*حل:*
پاکستان کے شعبۂ انتظام (سیاست) کو بچانے کا فارمولا وہی ہے جو پاکستان پبلک سروس کمیشن کا ہے۔ جو اس پر عمل کرے گا ہمارے سر آنکھوں پر، چاہے وہ کسی بھی پارٹی کا ہو:
*ماضی سے سبق سیکھ کر شعبۂ سیاست کو سائینسی بنیادوں پر استوار کریں:*
کالج اور یونیورسٹی کے شعبۂ سیاست میں پی۔ایچ۔ڈی کرنے والے قابل لوگ غیر جماعتی بنیاد پر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے نوکر بھرتی کئے جائیں۔
پاکستان کے مسائل کا تعین کسی تحقیقی ادارے کی رائے پر رکھا جائے۔
ریٹائرڈ قاضیوں کی ایک کمیٹی بنا کر شعبۂ سیاست کے ہر نوکر کا مسلسل احتساب ہو۔
ان کی کارکردگی کے کلیدی اشارے (Key performance indicators) متعین کئے جائیں جن کو ایک حکومتی ویب سائٹ پر نشر ِ کیا جائے تاکہ عوام ساتھ ساتھ (real time) جان لیں کہ ملک کے ساتھ کون کیا کر رہا ہے۔
جس ادارے کے افراد نے کبھی آئین شکنی کی ہے، ملک کو یرغمال بنایا ہے، بغاوت کی ہے، غداری کی جرأت کی ہے، ان سب افراد کو قرار واقعی سزا دے کر ٹیڑھی نیت والے لوگوں کے دِل میں خوف پیدا کِیا جائے اور سیدھی نیت والے لوگوں کے دِل میں ٹھنڈ ڈالی جائے تاکہ وہ بے خوف ہو کر مملکتِ خداداد کی خدمت کیلئے کمر کسنے پر فخر کر سکیں۔
اور فوج کو بیرک میں عزت کے ساتھ واپس بھیجا جائے کیونکہ ہتھیار اگر سر پر رکھ دیں تو محض جگ ہنسائی کا باعث بنتا ہے۔
اگر موجودہ حالات کا (یہ نہ سہی کوئی اور ہی سہی)درست حل نہ نکالا گیا تو اس آخری سانسیں لیتے نظام پر جنید بغدادی کو بھی بٹھا دیں تو کچھ نہیں ہونے کا۔
کیونکہ بکری کے دودھ سے بھینس والی ملائی نہیں نکل سکتی۔
*نتیجہ:*
خوب معلوم ہو چکا کہ ملک کے سیاسی ڈھانچے (خصوصاً الیکشن) کی کوئی اور ہی منزل ہے۔ کیونکہ:
اس کو نہ تو اس بات سے کوئی علاقہ ہے کہ ملک کو فلاحی اسلامی ریاست بنانے کی سمت لے کر جانا ہے،
نہ یہ کسی ایسی تحقیق سے مطابقت رکھتا ہے کہ اس سمت کی طرف جانے کیلئے کون سے اہل افراد درکار ہیں،
نہ اس نے کبھی جائزہ لیا کہ اس نظام میں کیسے صرف اہل افراد ہی شامل ہوں گے اور نا اہل افراد نظامِ عدل کے کٹہرے میں قرار واقعی سزا پائیں گے!
نوٹ:
ہر قسم کی سرکاری نوکری کیلئے میڈیکل ہوتا ہے۔
وزیراعظم بننے کیلئے کسی میڈیکل کی شرط کیوں نہیں؟
جب کسی وزیراعظم کو کسی کرپشن پر سزا ملنے لگے تو اس کی پوشیدہ بیماریاں ظاہر ہونے لگ جاتی ہیں!
ایسے مریضوں کو اتنی اہم ذمہ داری کیوں دی جاتی ہے؟
علاج تو انہوں نے پاکستان میں کرانا نہیں ہوتا تو اس بات کے امکان کو رد نہیں کِیا جا سکتا کہ گوروں کے دیس میں ان سے جبراً یا رضا مندی سے ملکی راز بھی نکلوا لئے جاتے ہوں، کون جانے!
