوچ کو جھوٹے کیس میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
بلوچستان میں عدلیہ مکمل طور پر اپنا اثر اور عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔ جس عدلیہ کی ذمہ داری عوام کو انصاف فراہم کرنا تھی، وہ آج ریاستی اداروں کی معاون بن کر انصاف کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔
چیف جسٹس بلوچستان کامران ملاخیل بی وائی سی کے تمام مقدمات کی خود پیروی کر رہے ہیں، جبکہ ان کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مبین، جسٹس قادر شاہ بخاری سمیت پورے بلوچستان میں بی وائی سی کے مقدمات سننے والے ججز کو ریاستی ایما پر فیصلے دینے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔ ایسے حالات میں عدلیہ کی غیرجانبداری اور آزادی ختم ہوچکی ہے ۔
گلزادی بلوچ کا مقدمہ اس عدالتی رویے کی ایک واضح مثال ہے۔ متعدد مواقع پر متعلقہ جج کی جانب سے یہ کہنا کہ وہ دباؤ میں ہیں اور انہیں کیس میں سزا سنانے کی ہدایات دی گئی ہے، عدالتی آزادی اور غیرجانبداری پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ 7 ستمبر کو عدالت میں ہڑتال اور وکیلِ صفائی کی عدم موجودگی کے باوجود گلزادی بلوچ کے مقدمے کی کارروائی جاری رکھی گئی اور دفاع کے وکیل کی غیرموجودگی میں گواہ پر جرح کی گئی۔ یہ دفاع کے بنیادی حق اور منصفانہ ٹرائل کے اصول پر سنگین سوال اٹھاتا ہے۔
اسی طرح ہمارے مقدمات میں بھی ہماری اجازت کے بغیر تعینات کیے گئے سرکاری وکلاء کو مختلف مراعات دے کر اسلام آباد تک پہنچایا گیا، جبکہ ہمیں اپنے دفاع کے بنیادی حق سے محروم رکھا گیا۔ کیا یہی اسلامی جمہوریہ پاکستان کا انصاف ہے، جہاں عدالتیں آزادانہ فیصلوں کے بجائے ریاستی اداروں کے طے کردہ فیصلے سنانے کا کردار ادا کر رہی ہیں۔
ہمیں عمر قید کی سنائی گئی سزاؤں کے خلاف اپیل کا آئینی و قانونی حق حاصل ہے، مگر ہماری اپیل کی سماعت کے لیے بھی ایک طویل تاریخ، اکتوبر تک کی، مقرر کر دی گئی ہے۔ جسٹس کامران ملاخیل کی سربراہی میں اس طرح کی مسلسل تاخیر ہمارے بنیادی حقِ اپیل اور فوری انصاف کے حق کو متاثر کر رہی ہے۔ جب ایک شخص پہلے ہی قید میں ہو تو اس کی اپیل کو غیرضروری طور پر طویل عرصے تک مؤخر کرنا دراصل قید کو ہی سزا میں تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔
13 جون سے آج تک فیس لیس ٹرائل کے خلاف بی وائی سی نے 20 پیشیوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔ اس حوالے سے ہماری پٹیشن بلوچستان ہائی کورٹ میں جمع ہو چکی ہے، مگر چیف جسٹس کامران ملاخیل کی سربراہی میں عدالت ہماری پٹیشن سننے اور ہمارے دفاع کے بنیادی حق کا تحفظ کرنے کے بجائے مسلسل اس معاملے کو تاخیر کا شکار کر رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل عدلیہ کی غیرجانبداری پر ایک واضح سوال ہے۔
دوسری جانب چیف جسٹس ملاخیل کی جانب سے گزشتہ چھ ماہ سے ہماری ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کرنے کے بجائے بار بار مقدمات کو ڈی لسٹ کیا جا رہا ہے۔ کسی شخص کو عدالتی عمل کے ذریعے ہی سزا کا شکار بنانا اور ضمانت کے معاملے میں مسلسل تاخیر کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
چیف جسٹس بلوچستان کو کسی فریق کا کردار ادا کرنے کے بجائے اپنے آئینی منصب کے تقاضوں کے مطابق غیرجانبدارانہ اور انصاف پر مبنی فیصلے کرنے چاہئیں۔ عدلیہ کا کام ریاستی اداروں کے فیصلوں کو قانونی جواز فراہم کرنا نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق، دفاع کے حق، اور انصاف تک بروقت رسائی کا تحفظ کرنا ہے۔
ہم سپریم کورٹ آف پاکستان اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بی وائی سی کے مقدمات میں عدالتی جانبداری، دفاع کے حق سے انکار اور انصاف کے تاخیر کا فوری نوٹس لے کر شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
10 ستمبر 2026
ہدہ جیل کوئٹہ
1/ When the right to a fair trial is denied, justice itself is put on trial.
The proceedings against Gullzadi Baloch before Additional Session Judge-I Qadir Shah Bukhari raise grave concerns about judicial independence, due process, and fundamental human rights.