ویسے تو پاکستان میں ہی ایسے فریبیوں کی اکثر بیماریوں کا علاج موجود ہے لیکن اگر کسی انتہائی نادر بیماری کے علاج کیلئے وزیراعظم کو ولایت یاترا کرنی ہی پڑ جائے تو وسیع تر عوامی مفاد میں حفظِ ما تقدّم کے تحت اسے ہمیشہ کیلئے کرسئ وزارتِ عظمیٰ سے نااہل کر دینا چاہئیے۔
۶۔* چلیں کچھ لمحے کو مان لیا کہ وہ اپنے دعوے میں سچا نکلا اور اس نے وہ ہی کیا جو اس نے وعدے کیے تھے (اگرچہ ایسا کوئی اب تک ملا نہیں) تب بھی اس بات کی کوئی یقین دہانی نہیں ہے کہ اس نے وہ وعدے کسی تحقیق سے اخذ کیے تھے یا محض عوام کی نظروں میں ہیرو بننے کیلئے ایک موٹروے بنا دی، ایک بل پاس کر دیا، کوئی ایک منصوبہ شروع کر دیا، کوئی کارڈ جاری کر دیا۔ بیچاری عوام کو کیا معلوم کہ اس وقت میں امتِ مسلمہ اور ملک کے حالات کے لحاظ سے کس کام کو کس کام پر ترجیح دینی چاہئیے تھی:
وہ ناداں گِر گئے سجدے میں جب وقتِ قیام آیا۔۔۔۔
*۷۔* علاوہ ازیں اس الیکشن کے نظام کا ایک قدرتی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مختلف جماعتیں وجود میں آ کر کرسی کیلئے برسرِ پیکار ہو جاتی ہیں۔ اس کیلئے ہر حربہ جائز سمجھا جاتا ہے: گالی، الزام، اغواء، یہاں تک کہ قتل؛ اور اب تو گراوٹ ذاتی ویڈیوز تک پہنچ گئی ہے!۔ عوام بھی نتیجتاً تقسیم کا شکار ہوتے ہیں۔ ہر جماعت ایک نیا بیانیہ لاتی ہے جس کی حقانیت کا کسی کو علم نہیں ہوتا۔اگر ہر جماعت الیکشن میں عوام کی نمائندگی کی حق دار ہے تو اس کے وعدے بہر حال اس آئین کے مطابق ہونے چاہئیں جو آئین اس بات کی یقین دہانی کراتا ہے کہ ملک کا نظام اسلام کے مطابق ہو گا۔ لیکن تجربے نے ثابت کیا ہے کہ ہر جماعت اپنے ذاتی مفاد کے چکر میں عوام کو بےوقوف بناتی ہے۔
*۸۔* اس نظام کی ایک اور خرابی یہ ہے کہ اس میں احتساب نام کی کوئی شے موجود نہیں ہے۔جن امیدواروں پر عوام ہر پانچ سال بعد اندھا اعتماد کرتی ہے، وہ اقتدار کے پانچ سال اس کو روندتے ہوئے بھول ہی جاتے ہیں کہ کبھی انہی سے ووٹ کی بھیک مانگی تھی۔
*۹۔* ایک اور لطیفہ یہ ہے کہ جن کو عوام مسترد کر دیتے ہیں یعنی جن کو کم ووٹ ملتے ہیں، وہ بھی ایوان کے مزے لیتے ہیں۔ بلکہ کبھی تو مفاہمت کے نام پر ہارس ٹریڈنگ کر کے اپنے قد کاٹھ کو بڑھانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔
*۱۰۔* سب سے عجیب بات یہ ہے کہ حزبِ اختلاف کی پوری کوشش اس میں ہوتی ہے کہ ایوان میں بس شور شرابا مچائے رکھے اور (سوائے مراعات میں اضافے کے) ہر بل پاس کرنا حزبِ اقتدار کیلئے جوئے شِیر لانے کے مترادف ہو جاتا ہے۔
*۱۱۔* ہر پانچ سال کی مدت مکمل ہونے کے بعد ایک خاص بات یہ سامنے آتی ہے کہ عوام کی غربت بڑھ چکی مگر جن پر اعتبار کر کے اقتدار تک پہنچایا گیا تھا وہ تو امیر ہو گئے، حتّیٰ کہ بیرونِ ملک ان کے اثاثوں کی کچھ بھنک پڑنے پر کبھی کبھار تو ان پر دیارِ مغرب میں ملکی سرمائے کو منتقل کرنے کا فریضہ سرانجام دینے کا گمان ہونے لگتا ہے:
وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دِل سے احساسِ زِیاں جاتا رہا
السلام علیکم:
معذرت کے ساتھ عرض کرنا ہے کہ عمران خان صرف مخلص ہے اور اس ایک صفت کے ساتھ ملک نہیں چل سکتا! بیس سال کے تجربے کے بعد بھی قابل ٹیم نہ بن سکی اور نہ ہی بنیادی مسائل کے حل کیلئے تین سالہ حکومت کفایت کر سکی!
موجودہ الیکشن کے بعد اگر کسی نظریاتی جماعت کو اقتدار کی ذمہ داری ملتی ہے تو اس کے سامنے سب سے اہم کام بجائے خود اقتدار تک پہنچنے کے نظام ہی کو درست کرنا ہے۔
آخر کیوں؟
آئیے تجزیہ کرتے ہیں:
*۱۔* اس جمہوری نظام کی بنیاد دو غلط فہمیوں (بلکہ دو شیطانی وسوسوں) کی بنیاد پر رکھی گئی ہے: یہ کہ اقتدار کے مالک عوام ہیں اور یہ کہ عوام کی اکثریت جس کو چاہے وہ ان کا حکمران ہو گا۔ اور اسی بنیاد پر الیکشن منعقد کئے جاتے ہیں۔
حالانکہ پاکستان کی بنیاد جس کلمے پر رکھی گئی وہ یہ تھا کہ لا إلٰہ إلّا اللہ (حکمرانی کا حق بس اللہ کو ہے)، اور یہ کہ اسی اللہ نے قرآن کریم میں وضاحت سے خبردار کیا ہے کہ: اگر تم اکثریت کی بات مانو گے تو وہ تمہیں اللہ کے رستے سے بھٹکا دیں گے۔ (سورۂ أنعام: آیت ۱۱۶)
لہٰذا معلوم ہوا کہ یہ نظام اپنی بنیاد میں ہی غلط ہے اور کم از کم اس نظام سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا جس کو نافذ کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے اس امت کو چنا ہے۔
*۲۔* اب چونکہ اس نظام کو عوام سے ہی امید لگی ہوئی ہے تو عوام کی جہالت کا نچوڑ ہی ہم بھگتتے آ رہے ہیں۔ عوام کی اکثریت ان پڑھ ہے۔ اس کو آئین و قانون تک نہ تو رسائی ہے اور نہ ہی انہوں نے اپنے حقوق جانے ہیں۔ خطِ غربت سے نیچے جانے والی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان سب عوامل نے اس بات کو یقینی بنا دیا ہے کہ عوام کی رائے حق پر مبنی نہیں ہو سکتی۔ ذرا سوچیں کہ کیا پاکستان نے جے۔ایف ۱۷ طیارے بنانے سے پہلے الیکشن کروائے؟ کیا کسی کور کمانڈر کو مقرر کرنے سے پہلے الیکشن ہوتے ہیں، کیا فیصل مسجد بنانے کیلئے الیکشن ہوئے تھے، کیا کسی میڈیکل کالج کا نصاب کسی الیکشن سے تیار کیا جاتا ہے؟ آپ کا جواب ہو گا : نہیں۔ اور اتنی وجہ توآپ جانتے ہوں گے کہ ایسا اس لئے نہیں کیا جاتا کیونکہ ان سب اہم کاموں کیلئے صرف اہل لوگ ہی مشورہ دیتے ہیں۔