2/ A judge stating that he is under pressure and may have to impose life imprisonment or even a death sentence raises an alarming question:
Can a trial be fair when the judge himself speaks of pressure?
3/ On 7 September, despite a court strike and the absence of defence counsel, proceedings continued and a witness was cross-examined without defence representation.
No person should face the machinery of the state without the meaningful right to defend themselves.
4/ The right to counsel is not a privilege.
The right to a fair hearing is not optional.
Due process is not conditional.
These are fundamental human rights protected under Pakistan’s Constitution and international law.
بلوچستان highcourt کی جانبداری اور میری بہن گل زادی بلوچ کو سیاسی جدوجہد کی بِنا پر انتقامی کاروائی کا نشانہ بنانے کیخلاف آواز اُٹھائے۰
#ReleaseGullzadiBaloch
The Sentencing of Dr. Mahrang Baloch is a Devastating Blow to Women-Led Peace Movements in Pakistan - Georgetown Institute for Women, Peace and Security https://t.co/5H3j7U0YZq
تربت میں ٹک ٹاکرز کے وی آئی پی پروٹوکول کے لیے کرفیو نما صورتحال بنانا اور شہریوں پر تشدد کرنا قابلِ مذمت ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے اپنی من مانی کے تحت سڑکیں بند کرنا، شہریوں کی نقل و حرکت محدود کرنا اور عوام پر تشدد کرنا انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ تربت میں اسلام آباد سے لائے گئے ٹک ٹاکرز اور کا��ٹینٹ کریٹرز کو وی آئی پی پروٹوکول دینے کے لیے شہریوں کی آمدورفت روکی گئی اور کئی گھنٹوں تک سڑکیں بند رکھی گئیں، جس کے باعث اسکول جانے والے بچوں، مریضوں، ڈاکٹروں، اسپتال کے عملے اور کاروباری افراد سمیت ہزاروں شہری شدید مشکلات کا شکار ہوئے۔
سڑکوں کے بندش پر جب مریضوں اور سینیر ڈاکٹروں نے سوال اٹھایا، تو ایف سی کی جانب سے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ایک ڈاکٹر پر بندق تانا گیا اور گولی مارنے کی دھمکی دی گئی۔ تشدد کا شکار ہونے والے مریضوں میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل تھی۔ اس واقعے کے خلاف تربت ٹیچنگ ہسپتال میں عوام، مریضوں اور اسپتال کے عملے نے احتجاج کرتے ہوئے ڈیوٹی سے بایئکاٹ کیا ، کرفیو نما صورتحال کے خاتمے اور شہریوں پر تشدد کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
یہ انتہائی تشویشناک امر ہے کہ بلوچستان میں نام نہاد ’’فیک نیرٹیو‘‘ تشکیل دینے کے لیے وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ اسی مقصد کے لیے عام شہریوں کو محصور کرکے ان کی بنیادی آزادیِ نقل و حرکت سلب کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی کے نام پر بلوچستان میں شہری زندگی کو مسلسل پابندیوں اور جبر میں رکھنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔
ہم متعلقہ اداروں سے درخواست کرتے ہیں کہ اس طر�� کے غیر انسانی واقعات کا فوری نوٹس لیا جائے، اور شہریوں پر تشدد کرنے والے اہلکاروں کے خلاف شفاف کارروائی کی جائے اور بلوچستان میں کرفیو نما پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی اپیل کرتی ہیں کہ بلوچستان میں شہریوں کے ساتھ ہونے والے جبری اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور حکام کوانسانی حقوق کے لیے پابند کریں۔
تربت کے عوام اور اسپتال کے عملے کی جانب سے اپنے بنیادی حقوق کے لیے ریکارڈ کرائے گئے احتجاج جبر کے خلاف مزاحمت ہے ہم بلوچ عوام سے اپیل ہے کہ وہ اپنے حقوق اور آزادیوں کے دفاع میں اپنی آواز پُرامن اور مسلسل انداز میں بلند کرتے رہیں کیونکہ خاموش ظلم کو مزید توانا کرتی رہے گی۔
لالا زبیر بلوچ کا جرم یہی ہے کہ وہ اپنے سرزمین سے بے پناہ محبت کیا کرتے تھے اور بلوچ قوم کو اتحاد و اتفاق کی طرز دیا کرتے تھے ڈی جی خان کوہ سلیمان سے لے کے پورے بلوچستان کو ایک نظر سے دیکھا کرتے تھے وہ اپنے شہر و شاعری میں یکجہتی کا پیغام دیا کرتے تھے اسی پاداشت میں انہیں جبری لاپتہ کیا گیا اور وہ ڈیڑھ سالوں سے ری��ست کی ٹارچر سیلوں میں قید ہے۔
ہم اپیل کرتے ہیں کہ لالا زبیر بلوچ کو باحفاظت بازیاب کیا جائے۔
#ReleaseLalaZubairBaloch
NAZAR MARRI — ONE YEAR IN TORTURE CELL
Nazar Marri is a committed young Baloch from Kohlu, an orphan who chose to stand against injustice rather than remain silent. He remained steadfast in his commitment and dedicated himself to raising his voice against state atrocities imposed upon the Baloch people.