تو پھر پورے ملک کی سیاست کیلئے کیوں نہیں؟ کیونکہ جس نظام نے سارے ملک کے نظاموں پر نظر رکھنی ہے اس کیلئے نا اہل افراد لانا ایک عالمی شیطانی شکنجہ ہے۔ اور الیکشن کے ذریعے سے حق بات کو ہلکا کر کے ہی یہ مقصد حاصل ہو سکتا ہے:
اب ملاحظہ فرمایا کہ اس نظام میں ایک ان پڑھ کمہار اور ایک آئین و قانون پڑھنے والے وکیل کا ووٹ ایک ہی قدر کیوں رکھتا ہے! الأمان الحفیظ۔
*۳۔* اس نظام کی جہالت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ کوئی شریف سفید پوش شخص اس نظام میں بطور امیدوار کھڑا نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ بریانی تقسیم کرے، الیکشن سے پہلے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے نالیاں پکی کروائے، سڑکیں بنوائے، لاکھوں پوسٹر چھپوائے، ہزاروں کرسیاں لگوا کر جلسے کرنے کا خرچہ برداشت کرے۔ عوام میں نہ اتنا شعور ہے نہ اتنی جرأت کہ وہ پوچھیں کہ :
یہ سب شور شرابہ کس لئے کیا جاتا ہے؟ ٹیلیوژن پر مخالف امیدوار کے ساتھ بیٹھ کر قابل ماہرین کے سوالات کے جوابات دے کر ہمیں مطمئن کرو کہ تم کیوں اور کیسے اس ملک کیلئے فائدہ مند ہو!
*۴۔* فرض کر لیں کہ عوام کی اکثریت بھٹک بھی نہیں سکتی، بِک بھی نہیں سکتی، اور سمجھدار بھی ہو گئی ہے تب بھی اس اکثریت کو یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ الیکشن میں اس کے حلقے سے جو امیدوار کھڑا ہو رہا ہے وہ کس کردار کا حامل ہے، اس کی تعلیم کتنی ہے، اس کا تجربہ کیا ہے، اس کو عوام کے مسائل کی کتنی سمجھ ہے، اور وہ اللہ اور رسول صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے کتنا مخلص ہے۔
*۵۔* اچھا کچھ دیر کیلئے یہ بھی تصور کر لیں کہ ایک انتہائی قابل انسان ایک حلقے میں نامزد ہو گیا ہے۔ مگر وہ بہرحال اپنی پارٹی کے منشور کا پابند ہونے کی وجہ سے (الیکشن جیتنے کے بعد) اقتدار سنبھال کر اپنے قول سے مجبوراً ہٹ بھی سکتا ہے، “روٹی کپڑا مکان” کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آنے کے بعد ملک توڑ بھی سکتا ہے، “ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آنے کے بعد اس مخالف پارٹی کے ساتھ مل کر ایک غیر جمہوری اتحاد بھی بنا سکتا ہے جس کا پیٹ پھاڑ کر مال برآمد کرنے کے دعوے تھے!
خان کو صرف اس لیے زندہ رکھا ہوا ہے کہ موجودہ سیاستدان جب تک کھا پی اور کھلا پلا سکتے تب تک ان کو استعمال کر لیا جائے، مگر اس کے بعد خان کو استعمال کیا جائے گا۔ بھولا بھالا ہے۔ نرم دل ہے۔ مینڈیٹ بھی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر اس کی کوئی ٹیم ہی نہیں! سو اگلے دس سال اس کی مظلومیت کااستعمال کیا جائے گا!
خان کو صرف اس لیے زندہ رکھا ہوا ہے کہ موجودہ سیاستدان جب تک کھا پی اور کھلا پلا سکتے تب تک ان کو استعمال کر لیا جائے، مگر اس کے بعد خان کو استعمال کیا جائے گا۔ بھولا بھالا ہے۔ نرم دل ہے۔ مینڈیٹ بھی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر اس کی کوئی ٹیم ہی نہیں! سو اگلے دس سال اس کی مظلومیت کااستعمال کیا جائے گا!
*حل:*
پاکستان کے شعبۂ انتظام (سیاست) کو بچانے کا فارمولا وہی ہے جو پاکستان پبلک سروس کمیشن کا ہے۔ جو اس پر عمل کرے گا ہمارے سر آنکھوں پر، چاہے وہ کسی بھی پارٹی کا ہو:
*ماضی سے سبق سیکھ کر شعبۂ سیاست کو سائینسی بنیادوں پر استوار کریں:*
کالج اور یونیورسٹی کے شعبۂ سیاست میں پی۔ایچ۔ڈی کرنے والے قابل لوگ غیر جماعتی بنیاد پر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے نوکر بھرتی کئے جائیں۔
پاکستان کے مسائل کا تعین کسی تحقیقی ادارے کی رائے پر رکھا جائے۔
ریٹائرڈ قاضیوں کی ایک کمیٹی بنا کر شعبۂ سیاست کے ہر نوکر کا مسلسل احتساب ہو۔
ان کی کارکردگی کے کلیدی اشارے (Key performance indicators) متعین کئے جائیں جن کو ایک حکومتی ویب سائٹ پر نشر ِ کیا جائے تاکہ عوام ساتھ ساتھ (real time) جان لیں کہ ملک کے ساتھ کون کیا کر رہا ہے۔
جس ادارے کے افراد نے کبھی آئین شکنی کی ہے، ملک کو یرغمال بنایا ہے، بغاوت کی ہے، غداری کی جرأت کی ہے، ان سب افراد کو قرار واقعی سزا دے کر ٹیڑھی نیت والے لوگوں کے دِل میں خوف پیدا کِیا جائے اور سیدھی نیت والے لوگوں کے دِل میں ٹھنڈ ڈالی جائے تاکہ وہ بے خوف ہو کر مملکتِ خداداد کی خدمت کیلئے کمر کسنے پر فخر کر سکیں۔
اور فوج کو بیرک میں عزت کے ساتھ واپس بھیجا جائے کیونکہ ہتھیار اگر سر پر رکھ دیں تو محض جگ ہنسائی کا باعث بنتا ہے۔
اگر موجودہ حالات کا (یہ نہ سہی کوئی اور ہی سہی)درست حل نہ نکالا گیا تو اس آخری سانسیں لیتے نظام پر جنید بغدادی کو بھی بٹھا دیں تو کچھ نہیں ہونے کا۔
کیونکہ بکری کے دودھ سے بھینس والی ملائی نہیں نکل سکتی
*نتیجہ:*
خوب معلوم ہو چکا کہ ملک کے سیاسی ڈھانچے (خصوصاً الیکشن) کی کوئی اور ہی منزل ہے۔ کیونکہ:
اس کو نہ تو اس بات سے کوئی علاقہ ہے کہ ملک کو فلاحی اسلامی ریاست بنانے کی سمت لے کر جانا ہے،
نہ یہ کسی ایسی تحقیق سے مطابقت رکھتا ہے کہ اس سمت کی طرف جانے کیلئے کون سے اہل افراد درکار ہیں،
نہ اس نے کبھی جائزہ لیا کہ اس نظام میں کیسے صرف اہل افراد ہی شامل ہوں گے اور نا اہل افراد نظامِ عدل کے کٹہرے میں قرار واقعی سزا پائیں گے!