A HUMAN RIGHTS DEFENDER
Nazar Marri is an active member of the Baloch Yakjehti Committee (BYC) and a prominent voice alongside grieving Baloch mothers and sisters.
He tirelessly participated in Raaji Muchi, the Dalbandin Jalsa, and other peaceful political activities, giving his time and energy to one purpose: raising his voice against the atrocities committed against the Baloch people by Pakistani state.
FORCIBLY DISAPPEARED
On 27 August last year, Nazar Marri was forcibly disappeared by state agencies and CTD.
He was dragged away like a criminal, despite being nothing more than a voice demanding justice. Since that day, his people have had no information about his whereabouts.
ONE YEAR IN TORTURE CELLS
For an entire year, Nazar has remained subjected to state brutality and torture. Yet despite the Pakistani state’s attempts to silence him, Nazar has not surrendered his stance or principles.
He has endured the violence imposed upon him without abandoning his commitment to his people and their struggle for justice.
𝗕𝗬𝗖 𝗔𝗡𝗡𝗢𝗨𝗡𝗖𝗘𝗦 𝗙𝗨𝗟𝗟-𝗗𝗔𝗬 𝗦𝗢𝗖𝗜𝗔𝗟 𝗠𝗘𝗗𝗜𝗔 𝗖𝗔𝗠𝗣𝗔𝗜𝗚𝗡 𝗙𝗢𝗥 𝗡𝗔𝗭𝗔𝗥 𝗠𝗔𝗥𝗥𝗜
Tomorrow marks one year since Nazar Marri was subjected to enforced disappearance and state violence.
To mark the completion of one year, Baloch Yakjehti Committee (BYC) is launching a full-day social media campaign to break the silence surrounding Nazar Marri’s case and bring his story, suffering, and unwavering resistance to the world.
We call on everyone to join the campaign, raise their voices, share his story, and demand an end to enforced disappearances and state repression.
Date: 27 August
#ReleaseNazarMarri
#EndEnforcedDisappearances
پاکستان گزشتہ سات دہائیوں سے بلوچ عوام پر حکمرانی کر رہا ہے۔ ریاست نے بلوچ عوام کو مسلسل جبر کے سائے تلے رکھ کر بلوچستان پر اپنی حکمرانی قائم رکھنے کی کوشش کی ہے، مگر حکمرانی کا یہ پرتشدد ماڈل ا�� ناکام ہو چکا ہے، اور اس ناکامی کی قیمت ایک بار پھر عام بلوچ آبادی سے وصول کی جا رہی ہے۔
بلوچ نسل کشی محض بلوچستان کا داخلی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی انسانی المیہ ہے۔ جب تک اس نسل کشی اور اس کے بنیادی اسباب کا ازالہ نہیں کیا جاتا، امن کی ہر بات محض لفاظی اور حقیقت سے فرار ہے۔
گزشتہ چند ماہ سے سیکیورٹی کے نام پر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کرفیو، فوجی آپریشن، جبری گمشدگیاں اور قتلِ عام معمول بنتے جا رہے ہیں۔
ان واقعات کی بڑی تعداد ریاستی میڈیا کے بیانیے میں جگہ نہیں پاتی، مگر بلوچ عوام ہر روز ان حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور اپنی زندگیوں میں بھگت رہے ہیں۔ ہم ایسی ہر ریاستی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں جس میں بلوچ بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ان کی ہلاکتوں کو محض collateral damage کہہ کر نظر انداز کر دیا جائے۔
سوراب میں گزشتہ رات پاکستانی جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں 27 افراد قتل اور زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
اگر ایک ریاست عام شہریوں کے گھروں اور آبادیوں پر بمباری کے نتیجے میں بچوں سمیت درجنوں شہریوں کے قتلِ عام کو معمول کی کارروائی سمجھتی ہے، تو یہ ایک فوجی آپریشن نہیں بلکہ نسل کشی ہے۔
سوراب کے عوام کی جانب سے اس وحشیانہ اور جابرانہ حملے کے خلاف سڑک بند کرکے احتجاج کرنا اس بات کا اظہار ہے کہ لوگ اپنی جان و مال کے تحفظ اور اس قتلِ عام کے خلاف خاموش نہیں رہیں گے۔
میں بلوچستان کے عوام سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ سوراب واقعے کے خلاف اپنے گھروں سے نکلیں اور اپنے قتل پر ماتم کرنے کے بجائے مزاحمت کریں۔
مزاحمت میں ہی ہماری بقا ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
13 اگست 2026
ہدہ جیل کوئٹہ
بہشتیں دلبند گل زمین ئے
چوں چاک چاک اِن گوں ٹوپ ءُ بمبان
او آس روک دشت ءِ ملگزاران
من گَل بہ بان پہ کجام امیت ءَ
من گل زمین ءِ گمان چہ گار اَن
من گل بہ بان پہ کجام امیت ءَ
#SurabMassacre#StopBalochGenocide#StopBombingCivilians