نوٹ:
ہر قسم کی سرکاری نوکری کیلئے میڈیکل ہوتا ہے۔
وزیراعظم بننے کیلئے کسی میڈیکل کی شرط کیوں نہیں؟
جب کسی وزیراعظم کو کسی کرپشن پر سزا ملنے لگے تو اس کی پوشیدہ بیماریاں ظاہر ہونے لگ جاتی ہیں!
ایسے مریضوں کو اتنی اہم ذمہ داری کیوں دی جاتی ہے؟
علاج تو انہوں نے پاکستان میں کرانا نہیں ہوتا تو اس بات کے امکان کو رد نہیں کِیا جا سکتا کہ گوروں کے دیس میں ان سے جبراً یا رضا مندی سے ملکی راز بھی نکلوا لئے جاتے ہوں، کون جانے!
ویسے تو پاکستان میں ہی ایسے فریبیوں کی اکثر بیماریوں کا علاج موجود ہے لیکن اگر کسی انتہائی نادر بیماری کے علاج کیلئے وزیراعظم کو ولایت یاترا کرنی ہی پڑ جائے تو وسیع تر عوامی مفاد میں حفظِ ما تقدّم کے تحت اسے ہمیشہ کیلئے کرسئ وزارتِ عظمیٰ سے نااہل کر دینا چاہئیے۔
*۹۔* ایک اور لطیفہ یہ ہے کہ جن کو عوام مسترد کر دیتے ہیں یعنی جن کو کم ووٹ ملتے ہیں، وہ بھی ایوان کے مزے لیتے ہیں۔ بلکہ کبھی تو مفاہمت کے نام پر ہارس ٹریڈنگ کر کے اپنے قد کاٹھ کو بڑھانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔
*۱۰۔* سب سے عجیب بات یہ ہے کہ حزبِ اختلاف کی پوری کوشش اس میں ہوتی ہے کہ ایوان میں بس شور شرابا مچائے رکھے اور (سوائے مراعات میں اضافے کے) ہر بل پاس کرنا حزبِ اقتدار کیلئے جوئے شِیر لانے کے مترادف ہو جاتا ہے۔
*۱۱۔* ہر پانچ سال کی مدت مکمل ہونے کے بعد ایک خاص بات یہ سامنے آتی ہے کہ عوام کی غربت بڑھ چکی مگر جن پر اعتبار کر کے اقتدار تک پہنچایا گیا تھا وہ تو امیر ہو گئے، حتّیٰ کہ بیرونِ ملک ان کے اثاثوں کی کچھ بھنک پڑنے پر کبھی کبھار تو ان پر دیارِ مغرب میں ملکی سرمائے کو منتقل کرنے کا فریضہ سرانجام دینے کا گمان ہونے لگتا ہے:
وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دِل سے احساسِ زِیاں جاتا رہا
۸۔* اس نظام کی ایک اور خرابی یہ ہے کہ اس میں احتساب نام کی کوئی شے موجود نہیں ہے۔جن امیدواروں پر عوام ہر پانچ سال بعد اندھا اعتماد کرتی ہے، وہ اقتدار کے پانچ سال اس کو روندتے ہوئے بھول ہی جاتے ہیں کہ کبھی انہی سے ووٹ کی بھیک مانگی تھی۔
*۹۔* ایک اور لطیفہ یہ ہے کہ جن کو عوام مسترد کر دیتے ہیں یعنی جن کو کم ووٹ ملتے ہیں، وہ بھی ایوان کے مزے لیتے ہیں۔ بلکہ کبھی تو مفاہمت کے نام پر ہارس ٹریڈنگ کر کے اپنے قد کاٹھ کو بڑھانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔
*۷۔* علاوہ ازیں اس الیکشن کے نظام کا ایک قدرتی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مختلف جماعتیں وجود میں آ کر کرسی کیلئے برسرِ پیکار ہو جاتی ہیں۔ اس کیلئے ہر حربہ جائز سمجھا جاتا ہے: گالی، الزام، اغواء، یہاں تک کہ قتل؛ اور اب تو گراوٹ ذاتی ویڈیوز تک پہنچ گئی ہے!۔ عوام بھی نتیجتاً تقسیم کا شکار ہوتے ہیں۔ ہر جماعت ایک نیا بیانیہ لاتی ہے جس کی حقانیت کا کسی کو علم نہیں ہوتا۔اگر ہر جماعت الیکشن میں عوام کی نمائندگی کی حق دار ہے تو اس کے وعدے بہر حال اس آئین کے مطابق ہونے چاہئیں جو آئین اس بات کی یقین دہانی کراتا ہے کہ ملک کا نظام اسلام کے مطابق ہو گا۔ لیکن تجربے نے ثابت کیا ہے کہ ہر جماعت اپنے ذاتی مفاد کے چکر میں عوام کو بےوقوف بناتی ہے۔
۶۔* چلیں کچھ لمحے کو مان لیا کہ وہ اپنے دعوے میں سچا نکلا اور اس نے وہ ہی کیا جو اس نے وعدے کیے تھے (اگرچہ ایسا کوئی اب تک ملا نہیں) تب بھی اس بات کی کوئی یقین دہانی نہیں ہے کہ اس نے وہ وعدے کسی تحقیق سے اخذ کیے تھے یا محض عوام کی نظروں میں ہیرو بننے کیلئے ایک موٹروے بنا دی، ایک بل پاس کر دیا، کوئی ایک منصوبہ شروع کر دیا، کوئی کارڈ جاری کر دیا۔ بیچاری عوام کو کیا معلوم کہ اس وقت میں امتِ مسلمہ اور ملک کے حالات کے لحاظ سے کس کام کو کس کام پر ترجیح دینی چاہئیے تھی:
وہ ناداں گِر گئے سجدے میں جب وقتِ قیام آیا۔۔۔۔
*۵۔* اچھا کچھ دیر کیلئے یہ بھی تصور کر لیں کہ ایک انتہائی قابل انسان ایک حلقے میں نامزد ہو گیا ہے۔ مگر وہ بہرحال اپنی پارٹی کے منشور کا پابند ہونے کی وجہ سے (الیکشن جیتنے کے بعد) اقتدار سنبھال کر اپنے قول سے مجبوراً ہٹ بھی سکتا ہے، “روٹی کپڑا مکان” کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آنے کے بعد ملک توڑ بھی سکتا ہے، “ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آنے کے بعد اس مخالف پارٹی کے ساتھ مل کر ایک غیر جمہوری اتحاد بھی بنا سکتا ہے جس کا پیٹ پھاڑ کر مال برآمد کرنے کے دعوے تھے!
۔* فرض کر لیں کہ عوام کی اکثریت بھٹک بھی نہیں سکتی، بِک بھی نہیں سکتی، اور سمجھدار بھی ہو گئی ہے تب بھی اس اکثریت کو یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ الیکشن میں اس کے حلقے سے جو امیدوار کھڑا ہو رہا ہے وہ کس کردار کا حامل ہے، اس کی تعلیم کتنی ہے، اس کا تجربہ کیا ہے، اس کو عوام کے مسائل کی کتنی سمجھ ہے، اور وہ اللہ اور رسول صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے کتنا مخلص ہے
*۵۔* اچھا کچھ دیر کیلئے یہ بھی تصور کر لیں کہ ایک انتہائی قابل انسان ایک حلقے میں نامزد ہو گیا ہے۔ مگر وہ بہرحال اپنی پارٹی کے منشور کا پابند ہونے کی وجہ سے (الیکشن جیتنے کے بعد) اقتدار سنبھال کر اپنے قول سے مجبوراً ہٹ بھی سکتا ہے، “روٹی کپڑا مکان” کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آنے کے بعد ملک توڑ بھی سکتا ہے، “ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آنے کے بعد اس مخالف پارٹی کے ساتھ مل کر ایک غیر جمہوری اتحاد بھی بنا سکتا ہے جس کا پیٹ پھاڑ کر مال برآمد کرنے کے دعوے تھے